- اَلَّذِیْنَوہ لوگ
- یَتَّبِعُوْنَجو پیروی کرتے ہیں
- الرَّسُوْلَرسول
- النَّبِیَّنبی کی
- الْاُمِّیَّجو امی ہے
- الَّذِیْوہ جو
- یَجِدُوْنَهٗوہ پاتے ہیں اس کو
- مَكْتُوْبًالکھا ہوا
- عِنْدَهُمْاپنے پاس
- فِیمیں
- التَّوْرٰىةِتورات
- وَالْاِنْجِیْلِ ؗتورات
- یَاْمُرُهُمْوہ حکم دیتا ہے ان کو
- بِالْمَعْرُوْفِنیکی کا
- وَیَنْهٰىهُمْاور روکتا ہے ان کو
- عَنِسے
- الْمُنْكَرِمنکر
- وَیُحِلُّاور حلال کرتا ہے
- لَهُمُان کے لیے
- الطَّیِّبٰتِپاکیزہ چیزیں
- وَیُحَرِّمُاور حرام کرتا ہے
- عَلَیْهِمُان پر
- الْخَبٰٓىِٕثَناپاک چیزیں
- وَیَضَعُاور دور کرتا ہے
- عَنْهُمْان سے
- اِصْرَهُمْان کے بوجھ
- وَالْاَغْلٰلَاور طوق۔ بیڑیاں
- الَّتِیْوہ جو
- كَانَتْتھیں
- عَلَیْهِمْ ؕان پر
- فَالَّذِیْنَتو وہ لوگ
- اٰمَنُوْاجو ایمان لائے
- بِهٖاس پر
- وَعَزَّرُوْهُاور انہوں نے قوت دی اس کو
- وَنَصَرُوْهُاور مدد کی اس کی
- وَاتَّبَعُوااور انہوں نے پیروی کی
- النُّوْرَنور کی۔ روشنی کی
- الَّذِیْۤوہ جو
- اُنْزِلَاتارا گیا
- مَعَهٗۤ ۙاس کے ساتھ
- اُولٰٓىِٕكَیہی لوگ
- هُمُوہ جو
- الْمُفْلِحُوْنَفلاح پانے والے ہیں
Surah 7 · word by word
Surah 7, ayah 157
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
(پس آج یہ رحمت اُ ن لوگوں کا حِصہ ہے) جو اِس پیغمبرنبی اُمّی کی پیروی اختیار کریں1 جس کا ذکر اُنہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔2 وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے3، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔4لہٰذا جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اُس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں
Footnotes (the author's commentary)
-
حضرت موسیٰ کی دعا کا جواب اوپر کے فقرے پر ختم ہو گیا تھا۔ اس کے بعد اب موقع کی مناسبت سے فورًا بنی اسرائیل کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کی دعوت دی گئی ہے ۔ تقریر کا مدعا یہ ہے کہ تم پر خدا کی رحمت نازل ہونے کے لیے جو شرائط موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں عائد کی گئی تھیں وہی آج تک قائم ہیں اور دراصل یہ اُنہی شرائط کا تقاضا ہے کہ تم اِس پیغمبر پر ایمان لاؤ۔ تم سے کہا گیا تھا کہ خدا کی رحمت اُن لوگوں کا حصہ ہے جو نافرمانی سے پر ہیز کریں۔ تو آج سب سے بڑی بنیادی نا فرمانی یہ ہے کہ جس پیغمبر کو خدا نے مامور کیا ہے اس کی رہنمائی تسلیم کرنے سے انکار کیا جائے۔ لہٰذا جب تک اِس نافرمانی سے پرہیز نہ کر و گےتقویٰ کی جڑ ہی سرے سے قائم نہ ہوگی خواہ جزئیات و فروعات میں تم کتنا ہی تقویٰ بگھارتے رہو۔ تم سے کہا گیا تھا کہ رحمت ِ الہٰی سے حِصہ پانے کے لیے زکوٰة بھی ایک شرط ہے۔ تو آج کسی انفاق مال پر اُس وقت تک زکوٰة کی تعریف صادق نہیں آسکتی جب تک اقامتِ دینِ حق کی اُس جدوجہد کا ساتھ نہ دیا جائے جو اِس پیغمبر کی قیادت میں ہو رہی ہے۔ لہٰذا جب تک اِس راہ میں مال صرف نہ کرو گے زکوٰة کی بنیاد ہی استوار نہ ہو گی چاہے تم کتنی ہی خیرات اور نذرونیاز کرتے ہو۔ تم سے کہاگیا تھا کہ اللہ نے اپنی رحمت صرف اُن لوگوں کے لیے لکھی ہے جو اللہ کی آیات پر ایمان لائیں۔ تو آج جو آیات اس پیغمبر پر نازل ہو رہی ہیں ان کا انکار کرکے تم کسی طرح بھی آیات ِ الہٰی کے ماننے والے قرار نہیں پا سکتے۔ لہٰذا جب تک اِن پر ایمان نہ لاؤ گے یہ آخری شرط بھی پوری نہ ہو گی خواہ توراة پر ایمان رکھنے کا تم کتنا ہی دعوٰی کرتے رہو۔ یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے”اُمّی“ کا لفظ بہت معنی خیز استعمال ہوا ہے۔ بنی اسرائیل اپنے سوا دوسری قوموں کی اُمّی (Gentiles ) کہتے تھے اور ان کا قومی فخر و غرور کسی اُمّی کی پیشوائی تسلیم کرنا تو درکنار، اِس پر بھی تیار نہ تھا کہ اُمّیوں کے لیے اپنے برابر انسانی حقوق ہی تسلیم کر لیں۔ چناچہ قرآن ہی میں آتا ہے کہ وہ کہتے تھے لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیِّیْنَ سَبِیْلٌ(آل عمران آیت75)”اُمیوں کے مال مار کھانے میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔پس اللہ تعالیٰ انہی کی اصطلاح استعمال کر کے فرماتا ہے کہ اب تو اسی اُمّی کے ساتھ تمہاری قسمت وابستہ ہے، اس کی پیروی قبول کر وگے تو میری رحمت سےحصہ پاؤ گے ورنہ وہی غضب تمہارے لیے مقدر ہے جس میں صدیوں سے گرفتار چلے آرہے ہو۔
-
مثال کے طور پر توراة اور انجیل کے حسبِ ذیل مقامات ملاحظہ ہوں جہاں محمد صلی اللہل علیہ وسلم کی آمد کے متعلق صاف اشارات موجود ہیں: استشناء، باب ١8، آیت ١5 تا١9۔ متی، باب2١ تا46۔ یوحنا، باب١، آیت١9تا 2١۔ یوحنا باب١4، آیت١5تا١7 و آیت 25تا3۰ یوحنا، باب١5، آیت 25۔26 یوحنا، باب١6، آیت7تا١5۔
-
یعنی جن پاک چیزوں کو انہوں نے حرام کر رکھا ہے، وہ انہیں حلال قرار دیتا ہے اور جن ناپاک چیزوں کو یہ لوگ حلال کیے بیٹھے ہیں انہیں وہ حرام قرار دیتا ہے۔
-
یعنی ان کے فقیہوں نے اپنی قانونی موشگافیوں سے ، ان کے روحانی مقتداؤں نے اپنے تورُّع کے مبالغوں سے ، اور ان کے جاہل عوام نے اپنے تو ہمات اور خود ساختہ حدود و ضوابط سے ان کی زندگی کو جن بوجھوں تلے دبا رکھا ہے اور جن جکڑ بندیوں میں کَس رکھا ہے، یہ پیغمبر وہ سارے بوجھ اتار دیتا ہے اور وہ تمام بندشیں توڑ کر زندگی کو آزاد کر دیتا ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
جو اتباع کریں گے رسول نبی امی ﷺ کا جسے پائیں گے وہ لکھا ہوا اپنے پاس تورات اور انجیل میں وہ انہیں نیکی کا حکم دیں گے تمام برائیوں سے روکیں گے اور ان کے لیے تمام پاک چیزیں حلال کردیں گے اور حرام کردیں گے ان پر ناپاک چیزوں کو اور ان سے اتاردیں گے ان کے بوجھ اور طوق جو ان (کی گردنوں) پر پڑے ہوں گے تو جو لوگ آپ ﷺ پر ایمان لائیں گے اور آپ ﷺ کی تعظیم کریں گے اور آپ کی مدد کریں گے اور پیروی کریں گے اس نور کی جو آپ ﷺ کے ساتھ نازل کیا جائے گا وہی لوگ ہوں گے فلاح پانے والے
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 170
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 157 اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ یعنی ہمارے نبی امی ﷺ کا اتباع کریں گے جن کو رسول بنا کر بھیجا جائے گا۔ محمد عربی ﷺ نے دنیوی اعتبار سے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور نہ آپ ﷺ دنیوی معیار کے مطابق پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ اس لحاظ سے آپ ﷺ بھی امی تھے اور جن لوگوں میں آپ ﷺ کو مبعوث کیا گیا وہ بھی امی تھے ‘ کیونکہ ان لوگوں کے پاس اس سے پہلے کوئی کتاب تھی نہ کوئی شریعت۔الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَہُمْ فِی التَّوْرٰٹۃِ وَالْاِنْجِیْلِ ز یعنی آخری نبی ﷺ کے بارے میں پیشین گوئیاں ‘ آپ ﷺ کے حالات ‘ اور آپ ﷺ کے بارے میں واضح علامات ان کو تورات اور انجیل دونوں میں ملیں گی۔یَاْمُرُہُمْ بالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہٰٹہُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ بنی اسرائیل پر کچھ چیزیں ان کی شرارتوں کی وجہ سے بھی حرام کردی گئی تھیں ‘ جیسا کہ سورة النساء آیت 160 میں ہم پڑھ آئے ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ نبی امی ﷺ ان پر سے ایسی تمام بندشیں اٹھا دیں گے اور تمام پاکیزہ چیزوں کو ان کے لیے حلال کردیں گے۔وَیُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبآءِثَ وَیَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْہِمْ ط یہ بوجھ اور طوق وہ بےجا اور خود ساختہ پابندیاں اور رسومات بھی ہیں جو معاشرے کے اندر کسی خاص طبقہ کے مفادات یا نمود و نمائش کی خواہش کی وجہ سے رواج پاتی ہیں ‘ بعد میں غریب لوگوں کو انہیں نبھانا پڑتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے جب ان کی وجہ سے ایک عام آدمی کی زندگی انتہائی مشکل ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ معاشرے کی بلند ترین سطح پر بھی بڑی بڑی قباحتیں اور لعنتیں جنم لیتی ہیں جن کے بوجھ تلے مختلف اقوام بری طرح پس جاتی ہیں۔ مثلاً بادشاہت کا جبر ‘ جاگیرداری کا استحاصلی نظام ‘ سیاسی و معاشی غلامی ‘ رنگ و نسل کی بنیاد پر انسانیت میں تفریق وغیرہ۔ تو اس آیت میں بشارت دی جا رہی ہے کہ نبی آخر الزماں ﷺ آئیں گے اور انسانیت کو غلط رسومات ‘ خود ساختہ عقائد اور نظام ہائے باطلہ کے بوجھوں سے نجات دلاکر عدل اور قسط کا نظام قائم کریں گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ کے ساتھ تعلق کی شرائط مذکور ہیں جن میں سے ہر شرط پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موضوع کو تفصیلی طور پر سمجھنے کے لیے میرے کتابچے بعنوان : نبی اکرم ﷺ سے ہمارے تعلق کی بنیادیں کا مطالعہ مفید رہے گا۔فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ یہ پہلی اور بنیادی شرط ہے۔ آپ ﷺ پر ایمان لانے کے دو بنیادی تقاضے ہیں ‘ پہلا تقاضا ہے آپ ﷺ کی اطاعت اور دوسرا تقاضا ہے آپ ﷺ کی محبت۔ ان دونوں تقاضوں کے بارے میں دو احادیث ملاحظہ کیجیے۔ پہلی حدیث کے راوی حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رض ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِمَا جِءْتُ بِہٖ 1 تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہے جب تک کہ اس کی خواہش نفس تابع نہ ہوجائے اس چیز کے جو میں ﷺ لے کر آیا ہوں۔ یعنی جو احکام اور شریعت حضور ﷺ لے کر تشریف لائے ہیں ‘ اگر کوئی شخص ایمان رکھتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اس سب کچھ کو تسلیم کر کے اس پر عمل کرنا ہوگا۔ دوسری حدیث متفق علیہ ہے اور اس کے راوی حضرت انس بن مالک رض ہیں۔ وہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لَا یُوؤمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ 1 تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اسے محبوب ترنہ ہوجاؤں اس کے باپ ‘ بیٹے اور تمام انسانوں سے۔ چناچہ یہ دونوں تقاضے پورے ہوں گے تو آپ ﷺ پر ایمان کا دعویٰ حقیقت بنے گا۔ ایک غایت درجہ میں آپ ﷺ کا اتباع اور اطاعت ‘ دوسرے غایت درجے میں آپ ﷺ کی محبت۔وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ جب مذکورہ بالا دو تقاضے پورے ہوں گے تو ان کے لازمی نتیجے کے طور پر دلوں میں رسول اللہ ﷺ کی تعظیم پیدا ہوگی ‘ آپ ﷺ کی عظمت دلوں پر راج کرے گی۔ جب اور جہاں آپ ﷺ کا نام مبارک سنائی دے گا بےساختہ زبان پر درود وسلام آجائے گا۔ آپ ﷺ کا فرمان سامنے آنے پر منطق و دلائل کا سہارا چھوڑ کر سرتسلیم خم کردیا جائے گا۔ حضور ﷺ کے ادب و احترام کے سلسلے میں یہ اصول ذہن نشین کرلیجئے کہ اگر کہیں کسی مسئلے پر بحث ہو رہی ہو ‘ دونوں طرف دلائل کو دلائل کاٹ رہے ہوں اور ایسے میں اگر کوئی کہہ دے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس ضمن میں یوں فرمایا ہے تو حدیث کے سنتے ہی فوراً زبان بند ہوجانی چاہیے۔ ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتا کہ وہ آپ ﷺ کا فرمان سن لینے کے بعد بھی کسی معاملے میں رائے زنی کرے۔ بعد میں تحقیق کی جاسکتی ہے کہ آپ ﷺ سے منسوب کر کے جو فرمان سنایا گیا ہے درحقیقت وہ حدیث ہے بھی یا نہیں اور اگر حدیث ہے تو روایت و درایت کے اعتبار سے اس کا کیا مقام ہے۔ حدیث صحیح ہے یا ضعیف ! یہ سب بعد کی باتیں ہیں ‘ لیکن حدیث سن کر وقتی طور پر چپ ہوجانا اور سر تسلیم خم کردینا آپ ﷺ کے ادب کا تقاضا ہے۔ وَنَصَرُوْہُ کے ضمن میں یہ نکتہ اہم ہے کہ نبی مکرم ﷺ کو کس کام میں مدددرکار ہے ؟ کیا آپ ﷺ کو اپنے کسی ذاتی کام کے لیے مدد چاہیے ؟ آپ ﷺ نے کوئی ذاتی سلطنت و حکومت تو قائم نہیں کی ‘ جس کے قیام و استحکام کے لیے آپ ﷺ کو مدد کی ضرورت ہوتی۔ آپ ﷺ کی کوئی ذاتی جاگیر یا جائیداد بھی نہیں تھی ‘ جس کو سنبھالنے کے لیے آپ ﷺ کو مدد درکار ہوتی۔ دراصل آپ ﷺ کو اپنے اس مشن کی تکمیل کے لیے مدد چاہیے تھی جس کے لیے آپ ﷺ بھیجے گئے تھے اور وہ تھا غلبۂ حق اور اقامت دین : ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ الصف : 9۔ دین حق کے غلبے کے لیے کی جانے والی جاں گسل جدوجہد میں آپ ﷺ کو مدد گاروں کی ضرورت تھی اور اس کے لیے آپ ﷺ کی طرف سے مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللّٰہِ ؟ کی صلائے عام تھی ‘ کہ مجھے اللہ کا دین غالب کرنا ہے ‘ یہ میرا فرض منصبی ہے ‘ کون ہے جو اس کام میں میرا ہاتھ بٹائے اور میرا مدد گار بنے ؟ چناچہ آپ ﷺ نے اپنی محنت ‘ صحابہ کرام رض کی قربانیوں اور اللہ کی نصرت سے جزیرہ نمائے عرب میں دین کو غالب کر کے اپنے مشن کی تکمیل کردی۔ آپ ﷺ کے بعد کچھ عرصہ دین غالب رہا ‘ پھر مغلوب ہوگیا اور آج تک مغلوب ہے۔ آج دنیا میں کہیں بھی دین غالب نہیں ہے۔ لہٰذا اب دین کو ساری دنیا میں غالب کرنا امت کی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کے حوالے سے آپ ﷺ کا مشن آج بھی زندہ ہے ‘ یہ میدان اب بھی کھلا ہے۔ آج بھی حضور ﷺ کو ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ یٰٓاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَار اللّٰہِ الصف : 14 کا قرآنی حکم آج بھی ہمیں پکار رہا ہے۔وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ مَعَہٓٗلا یہ گویا اس کٹھن مشن کی تکمیل کا راستہ بتایا گیا ہے۔ دین کے غلبے کی تکمیل قرآن کے ذریعے سے ہوگی ‘ یعنی تذکیر بالقرآن ‘ تبشیر بالقرآن ‘ تبلیغ بالقرآن ‘ انذار بالقرآن ‘ تعلیم بالقرآن وغیرہ۔ جیسے محمد عربی ﷺ نے قرآن کے ذریعے سے لوگوں کا تزکیہ کیا : یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَق الجمعہ : 2 اس طرح آج بھی ضرورت ہے کہ قرآن کے ذریعے سے لوگوں کو ترغیب دی جائے ‘ ان کے دلوں کی صفائی کی جائے ‘ انہیں جہالت کے اندھیروں سے ہدایت کے اجالے کی طرف لایا جائے ‘ تاریک دلوں کے اندر ایمان کی شمعیں روشن کی جائیں۔ پھر ان لوگوں کو ایک مشن پر اکٹھا کیا جائے ‘ انہیں منظم کیا جائے ‘ ان میں منزل کی تڑپ پیدا کی جائے اور پھر باطل سے ٹکرا کر اس کو پاش پاش کردیا جائے۔ یہ ہے آپ ﷺ کی مدد کرنے کا صحیح طریقہ ‘ اور یہ ہے اس نور قرآن کی پیروی کرنے کا معروف راستہ۔ اور جو لوگ اس راستے پر چلیں گے ان کے بارے میں فرمایا :