- یُّرِیْدُچاہتا ہے
- اَنْکہ
- یُّخْرِجَكُمْنکال دے تم کو
- مِّنْسے
- اَرْضِكُمْ ۚتمہاری زمین (سے)
- فَمَاذَاتو کیا کچھ
- تَاْمُرُوْنَتم حکم دیتے ہو۔ تم کہتے ہو
Surah 7 · word by word
Surah 7, ayah 110
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
تمہیں تمہاری زمین سے بے دخل کرنا چاہتا ہے1، اب کہو کیا کہتے ہو؟“
Footnotes (the author's commentary)
-
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک غلام قوم کا ایک بے سرو سامان آدمی یکایک اُٹھ کر فرعون جیسے بادشاہ کے دربار میں جا کھڑا ہوتا ہے جو شام سے لیبیا تک اور بحرِ روم کے سواحل سے حبش تک کے عظیم الشان ملک کا نہ صرف مطلق العنان بادشاہ بلکہ معبود بنا ہوا تھا، تو محض اُس کے اس فعل سے کہ اس نے ایک لاٹھی کو اژدہا بنا دیا اتنی بڑی سلطنت کو یہ خطرہ کیسے لاحق ہو جاتا ہے کہ یہ اکیلا انسان سلطنت مصر کا تختہ الٹ دے گا اور شاہی خاندان کو حکمراں طبقے سمیت ملک کے اقتدار سے بے دخل کر دے گا؟ پھر یہ سیاسی انقلاب کا خطرہ آخر پیدا بھی کیوں ہوا جبکہ اس شخص نےصرف کا دعویٰ اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ ہی پیش کیا تھا اور کسی قسم کی سیاسی گفتگو سرے سے چھیڑی ہی نہ تھی؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا دعو ائے نبوت اپنے اندر خود ہی یہ معنی رکھتا تھا کہ وہ دراصل پورے نظام ِ زندگی کو بحیثیتِ مجموعی تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ جس میں لا محالہ ملک کا سیاسی نظام بھی شامل ہے۔ کسی شخص کا اپنے کو رب العالمین کے نمائندے کی حیثیت سے پیش کرنا لازمی طور پر اس بات کو متضمن ہے کہ وہ انسانوں سے اپنی کلی اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے، کیونکہ ربّ العالمین کا نمائندہ کبھی مطیع اور رعیت بن کر رہنے کے لیے نہیں آتا بلکہ مطاع اور راعی بننے ہی کے لیے آیا کرتا ہے اور کسی کافر کے حق حکمرانی کو تسلیم کر لینا اس کی حیثیت رسالت کے قطعاً منافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی زبان سے رسالت کا دعویٰ سنتے ہی فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت کے سامنے سیاسی و معاشی اور تمدنی انقلاب کا خطرہ نمودار ہوگیا۔ رہی یہ بات کہ حضرت موسیٰ کے اس دعوے کو مصر کے دربار شاہی میں اتنی ہمت ہی کیوں دی گئی جبکہ ان کے ساتھ ایک بھائی کے سوا کوئی معاون و مدد گار اور صرف ایک سانپ بن جانے والی لاٹھی اور ایک چمک والے ہاتھ کے سوا کوئی نشان ماموریت نہ تھا؟ تو میرے نزدیک اس کے دو بڑے سبب ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت موسیٰ ؑ کی شخصیت سے فرعون اوراس کے درباری خوب واقف تھے۔ ان کی پاکیزہ اور مضبوط سیرت ، ان کی غیر معمولی قابلیت ، ور قیادت و فرماں روائی کی پیدائشی صلاحیت کا سب کو علم تھا۔ تلمود اور یوسیفوس کی روایات اگر صحیح ہیں تو حضرت موسیٰ ؑ نے اِن پیدائشی قابلیتوں کے علاوہ فرعون کے ہاں علوم وفنون اور حکمرانی و سپہ سالاری کی وہ پوری تعلیم و تربیت بھی حاصل کی تھی جو شاہی خاندان کے افراد کو دی جاتی تھیں۔ اور زمانہ شاہزادگی میں حبش کی مہم پر جا کر وہ اپنے آپ کو ایک بہترین جنرل بھی ثابت کر چکے تھے۔ پھر جو تھوڑی بہت کمزوریاں شاہی محلوں میں پرورش پانے اور فروعونی نظام کے اندر امارت کے مناصب پر سرفراز رہنے کی وجہ سے ان میں پائی جاتی تھیں، وہ بھی آٹھ دس سال مدین کے علاقہ میں صحرائی زندگی گزارنے اور بکریاں چرانے کی بدولت دور ہو چکی تھیں اور اب فرعونی دربار کے سامنے ایک ایسا سن رسیدہ و سنجیدہ فقیر کشور گیر نبوت کا دعویٰ لیے ہوئے کھڑا تھا جس کی بات کو بہر حال بادِ ہوائی سمجھ کر اڑایا نہ جا سکتا تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ عصا اور یدبیضاء کی نشانیاں دیکھ کر فرعون اور اس کے درباری سخت مرعوب ہو چکے تھے اور ان کو تقریباً یہ یقین ہو گیا تھا کہ یہ شخص فی الواقع کوئی فوق الفطری طاقت اپنی پشت پر رکھتا ہے۔ ان کا حضرت موسیٰ کو ایک طرف جادوگر بھی کہنا اور پھر دوسری طرف یہ اندیشہ بھی ظاہر کرنا کہ یہ ہم کو اس سر زمین کی فرماں روائی سے بے دخل کرنا چاہتا ہے، ایک صریح تضادِ بیان تھا اور اُس بو کھلاہٹ کا ثبوت تھا جو ان پر نبوت کے اس اوّلین مظاہرے سے طاری ہو گئی تھی۔ اگر حقیقت میں وہ حضرت موسیٰ ؑ کو جا دوگر سمجھتے تو ہر گز ان سے کسی سیاسی انقلاب کا اندیشہ نہ کرتے ۔ کیونکہ جادو کے بل بوتے پر کبھی دنیا میں کوئی سیاسی انقلاب نہیں ہوا ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کرے تو اب تمہاری کیا رائے ہے ؟
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 164
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 110 یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَکُمْ مِّنْ اَرْضِکُمْج فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ یہ تو چاہتا ہے کہ جادو کے زور پر تمہیں اس ملک سے نکال کر یہاں خود اپنی حکومت قائم کرلے۔ اس نازک صورتحال سے عہدہ بر آہونے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے ؟