- اِنْاگر
- تَتُوْبَاۤتم دونوں توبہ کرتی ہو
- اِلَیطرف
- اللّٰهِاللہ کی
- فَقَدْتو تحقیق
- صَغَتْجھک پڑے
- قُلُوْبُكُمَا ۚتم دونوں کے دل
- وَاِنْاور اگر
- تَظٰهَرَاتم ایک دوسرے کی مدد کرو گی
- عَلَیْهِآپ کے خلاف
- فَاِنَّپس بیشک
- اللّٰهَاللہ تعالیٰ
- هُوَوہ
- مَوْلٰىهُاس کامولا ہے
- وَجِبْرِیْلُاور جبرائیل
- وَصَالِحُاور صالح
- الْمُؤْمِنِیْنَ ۚاہل ایمان
- وَالْمَلٰٓىِٕكَةُاور فرشتے
- بَعْدَبعد
- ذٰلِكَاس کے
- ظَهِیْرٌمددگار ہیں
Surah 66 · word by word
Surah 66, ayah 4
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو (تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے) کیونکہ تمہارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں،1 اور اگر نبی کے مقابلہ میں تم نے باہم جتھہ بندی کی2 تو جان رکھو کہ اللہ اُس کا مولیٰ ہے اور اُس کے بعد جبریل اور تمام صالح اہلِ ایمان اور سب ملائکہ اس کے ساتھی اورمدد گار ہیں۔3
Footnotes (the author's commentary)
-
اصل میں الفاظ ہیں فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا۔ صَغْو عربی زبان میں مُڑ جانے اور ٹیڑھا ہو جانے کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب نے اِس فقرے کا ترجمہ کیا ہے: ”ہر آئینہ کج شدہ است دِل شما۔“ اور شاہ رفیع الدین صاحب کا ترجمہ ہے ”کج ہو گئے ہیں دل تمہارے۔“ حضرات عبد اللہ ؓ بن مسعود ؓ ، عبداللہ ؓ بن عباس ؓ ، سُفیان ثوری ؒ اور ضحاک ؒ نے اس کا مفہوم بیان کیا ہے زَاغَتْ قُلُوْ بُکُمَا ، یعنی”تمہارے دل راہِ راست سے ہٹ گئے ہیں۔“ امام رازی ؒ اس کی تشریح میں کہتے ہیں ”عدلت و مالت عن الحق وھو حق الرسول صلی اللہ علیہ وسلم،”حق سے ہٹ گئے ہیں، اور حق سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہے۔“ اور علامہ ٔ آلوسی ؒ کی تشریح یہ ہے : مالت عن الواجب من موافقتہ صلی اللہ علیہ وسلم بِحُبِّ ما یحبہ و کراھۃ ما یَلر ھہ الیٰ مخالفتہٖ یعنی”تم پر واجب تو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ پسند کریں اسے پسند کرنے میں اور جو کچھ آپ ؐ ناپسند کریں اسے ناپسند کرنے میں آپ ؐ کی موافقت کرو۔ مگر تمہارے دل اِس معاملہ میں آپ کی موافقت سے ہٹ کر آپ کی مخالفت کی طرف مڑ گئے ہیں۔“
-
اصل الفاظ ہیں وَاِنْ تَظَاھَرَ ا عَلَیْہِ تَظَا ھُر کے معنی ہیں کسی کے مقابلہ میں باہم تعاون کرنا یا کسی کے خلاف ایکا کرنا۔ شاہ ولی اللہ صاحب نے اس فقرے کا ترجمہ کیا ہے: ”اگر باہم متفق شوید بر رنجا نیدنِ پیغمبر۔“ شاہ عبدالقادر صاحب کا ترجمہ ہے: ”اگر تم دونوں چڑھائی کرو گیاں اُس پر۔“ مولانا اشرف علی صاحب کا ترجمہ ہے:”اور اگر اسی طرح پیغمبر کے مقابلے میں تم دونوں کاروائیاں کرتی رہیں۔“ اور مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب نے اِس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے ” اگر تم دونوں اِسی طرح کی کارروائیاں اور مظاہرے کرتی رہیں۔“ آیت کا خطاب صاف طور پر دو خواتین کی طرف ہے ، اور سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خواتین رسول اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات میں سے ہیں، کیونکہ اِس سورے کی پہلی آیت سے پانچویں آیت تک مسلسل حضور ؐ کی ازواج کے معاملات ہی زیر بحث آئے ہیں۔ اس حد تک تو بات خود قرآن مجید کے اندازِ بیان سے ظاہر ہو رہی ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ یہ دونوں بیویاں کون تھیں ، اور وہ معاملہ کیا تھا جس پر یہ عتاب ہوا ہے، اِس کی تفصیل ہمیں حدیث میں ملتی ہے۔ مُسند احمد، بخاری، مُسلم، تِرمِذی اور نَسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس کی ایک مفصّل روایت نقل ہوئی ہے جس میں کچھ لفظی اختلافات کے ساتھ یہ قصّہ بیان کیا گیا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں ایک مدت سے اِس فکر میں تھا کہ حضرت عمر ؓ سے پوچھوں کہ رسول اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے وہ کون سی دو بیویاں تھیں جنہوں نے حضور ؐ کے مقابلہ میں جتھہ بندی کر لی تھی اور جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ارشاد فرمائی ہے کہ اِنْ تَتُوْبَا اِلَی اللہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا۔ لیکن اُن کی ہیبت کی وجہ سے میری ہمت نہ پڑتی تھی۔ آخر ایک مرتبہ وہ حج کے لیے تشریف لے گئے اور میں اُن کے ساتھ گیا۔ واپسی پر راستہ میں ایک جگہ اُن کو وضو کراتے ہوئے مجھے موقع مل گیا اور میں نے یہ سوال پوچھ لیا۔ انہوں نے جواب دیا وہ عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ تھیں۔ پھر انہوں نے بیان کرنا شروع کیا کہ ہم قریش کے لوگ اپنی عورتوں کو دبا کر رکھنے کے عادی تھے۔ جب ہم مدینہ آئے تو ہمیں یہاں ایسے لوگ ملے جن پر اُن کی بیویاں حاوی تھیں ، اور یہی سبق ہماری عورتیں بھی اُن سے سیکھنے لگیں۔ ایک روز میں اپنی بیوی پر ناراض ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ مجھے پلٹ کر جواب دے رہی ہے ( اصل الفاظ ہیں فَاِذَا ھِیَ تُرَاجِعُنِیْ)۔ مجھے یہ بہت ناگوار ہوا کہ وہ مجھے پلٹ کر جواب دے۔ اس نے کہا آپ اس بات پر کیوں بگڑتے ہیں کہ میں آپ کو پلٹ کو جواب دوں؟ خدا کی قسم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں حضور ؐ کو دُوبدو جواب دیتی ہیں (اصل لفظ ہے لِیُرا جِعْنَہٗ) اور ان میں سے کوئی حضور ؐ سے دن دن بھر روٹھی رہتی ہے(بخاری کی روایت میں ہے کہ حضور ؐ اس سے دن بھر ناراض رہتے ہیں)۔ یہ سُن کر میں گھر سے نکلا اور حَفصہ ؓ کے ہاں گیا ( جو حضرت عمر ؓ کی بیٹی اور حضور ؐ کی بیوی تھیں)۔ میں نے اُس سے پوچھا کیا تُو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو بدو جواب دیتی ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ میں نے پوچھا اور کیا تم میں سے کوئی دن دن بھر حضور ؐ سے روٹھی رہتی ہے؟ (بخاری کی روایت میں ہے کہ حضور ؐ دن بھر اس سے ناراض رہتے ہیں)۔ اس نے کہا ہاں۔ میں نے کہا نا مراد ہو گئی اور گھاٹے میں پڑ گئی وہ عورت جو تم میں سے ایسا کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات سے بے خوف ہو گئی ہے کہ اپنے رسول ؐ کے غضب کی وجہ سے اللہ اس پر غضبناک ہو جائے اور وہ ہلاکت میں پڑ جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کبھی زبان درازی نہ کر( یہاں بھی وہی الفاظ ہیں لَا تُراجِعِیْ) اور نہ اُن سے کسی چیز کا مطالبہ کر ، میرے مال سے تیرا جو جی چاہے مانگ لیا کر۔ تُو اس بات سے کسی دھوکے میں نہ پڑ کہ تیری پڑوسن (مراد ہیں حضرت عائشہ ؓ ) تجھ سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب ہے۔ اِ س کے بعد میں وہاں سے نکل اُمِّ سَلَمہ ؓ کے پاس پہنچا جو میری رشتہ دار تھیں ، اور مَیں نے اِس معاملہ میں ان سے بات کی۔ انہوں نے کہا، ابن خطاب تم بھی عجیب آدمی ہو۔ ہر معاملہ میں تم نے دخل دیا یہاں تک کہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی بیویوں کے معاملے میں بھی دخل دینے چلے ہو۔ اُن کی اس بات نے میری ہمت توڑ دی۔ پھر ایسا ہوا کہ میرا ایک انصاری پڑوسی رات کے قریب میرے گھر آیا اور اس نے مجھے پکارا۔ ہم دونوں باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوتے تھے اور جو بات کسی کی باری کے دن ہوتی تھی وہ دوسرے کو بتا دیا کر تا تھا۔ زمانہ وہ تھا جب ہمیں غَسّان کے حملے کا خطرہ لگا ہوا تھا۔ اُس کے پکارنے پر جب میں نکلا تو اُس نے کہا ایک بڑا حادثہ پیش آگیا ہے۔ میں نے کہا کیا غَسّانی چڑھ آئے ہیں؟ اس نے کہا نہیں، اس سے بھی زیادہ بڑا معاملہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے کہا کہ برباد ہوئی اور نا مراد ہوگئی حفصہ، (بخاری کے الفاظ ہیں رَغِمَ اَنْفُ حَفصَۃ و عَا ئِشَۃ) مجھے پہلے ہی اندیشہ تھا کہ یہ ہونے والی بات ہے۔“ اس کے آگے کا قصہ ہم نے چھوڑ دیا ہے جس میں حضرت عمر ؓ نے بتایا ہے کہ دوسرے روز صبح حضور ؐ کی خدمت میں جا کر انہوں نے کس طرح حضور ؐ کا غصّہ ٹھنڈا کر نے کی کوشش کی۔ اس قصّے کو ہم نے مسند احمد اور بخاری کی روایات جمع کر کے مُرَّب کیا ہے۔ اس میں حضرت عمر ؓ نے مُراجَعَت کا لفظ استعمال کیا ہے اُسے لُغوی معنی میں نہیں لیا جا سکتا بلکہ سیاق و سباق خود بتا رہا ہے کہ یہ لفظ دُوبدُو جواب دینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے، اور حضرت عمر ؓ کا اپنی بیٹی سے یہ کہنا کہ لا تراجعنی رسُول اللہ صاف طور پر اس معنی میں ہے کہ حضور ؐ سے زبان درازی نہ کیا کر۔ اس ترجمے کو بعض لوگ غلط کہتے ہیں اور ان کا اعتراض یہ ہے کہ مراجعت کا ترجمہ پلٹ کر جواب دینا ، یا دوبدو جواب دینا تو صحیح ہے، مگر اس کا ترجمہ”زبان درازی“ صحیح نہیں ہے۔ لیکن یہ معترض حضرات اس بات کو نہیں سمجھتے کہ اگر کم مرتبے کا آدمی اپنے سے بڑے مرتبے کے آدمی کو پلٹ کر جواب دے، یا دو بدو جواب دے تو اسی کا نام زبان درازی ہے۔ مثلاً باپ اگر بیٹے کو کسی بات پر ڈانٹے یا اس کے کسی فعل پر ناراضی کا اظہار کرے اور بیٹا اس پر ادب سے خاموش رہنے یا معذرت کرنے کے بجائے پلٹ کر جواب دینے پر اتر آئے تو اس کو زبان درازی کے سوا اور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پھر جب یہ معاملہ باپ اور بیٹے کے درمیان نہیں بلکہ اللہ کے رسول اور امت کے کسی فرد کے درمیان ہو تو صرف ایک غبی آدمی ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کا نام زبان درازی نہیں ہے۔ بعض دوسرے لوگ ہمارے اس ترجمے کو سُوء ادب قرار دیتے ہیں، حالانکہ یہ سُوءِ ادب اگر ہو سکتا تھا تو اُس صورت میں جبکہ ہم اپنی طرف سے اِس طرح کے الفاظ حضرت حفصہ ؓ کے متعلق استعمال کرنے کی جسارت کرتے۔ ہم نے تو حضرت عمر ؓ کے الفاظ کا صحیح مفہوم ادا کیا ہے، اور یہ الفاظ انہوں نے اپنی بیٹی کو اُس کے قصور پر سرزنش کرتے ہوئے استعمال کیے ہیں۔ اِسے سُوءِ ادب کہنے کے معنی یہ ہیں کہ یا تو باپ اپنی بیٹی کو ڈانٹتے ہوئے بھی ادب سے بات کرے، یا پھر اس ڈانٹ کا ترجمہ کرنے والا اپنی طرف سے اس کو با ادب کلام بنا دے۔ اس مقام پر سوچنے کے قابل بات دراصل یہ ہے کہ اگر معاملہ صرف ایسا ہی ہلکا اور معمولی سا تھا کہ حضور ؐ کبھی اپنی بیویوں کو کچھ کہتے تھے اور وہ پلٹ کر جواب دیا کرتی تھیں ، تو آخر اس کو اتنی اہمیت کیوں دی گئی کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے براہِ راست خود اِن ازواجِ مطہرات کو شدّت کے ساتھ تنبیہ فرمائی؟ اور حضرت عمر ؓ نے اس معاملہ کو کیوں اتنا سخت سمجھا کہ پہلے بیٹی کو ڈانٹا اور پھر ازواجِ مطہرات میں سے ایک ایک کے گھر جا کر ان کو اللہ کے غضب سے ڈرایا؟ اور سب سے زیادہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کے خیال میں ایسے ہی زور رنج تھے کہ ذرا ذرا سی باتوں پر بیویوں سے ناراض ہو جاتے تھے اور کیا معاذ اللہ آپ کے نزدیک حضور ؐ کی تنک مزاجی اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ ایسی ہی باتوں پر ناراض ہو کر آپ ؐ ایک دفعہ سب بیویوں سے مقاطعہ کر کے اپنے حجرے میں عزلت گزیں ہو گئے تھے؟ ان سوالات پر اگر کوئی شخص غور کرے تو اسے لامحالہ ان آیات کی تفسیر میں دو ہی راستوں میں سے ایک کو اختیار کرنا پڑے گا۔ یا تو اسے ازواج مطہرات کے احترام کی اتنی فکر لاحق ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ؐ پر حرف آجانے کی پروا نہ کرے۔ یا پھر سیدھی طرح یہ مان لے کہ اُس زمانہ میں اِن ازواجِ مطہرات کا رویّہ فی الواقع ایسا ہی قابل اعتراض ہوگیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ناراض ہو جانے میں حق بجانب تھے اور حضور سے بڑھ کر خود اللہ تعالیٰ اس بات میں حق بجانب تھا کہ اِن ازواج کو اس رویّہ پر شدّت سے تنبیہ فرمائے۔
-
مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں جتھہ بندی کر کے تم اپنا ہی نقصان کرو گی، کیونکہ جس کا مولیٰ اللہ ہے اور جبریل اور ملائکہ اور تمام صالح اہلِ ایمان جس کے ساتھ ہیں اُس کے مقابلہ میں جتّھہ بندی کر کے کوئی کامیاب نہیں ہو سکتا۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اگر تم دونوں اللہ کی جناب میں توبہ کرو تو (یہی تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ) تمہارے دل تو مائل ہو ہی چکے ہیں۔ اور اگر تم دونوں نے ان کے خلاف گٹھ جوڑ کرلیا ہے ان ﷺ کا پشت پناہ تو خود اللہ ہے اور جبریل اور تمام صالح مومنین اور مزید برآں تمام فرشتے بھی ان ﷺ کے مددگار ہیں۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 560
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 4{ اِنْ تَـتُوْبَآ اِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا } ”اگر تم دونوں اللہ کی جناب میں توبہ کرو تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے ‘ کیونکہ تمہارے دل تو مائل ہو ہی چکے ہیں۔“ اس آیت کی تعبیر میں اہل تشیع کا نقطہ نظر یقینا انتہا پسندانہ ہے ‘ لیکن مقام حیرت ہے کہ ہمارے بعض مترجمین اور مفسرین نے بھی انہی کی روش اختیار کی ہے۔ البتہ مولانا حمید الدین فراہی رح نے عربی اسلوب کو مدنظر رکھتے ہوئے اس آیت کی جو وضاحت کی ہے میری رائے میں وہ بہت جامع اور بالکل درست ہے۔ اس حوالے سے میں ذاتی طور پر خود کو مولانا صاحب کا احسان مند مانتا ہوں کہ ان کی اس تحریر کی بدولت مجھے قرآن کے اس مقام کا درست فہم اور شعور نصیب ہوا۔ اہل تشیع کے ہاں { فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا } کا ترجمہ یوں کیا جاتا ہے کہ تم دونوں کے دل ٹیڑھے ہوچکے ہیں۔ دراصل صََغَتْ ایسا لفظ ہے جس میں منفی اور مثبت دونوں معنی پائے جاتے ہیں۔ جیسے مَالَ اِلٰی کے معنی ہیں کسی طرف میلان یا توجہ ہونا جبکہ مَالَ عَنْ کے معنی ہیں کسی سے نفرت ہوجانا۔ اسی طرح لفظ رَغِبَ اِلٰی راغب ہونا ‘ محبت کرنا اور رَغِبَ عَنْ ناپسند کرنا کے معنی دیتا ہے۔ صَغٰی کا معنی ہے جھک جانا ‘ مائل ہوجانا۔ جب ستارے ڈوبنے لگتے ہیں تو عرب کہتے ہیں : صَغَتِ النُّجُوم۔ چناچہ یہاں اس لفظ کا درست مفہوم مائل ہوجانا ہی ہے کہ اب تمہارے دل میں تو یہ بات آ ہی چکی ہے اور تمہارے دل تو خطا کو تسلیم کر ہی چکے ہیں ‘ بس اب تم زبان سے بھی اس کا اعتراف کرلو۔ جیسے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی خطا کا احساس ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اعتراف اور توبہ کے الفاظ بھی سکھا دیے : { فَتَلَقّٰٓی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَـیْہِط } البقرۃ : 37 اور آپ علیہ السلام نے سکھائے ہوئے طریقے سے توبہ کرلی۔ اس بارے میں عام رائے یہ ہے کہ مذکورہ بات حضرت حفصہ رض نے حضرت عائشہ رض کو بتائی تھی۔ چونکہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رض کو دربارِ رسالت میں خصوصی مقام و مرتبہ حاصل تھا اسی نسبت سے حضرت عائشہ رض اور حضرت حفصہ رض بھی ازواجِ مطہرات رض میں ممتاز تھیں۔ { وَاِنْ تَظٰھَرَا عَلَیْہِ } ”اور اگر تم دونوں نے ان کے خلاف گٹھ جوڑ کرلیا ہے“ یہ بہت سخت الفاظ ہیں۔ قرآن مجید کے ایسے مقامات کو سمجھنے کے لیے بنیادی طور پر یہ اصول ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اَلرَّبُّ رَبٌّ وَاِنْ تَنَزَّلَ ‘ وَالْعَبْدُ عَبْدٌ وَاِنْ تَرَقّٰی۔ اور یہ بھی کہ جن کے مراتب جتنے بلند ہوں ان کا ہلکا سا سہو بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل گرفت ہوجاتا ہے۔ جیسے عربی کا مقولہ ہے : حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْن یعنی عام لوگوں کے لیے جو کام بڑی نیکی کا سمجھا جائے گا ہوسکتا ہے کہ وہی کام اللہ تعالیٰ کے مقربین اولیاء اور محبوب بندوں کے لیے تقصیر قرار پائے اور ان کے مرتبہ کے اعتبار سے قابل ِگرفت شمار ہوجائے۔ اسی قاعدہ اور اصول کے تحت یہاں یہ سخت الفاظ آئے ہیں کہ اگر آپ لوگوں نے ہمارے رسول ﷺ کے خلاف کوئی متحدہ محاذ بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے تو سن لو : { فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَ مَوْلٰــٹہُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَج وَالْمَلٰٓئِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَھِیْرٌ۔ } ”ان ﷺ کا پشت پناہ تو خود اللہ ہے اور جبریل اور تمام صالح مومنین ‘ اور مزید برآں تمام فرشتے بھی ان ﷺ کے مددگار ہیں۔“ لہٰذا بہتر تو یہ ہے کہ تم لوگ ہمارے رسول ﷺ کے ساتھ جو بھی معاملہ کرو ان کے مقام و مرتبے کی مناسبت سے کیا کرو۔ تمہارا میاں بیوی کا رشتہ اپنی جگہ لیکن یہ حقیقت کسی لمحہ بھی نظر انداز نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں اور تم سب لوگ امتی ہو۔ تمہارا ان ﷺ کے ساتھ بنیادی تعلق یہی ہے۔ اس تعلق کے مقابلے میں تمہارے باقی تمام رشتوں کی حیثیت ثانوی ہے۔ اس کے بعد آگے مزید سخت الفاظ آ رہے ہیں :