- فَاِذَاپھر جب
- بَلَغْنَوہ پہنچیں
- اَجَلَهُنَّاپنی مدت کو
- فَاَمْسِكُوْهُنَّتو روک لو ان کو
- بِمَعْرُوْفٍبھلے طریقے سے
- اَوْیا
- فَارِقُوْهُنَّجدا کردو ان کو
- بِمَعْرُوْفٍساتھ بھلے طریقے کے
- وَّاَشْهِدُوْااور گواہ بنا لو
- ذَوَیْدو والوں کو
- عَدْلٍعدل
- مِّنْكُمْتم میں سے
- وَاَقِیْمُوااور قائم کرو
- الشَّهَادَةَگواہی کو
- لِلّٰهِ ؕاللہ ہی کے لیے
- ذٰلِكُمْیہ بات
- یُوْعَظُنصیحت کی جاتی ہے
- بِهٖساتھ اس کے
- مَنْاسے جو کوئی
- كَانَہو
- یُؤْمِنُایمان رکھتا ہے
- بِاللّٰهِاللہ پر
- وَالْیَوْمِاور یوم
- الْاٰخِرِ ؕ۬آخرت پر
- وَمَنْاور جو
- یَّتَّقِڈرے گا
- اللّٰهَاللہ سے
- یَجْعَلْوہ پیدا کردے گا
- لَّهٗاس کے لیے
- مَخْرَجًانکلنے کا راستہ
Surah 65 · word by word
Surah 65, ayah 2
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
پھر جب وہ اپنی (عدّت کی) مدّت کے خاتمے پر پہنچیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں) روک رکھو، یا بَھلے طریقے پر اُن سے جُدا ہو جاؤ۔1 اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنالو جو تم میں سے صاحبِ عدل ہوں۔2 اور (اے گواہ بننے والو) گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے لیے ادا کرو۔یہ باتیں ہیں جن کی تم لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے، ہر اُس شخص کو جو اللہ اور آخرت کےدن پر ایمان رکھتا ہو۔3 جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اُس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا4
Footnotes (the author's commentary)
-
یعنی ایک یا دو طلاق دینے کی صورت میں عدت ختم ہونے سے پہلے پہلے فیصلہ کر لو کہ آیا عورت کو اپنی زوجیت میں رکھنا ہے یا نہیں۔ رکھنا ہو تو نباہنے کی غرض سے رکھو، اس غرض سے نہ رکھو کہ اس کو ستانے کے لیے رجوع کر لو اور اپھر طلاق دے کر اس کی عدت لمبی کرتے رہو۔ اور اگر رخصت کرنا ہو تو شریف آدمیوں کی طرح کسی لڑائی جھگڑے کے بغیر رخصت کرو، مہر یا اس کا کوئی حصہ باقی ہو تو ادا کر دو، اور حسب توفیق کچھ نہ کچھ متعہ طلاق کے طور پر دو، جیسا کہ سورہ بقرہ آیت 241 میں ارشاد ہوا ہے ۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الاحزاب، حاشیہ 86)۔
-
ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ اس سے مراد طلاق پربھی گواہ بنانا ہے اور رجوع پر بھی (ابن جریر)۔ حضرت عمران بن حصین سے پوچھا گیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر اس سے رجوع کر لیا، مگر نہ طلاق پر کسی کو گواہ بنایا نہ رجوع پر۔ انہوں نے جواب دیا’’ تم نے طلاق بھی سنت کے خلاف دی اور رجوع بھی سنت کے خلاف کیا۔ طلاق اور رجعت اور فرقت پر گواہ بنانا، ان افعال کی صحت کے لیے شرط نہیں ہے کہ اگر گواہ نہ بنایا جائے تو نہ طلاق واقع ہو، نہ رجوع صحیح ہو اور نہ فرقت، بلکہ یہ حکم اس احتیاط کے لیے دیا گیا ہے کہ فریقین میں سے کوئی بعد میں کسی واقعہ کا انکار نہ کر سکے ، اور نزاع پیدا ہونے کی صورت میں بآسانی فیصلہ ہو سکے ، اور شکوک و شبہات کا دروازہ بھی بند ہو جائے ۔ یہ حکم بالکل ایسا ہی ہے جیسے فرمایا: وَاَشْھِدُوْآاِذَا تَبَا یَعْتُمْ، ’’ جب تم آپس میں بیع کا کوئی معاملہ طے کرو تو گواہ بنا لو‘‘(بقرہ۔ 282)۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بیع پر گواہ بنانا فرض ہے اور اگر گواہ نہ بنایا جائے تو بیع صحیح نہ ہو گی، بلکہ یہ ایک حکیمانہ ہدایت ہے جو نزاعات کا سد باب کرنے کے لیے دی گئی ہے اور اس پر عمل کرنے ہی میں بہتری ہے ۔ اسی طرح طلاق اور رجوع کے معاملہ میں بھی صحیح بات یہی ہے کہ ان میں سے ہر فعل گواہیوں کے بغیر بھی قانوناً درست ہو جاتا ہے ، لیکن احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ جو فعل بھی کیا جائے ، اسی وقت یا اس کے بعد دو صاحب عدل آدمیوں کو اس پر گواہ بنا لیا جائے ۔
-
یہ الفاظ خود بتا رہے ہیں کہ اوپر جو ہدایات دی گئی ہیں وہ نصیحت کی حیثیت رکھتی ہیں نہ کہ قانون کی۔ آدمی سنت کے خلاف طلاق دے بیٹھے ، عدت کا شمار محفوظ نہ رکھے ، بیوی کو بلا عذر معقول گھر سے نکال دے ، عدت کے خاتمے پر رجوع کرے تو عورت کو ستانے کے لیے کرے اور رخصت کرے تو لڑائی جھگڑے کے ساتھ کرے ، اور طلاق، رجوع، مفارقت، کسی چیز پر بھی گواہ نہ بنائے ، تو اس سے طلاق اور رجوع اور مفارقت کے قانونی نتائج میں کوئی فرق واقع نہ ہ گا۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی نصیحت کے خلاف عمل کرنا اس بات کی دلیل ہو گا کہ اس کے دل میں اللہ اور روز آخر پر صحیح ایمان موجود نہیں ہے جس کی بنا پر اس نے وہ طرز عمل اختیار کیا جو ایک سچے مومن کو اختیار نہ کرنا چاہیے ۔
-
سیاق کلام خود بتا رہا ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے کام کرنے کا مطلب سنت کے مطابق طلاق دینا، عدت کا ٹھیک ٹھیک حساب رکھنا، بیوی کو گھر سے نہ نکالنا، عدت کے اختتام پر عورت کو روکنا ہو تو نباہ کرنے کی نیت سے رجوع کرنا اور علیحدگی ہی کرنی ہو تو بھلے آدمیوں کی طرح اس کو رخصت کر دینا، اور طلاق، رجوع یا مفارقت، جو بھی ہو، اس پر وہ عادل آدمیوں کو گواہ بنا لینا ہے ۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو اس طرح تقویٰ سے کام لے گا اس کے لیے ہم کوئی مخرج(یعنی مشکلات سے نکلنے کا راستہ) نکال دیں گے ۔ اس سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جو شخص ان امور میں تقویٰ سے کام نہ لے گا وہ اپنے لیے خود ایسی الجھنیں اور مشکلات پیدا کر لے گا جن سے نکلنے کا کوئی راستہ اسے نہ مل سکے گا۔ ان الفاظ پر غور کیا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے نزدیک طلاق بدعی سرے سے واقع ہی نہیں ہوتی اور جو لوگ بیک وقت یا ایک ہی طہر میں دی ہوئیں تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق قرار دیتے ہیں، ان کی رائے صحیح نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر طلاق بدعی واقع ہی نہ ہو تو سرے سے کوئی الجھن پیش نہیں آتی جس سے نکلنے کے لیے کسی مخرج کی ضرورت ہو۔ اور اگر تین طلاق اکٹھی دے بیٹھنے سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہو، تب بھی مخرج کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اس صورت میں آخر وہ پیچیدگی کیا ہے جس سے نکلنے کے لیے کسی راستے کی حاجت پیش آئے ؟
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
پھر جب وہ اپنی (عدت کی) میعاد کو پہنچنے لگیں تو اب ان کو یا تو (اپنے نکاح میں) روک رکھو معروف طریقے سے یا جدا کردو معروف طریقے سے اور اپنے میں سے دو معتبر اشخاص کو گواہ بنا لو اور گواہی قائم کرو اللہ کے لیے۔ یہ ہے جس کی نصیحت کی جا رہی ہے ہراس شخص کو کہ جو ایمان رکھتا ہو اللہ پر اور یوم آخر پر۔ اور جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ پیدا کر دے گا۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 558
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 2 { فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَاَمْسِکُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ } ”پھر جب وہ اپنی عدت کی میعاد کو پہنچنے لگیں تو اب ان کو یا تو اپنے نکاح میں روک رکھو معروف طریقے سے ‘ یا جدا کردو معروف طریقے سے“ یعنی ایک یا دو طلاق دینے کی صورت میں عدت پوری ہوجانے سے پہلے مرد کو حتمی فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر تو وہ رجوع کرنا چاہتا ہے تو شریعت کے طے کردہ طریقے سے رجوع کرلے اور اگر اس نے طلاق ہی کا فیصلہ کرلیا ہے تو پھر بھلے طریقے سے عورت کو گھر سے رخصت کر دے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اسے ستانے کی غرض سے روکے رکھے۔ { وَّاَشْھِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْکُمْ } ”اور اپنے میں سے دو معتبر اشخاص کو گواہ بنا لو“ یعنی اگر کوئی طلاق کے بعد رجوع کرنا چاہے تو وہ اپنے لوگوں میں سے کم از کم دو معتبر اشخاص کی موجودگی میں ایسا کرے۔ { وَاَقِیْمُوا الشَّہَادَۃَ لِلّٰہِ } ”اور گواہی قائم کرو اللہ کے لیے۔“ { ذٰلِکُمْ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ } ”یہ ہے جس کی نصیحت کی جا رہی ہے ہراس شخص کو کہ جو ایمان رکھتا ہو اللہ پر اور یوم آخر پر۔“ اس سے ملتے جلتے الفاظ سورة الاحزاب کی آیت 21 میں حضور ﷺ کے اسوہ اور سورة الممتحنہ کی آیت 6 میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں کے اسوہ کے بارے میں بھی آئے ہیں۔ مطلب یہ کہ حضور ﷺ کا اُسوئہ کاملہ تو اپنی جگہ پر موجود ہے ‘ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں کی زندگی بھی مثالی نمونہ ہے ‘ لیکن کس کے لیے ؟ { لِمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ }۔ یعنی حضور ﷺ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اُسوئہ حسنہ سے استفادہ صرف وہی شخص کرسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور یوم آخرت کی حاضری کی امید رکھتا ہے۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ کے اس جملے کا مفہوم بھی یہی ہے کہ مسائل طلاق سے متعلق یہ وعظ اور نصیحت صرف اسی شخص کے لیے فائدہ مند ہوسکتی ہے جو واقعی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔ { وَمَنْ یَّــتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّـہٗ مَخْرَجًا } ”اور جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا ‘ اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ پیدا کر دے گا۔“ اللہ کے تقویٰ کا مقام و مرتبہ واضح کرنے کا یہ بہت حسین اور دلکش انداز ہے اور اس اعتبار سے یہ قرآن مجید کا منفرد مقام ہے۔ یہاں پر ایک اہم نکتہ یہ سمجھ لیں کہ حقیقی تقویٰ دل کا تقویٰ ہے ‘ جس کے بارے میں حضور ﷺ نے ایک مرتبہ اپنے دست مبارک سے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : اَلتَّقْوٰی ھٰھُنَا ، اَلتَّقْوٰی ھٰھُنَا ، اَلتَّقْوٰی ھٰھُنَا 1 کہ اصل تقویٰ یہاں دل کے اندر ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقویٰ کا براہ راست تعلق انسان کے دل کے ساتھ ہے۔ اگر دل میں تقویٰ نہیں تو ّجبہ و دستار کا اہتمام اور متقیانہ وضع قطع کی حیثیت بہروپ سے زیادہ کچھ نہیں۔ چناچہ اس آیت میں اہل تقویٰ کو بہت بڑی بشارت سنائی جا رہی ہے کہ اگر کسی بندئہ مومن کا تقویٰ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں مقبول و منظور ہوا تو اس کے لیے مشکل سے مشکل صورت حال سے نکلنے کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور پیدا کردیا جائے گا ‘ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے تو فرعون نے انہیں ساحل سمندر پر جا لیا۔ اب آگے سمندر تھا اور پیچھے فرعون کا لشکر۔ بظاہر بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا ‘ مگر اللہ تعالیٰ نے سمندر کو پھاڑ کر ان کے لیے راستہ پیدا کردیا۔ اسی طرح جب حضور ﷺ غارِ ثور میں تشریف فرما تھے تو مشرکین مکہ میں سے کچھ لوگ آپ ﷺ کے کھوج میں غار کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔ انہیں دیکھ کر حضرت ابوبکر رض نے عرض کیا کہ حضور ﷺ ! اگر ان لوگوں نے نیچے اپنے قدموں کی طرف بھی دیکھ لیا تو ہم انہیں نظر آجائیں گے۔ حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر رض کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا : { لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَاج } التوبۃ : 40 کہ آپ فکر مت کریں ‘ اللہ ہمارے ساتھ ہے ! اس موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے ایسی صورت حال پیدا فرما دی کہ مشرکین آپ ﷺ کو نہ دیکھ سکے۔ حضور ﷺ کے سفر طائف کی مثال لیں تو بظاہر وہاں سے آپ ﷺ خالی ہاتھ واپس آئے تھے ‘ لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لیے مدینہ سے کھڑکی کھول دی اور ایسے حالات پیدا فرما دیے کہ آپ ﷺ کے مدینہ تشریف لے جانے سے پہلے ہی وہاں انقلاب آگیا۔ یہ مثالیں گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ مشکل سے مشکل حالات میں بھی اپنے متقی بندوں کے لیے ضرور ”مخرج“ پیدا فرماتا ہے۔ چناچہ اقامت دین کی جدوجہد میں مصروف اہل ایمان کے لیے آیت زیر مطالعہ کے ان الفاظ میں یہ خوشخبری ہے کہ وہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے اپنی کوششیں پورے خلوص سے جاری رکھیں۔ جب اللہ تعالیٰ کو ان کوششوں کی کامیابی منظور ہوگی تو حیرت انگیز طریقے سے منزل خود چل کر ان کے سامنے آجائے گی۔