Surah 64 · word by word

Surah 64, ayah 6

  1. ذٰلِكَیہ
  2. بِاَنَّهٗبوجہ اس کے کہ بیشک وہ
  3. كَانَتْتھے
  4. تَّاْتِیْهِمْآتے ان کے پاس
  5. رُسُلُهُمْان کے رسول
  6. بِالْبَیِّنٰتِساتھ واضح آیات کے
  7. فَقَالُوْۤاتو وہ کہتے
  8. اَبَشَرٌکیا انسان
  9. یَّهْدُوْنَنَا ؗہدایت دیں گے ہم کو
  10. فَكَفَرُوْاتو انہوں نے کفر کیا
  11. وَتَوَلَّوْااورمنہ موڑ گئے
  12. وَّاسْتَغْنَیاور بےپرواہ ہوگیا
  13. اللّٰهُ ؕاللہ
  14. وَاللّٰهُاور اللہ
  15. غَنِیٌّبےنیاز ہے
  16. حَمِیْدٌتعریف والا ہے

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

اِس انجام کے مستحق وہ اس لیے ہوئے کہ اُن کے پاس اُن کے رسوُل کُھلی کُھلی دلیلیں اور نشانیاں لے کر آتے رہے،1 مگر اُنہوں نے کہا”کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے“؟2 اس طرح انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا اور منہ پھیر لیا، تب اللہ بھی ان سے بے پرواہ ہو گیا اور اللہ تو ہے ہی بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود۔3

Footnotes (the author's commentary)

  1. اصل میں لفظ بینات استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ بین عربی زبان میں ایسی چیز کو کہتے ہیں جو بالکل ظاہر اور واضح ہو، انبیاء علیہم السلام کے متعلق یہ فرمانا کہ وہ بینات لے کر آتے رہے ، یہ معنی رکھتا ہے کہ ایک تو وہ ایسی صریح علامات اور نشانیاں لے کر آتے تھے جو ان کے مامور من اللہ ہونے کی کھلی کھلی شہادت دیتی تھیں۔ دوسرے ، وہ جو بات بھی پیش کرتے تھے نہایت معقول اور  روشن دلیلوں کے ساتھ پیش کرتے تھے۔ تیسرے ، ان کی تعلیم میں کوئی ابہام نہ تھا، بلکہ وہ صاف صاف بتاتے تھے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا، جائز کیا ہے اور ناجائز کیا، کس راہ پر انسان کو چلنا چاہیے اور کس راہ پر نہ چلنا چاہیے۔

  2. یہ تھی ان کی تباہی کی اولین اور بنیادی وجہ۔ نوع انسانی کو دنیا میں صحیح راہ عمل اس کے بغیر معلوم نہیں ہو سکتی تھی کہ اس کا خالق اسے صحیح علم دے ، اور خالق کی طرف سے علم دیے جانے کی عملی صورت اس کے سوا کچھ نہ ہو سکتی تھی کہ وہ انسانوں ہی میں سے بعض افراد کو علم عطا کر کے دوسروں تک اسے پہنچانے کی خدمت سپرد کرے۔ اس غرض کے لیے اس نے انبیاء کو بینات  کے ساتھ بھیجا تاکہ لوگوں کے لیے ان کے بر حق ہونے میں شک کرنے کی کوئی معقول وجہ نہ رہے۔مگر انہوں نے سرے سے یہی بات ماننے سے انکار کر دیا کہ بشر خدا کا رسول ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد ان کے لیے ہدایت پانے کی کوئی صورت باقی نہ رہی۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، سورہ یٰس، حاشیہ  11 )۔ اس معاملہ میں گمراہ انسانوں کی جہالت و نادانی کا یہ عجیب کرشمہ ہمارے سامنے آتا ہے کہ بشر کی رہنمائی قبول کرنے میں تو انہوں نے کبھی تامل نہیں کیا ہے ، حتیٰ کہ ان ہی کی رہنمائی میں لکڑی اور  پتھر کے بتوں تک کو معبود بنایا، خود انسانوں کو خدا اور خدا کا اوتار اور  خدا کا بیٹا تک مان لیا،اور گمراہ کن لیڈروں کی اندھی پیروی میں ایسے ایسے عجیب مسلک اختیار کر لیے جنہوں نے انسانی تہزیب و تمدن اور خلاق کو تلپٹ کر کے رکھ دیا۔ مگر جب خدا کے رسول ان کے پاس حق لے کر آئے اور انہوں نے ہر ذاتی غرض سے بالا تر ہو کر بے لاگ سچائی ان کے سامنے پیش کی تو انہوں نے کہا ’’ کیا با بشر ہیں ہدایت دیں گے ’’؟ اس کے معنی یہ تھے کہ نشر اگر گمراہ کرے تو سر آنکھوں پر، لیکن اگر وہ راہ راست دکھاتا ہے تو اس کی رہنمائی قابل قبول نہیں ہے۔

  3. یعنی جب انہوں نے اللہ  کی بھیجی ہوئی ہدایت سے استغنا برتا تو پھر اللہ کو بھی اس کی کچھ پروا نہ رہی کہ وہ کس گڑھے میں جا کر گرتے ہیں۔ اللہ کی کوئی غرض تو ان سے اٹکی ہوئی نہ تھی کہ وہ اسے خدا مانیں گے تو وہ خدا رہے گا ورنہ خدائی کا ٹکٹ اس سے چھن جائے گا۔ وہ نہ ان کی عبادت کا محتاج تھا، نہ ان کی حمد و ثنا کا۔ وہ تو ان کی اپنی بھلائی کے لیے انہیں راہ راست دکھانا چاہتا تھا مگر جب وہ اس سے منہ پھیر گئے تو اللہ بھی ان سے بے پروا ہو گیا۔ پھر نہ ان کو ہدایت دی، نہ ان کی حفاظت اپنے ذمہ لی، نہ ان کو مہالک میں پڑنے سے بچایا اور نہ انہیں اپنے اوپر تباہی لانے سے روکا، کیونکہ وہ خود اس کی ہدایت اور  ولایت کے طالب نہ تھے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 556

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution