Surah 64 · word by word

Surah 64, ayah 13

  1. اَللّٰهُاللہ تعالیٰ
  2. لَاۤنہیں کوئی
  3. اِلٰهَالہ برحق
  4. اِلَّامگر
  5. هُوَ ؕوہی
  6. وَعَلَیاور پر
  7. اللّٰهِاللہ (پر) ہی
  8. فَلْیَتَوَكَّلِپس چاہیے کہ توکل کریں
  9. الْمُؤْمِنُوْنَمومن

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی  خدا نہیں، لہٰذا ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔1

Footnotes (the author's commentary)

  1. یعنی خدائی کے سارے اختیارات تنہا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ کوئی دوسرا سرے سے یہ اختیار رکھتا ہی نہیں ہے کہ تمہاری اچھی یا بری تقدیر بنا سکے۔ اچھا وقت آ سکتا ہے تو اسی کے لائے  آ سکتا ہے ، اور برا وقت ٹل سکتا ہے تو اسی کے ٹالے ٹل سکتا ہے۔ لہٰذا جو شخص سچے دل سے اللہ کو خدائے واحد مانتا ہو اس کے لیے اس کے سوا سرے سے کوئی راستہ ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ پر بھروسا رکھے اور دنیا میں  ایک مومن کی حیثیت سے اپنا فرض اس یقین کے ساتھ انجام دیتا ہے چلا جائے کہ خیر بہر حال اسی راہ میں ہے جس کی طرف اللہ نے رہنمائی فرمائی ہے۔ اس راہ میں کامیابی نصیب ہو گی تو اللہ ہی کی مدد اور تائید و توفیق سے ہو گی، کوئی دوسری طاقت مدد کرنے والی نہیں ہے۔ اور اس راہ میں اگر مشکلات و مصائب اور خطرات و مہالک سے سابقہ پیش آئے گا تو ان سے بھی وہی بچائے گا، کوئی دوسرا بچانے والا نہیں ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ پس اہل ایمان کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔

Commentary

آیت 13{ اَللّٰہُ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ ہُوَط وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ } ”اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ پس اہل ایمان کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔“ اے اہل ایمان ! اگر تم واقعی اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو تمہیں یقین ہونا چاہیے کہ اللہ کی مرضی کے بغیر ایک ذرہ بھی حرکت نہیں کرسکتا۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمہارے کرنے سے کچھ نہیں ہوگا ‘ جو کچھ بھی ہوگا وہ اللہ کی مشیت اور مرضی سے ہوگا۔ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ محنت کرو اور اس کا نتیجہ اللہ پر چھوڑ دو۔ اگر تم کوئی کام کرنے کی استطاعت بھی رکھتے ہو ‘ تمہارے پاس تمام وسائل بھی موجود ہیں اور تم حالات کو بھی کلی طور پر سازگار دیکھتے ہو تو بھی کبھی مت کہنا کہ میں یہ کام ضرور کرلوں گا۔ اگر تم ایسا دعویٰ کر بیٹھو گے تو ایمان سے دور ہوجائو گے : { وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْئٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ ز } الکہف ”اور کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہا کریں کہ میں یہ کام کل ضرور کروں گا۔ مگر یہ کہ اللہ چاہے !“ کثرتِ وسائل کے زعم میں فتح کی امید رکھو گے تو وہی حال ہوگا جو لشکر اسلام کا وادی حنین میں ہوا تھا۔ وادی حنین میں دشمن کی تیر اندازی کی وجہ سے اہل ایمان کی صفوں میں ایسی بھگدڑ مچی تھی کہ بارہ ہزار کے لشکر میں سے سید سلیمان ندوی رح کی تحقیق کے مطابق تین چار سو اور ان کے استاد مولانا شبلی نعمانی رح کے مطابق صرف تیس چالیس لوگ حضور ﷺ کے ساتھ کھڑے رہ گئے تھے۔ سورة التوبہ کی آیت 25 میں اس کا سبب بھی بتادیا گیا : { اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ } التوبۃ : 25 کہ اس دن اہل ِ ایمان میں سے بعض لوگوں کے دلوں میں اپنی کثرت تعداد کا زعم پیدا ہوگیا تھا۔ بہرحال مومنین کو ہر طرح کے حالات میں اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے اور صادق الایمان مومنین ہر حالت میں بلاشبہ اللہ پر ہی توکل کرتے ہیں۔ یہ توکل علی اللہ بھی شجر ایمان کا وہ پھول ہے جو اہل ایمان کے دلوں اور ذہنوں کے اندر کھلتا ہے۔ گویا یہ ایمان کا تیسرا ثمرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں تہذیب و تمدن کی گاڑی کو چلانے کے لیے ”علائق دنیوی“ کے ضمن میں بہت سی فطری محبتیں انسان کے دل میں ڈال دی ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ان محبتوں میں سب سے زیادہ قوی محبت بیویوں اور اولاد کی محبت ہے۔ اس طبعی محبت کی طرف اگلی آیت میں متنبہ فرمایا گیا کہ اگر اس میں حد اعتدال سے تجاوز ہوجائے تو یہی محبت انسان کے لیے دشمنی کا روپ دھار لے گی۔ لہٰذا اس کے ضمن میں احتیاط کی ضرورت ہے :

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 557

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution