Surah 63 · word by word

Surah 63, ayah 2

  1. اِتَّخَذُوْۤاانہوں نے بنا لیا
  2. اَیْمَانَهُمْاپنی قسموں کو
  3. جُنَّةًڈھال
  4. فَصَدُّوْاتو انہوں نے روکا
  5. عَنْسے
  6. سَبِیْلِراستے سے
  7. اللّٰهِ ؕاللہ کے
  8. اِنَّهُمْبیشک وہ
  9. سَآءَکتنا برا ہے
  10. مَاجو کچھ
  11. كَانُوْاوہ ہیں
  12. یَعْمَلُوْنَوہ کررہے

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

انہوں نے اپنی قَسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے1 اور اِس طرح یہ اللہ کے راستے سےخود رُکتے اور دنیا کو روکتے ہیں۔2 کیسی بُری حرکتیں ہیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں

Footnotes (the author's commentary)

  1. یعنی اپنے مسلمان اور مومن ہونے کا یقین دلانے کے لیے جو قَسمیں وہ کھاتے ہیں ، ان سے وہ ڈھال کا کام لیتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے غصے سے بچے رہیں اور ان کے ساتھ مسلمان وہ برتاؤ نہ کر سکیں جو کھُلے کھُلے دشمنوں سے کیا جاتا ہے۔ ان قَسموں سے مراد وہ قَسمیں بھی ہو سکتی ہیں جو وہ بالعموم اپنے ایمان کا یقین دلانے کے لیے کھایا کرتے تھے ، اور وہ قَسمیں بھی ہو سکتی ہیں جو اپنی کسی منافقانہ حرکت کے پکڑے جانے پر وہ کھاتے تھے  تاکہ مسلمانوں کو یہ یقین دلائیں کہ وہ حرکت انہوں نے منافقت کی بنا پر نہیں کی تھی، اور وہ قَسمیں بھی ہو سکتی ہیں جو عبداللہ بن ابی نے حضرت زید بن اَرقم کی دی ہوئی خبر کو جھٹلانے کے لیے کھائی تھیں۔ ان سب احتمالات کے ساتھ ایک احتمال یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کو قَسم قرار دیا ہو کہ ’’ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ‘‘۔ اس آخری احتمال کی بنا پر رقہاء کے درمیان یہ بحث پیدا ہوئی ہے کہ کوئی شخص ’’ میں شہادت دیتا ہوں ‘‘ کے الفاظ کہہ کر کوئی بات بیان کرے تو آیا اسے قَسم یا حلف (Oath) قرار دیا جائے گا یا نہیں۔ امام ابو حنیفہ ؒ اور ان کے اصحاب (امام زُفَر کے سوا) اور امام سفیان ثوری اور امام اَوزاعی اسے حلف (شرعی اصطلاح میں یمین ) قرار دیتے ہیں۔ امام زفر کہتے ہیں کہ یہ حلف نہیں ہے۔ امام مالک سے دو قول مروی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مطلقاً حلف ہے ، اور دوسرا قول یہ ہے کہ اگر اس نے ’’ شہادت دیتا ہوں ‘‘ کے الفاظ کہتے وقت بیت یہ کی ہو کہ ’’خدا کی قَسم میں شہادت دیتا ہوں ‘‘، یا ’’ خدا کو گواہ کر کے میں شہادت دیتا ہوں ‘‘ تو اس صورت میں یہ حلفیہ بیان ہو گا ورنہ نہیں۔ امام شافعیؒ کہتے ہیں کہ اگر کہنے والا یہ الفاظ بھی کہے کہ میں ’’ خدا کو گواہ کر کے شہادت دیتا ہوں ‘‘ تب بھی اس کا یہ بیان حلفیہ بیان نہ ہو گا، الا یہ الفاظ اس نے حلف اٹھانے کی نیت سے کہے ہوں (احکام القرآن للجصاص۔ احکام القرآن لابن العربی)۔  

  2. صد کا لفظ عربی زبان میں لازم بھی ہے اور متعدی بھی۔ اس لیے صَدُّ وْا عَنْ سَبِیْلِ اللہِ کے معنی یہ بھی ہیں کہ وہ اللہ کے راستے سے خود رُکتے ہیں ، اور یہ بھی کہ وہ اس راستے سے دوسروں کو روکتے ہیں۔ اسی لیے ہم نے ترجمہ میں دونوں معنی درج کر دیے ہیں۔ پہلے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہو گا کہ اپنی ان قَسموں کے ذریعہ سے مسلمانوں کے اندر اپنی جگہ محفوظ کر لینے کے بعد وہ اپنے لیے ایمان کے تقاضے پورے نہ کرنے اور خدا و  رسول کی اطاعت سے پہلو تہی کرنے کی آسانیاں پیدا کر لیتے ہیں۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہو گا کہ اپنی ان جھوٹی قَسموں کی آڑ میں وہ شکار کھیلتے ہیں ، مسلمان بن کر مسلمانوں کی جماعت میں اندر سے رخنے ڈالتے ہیں ، مسلمانوں کے اسرار سے واقف ہو کر دشمنوں کو ان کی خبریں پہنچاتے ہیں ، اسلام سے غیر مسلموں  کو بد گمان کرنے اور سادہ لوح مسلمانوں کے دلوں میں شبہات اور وسوسے ڈالنے کے لیے وہ وہ حربے استعمال کرتے ہیں جو صرف ایک مسلمان بنا ہوا منافق ہی استعمال کر سکتا ہے ، کھلا کھلا دشمن اسلام ان سے کام نہیں لے سکتا۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور یہ اللہ کے راستے سے رُک گئے ہیں۔ بہت ہی برا کام ہے جو یہ لوگ کرر ہے ہیں۔

Commentary

آیت 2 { اِتَّخَذُوْٓا اَیْمَانَہُمْ جُنَّۃً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } ”انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور یہ اللہ کے راستے سے رُک گئے ہیں۔“ جہاد و قتال سے بچنے کے لیے یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر جھوٹے بہانے بناتے تھے کہ اللہ کی قسم میری بیوی سخت بیمار ہے ‘ گھر میں کوئی دوسرا اس کی دیکھ بھال کرنے والا بھی نہیں ‘ وغیرہ وغیرہ۔ جب نوبت قسموں تک پہنچ گئی تو گویا مرض دوسری سٹیج میں داخل ہوگیا۔ { اِنَّہُمْ سَآئَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔ } ”بہت ہی برا کام ہے جو یہ لوگ کرر ہے ہیں۔“

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 554

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution