- وَلَااور نہ
- یَتَمَنَّوْنَهٗۤوہ تمنا کریں گے اس کی
- اَبَدًاکبھی بھی
- بِمَابوجہ اس کے جو
- قَدَّمَتْآگے بھیجا
- اَیْدِیْهِمْ ؕان کے ہاتھوں نے
- وَاللّٰهُاور اللہ
- عَلِیْمٌۢجاننے والا ہے
- بِالظّٰلِمِیْنَظالموں کو
Surah 62 · word by word
Surah 62, ayah 7
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
لیکن یہ ہر گز اس کی تمنّا نہ کریں گے اپنے کرتُوتوں کی وجہ سے جو یہ کر چکے ہیں،1 اور اللہ اِن ظالموں کوخُوب جانتا ہے
Footnotes (the author's commentary)
-
بالفاظ دیگر ان کا موت سے یہ فرار بے سبب نہیں ہے۔ وہ زبان سے خواہ کیسے ہی لمبے چوڑے دعوے کریں، مگر ان کے ضمیر خوب جاتے ہیں کہ خدا اور اس کے دین کے ساتھ ان کا معاملہ کیا ہے ، اور آخرت میں ان حرکتوں کے کیا نتائج نکلے کی توقع کی جا سکتی ہے جو وہ دنیا میں کر رہے ہیں۔ اسی لیے ان کا نفس خدا کی عدالت کا سامنا کرنے سے جی چراتا ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اور (حقیقت یہ ہے کہ) یہ لوگ ہرگز کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے اپنے ان اعمال کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں۔ اور اللہ ان ظالموں سے خوب واقف ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 554
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 7{ وَلَا یَتَمَنَّوْنَہٗ اَبَدًام بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ } ”اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہرگز کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے اپنے ان اعمال کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں۔“ { وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِالظّٰلِمِیْنَ۔ } ”اور اللہ ان ظالموں سے خوب واقف ہے۔“ اللہ تعالیٰ کے فرمان : { بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ۔ } القیامۃ کے مصداق یہ لوگ اپنے کرتوتوں کو خوب جانتے ہیں۔ اس لیے یہ نہیں چاہتے کہ انہیں موت آئے اور وہ اپنی بداعمالیوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہوں۔ ہم مسلمانوں کے لیے بنی اسرائیل سے متعلق ان آیات کی حیثیت ایک آئینے کی سی ہے۔ اس آئینے میں اگر ہم اپنی تصویر دیکھیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ یہ زعم صرف بنی اسرائیل میں ہی نہیں پایاجاتا تھا بلکہ آج ہم مسلمانوں کی اکثریت بھی اسی سوچ کی حامل ہے اور اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ جب اللہ کی کتاب سے ہمارا ذہنی و قلبی رشتہ نہ رہا تو اپنی تسلی کے لیے ہمیں خود ساختہ خوش فہمیوں wishful thinkings کا سہارالینا پڑا۔ ان میں سب سے بڑی اور سب سے موثر خوش فہمی تویہی ہے کہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب ہے ‘ ہم اللہ کے محبوب ترین نبی حضرت محمد ﷺ کی امت ہیں اور اس رشتے سے اللہ کے بہت ہی لاڈلے اور چہیتے ہیں۔ چناچہ ہم جیسے بھی گناہگار سہی ‘ آخرت میں ہمارے نبی ﷺ یقینا ہماری شفاعت کریں گے اور دوزخ سے ہماری خلاصی کو یقینی بنائیں گے۔ اگر خدانخواستہ ہم میں سے کوئی فرد کسی بڑے جرم میں پکڑا بھی گیا تو اسے بھی بہت جلد دوزخ سے نکال کر جنت میں پہنچا دیا جائے گا۔ ہمارے ہاں یہ خوش فہمیاں پختہ ہو کر باقاعدہ عقائد کی شکل اختیار کرچکی ہیں۔ اب ایسی ضمانتوں کے ہوتے ہوئے بھلا کون احمق ہوگا جو نیک اعمال کے لیے مشقتیں اٹھائے اور رشوت ‘ چور بازاری اور دوسری حرام کاریوں سے اجتناب کرتا پھرے : ؎خبر نہیں کیا ہے نام اس کا ‘ خدا فریبی کہ خود فریبی ؟ عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ !اقبال کا یہ شعر اس حوالے سے آج ہم پر ہوبہو صادق آتا ہے۔ پہلے تو ”مسلمان“ کے پاس عمل سے بچنے کے لیے صرف تقدیر کا بہانہ تھا ‘ اب ہم نے مذکورہ بالا عقائد کی صورت میں بہت مضبوط سہارا بھی تلاش کرلیا ہے۔