Surah 61 · word by word

Surah 61, ayah 6

  1. وَاِذْاور جب
  2. قَالَکہا
  3. عِیْسَیعیسیٰ
  4. ابْنُابن
  5. مَرْیَمَمریم نے
  6. یٰبَنِیْۤاے بنی
  7. اِسْرَآءِیْلَاسرائیل
  8. اِنِّیْبیشک میں
  9. رَسُوْلُرسول ہوں
  10. اللّٰهِاللہ کا
  11. اِلَیْكُمْتمہاری طرف
  12. مُّصَدِّقًاتصدیق کرنے والا ہوں
  13. لِّمَاواسطے اس کے جو
  14. بَیْنَدرمیان
  15. یَدَیَّمیرے آگے ہے
  16. مِنَسے
  17. التَّوْرٰىةِتورات میں سے
  18. وَمُبَشِّرًااور خوش خبری دینے والا ہوں
  19. بِرَسُوْلٍایک رسول کی
  20. یَّاْتِیْآئے گا
  21. مِنْسے
  22. بَعْدِیمیرے بعد
  23. اسْمُهٗۤاس کا نام
  24. اَحْمَدُ ؕاحمد ہوگا
  25. فَلَمَّاپھر جب
  26. جَآءَهُمْوہ آیا ان کے پاس
  27. بِالْبَیِّنٰتِساتھ روشن دلائل کے
  28. قَالُوْاانہوں نے کہا
  29. هٰذَایہ
  30. سِحْرٌجادو ہے
  31. مُّبِیْنٌکھلا

Translation and commentary

Bayan-ul-Quran

اور یاد کرو جب عیسیٰ ؑ ابن مریم نے کہا کہ اے بنی اسرائیل ! میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف میں تصدیق کرتے ہوئے آیا ہوں اس کی جو میرے سامنے موجود ہے تورات میں سے اور بشارت دیتا ہوا ایک رسول کی جو میرے بعد آئیں گے ان کا نام احمد ﷺ ہوگا۔ پھر جب وہ (عیسیٰ ؑ آئے ان کے پاس واضح نشانیوں کے ساتھ تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔

Commentary

آیت 6 { وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰــبَنِیْٓ اِسْرَآئِ ‘ یْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَـیْکُمْ } ”اور یاد کرو جب عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نے کہا کہ اے بنی اسرائیل ! میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف“ اس آیت میں بنی اسرائیل کے دوسرے دور کا ذکر ہے جب ان کی طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسول بن کر آئے۔ بحیثیت رسول آپ علیہ السلام کی بعثت کا ذکر سورة آل عمران کی آیت 49 کے الفاظ { وَرَسُوْلًا اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ } میں آیا ہے۔ { مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰٹۃِ } ”میں تصدیق کرتے ہوئے آیا ہوں اس کی جو میرے سامنے موجود ہے تورات میں سے“ { وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْم بَعْدِی اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ } ”اور بشارت دیتا ہوا ایک رسول کی جو میرے بعد آئیں گے ‘ ان کا نام احمد ﷺ ہوگا۔“ { فَلَمَّا جَآئَ ہُمْ بِالْبَـیِّنٰتِ قَالُوْا ہٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ۔ } ”پھر جب وہ عیسیٰ علیہ السلام آئے ان کے پاس واضح نشانیوں کے ساتھ تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔“ اس کے بعد حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے ساتھ بنی اسرائیل کا تیسرا دور شروع ہوا۔ حضور ﷺ کی رسالت کے بعد بنی اسرائیل کو واضح طور پر بتادیا گیا : { عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْج وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا 7} بنی اسرائیل : 8 ”ہوسکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر رحم کرے ‘ اور اگر تم نے وہی روش اختیار کی تو ہم بھی وہی کچھ کریں گے“۔ یعنی اے بنی اسرائیل ! تم ہمارے لاڈلے تھے ‘ ہم نے تمہیں خود برگزیدہ کیا تھا : { وَلَقَدِ اخْتَرْنٰـھُمْ عَلَی عِلْمٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ۔ } الدخان مگر تم نے اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے اپنے آپ کو راندئہ درگاہ بنالیا۔ بہرحال ہماری رحمت اور محبت کے دروازے اب بھی تمہارے لیے کھلے ہیں۔ اگر تم لوگ توبہ کر کے اپنی روش درست کرلو تو ہم اب بھی تمہیں اپنی آغوش رحمت میں لینے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس کے لیے تمہیں خود کو محمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں ڈالنا ہوگا اور قرآن کو اپنا راہبر ماننا ہوگا : { اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ اَقْوَمُ وَیُـبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمْ اَجْرًا کَبِیْرًا۔ } بنی اسرائیل ”یقینا یہ قرآن راہنمائی کرتا ہے اس راہ کی طرف جو سب سے سیدھی ہے اور بشارت دیتا ہے ان اہل ایمان کو جو نیک عمل بھی کریں کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔“ تم پر واضح ہونا چاہیے کہ اب ہمارے قصر ِرحمت کا شاہدرہ قرآن ہے۔ اگر تم ہماری رحمت کی پناہ میں آنا چاہتے ہو تو تمہیں اسی شاہدرہ کی راہ سے گزر کر آنا ہوگا۔ لیکن اگر تم نے اپنے طرزعمل کی اصلاح نہ کی ‘ اپنی نافرمانیاں اسی طرح جاری رکھیں تو پھر ہم بھی تمہارے ساتھ ویسا ہی سلوک کریں گے جیسا کہ ماضی میں تمہارے ساتھ ہوتا رہا ہے : { وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا }۔ جیسے ماضی میں ہمارے حکم پر تم لوگ بخت نصر Nebukadnezar ‘ یونانیوں ‘ شامیوں ‘ رومیوں ‘ وغیرہ کے ہاتھوں بار بار نشان عبرت بنتے رہے ہو ویسے ہی ایک مرتبہ پھر ہم تمہیں تمہاری بداعمالیوں کی سزا دلوائیں گے۔ بیسویں صدی میں نازیوں کے ہاتھوں یہود کا جو انجام ہوا وہ بھی عبرت انگیز ہے۔ ان کا اپنا دعویٰ ہے کہ ”ہولوکاسٹ“ میں 60 لاکھ افراد مارے گئے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 552

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution