Surah 60 · word by word

Surah 60, ayah 1

  1. یٰۤاَیُّهَااے
  2. الَّذِیْنَلوگو
  3. اٰمَنُوْاجو ایمان لائے ہو
  4. لَانہ
  5. تَتَّخِذُوْاتم بناؤ
  6. عَدُوِّیْمیرے دشمنوں کو
  7. وَعَدُوَّكُمْاور اپنے دشمنوں کو
  8. اَوْلِیَآءَدوست
  9. تُلْقُوْنَتم ڈالتے ہو
  10. اِلَیْهِمْان کی طرف
  11. بِالْمَوَدَّةِمحبت کو
  12. وَقَدْحالانکہ تحقیق
  13. كَفَرُوْاانہوں نے کفر کیا
  14. بِمَاساتھ اس کے جو
  15. جَآءَكُمْآیا تمہارے پاس
  16. مِّنَسے
  17. الْحَقِّ ۚحق میں (سے)
  18. یُخْرِجُوْنَوہ نکالتے ہیں
  19. الرَّسُوْلَرسول کو
  20. وَاِیَّاكُمْاور تم کو
  21. اَنْکہ
  22. تُؤْمِنُوْاتم ایمان لاتے ہو
  23. بِاللّٰهِاللہ پر
  24. رَبِّكُمْ ؕجو رب ہے تمہارا
  25. اِنْاگر
  26. كُنْتُمْہو تم
  27. خَرَجْتُمْنکلے تم
  28. جِهَادًاجہاد کو
  29. فِیْمیں
  30. سَبِیْلِیْمیرے راستے (میں)
  31. وَابْتِغَآءَاور تلاش کرنے کو
  32. مَرْضَاتِیْمیری رضا
  33. تُسِرُّوْنَتم چھپا کر بھیجتے ہو
  34. اِلَیْهِمْان کی طرف
  35. بِالْمَوَدَّةِ ۖۗمحبت کو
  36. وَاَنَااور میں
  37. اَعْلَمُخوب جانتا ہوں
  38. بِمَاۤساتھ اس کے جو
  39. اَخْفَیْتُمْتم چھپاتے ہو
  40. وَمَاۤاور جو
  41. اَعْلَنْتُمْ ؕتم ظاہر کرتے ہو
  42. وَمَنْاور جو کوئی
  43. یَّفْعَلْهُکرے گا اس کو
  44. مِنْكُمْتم میں سے
  45. فَقَدْتو تحقیق
  46. ضَلَّوہ بھٹک گیا
  47. سَوَآءَسیدھے
  48. السَّبِیْلِراستے سے

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

1 اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے کے لیے اور میری رضا جوئی کی خاطر (وطن چھوڑ کر گھروں سے)نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔تم اُن کے ساتھ دوستی کی طرح ڈالتے ہو، حالانکہ جو حق تمہارے پاس آیا ہے اُس کو ماننے سے وہ انکار کر چکے ہیں اور اُن کی روش یہ ہے کہ رسول کو اور خود تم کو صرف اِس قصُور پر جلا وطن کرتے ہیں کہ تم اپنے رب، اللہ پر ایمان لائے ہو۔ تم چُھپا کر اُن کو دوستانہ پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو اعلانیہ کرتے ہو، ہر چیز کو میں خوب جانتا ہوں۔ جو شخص بھی تم میں سے ایساکرے وہ یقیناً راہِ راست سے بھٹک گیا

Footnotes (the author's commentary)

  1. مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آغاز  ہی میں اس واقعہ کی تفصیلات  بیان کر دی جائیں جس کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں تاکہ آگے کا مضمون سمجھنے میں آسانی ہو۔ مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے اور ابن عباس، مجاہد، قتادہ، غزوہ بن زبیر وغیرہ حضرات کی متفقہ روایت بھی یہی ہے کہ ان آیات کا نزول اس وقت ہوا تھا جب مشرکین مکہ کے نام حضرت حاطب ابی بُلْتَعہ کا خط پکڑا گیا تھا۔

    قصہ یہ ہے کہ جب قریش کے لوگوں نے صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ معظمہ پر چڑھائی کی تیاریاں شروع کر دیں، مگر چند مخصوص صحابہ کے سوا کسی کو یہ نہ بتایا کہ آپ کس مہم پر جانا چاہتے  ہیں۔ اتفاق سے اسی زمانے میں مکہ معظمہ سے ایک عورت آئی جو پہلے بنی عبدالمطلب کی لونڈی تھی اور پھر آزاد ہو کر گانے بجانے کا کام کرتی تھی۔ اس ے آ کر حضور سے اپنی تنگ دستی کی شکایت کی اور کچھ مال مدد مانگی۔ آپ نے بنی عبدالمطلب اور بنی المطلب سے اپیل کر کے اس کی حاجت پوری کر دی۔ جب وہ مکہ جانے لگی تو حضرت حاطب بن ابی بَلْتَعہ اس سے ملے اور اس کو چپکے سے ایک خط بعض سرداران مکہ کے نام دیا اور اس دینار روپے تاکہ وہ راز فاش نہ کرے اور چھپا کر یہ خط ان لوگوں تک پہنچا دے۔ ابھی وہ مدینہ سے روانہ ہی ہوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اس پر مطلع فرما دیا۔ آپ نے فوراً حضرت علی، حضرت زبیر اور حضرت مقداد بن اسود کو اس کے پیچھے بھیجا اور حکم دیا کہ تیزی سے جاؤ، روضہ خاخ کے مقام پر (مدینہ سے 12 میل بجانب مکہ) تم کو ایک عورت ملے گی جس کے پاس مشرکین کے نام حاطب کا ایک خط ہے۔ جس طرح بھی ہو اس سے وہ خط حاصل کرو۔ اگر وہ دے دے تو اسے چھوڑ دینا۔نہ دے تو اس کو قتل کر دینا۔ یہ حضرات جب اس مقام پر پہنچے تو عورت وہاں موجود تھی۔ انہوں نے اس سے خط مانگا۔ اس نے کہا میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔ انہوں نے تلاشی لی۔ مگر کوئی خط نہ ملا۔ آخر کو انہوں نے کہا خط ہمارے حوالے کر ورنہ ہم برہنہ کر کے تیری تلاشی لیں گے۔ جب اس نے دیکھا کہ بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے تو اپنی چوٹی میں سے وہ خط نکال کر انہیں دے دیا اور یہ اسے حضورؐ کی خدمت میں لے آئے۔ کھول کر پڑھا گیا تو اس میں قریش کے لوگوں کو یہ اطلاع دی گئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تم پر چڑھائی کی تیاری کر رہے ہیں۔ (مختلف روایات میں خط کے الفاظ مختلف نقل ہوئے ہیں۔ مگر مدعا سب کا یہی ہے )۔ حضورؐ نے حضرت حاطب سے پوچھا، یہ کیا حرکت ہے؟ انہوں نے عرض کیا آپ میرے معاملہ میں جلدی نہ فرمائیں۔ میں نے جو کچھ کیا ہے اس بنا پر نہیں کیا ہے کہ میں کافر و مرتد ہو گیا ہوں اور اسلام کے بعد اب کفر کو پسند کرنے لگا ہوں۔اصل بات یہ ہے کہ میرے اقرباء مکہ میں مقیم ہیں۔ میں قریش کے قبیلہ کا آدمی نہیں ہوں، بلکہ بعض قریشیوں کی سرپرستی میں وہاں آباد ہوا ہوں مہاجرین میں سے دوسرے جن لوگوں کے اہل و عیال مکہ میں ہیں ان کو تو ان کا قبیلہ بچا لے گا۔ مگر میرا کوئی قبیلہ وہاں نہیں ہے جسے کوئی بچانے والا ہو۔ اس لیے میں نے یہ خط اس خیال سے بھیجا تھا کہ قریش والوں پر میرا ایک احسان رہے جس کا لحاظ کر کے وہ میرے بال بچوں کو نہ چھیڑین۔ (حضرت حاطب کے بیٹے عبدالرحمٰن کی روایت یہ ہے کہ اس وقت حضرت حاطب کے بچے اور بھائی مکہ میں تھے، اور خود حضرت حاطب کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ماں بھی وہیں تھیں )۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حاطب کی یہ بات سن کر حاضرین سے فرمایا : قَدْ صدقکم،’’ حاطب نے تم سے سچی بات ہی ہے ‘‘، یعنی ان  کے اس فعل کا اصل محرک یہی تھا، اسلام سے انحراف اور کفر کی حمایت کا جذبہ اس کا محرک نہ تھا۔ حضرت عمرؓ  نے اٹھ کر عرض کیا یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن ماردوں،اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں سے خیانت کی ہے۔ حضورؐ نے فرمایا، اس شخص نے جنگ بدر میں حصہ لیا ہے۔ تمہیں کیا خبر، ہو سکتا ہے کہ اللہ  تعالیٰ نے اہل بدر کو ملاحظہ فرما کر کہہ دیا ہو کہ تم خواہ کچھ بھی کرو، میں نے تم کو معاف کیا۔‘‘ (اس آخری فقرے  کے الفاظ مختلف روایات میں مختلف ہیں۔ کسی میں ہے قد غفر ت لکم، میں نے تمہاری مغفرت کر دی۔ کسی میں ہے انی غافر لکم، میں تمہیں بخش دینے والا ہوں۔ اور کسی میں ہے ساغفرلکم۔ میں تمہیں بخش دوں گا)۔ یہ بات سن کر حضرت عمرؓ رو دیے اور انہوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول ہی سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ یہ ان کثیر التعداد روایات کا خلاصہ ہے جو متعدد معتبر سندوں سے بخاری، مسلم، احمد، ابوداؤد، ترمذی،نسائی، ابن جریر طبری، ابن ہشام، ابن حبان اور ابن ابی حاتم نے نقل کی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ مستند روایت  وہ ہے جو خود حضرت علیؓ کی زبان دے ان کے کاتب (سکرٹری ) عبید اللہ بن ابی رافع نے سنی اور ان سے حضرت علی کے پوتے حسن بن محمد بن حنفیہ نے سن کر بعد مے راویوں تک پہنچائی۔ ان میں سے کسی روایت میں بھی یہ تصریح نہیں ہے کہ حضرت حاطب کا یہ عذر قبول کر کے انہیں چھوڑ دیا گیاتھا۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

اے اہل ِایمان ! تم میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بنائو تم ان کی طرف دوستی اور محبت کے پیغامات بھیجتے ہو حالانکہ انہوں نے انکار کیا ہے اس حق کا جو تمہارے پاس آیا ہے۔ وہ رسول ﷺ کو اور تم لوگوں کو صرف اس بنا پر جلاوطن کرتے ہیں کہ تم ایمان رکھتے ہو اللہ اپنے رب پر۔ اگر تم نکلے تھے میرے راستے میں جہاد کرنے اور میری رضاجوئی کے لیے (تو تمہارا یہ طرزعمل اس کے منافی ہے) تم انہیں خفیہ پیغامات بھیجتے ہو محبت اور دوستی کے اور میں خوب جانتا ہوں جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔ اور جو کوئی بھی تم میں سے یہ کام کرے تو وہ یقینا سیدھے راستے سے بھٹک گیا

Commentary

آیت 1{ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَـتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَـآئَ } ”اے اہل ِایمان ! تم میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بنائو“ یعنی تم لوگ کفار و مشرکین کی خیر خواہی اور بھلائی کا مت سوچو۔ ان کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنے اور اچھے تعلقات بنانے کی کوشش مت کرو۔ ان آیات کا نزول اس وقت ہوا جب سردارانِ قریش کے نام حضرت حاطب رض بن ابی بلتعہ کا خط پکڑا گیا۔ { تُـلْقُوْنَ اِلَـیْہِمْ بِالْمَوَدَّۃِ } ”تم ان کی طرف دوستی اور محبت کے پیغامات بھیجتے ہو“ { وَقَدْ کَفَرُوْا بِمَا جَآئَ کُمْ مِّنَ الْحَقِّ } ”حالانکہ انہوں نے انکار کیا ہے اس حق کا جو تمہارے پاس آیا ہے۔“ { یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِیَّاکُمْ } ”وہ رسول ﷺ کو اور تم لوگوں کو صرف اس بنا پر جلاوطن کرتے ہیں“ { اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ رَبِّکُمْ } ”کہ تم ایمان رکھتے ہو اللہ ‘ اپنے رب پر۔“ { اِنْ کُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِہَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَابْتِغَآئَ مَرْضَاتِیْ } ”اگر تم نکلے تھے میرے راستے میں جہاد کرنے اور میری رضاجوئی کے لیے تو تمہارا یہ طرزعمل اس کے منافی ہے“ { تُسِرُّوْنَ اِلَـیْہِمْ بِالْمَوَدَّۃِ } ”تم انہیں خفیہ پیغامات بھیجتے ہو محبت اور دوستی کے“ { وَاَنَا اَعْلَمُ بِمَآ اَخْفَیْتُمْ وَمَـآ اَعْلَنْتُمْ } ”اور میں خوب جانتا ہوں جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔“ { وَمَنْ یَّـفْعَلْہُ مِنْکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآئَ السَّبِیْلِ۔ } ”اور جو کوئی بھی تم میں سے یہ کام کرے تو وہ یقینا سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔“ یہ طویل آیت مدنی سورتوں کے عمومی مزاج کی ترجمانی کرتی ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 549

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution