Surah 6 · word by word

Surah 6, ayah 91

  1. وَمَااور نہیں انہوں نے
  2. قَدَرُواقدر کی
  3. اللّٰهَاللہ کی
  4. حَقَّجیسا کہ حق ہے
  5. قَدْرِهٖۤاس کی قدر کا
  6. اِذْجب
  7. قَالُوْاانہوں نے کہا
  8. مَاۤنہیں
  9. اَنْزَلَنازل کی
  10. اللّٰهُاللہ نے
  11. عَلٰیاوپر
  12. بَشَرٍکسی انسان کے
  13. مِّنْکوئی
  14. شَیْءٍ ؕچیز
  15. قُلْکہہ دیجیے
  16. مَنْکس نے
  17. اَنْزَلَنازل کی
  18. الْكِتٰبَکتاب
  19. الَّذِیْوہ جو
  20. جَآءَلائے
  21. بِهٖاس کو
  22. مُوْسٰیموسیٰ
  23. نُوْرًاجو نور
  24. وَّهُدًیاور ہدایت تھی
  25. لِّلنَّاسِلوگوں کے لیے
  26. تَجْعَلُوْنَهٗتم رکھتے ہو اس کو
  27. قَرَاطِیْسَپارہ پارہ
  28. تُبْدُوْنَهَاتم ظاہر کرتے ہو اس کو
  29. وَتُخْفُوْنَاور تم چھپاتے ہو
  30. كَثِیْرًا ۚبہت سا
  31. وَعُلِّمْتُمْاور تم سکھائے گئے
  32. مَّاجو
  33. لَمْنہیں
  34. تَعْلَمُوْۤاتم جانتے تھے
  35. اَنْتُمْتم
  36. وَلَاۤاور نہ
  37. اٰبَآؤُكُمْ ؕتمہارے باپ دادا
  38. قُلِکہہ دیجیے
  39. اللّٰهُ ۙکہ اللہ نے
  40. ثُمَّپھر
  41. ذَرْهُمْچھوڑ دو ان کو
  42. فِیْمیں
  43. خَوْضِهِمْاپنی بحث
  44. یَلْعَبُوْنَوہ کھیلتے پھریں

Translation and commentary

Bayan-ul-Quran

اور انہوں نے ہرگز اللہ کی قدر نہ پہچانی جیسا کہ اس کا حق تھا جب انہوں نے کہا کہ نہیں اتاری ہے اللہ نے کسی بھی انسان پر کوئی بھی چیز آپ ﷺ پوچھئے کہ پھر کس نے اتاری تھی وہ کتاب جو موسیٰ لے کر آئے تھے جو خود نور (روشن) تھی اور لوگوں کے لیے ہدایت بھی تھی ؟ تم نے اسے ورق ورق کردیا ہے اس (کے احکام) میں سے کچھ کو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپا کر رکھتے ہو اور تمہیں سکھائی گئی تھیں (تورات کے ذریعے سے) وہ سب باتیں جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے آباء و اَجداد کہیے (یہ سب نازل کیا تھا) اللہ نے پھر ان کو چھوڑ دیجیے کہ یہ اپنی کج بحثیوں کے اندر کھیلتے رہیں

Commentary

اب اس ردّو قدح کا ذکر ہونے جا رہا ہے جو مکہ کے لوگ یہودیوں کے سکھانے پڑھانے پر حضور ﷺ سے کر رہے تھے۔ اب تک اس سورة میں جو گفتگو ہوئی ہے وہ خالص مکہ کے مشرکین کی طرف سے تھی اور انہی کے ساتھ سارا مکالمہ اور مناظرہ تھا۔ لیکن جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یہ دونوں سورتیں سورۃ الانعام اور سورة الاعراف مکی دور کے آخری زمانے میں نازل ہوئیں۔ اس وقت تک حضور ﷺ کی رسالت اور نبوت کے دعوے کا چرچا مدینہ منورہ میں بھی پہنچ چکا تھا اور اہل کتاب یہود نے خطرے کو بھانپ کر وہیں بیٹھے بیٹھے آپ ﷺ کے خلاف سازشیں اور ریشہ دوانیاں شروع کردی تھیں۔ وہ ضد اور ہٹ دھرمی میں یہاں تک کہہ بیٹھے تھے کہ ان مسلمانوں سے تو یہ مشرک بہتر ہیں جو بتوں کو پوجتے ہیں ‘ وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح کی ایک بات وہ ہے جو یہاں کہی جا رہی ہے۔آیت 91 وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ ط وحی الٰہی کے بارے میں یہ صاف انکار denial categorical ان لوگوں کا تھا جو خود کو الہامی کتاب کے وارث سمجھتے تھے۔ اہل مکہ تو چونکہ آسمانی کتابوں سے واقف ہی نہیں تھے اس لیے انہوں نے حضور ﷺ کی نبوت اور وحی کا ذکر یہود سے کیا اور ان سے رائے پوچھی۔ اس پر یہودیوں کا جواب یہ تھا کہ یہ سب خیال اور وہم ہے ‘ اللہ نے کسی انسان پر کبھی کوئی چیز اتاری ہی نہیں۔ اب اہل مکہ نے یہودیوں کے پڑھانے پر قرآن مجید پر جب یہ اعتراض کیا تو اس کے جواب میں مشرکین مکہ سے خطاب نہیں کیا گیا ‘ بلکہ برا ہِ راست یہود کو مخاطب کیا گیا جن کی طرف سے یہ اعتراض آیا تھا ‘ اور ان سے پوچھا گیا کہ اگر اللہ نے کسی انسان پر کبھی کچھ نازل ہی نہیں کیا تو :قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِہٖ مُوْسٰی نُوْرًا وَّہُدًی لِّلنَّاسِ تو کیا تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے من گھڑت تھی ؟ کیا انہوں نے اسے اپنے ہاتھ سے لکھ لیا تھا ؟ تَجْعَلُوْنَہٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَہَا وَتُخْفُوْنَ کَثِیْرًا ج یہود اپنی الہامی کتاب کے ساتھ جو سلوک کرتے رہے تھے وہ بھی انہیں جتلا دیا۔ یہودی علماء نے تورات کے احکام کو نہ صرف پسند اور ناپسند کے خانوں میں تقسیم کردیا تھا بلکہ اپنی من مانی فتویٰ فروشیوں کے لیے اس کو اس طرح چھپا کر رکھا تھا کہ عام لوگوں کی دسترس اس تک ناممکن ہو کر رہ گئی تھی۔ وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنْتُمْ وَلاآ اٰبَآؤُکُمْ ط قُلِ اللّٰہُلا یعنی پھر خود ہی جواب دیجیے کہ تمہاری اپنی الہامی کتابیں تورات اور انجیل بھی اللہ ہی کی طرف سے نازل شدہ ہیں اور اب یہ قرآن بھی اللہ ہی نے نازل فرمایا ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 139

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution