- وَلَااور نہ
- تَطْرُدِتم دھتکارو ان لوگوں کو۔ نہ دور کرو
- الَّذِیْنَان لوگوں کو
- یَدْعُوْنَجو پکارتے ہیں
- رَبَّهُمْاپنے رب کو
- بِالْغَدٰوةِصبح
- وَالْعَشِیِّاور شام
- یُرِیْدُوْنَوہ چاہتے ہیں
- وَجْهَهٗ ؕاس کی ذات
- مَانہیں
- عَلَیْكَتیرے ذمے
- مِنْمیں سے
- حِسَابِهِمْان کے حساب
- مِّنْسے
- شَیْءٍکوئی چیز
- وَّمَااور نہیں
- مِنْمیں سے
- حِسَابِكَتیرے حساب
- عَلَیْهِمْان پر
- مِّنْکوئی
- شَیْءٍچیز
- فَتَطْرُدَهُمْپھر تم انہیں دور کرو گے
- فَتَكُوْنَتو تم ہوجاؤ گے
- مِنَمیں سے
- الظّٰلِمِیْنَظالموں
Surah 6 · word by word
Surah 6, ayah 52
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
اور جو لوگ اپنے ربّ کو رات دن پکارتے رہتے ہیں اور اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دُور نہ پھینکو۔1اُن کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کسی چیز کا با اُن پر نہیں۔ اس پر بھی اگر تم انہیں دُور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہوگے۔2
Footnotes (the author's commentary)
-
قریش کے بڑے بڑے سرداروں اور کھاتے پیتے لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر منجملہ اور اعتراضات کے ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ آپ ؐ کے گرد و پیش ہماری قوم کے غلام ، موالی اور ادنیٰ طبقہ کے لوگ جمع ہو گئے ہیں۔ وہ طعنہ دیا کرتے تھے کہ اس شخص کو ساتھی بھی کیسے کیسے معزّز لوگ ملے ہیں، بلال، عمّار، صُہَیْب اور خَبّاب۔ بس یہی لوگ اللہ کو ہمارے درمیان ایسے ملے جن کو برگزیدہ کیا جا سکتا تھا! پھر وہ ان ایمان لانے والوں کی خستہ حالی کا مذاق اُڑانے پر ہی اکتفا نہ کرتے تھے، بلکہ ان سے جس جس سے کبھی پہلے کوئی اخلاقی کمزوری ظاہر ہوئی تھی اس پر بھی حرف گیریاں کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ فلاں جو کل تک یہ تھا اور فلاں جس نے یہ کیا تھا آج وہ بھی اس ” برگزیدہ گروہ“ میں شامل ہے۔ انہی باتوں کا جواب یہاں دیا جا رہا ہے۔
-
یعنی ہر شخص اپنے عیب و صواب کا ذمّہ دار آپ ہی ہے۔ ان مسلمان ہونے والوں میں سے کسی شخص کی جواب دہی کے لیے تم کھڑے نہ ہوگے اور نہ تمہاری جواب دہی کے لیے ان میں سے کوئی کھڑا ہو گا۔ تمہارے حصّہ کی کوئی نیکی یہ تم سے چھین نہیں سکتے اور اپنے حصّہ کی کوئی بدی تم پر ڈال نہیں سکتے۔ پھر جب یہ محض طالبِ حق بن کر تمہارے پاس آتے ہیں تو آخر تم کیوں انہیں اپنے سے دُور پھینکو۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اور مت دھتکاریے آپ ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح شام (اور) اس کی رضا کے طالب ہیں آپ کے ذمے ان کے حساب میں سے کچھ نہیں ہے اور نہ آپ کے حساب میں سے ان کے ذمے کچھ ہے تو اگر (بالفرض) آپ انہیں اپنے سے دور کریں گے تو آپ ظالموں میں سے ہوجائیں گے
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 134
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 52 وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗ ط۔دراصل یہ اشارہ ہے اس معاملے کی طرف جو تقریباً تمام رسولوں کے ساتھ پیش آیا۔ واقعہ یہ ہے کہ عام طور پر رسولوں کی دعوت پر سب سے پہلے مفلس اور نادار لوگ ہی لبیّک کہتے رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو نبی کی محفل میں دیکھ کر صاحب ثروت و حیثیت لوگ اس دعوت سے اس لیے بھی بدکتے تھے کہ اگر ہم ایمان لائیں گے تو ہمیں ان لوگوں کے ساتھ بیٹھنا پڑے گا۔ اس سلسلے میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کا قرآن میں خصوصی طور پر ذکر ہوا ہے کہ آپ علیہ السلام کی قوم کے سردار کہتے تھے کہ اے نوح ہم تو آپ کے پاس آنا چاہتے ہیں ‘ آپ کے پیغام کو سمجھنا چاہتے ہیں ‘ لیکن ہم جب آپ کے اردگرد ان گھٹیا قسم کے لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہماری غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ ہم ان کے ساتھ بیٹھیں۔ یہی بات قریش کے سرداران رسول اللہ ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے پاس ہر وقت جن لوگوں کا جمگھٹا لگا رہتا ہے وہ لوگ ہمارے معاشرے کے پست طبقات سے تعلق رکھتے ہیں ‘ ان میں سے اکثر ہمارے غلام ہیں۔ ایسے لوگوں کی موجودگی میں آپ کی محفل میں بیٹھنا ہمارے شایان شان نہیں۔ ان کی ایسی باتوں کے جواب میں فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ ان کی باتوں سے کوئی اثر نہ لیں ‘ آپ ﷺ خواہ مخواہ اپنے ان ساتھیوں کو خود سے دور نہ کریں۔ اگر وہ غریب ہیں یا ان کا تعلق پست طبقات سے ہے تو کیا ہوا ‘ ان کی شان تو یہ ہے کہ وہ صبح شام اللہ کو پکارتے ہیں ‘ اللہ سے مناجات کرتے ہیں ‘ اس کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں ‘ اس کے روئے انور کے طالب ہیں اور اس کی رضا چاہتے ہیں۔ سورة البقرۃ میں ایسے لوگوں کے بارے میں ہی فرمایا گیا ہے : مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَآءَ مَرْضَات اللّٰہِ ط آیت 207 کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانیں اور اپنی زندگیاں اللہ کی رضائی جوئی کے لیے وقف کردی ہیں۔مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِہِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْہِمْ مِّنْ شَیْءٍ یعنی ہر شخص اپنے اعمال کے لیے خود جواب دہ ہے اور ہر شخص کو اپنی کمائی خود کرنی ہے۔ ان کی ذمہ داری کا کوئی حصہ آپ پر نہیں ہے۔ آپ ﷺ کے ذمے آپ کا فرض ہے ‘ وہ آپ ادا کرتے رہیں۔ جو لوگ آپ ﷺ کی دعوت پر ایمان لا رہے ہیں وہ بھی اللہ کی نظر میں ہیں اور جو اس سے پہلوتہی کر رہے ہیں ان کا حساب بھی وہ لے لے گا۔ ہر ایک کو اس کے طرزعمل کے مطابق بدلہ دیاجائے گا۔ نہ آپ ﷺ ان کی طرف سے جواب دہ ہیں اور نہ وہ آپ ﷺ کی طرف سے۔