- وَمِنْهُمْاور ان میں سے کوئی وہ ہے
- مَّنْجو
- یَّسْتَمِعُغور سے سنتا ہے۔ کان لگاتا ہے
- اِلَیْكَ ۚطرف تیرے
- وَجَعَلْنَااور بنائے ہم نے۔ ڈال دیے
- عَلٰیپر
- قُلُوْبِهِمْان کے دلوں
- اَكِنَّةًپردے
- اَنْوہ
- یَّفْقَهُوْهُسمجھ سکیں اس کو
- وَفِیْۤاور ان کے
- اٰذَانِهِمْکانوں میں
- وَقْرًا ؕبوجھ ہے
- وَاِنْاور اگر
- یَّرَوْاوہ دیکھ لیں
- كُلَّہر
- اٰیَةٍنشانی
- لَّانہ
- یُؤْمِنُوْاوہ ایمان لائیں گے
- بِهَا ؕساتھ اس کے
- حَتّٰۤییہاں تک کہ
- اِذَاجب
- جَآءُوْكَوہ آتے ہیں تیرے پاس
- یُجَادِلُوْنَكَجھگڑا کرتے ہیں تجھ سے
- یَقُوْلُوہ کہتے ہیں
- الَّذِیْنَوہ لوگ
- كَفَرُوْۤاجنہوں نے کفر کیا
- اِنْنہیں
- هٰذَاۤیہ
- اِلَّاۤمگر
- اَسَاطِیْرُکہانیاں ہیں
- الْاَوَّلِیْنَپہلوں کی
Surah 6 · word by word
Surah 6, ayah 25
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
ان میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سُنتے ہیں مگر حال یہ ہے کہ ہم نے اُن کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں جن کی وجہ سے وہ اس کو کچھ نہیں سمجھتے اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دی ہے (کہ سب کچھ سننے پر بھی کچھ نہیں سنتے)1۔ وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اس پر ایمان لاکر نہ دیں گے۔ حد یہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس آکر تم سے جھگڑتے ہیں تو ان میں سے جن لوگوں نے انکار کا فیصلہ کرلیا ہے وہ (ساری باتیں سننے کے بعد) یہی کہتے ہیں کہ یہ ایک داستانِ پارینہ کے سوا کچھ نہیں۔2
Footnotes (the author's commentary)
-
یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ قانونِ فطرت کے تحت جو کچھ دنیا میں واقع ہوتا ہے اسے اللہ تعالیٰ اپنی طرف منسُوب فرماتا ہے ، کیونکہ دراصل اس قانون کا بنانے والا اللہ ہی ہے اور جو نتائج اس قانون کے تحت رونما ہوتے ہیں وہ سب حقیقت میں اللہ کے اذن و ارادہ کے تحت ہی رونما ہوا کرتے ہیں ۔ ہٹ دھرم منکرینِ حق کا سب کچھ سُننے پر بھی کچھ نہ سُننا اور داعی حق کی کسی بات کا اُن کےدل میں نہ اترنا اُن کی ہٹ دھرمی اور تعصب اور جمود کا فطری نتیجہ ہے۔ قانونِ فطرت یہی ہے کہ جو شخص ضد پر اُتر آتا ہے اور بے تعصّبی کے ساتھ صداقت پسند انسان کا سا رویہ اختیار کرنے پر تیّار نہیں ہوتا، اس کے دل کےد روازے ہر اس صداقت کے لیے بند ہوجاتے ہیں جو اس کی خواہشات کے خلاف ہو۔ اس بات کو جب ہم بیان کریں گے تو یوں کہیں گے کہ فلاں شخص کے دل کے دروازے بند ہیں۔ اور اسی بات کو جب اللہ بیان فرمائے گا تو یوں فرمائے گا کہ اس کے دل کے دروازے ہم نے بند کر دیے ہیں۔ کیونکہ ہم صرف واقعہ بیان کرتے ہیں اور اللہ حقیقت ِ واقعہ کا اظہار فرماتا ہے۔
-
نادان لوگوں کا عموماً یہ قاعدہ ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص انہیں حق کی طرف دعوت دیتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ تم نے نئی بات کیا کہی، یہ تو سب وہی پرانی باتیں ہیں جو ہم پہلے سے سُنتے چلے آرہے ہیں۔ گویا ان احمقوں کا نظریہ یہ ہے کہ کسی بات کے حق ہونے کے لیے اس کا نیا ہونا بھی ضروری ہے اور جو بات پرانی ہے وہ حق نہیں ہے ۔ حالانکہ حق ہر زمانے میں ایک ہی رہا ہے اور ہمیشہ ایک ہی رہے گا۔ خدا کے دیے ہوئے علم کی بنا پر جو لوگ انسانوں کی رہنمائی کے لیے آگے بڑھے ہیں وہ سب قدیم ترین زمانہ سے ایک ہی امرِ حق کر پیش کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی جو اس منبعِ علم سے فائدہ اُٹھا کر کچھ پیش کرے گا وہ اسی پرانی بات کو دُہرائے گا۔ البتہ نئی بات صرف وہی لوگ نکال سکتے ہیں جو خدا کی روشنی سے محروم ہو کر ازلی و ابدی حقیقت کو نہیں دیکھ سکتے اور اپنے ذہن کی اُپچ سے کچھ نظریات گھڑ کر انہیں حق کے نام سے پیش کرتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ بلاشبہ ایسے نادرہ کار ہو سکتے ہیں کہ وہ بات کہیں جو ان سے پہلے کبھی دنیا میں کسی نے نہ کہی ہو۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ کی بات کو بڑی توجہ سے سنتے ہیں حالانکہ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں کہ وہ ان کو سمجھ نہیں سکتے اور ان کے کانوں کے اندر ہم نے ثقل پیدا کردیا ہے۔ اور اگر یہ ساری نشانیاں (جو یہ مانگ رہے ہیں) بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ (اے نبی ﷺ جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے جھگڑا (اور مناظرہ) کرتے ہیں (اور) کافر کہتے ہیں کہ یہ (قرآن جو آپ سنا رہے ہیں) کچھ بھی نہیں صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 130
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 25 وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَ ج۔مکہ میں قریش کے سرداروں کے لیے جب عوام کو ایمان لانے سے روکنا مشکل ہوگیا تو انہوں نے بھی علماء یہود کی طرح ایک ترکیب نکالی۔ وہ بڑے اہتمام کے ساتھ آکر حضور ﷺ کی مجلس میں بیٹھتے اور بڑے انہماک سے کان لگا کر آپ ﷺ کی باتیں سنتے۔ وہ یہ ظاہر کرتے تھے کہ ہم سب کچھ بڑی توجہ سے سن رہے ہیں ‘ تاکہ عام لوگ دیکھ کر یہ سمجھیں کہ واقعی ہمارے ذی فہم سردار یہ باتیں سننے ‘ سمجھنے اور ماننے میں سنجیدہ ہیں ‘ مگر پھر بعد میں عوام میں آکر ان باتوں کو ردّ کردیتے۔ عام لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے یہ ان کی ایک چال تھی ‘ تاکہ عوام یہ سمجھیں کہ ہمارے یہ سردار سمجھدار اور ذہین ہیں ‘ یہ لوگ شوق سے محمد ﷺ کی محفل میں جاتے ہیں اور پورے انہماک سے ان کی باتیں سنتے ہیں ‘ پھر اگر یہ لوگ اس دعوت کو سننے اور سمجھنے کے بعد ردّ کرر ہے ہیں تو آخراس کی کوئی علمی اور عقلی وجوہات تو ہوں گی۔ لہٰذا آیت زیر نظر میں ان کی اس سازش کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اے نبی ﷺ ان میں سے کچھ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں اور آپ کی باتیں بظاہر بڑی توجہ سے کان لگا کر سنتے ہیں۔وَجَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِہِمْ اَکِنَّۃً اَنْ یَّفْقَہُوْہُ وَفِیْٓ اٰذَانِہِمْ وَقْرًاط وَاِنْ یَّرَوْا کُلَّ اٰیَۃٍ لاَّ یُؤْمِنُوْا بِہَا ط۔اللہ نے ان کے دلوں اور دماغوں پر یہ پردے کیوں ڈال دیے ؟ یہ سب کچھ اللہ کی اس سنت کے مطابق ہے کہ جب نبی کے مخاطبین اس کی دعوت کے مقابلے میں حسد ‘ تکبر اور تعصب دکھاتے ہوئے اپنی ضد پر اڑے رہتے ہیں تو ان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں سلب کرلی جاتی ہیں۔ جیسے سورة البقرۃ آیت 7 میں فرمایا گیا : خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَعَلٰی سَمْعِہِمْط وَعَلٰٓی اَبْصَارِہِمْ غِشَاوَۃٌز۔ لہٰذا ان کا بظاہرتوجہ سے نبی ﷺ کی باتوں کو سننا ان کے لیے مفید نہیں ہوگا۔حَتّٰیٓ اِذَا جَآءُ وْکَ یُجَادِلُوْنَکَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ ہٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ۔ یہ جو کچھ آپ ﷺ ہمیں سنا رہے ہیں یہ پرانی باتیں اور پرانے قصے ہیں ‘ جو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہودیوں اور نصرانیوں سے سن رکھے ہیں۔