- وَلَااور نہ
- تَقْرَبُوْاتم قریب جاؤ
- مَالَمال کے
- الْیَتِیْمِیتیم کے
- اِلَّامگر
- بِالَّتِیْساتھ اس طریقے کے
- هِیَوہ
- اَحْسَنُاچھا ہے
- حَتّٰییہاں تک کہ
- یَبْلُغَوہ پہنچ پائے
- اَشُدَّهٗ ۚاپنی جوانی کو / سن اشد کو
- وَاَوْفُوااور پورا کرو
- الْكَیْلَناپ کو
- وَالْمِیْزَانَاور تول کو
- بِالْقِسْطِ ۚانصاف کے ساتھ
- لَانہیں
- نُكَلِّفُہم تکلیف دیتے
- نَفْسًاکسی جان کو
- اِلَّامگر
- وُسْعَهَا ۚاس کی وسعت کے مطابق
- وَاِذَااور جب
- قُلْتُمْکہو تم / بات کرو
- فَاعْدِلُوْاتم تو عدل کرو
- وَلَوْاگرچہ
- كَانَہوں
- ذَاNo meaning in the source
- قُرْبٰی ۚقریبی رشتے دار
- وَبِعَهْدِاور عہد کو
- اللّٰهِاللہ کے
- اَوْفُوْا ؕپورا کرو
- ذٰلِكُمْیہ بات
- وَصّٰىكُمْوصیت کرتا ہے وہ تمہیں
- بِهٖساتھ اس کے
- لَعَلَّكُمْتاکہ تم
- تَذَكَّرُوْنَنصیحت پکڑو
Surah 6 · word by word
Surah 6, ayah 152
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
(1) اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاوٴ مگر ایسے طریقہ سے جو بہترین ہو2 یہاں تک کہ وہ اپنے سنِ رُشد کو پہنچ جائے،(۷) اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو، ہم ہر شخص پر ذمہ داری کا اُتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے،3(۸) اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو، (۹) اور اللہ کے عہد کو پُورا کرو۔4ان باتوں کی ہدایت اللہ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو
Footnotes (the author's commentary)
-
یہ ان کے اعتراض کا پہلا جواب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے اور اپنے طرزِ عمل کی اصلاح کر لینے کے لیے جو مُہلت تمہیں ملی ہوئی ہے یہ اُسی وقت تک ہے جب تک حقیقت پردۂ غیب میں پوشیدہ ہے۔ ورنہ جہاں غیب کا پردہ چاک ہوا، پھر مُہلت کا کوئی موقع باقی نہ رہے گا۔ اُس کے بعد تو صرف حساب ہی لینا باقی رہ جائے گا۔ اس لیے کہ دنیا کی زندگی تمہارے لیے ایک امتحان کا زمانہ ہے، اور امتحان اس امر کا ہے کہ تم حقیقت کو دیکھے بغیر عقل و فکر کے صحیح استعمال سے اس کا ادراک کرتے ہو یا نہیں، اور ادراک کرنے کے بعد اپنے نفس اور اس کی خواہشات کو قابو میں لا کر اپنے عمل کو حقیقت کے مطابق درست رکھتے ہو یا نہیں۔ اس امتحان کے لیے غیب کا غیب رہنا شرط لازم ہے ، اور تمہاری دُنیوی زندگی ، جو دراصل مہلتِ امتحان ہے، اسی وقت تک قائم رہ سکتی ہے جب تک غیب، غیب ہے۔ جہاں غیب شہادت میں تبدیل ہوا، مہلت لازماً ختم ہو جائے گی اور امتحان کے بجائے نتیجہ ٔ امتحان نکلنے کا وقت آپہنچے گا۔ لہٰذا تمہارے مطالبہ کے جواب میں یہ ممکن نہیں ہے کہ تمہارے سامنے فرشتے کو اس کی اصلی صُورت میں نمایاں کر دیا جائے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ابھی تمہارے امتحان کی مدّت ختم نہیں کر نا چاہتا۔(ملاحظہ ہو سُورہ ٔ بقرہ حاشیہ نمبر 228)
-
یعنی ایسا طریقہ جو زیادہ سے زیادہ بے غرضی، نیک نیتی اور یتیم کی خیر خواہی پر مبنی ہو، اور جس پر خدا اور خلق کسی کی طرف سے بھی تم اعتراض کے مستحق نہ ہو۔
-
یہ اگرچہ شریعتِ الہٰی کا ایک مستقل اُصُول ہے ، لیکن یہاں اس کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص اپنی حد تک تاپ تول اور لین دین کے معاملات میں راستی و انصاف سے کام لینے کی کوشش کرے وہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائے گا۔ بھُول چوک یا نادانستہ کمی وہ بیشی ہو جانے پر اس سے باز پُرس نہ ہوگی۔
-
”اللہ کے عہد“ سے مراد وہ عہد بھی ہے جو انسان اپنے خدا سے کرے، اور وہ بھی جو خدا کا نام لے کر بندوں سے کرے، اور وہ بھی جو انسان اور خدا، اور انسان اور انسان کے درمیان اُسی وقت آپ سے آپ بندھ جاتا ہے جس وقت ایک شخص خدا کی زمین میں ایک انسانی سوسائیٹی کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ پہلے دونوں عہد شعوری اور ارادی ہیں، اور یہ تیسرا عہد ایک فطری عہد (Natural Contarct) ہے، جس کے باندھنے میں اگر چہ انسان کے ارادے کا کوئی دخل نہیں ہے، لیکن واجب الاحترام ہونے میں یہ دونوں عہدوں سے کسی طرح کم نہیں ہے ۔ کسی شخص کا خدا کے بخشے ہوئے وجود سے ، اس کی عطاء کی ہوئی جسمانی و نفسیاتی قوتوں سے، اس کے دیے ہوئے جسمانی آلات سے، اور اس کی پیدا کی ہوئی زمین اور رزق اور ذرائع سے فائدہ اٹھانا، اور ان مواقع زندگی سے متمتع ہونا جو قوانین قدرت کی بدولت فراہم ہوتے ہیں، خود بخود فطرتاً خدا کے کچھ حقوق اس پر عائد کردیتا ہے۔ اور اسی طرح آدمی کا ایک ماں کے پیٹ میں اس کے خون سے پرورش پانا، ایک باپ کی محنتوں سے بسے ہوئے گھر میں پیدا ہونا، اور ایک اجتماعی زندگی کے بے شمار مختلف اداروں سے مختلف صورتوں میں متمتع ہونا، علیٰ قدرِ مراتب اس کے ذمے بہت سےا فراد اور اجتماعی اداروں کے حقوق بھی عائد کردیتا ہے ۔ انسان کا خدا سے اور انسان کا سو سائٹی سے یہ عہد کسی کاغذ پر نہیں لکھا گیا، مگر اس کے رونگٹے رونگٹے پر ثبت ہے۔انسان نے اسے شعور اور ارادہ کے ساتھ نہیں باندھا، مگر اس کا پورا وجود اسی عہد کا رِہنِ منّت ہے۔ اسی عہد کی طرف سورۃ البقرۃ آیت 27 میں اشارہ کیا گیا ہے کہ فاسق وہ ہیں جو”اللہ کے عہد کو اس کی استواری کے بعد توڑتے ہیں، اور جسے اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں“۔ اور اسی کا ذکر آگے چل کر سورۃ الاعراف آیت 172 میں آتا ہے کہ اللہ نے ازل میں آدمؑ کی پیٹھوں سے ان کی ذرّیّت کو نکال کر ان سے شہادت طلب کی تھی کہ کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟ اور انھوں نے اقرار کیا تھا کہ ہاں، ہم گواہ ہیں۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اور یتیم کے مال کے قریب مت پھٹکو مگر بہترین طریقے سے (اس کے مال کی حفاظت کرو) یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور پورا کرو ناپ اور تول کو عدل کے ساتھ۔ ہم نہیں ذمہ دار ٹھہرائیں گے کسی بھی جان کو مگر اس کی وسعت کے مطابق اور جب بھی بات کرو تو عدل (کی بات) کرو خواہ قرابت دار ہی (کا معاملہ) ہو اور اللہ کے عہد کو پورا کرو یہ ہیں (وہ چیزیں) جن کا اللہ تمہیں حکم کر رہا ہے تاکہ تم نصیحت اخذ کرو
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 149
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. 1 word in this ayah has no meaning in the source and is left empty. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 152 وَلاَ تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ الاَّ بالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ حَتّٰی یَبْلُغَ اَشُدَّہٗ ج۔یتیم کے مال کو ہڑپ کرنا یا اپنا ردّی مال اس کے مال میں ملاکر اس کے اچھے مال پر قبضہ کرنے کا حیلہ کرنا بھی حرام ہے۔ بنیادی طور پر تو یہ مکی دور کے احکام ہیں لیکن یتیموں کے حقوق کی اہمیت کے پیش نظر مدنی سورتوں میں بھی اس بارے میں احکام آئے ہیں ‘ مثلاً سورة البقرۃ ‘ آیت 220 اور سورة النساء آیت 2 میں بھی یتیموں کے اموال کا خیال رکھنے کی تاکید کی گئی ہے ‘ جو اس سے قبل ہم پڑھ چکے ہیں۔وَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَان بالْقِسْطِج لاَ نُکَلِّفُ نَفْسًا الاَّ وُسْعَہَا ج۔یعنی بغیر کسی ارادے کے اگر کوئی کمی بیشی ہوجائے تو اس پر گرفت نہیں۔ جیسے دعا کے لیے ہمیں یہ کلمات سکھائے گئے ہیں : رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَا اَوْ اَخْطَاْنَا ج البقرۃ : 286 اے ہمارے ربّ ! اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے خطا ہوجائے تو ہم سے مؤاخذہ نہ کرنا۔ لیکن اگر جان بوجھ کر ذرا سی بھی ڈنڈی ماری تو وہ قابل گرفت ہے۔ اس لیے کہ عملاً معصیت کا ارتکاب کرنا در حقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ یا تو تمہیں آخرت کا یقین نہیں ہے یا پھر یہ یقین نہیں ہے کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ گویا عمداً ذرا سی منفی جنبش میں بھی ایمان کی نفی کا احتمال ہے۔ وَاِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰی ج وَبِعَہْدِ اللّٰہِ اَوْفُوْا ط۔تمہاری بات چیت کھری اور انصاف پر مبنی ہو۔ اس میں جانبداری نہیں ہونی چاہیے ‘ چاہے قرابت داری ہی کا معاملہ کیوں نہ ہو۔ اسی طرح اللہ کے نام پر ‘ اللہ کے حوالے سے ‘ اللہ کی قسم کھا کر جو بھی عہد کیا جائے اس کو بھی پورا کرو۔ جیسے اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ بھی ایک عہد ہے جو ہم اللہ سے کرتے ہیں۔ ہر انسان نے دنیا میں آنے سے پہلے بھی اللہ سے ایک عہد کیا تھا ‘ جس کا ذکر سورة الاعراف آیت 127 میں ملتا ہے۔ اسی طرح روز مرہ کی زندگی میں بھی بہت سے عہد ہوتے ہیں جن کو پورا کرنا ضروری ہے۔ ذٰلِکُمْ وَصّٰٹکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ۔یہ وہ چیزیں ہیں جو دین میں اہمیت کی حامل اور انسانی کردار کی عظمت کی علامت ہیں۔ یہ انسانی تمدن اور اخلاقیات کی بنیادیں ہیں۔