- وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
- جَعَلْنَابنائے ہم نے
- لِكُلِّہر کے لئے
- نَبِیٍّنبی
- عَدُوًّادشمن
- شَیٰطِیْنَشیطان
- الْاِنْسِانسانوں میں سے
- وَالْجِنِّاور جنوں میں سے
- یُوْحِیْوحی کرتے ہیں
- بَعْضُهُمْان میں سے بعض
- اِلٰیطرف
- بَعْضٍبعض کی
- زُخْرُفَملمع شدہ باتیں / چکنی چپڑی
- الْقَوْلِباتیں
- غُرُوْرًا ؕفریب کے لئے
- وَلَوْاور اگر
- شَآءَچاہتا
- رَبُّكَرب تیرا
- مَانہ
- فَعَلُوْهُوہ کرتے اس کو
- فَذَرْهُمْپس چھوڑ دو انہیں
- وَمَااور جو
- یَفْتَرُوْنَافتراء پردازیاں وہ کرتے ہیں / جو جھوٹ وہ گھڑتے ہیں
Surah 6 · word by word
Surah 6, ayah 112
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
اور ہم نے تو اسی طرح ہمیشہ شیطان انسانون اور شیطان جِنوں کو ہر نبی کا دُشمن بنایا ہے جو ایک دُوسرے پر خوش آیند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القا کرتے رہے ہیں۔1 اگر تمہارے رب کی مشیَّت یہ ہوتی کہ وہ ایسا نہ کریں تو وہ کبھی نہ کرتے۔2پس تم اُنہیں ان کے حال پر چھوڑ دو کہ اپنی افتراپردازیاں کرتے رہیں
Footnotes (the author's commentary)
-
یعنی آج اگر شیاطینِ جِن و انس متفق ہو کر تمہارے مقابلہ میں ایڑی چوڑی کا زور لگارہے ہیں تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جو تمہارے ہی ساتھ پیش آرہی ہو۔ ہر زمانہ میں ایسا ہی ہوتاآیا ہے کہ جب کوئی پیغمبر دُنیا کو راہِ راست دکھانے کے لیے اُٹھا تو تمام شیطانی قوتیں اس کے مِشن کا ناکام کرنے کے لیے کمر بستہ ہو گئیں۔ ”خوش آیند باتوں“ سے مراد وہ تمام چالیں اور تدبیریں اور شکوک و شبہات و اعتراضات ہیں جن سے یہ لوگ عوام کو داعیِ حق اور اس کی دعوت کے خلاف بھڑکانے اور اکسانے کا کام لیتے ہیں۔ پھر ان سب کو بحیثیت مجموعی دھوکے اور فریب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ حق سے لڑنے کے لیے جو ہتھیار بھی مخالفین حق استعمال کرتے ہیں وہ نہ صرف دُوسروں کے لیے بلکہ خود ان کے لیے بھی حقیقت کے اعتبار سے محض ایک دھوکا ہوتے ہیں اگرچہبظاہر وہ ان کو نہایت مفید اور کامیاب ہتھیار نظر آتے ہیں۔
-
یہاں ہماری سابق تشریحات کے علاوہ یہ حقیقت بھی اچھی طرح ذہن نشین ہو جانی چاہیے کہ قرآن کی رُو سے اللہ تعالیٰ کی مشِیَّت اور اس کی رضا میں بہت بڑا فرق ہے جس کو نظر انداز کر دینے سے بالعمُوم شدید غلط فہمیاں واقع ہوتی ہیں۔ کسی چیز کا اللہ کی مشیّت اور اس کے اذن کے تحت رُونما ہونا لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ اللہ اس سے راضی بھی ہے اور اسے پسند بھی کرتا ہے۔ دُنیا میں کوئی واقعہ کبھی صُدُور میں نہیں آتا جب تک اللہ اس کے صُدُور کا اذن نہ دے اور اپنی عظیم الشان اسکیم میں اس کے صُدُور کی گنجائش نہ نکالے اور اسباب کو اس حد تک مساعد نہ کر دے کہ وہ واقعہ صادر ہو سکے۔ کسی چور کی چوری، کسی قاتل کا قتل، کسی ظالم و مفسد کا ظلم و فساد اور کسی کافر و مشرک کا کفر و شرک اللہ کی مشیّت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اور اسی طرح کسی مومن اور کسی متقی انسان کا ایمان و تقویٰ بھی مشیّت ِ الہٰی کے بغیر محال ہے۔ دونوں قسم کے واقعات یکساں طور پر مشِیَّت کے تحت رُونما ہوتے ہیں۔ مگر پہلی قسم کے واقعات سے اللہ راضی نہیں ہے اور اس کے برعکس دُوسری قسم کے واقعات کو اُس کی رضا اور اس کی پسند یدگی و محبُوبیّت کی سند حاصل ہے۔ اگر چہ آخر کار کسی خیرِ عظیم ہی لیے فرمانروائے کائنات کی مشیّت کام کر رہی ہے ، لیکن اُس خیرِ عظیم کے ظہُور کا راستہ نور و ظلمت ، خیر و شر اور صلاح و فساد کی مختلف قوتوں کے ایک دُوسرے کے مقابلہ میں نبرد آزما ہونے ہی سے صاف ہوتا ہے۔ اس لیے اپنی بزرگ تر مصلحتوں کی بنا پر وہ طاعت اور معصیت ، ابراہیمیت اور نمرود یّت، موسویّت اور فرعونیّت ، آدمیّت اور شیطنت ، دونوں کو اپنا اپنا کام کرنے کا موقع دیتا ہے۔ اس نے اپنی ذی اختیار مخلوق(جِن و انسان) کو خیر اور شر میں سے کسی ایک کے انتخاب کر لینے کی آزادی عطا کر دی ہے۔ جو چاہے اس کا ر گاہِ عالم میں اپنے لیے خیر کا کام پسند کر لے اور جو چاہے شر کا کام۔ دونوں قسم کے کارکنوں کو، جس حد تک خدائی مصلحتیں اجازت دیتی ہیں، اسباب کی تائید نصیب ہوتی ہے۔ لیکن اللہ کی رضا اور اس کی پسندیدگی صرف خیر ہی کے لیے کام کرنے والوں کو حاصل ہے اور اللہ کو محبُوب یہی بات ہے کہ اس کے بندے اپنی آزادی انتخاب سے فائدہ اُٹھا کر خیر کو اختیار کریں نہ کہ شر کو۔ اس کے ساتھ یہ بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ یہ جو اللہ تعالیٰ دُشمنانِ حق کی مخالفانہ کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنی مشیّت کا بار بار حوالہ دیتا ہے اِس سے مقصُود دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو، اور آپ کے ذریعہ سے اہلِ ایمان کو یہ سمجھانا ہے کہ تمہارے کام کی نوعیّت فرشتوں کے کام کی سی نہیں ہے جو کسی مزاحمت کے بغیر احکامِ الہٰی کی تعمیل کر رہے ہیں۔ بلکہ تمہارا اصل کام شریروں اور باغیوں کے مقابلہ میں اللہ کے پسند کر دہ طریقہ کو غالب کرنے کے لیے جدّوجہد کرنا ہے۔ اللہ اپنی مشیّت کے تحت اُن لوگوں کو بھی کام کرنے کا موقع دے رہا ہے جنہوں نے اپنی سعی و جہد کے لیے خود اللہ سے بغاوت کے راستے کو اختیار کیا ہے، اور اسی طرح وہ تم کو بھی ، جنھوں نے طاعت و بندگی کے راستے کو اختیار کیا ہے، کام کرنے کا پورا موقع دیتا ہے۔ اگرچہ اس کی رضا اور ہدایت و رہنمائی اور تائید و نصرت تمہارے ہی ساتھ ہے ، کیونکہ تم اُس پہلو میں کام کر رہے ہو جسے وہ پسند کرتا ہے ، لیکن تمھیں یہ توقع نہ رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی فوق الفطری مداخلت سے اُن لوگوں کو ایمان لانے پر مجبُور کر دے گا جو ایمان نہیں لانا چاہتے، یا اُن شیاطین جِن و انس کو زبر دستی تمہارے راستہ سے ہٹا دے گا جنھوں نے اپنے دل و دماغ کو اور دست و پا کو قوتوں کو اور اپنے وسائل و ذرائع کو حق کی راہ روکنے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نہیں، اگر تم نے واقعی حق اور نیکی اور صداقت کے لیے کام کرنے کا عزم کیا ہے تو تمھیں باطل پرستوں کے مقابلہ میں سخت کشمکش اور جدوجہد کر کے اپنی حق پرستی کا ثبوت دینا ہوگا۔ ورنہ معجزوں کے زور سے باط کو مٹانا اور حق کو غالب کرنا ہوتا تو تمہاری ضرورت ہی کیا تھی، اللہ خود ایسا انتظام کر سکتا تھا کہ دنیا میں کوئی شیطان نہ ہوتا اور کسی شرک و کفر کے ظہُور کا امکان نہ ہوتا۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بنا دیے انسانوں اور جنوں میں سے شیاطین وہ ایک دوسرے کو اشاروں کنایوں میں پرفریب باتیں پہنچاتے رہتے ہیں گمراہ کرنے کے لیے اور اگر آپ کا رب چاہتا تو وہ یہ نہ کرسکتے تو چھوڑیے آپ ﷺ ان کو اور ان کی افترا پردازیوں کو
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 142
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 112 وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ سوچنے اور غور کرنے کا مقام ہے ‘ انبیاء کو تو مدد کی ضرورت تھی ‘ اللہ نے شیاطین کو ان کے خلاف کیوں کھڑا کردیا ؟ بہر حال یہ اللہ کا قانون ہے جو راہ حق کے ہر مسافر کو معلوم ہونا چاہیے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ حق و باطل میں اس نوعیت کی کشاکش نہیں ہوگی تو پھر کھرے اور کھوٹے کی پہچان بھی نہیں ہو سکے گی۔ کیسے معلوم ہوگا کہ کون واقعی حق پرست ہے اور کون جھوٹا دعویدار۔ کون اللہ سے سچی محبت کرتا ہے اور کون دودھ پینے والا مجنوں ہے۔ یہ دنیا تو آزمائش کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہاں اگر شر کا وجود ہی نہ ہو ‘ ہر جگہ خیر ہی خیر ہو تو خیر کے طلبگاروں کی آزمائش کیسے ہوگی ؟ لہٰذا فرمایا کہ یہ کشمکش کی فضا ہم خود پیدا کرتے ہیں۔ ہم خود حق پر چلنے والوں کو تلاطم خیز موجوں کے سپرد کر کے ان کی استقامت کو پرکھتے ہیں اور پھر ثابت قدم رہنے والوں کو نوازتے ہیں۔ اس میدان میں جو جتنا آزمایا جاتا ہے ‘ جو جتنی استقامت دکھاتا ہے ‘ جو جتنا ایثار کرتا ہے ‘ اتنا ہی اس کا مرتبہ بلند ہوتا چلا جاتا ہے۔ چناچہ راہ حق کے مسافروں کو مطمئن رہنا چاہیے : تندئ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے !یُوْحِیْ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا ط۔مثلاً ایک جن شیطان آکر اپنے ساتھی انسان شیطان کے دل میں خیال ڈالتا ہے کہ شاباش اپنے موقف پر ڈٹے رہو ‘ اسی کا نام استقامت ہے۔ دیکھو کہیں پھسل نہ جانا اور اپنے مخالف کے موقف کو قبول نہ کرلینا۔ ان کا آپس میں اس طرح کا گٹھ جوڑ چلتا رہتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کو یہ چھوٹ دے رکھی ہے۔ وَلَوْ شَآءَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوْہُ ظاہر بات ہے کہ اس کائنات میں کوئی پتا بھی اللہ کے اذن کے بغیر نہیں ہل سکتا۔ ابو جہل کی کیا مجال تھی کہ حضرت سمیہ رض کو شہید کرتا۔ وہ برچھا اٹھاتا تو اس کا ہاتھ شل ہوجاتا۔ لیکن یہ تو اللہ کی طرف سے چھوٹ تھی کہ ٹھیک ہے ‘ تم ہماری اس بندی کو جتنا آزمانا چاہتے ہو آزمالو۔ ان آزمائشوں سے ہمارے ہاں اس کے مراتب بلند سے بلند تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ سورة یٰسٓ میں اللہ تعالیٰ کے ایک بندے پر انعامات کا ذکر ہوا ہے : قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ۔ بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکْرَمِیْنَ اس نے کہا کاش کہ میری قوم کو معلوم ہوجائے کہ کس طرح میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مجھے معززین میں سے بنادیا۔ ادھر تو میری شہادت کے بعد صف ماتم بچھی ہوگی ‘ بیوی شوہر کی جدائی میں نڈھال ہوگی ‘ بچے رو رو کر ہلکان ہو رہے ہوں گے ‘ لیکن کاش وہ جان سکتے کہ مجھے میرے رب نے کس کس طرح سے نوازا ہے ‘ کیسے کیسے انعامات یہاں مجھ پر کیے گئے ہیں اور میں یہاں کس عیش و آرام میں ہوں ! اگر انہیں میرے اس اعزازو اکرام کی کچھ بھی خبر ہوجاتی تو رونے دھونے کی بجائے وہ خوشیاں منا رہے ہوتے۔ فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُوْنَ ۔یہ ہماری سنت ہے ‘ ہمارا طریقہ ہے ‘ ہم نے خود ان کو یہ سب کچھ کرنے کی ڈھیل دے رکھی ہے ‘ لہٰذا آپ ﷺ ان سے اعراض فرمائیے اور ان کو ان کی افترا پردازیوں میں پڑے رہنے دیجیے۔