Surah 59 · word by word

Surah 59, ayah 21

  1. لَوْاگر
  2. اَنْزَلْنَانازل کرتے ہم
  3. هٰذَااس
  4. الْقُرْاٰنَقرآن کو
  5. عَلٰیاوپر
  6. جَبَلٍایک پہاڑ کے
  7. لَّرَاَیْتَهٗالبتہ تم دیکھتے اس کو
  8. خَاشِعًادبا ہوا
  9. مُّتَصَدِّعًاپھٹتا ہوا۔ پھٹنے والا
  10. مِّنْسے
  11. خَشْیَةِڈر (سے)
  12. اللّٰهِ ؕاللہ کے
  13. وَتِلْكَاور یہ
  14. الْاَمْثَالُمثالیں
  15. نَضْرِبُهَاہم بیان کرتے ہیں ان کو
  16. لِلنَّاسِلوگوں کے لیے
  17. لَعَلَّهُمْتاکہ وہ
  18. یَتَفَكَّرُوْنَوہ غور و فکر کریں

Translation and commentary

Bayan-ul-Quran

اگر ہم اس قرآن کو اتار دیتے کسی پہاڑ پر تو تم دیکھتے کہ وہ دب جاتا اور پھٹ جاتا اللہ کے خوف سے۔ اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور کریں۔

Commentary

آیت 21{ لَــوْ اَنْزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْـتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ } ”اگر ہم اس قرآن کو اتار دیتے کسی پہاڑ پر تو تم دیکھتے کہ وہ دب جاتا اور پھٹ جاتا اللہ کے خوف سے۔“ یہ قرآن مجید کی عظمت کا بیان ہے۔ اس موضوع کے حوالے سے یہاں یہ اہم نکتہ بھی سمجھ لیجیے کہ قرآن مجید کی عظمت اور قرآن مجید کی افادیت دو الگ الگ موضوعات ہیں۔ ان دوموضوعات کو آپس میں گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔ جہاں تک قرآن مجید کی افادیت کا تعلق ہے ‘ قرآن کی متعدد آیات اس حوالے سے ہماری راہنمائی کرتی ہیں ‘ لیکن سورة یونس کی یہ دو آیات اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کی حامل ہیں :{ یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ قَدْجَآئَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآئٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ لا وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ - قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْاط ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ۔ } ”اے لوگو ! آگئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں کے اَمراض کی شفا اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور بہت بڑی رحمت۔ اے نبی ﷺ ! ان سے کہہ دیجیے کہ یہ قرآن اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے نازل ہوا ہے ‘ تو چاہیے کہ لوگ اس پر خوشیاں منائیں ! وہ کہیں بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔“یہ تو قرآن مجید کی افادیت کا ذکر ہے ‘ لیکن قرآن مجید فی نفسہٖ کیا ہے ؟ انسان کا محدود ذہن اس موضوع کو کماحقہ سمجھنے سے قاصر ہے۔ چناچہ قرآن مجید کی عظمت کے تصور کو انسانی ذہن کے لیے کسی حد تک قابل فہم بنانے کے لیے آیت زیر مطالعہ میں ایک تمثیل بیان کی گئی ہے۔ اس تمثیل کو سمجھنے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کو ہِ طور پر پیش آنے والے واقعہ کی یاد دہانی ضروری ہے۔ یہ واقعہ سورة الاعراف کی آیت 143 میں بیان ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب چالیس راتوں کے لیے کو ہِ طور پر گئے تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی : { رَبِّ اَرِنِیْٓ اَنْظُرْ اِلَیْکَط } کہ اے میرے رب ! مجھے اپنا جلوہ دکھا ‘ میں تجھے دیکھنا چاہتا ہوں۔ { قَالَ لَنْ تَرٰٹنِیْ } اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے۔ { وَلٰکِنِ انْظُرْ اِلَی الْجَبَلِ } البتہ تم اس پہاڑ کو دیکھو ‘ میں اپنی تجلی اس پر ڈالوں گا۔ { فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَہٗ فَسَوْفَ تَرٰٹنِیْج } تو اگر یہ پہاڑ اپنی جگہ قائم رہ سکا تو پھر تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔ { فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ } پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر ایک تجلی ڈالی ‘ یعنی نورکا پرتو جب پہاڑ پر پڑا تو { جَعَلَہٗ دَکًّا } اس نے اس پہاڑ کو ریزہ ریزہ کرکے رکھ دیا۔ { وَّخَرَّ مُوْسٰی صَعِقًاج } الاعراف : 143 اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اس بالواسطہ تجلی کے مشاہدہ کی تاب نہ لاتے ہوئے بےہوش کر گرپڑے۔ اس واقعہ کے ساتھ آیت زیر مطالعہ میں بیان کی گئی تمثیل کی گہری مماثلت ہے۔ دونوں میں فرق صرف یہ ہے کہ کو ہِ طور پر ”تجلی ذات“ کا معاملہ تھا اور یہاں اس تمثیل میں ”تجلی صفات“ کا ذکر ہے۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور کلام اپنے متکلم کی صفت ہوتا ہے۔ اس لیے جو تاثیر ذات باری تعالیٰ کی تجلی کی ہے عین وہی تاثیر کلام اللہ کی تجلی کی ہے۔ علامہ اقبال اپنے انداز میں قرآن مجید کی عظمت کا بیان یوں کرتے ہیں : ؎فاش گویم آنچہ در دل مضمر است ایں کتابے نیست چیزے دیگر است !کہ اگر میں اپنے دل کی بات کروں تو یہ کہوں گا کہ قرآن مجید محض ایک کتاب نہیں ہے بلکہ کوئی اور ہی چیز ہے۔ کیا چیز ہے ؟ اس کی مزید وضاحت علامہ یوں کرتے ہیں :مثل ِحق پنہاں و ہم پیدا ست ایں زندہ و پائندہ و گویا ست ایں !یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی کی صفات کا حامل ہے اور اس حیثیت میں یہ پوشیدہ بھی ہے اور عیاں بھی۔ ہمیشہ زندہ رہنے والا بھی ہے اور گویا بولتا ہوا بھی۔ قرآن حکیم کی عظمت کے حوالے سے سورة الواقعہ کی آیت { لَا یَمَسُّہٗٓ اِلاَّ الْمُطَھَّرُوْنَ۔ } کی تشریح کے تحت یہ نکتہ بھی زیر بحث آچکا ہے کہ قرآن مجید کی حقیقی معرفت ‘ اصل ہدایت اور روح باطنی تک رسائی کے لیے انسان کے باطن کا پاک ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے باطن کا تجزیہ کیے بغیر قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرے گا تو وہ صرف اس کی عبارت اور لغت کے ظاہری مطالب و معانی تک ہی رسائی حاصل کر پائے گا۔ یہی بات مولانا روم نے تعلی میز الفاظ میں یوں بیان کی ہے :ما زِ قرآں مغزہا برداشتیم استخواں پیش ِسگاں انداختیم ! کہ ہم نے قرآن سے اس کا مغزلے لیا ہے اور ہڈیاں کتوں کے آگے ڈال دی ہیں۔ { وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ لَـعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ۔ } ”اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور کریں۔“ اب وہ تین عظیم آیات آرہی ہیں جن کا ذکر اس رکوع کے آغاز میں اسمائے حسنیٰ کے حوالے سے ہوا تھا۔ واضح رہے کہ صفات ِباری تعالیٰ کے موضوع پر سورة الحدید کی پہلی چھ آیات قرآن مجید کے ذروئہ سنام کا درجہ رکھتی ہیں۔ عربی میں اونٹ کی کو ہان کو سنام اور کسی چیز کی چوٹی یا بلند ترین حصے کو ذُروہ/ذِروہ کہتے ہیں۔ چناچہ ذروئہ سنام کا مطلب ہے کو ہان کی بھی چوٹی۔ یعنی سب سے اونچا مقام یا کسی چیز کا نمایاں ترین حصہ ! جبکہ اسمائے حسنیٰ کے ذکر کے اعتبار سے سورة الحشر کی آخری تین آیات پورے قرآن میں منفرد و ممتاز مقام کی حامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کے حوالے سے یہاں ”ایمانِ مجمل“ کے یہ الفاظ بھی اپنے حافظے میں تازہ کرلیں : آمَنْتُ بِاللّٰہِ کَمَا ھُوَ بِاَسْمَائِہٖ وَصِفَاتِہٖ وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء وصفات کے ساتھ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے تمام احکام کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 548

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution