- وَالَّذِیْنَاور وہ لوگ جو
- اٰمَنُوْاایمان لائے
- بِاللّٰهِاللہ پر
- وَرُسُلِهٖۤاور اس کے رسولوں پر
- اُولٰٓىِٕكَیہی لوگ
- هُمُوہ
- الصِّدِّیْقُوْنَ ۖۗسچے ہیں
- وَالشُّهَدَآءُاور شہید ہیں
- عِنْدَنزدیک
- رَبِّهِمْ ؕاپنے رب کے
- لَهُمْان کے لیے
- اَجْرُهُمْان کا اجر ہے
- وَنُوْرُهُمْ ؕاور ان کا نور ہے
- وَالَّذِیْنَاور وہ لوگ جنہوں نے
- كَفَرُوْاجنہوں نے کفر کیا
- وَكَذَّبُوْااور انہوں نے جھٹلایا
- بِاٰیٰتِنَاۤہماری آیات کو
- اُولٰٓىِٕكَیہی لوگ
- اَصْحٰبُوالے ہیں
- الْجَحِیْمِجہنم
Surah 57 · word by word
Surah 57, ayah 19
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
اور جو لوگ اللہ اور اُس کے رسُولوں پر ایمان لائے ہیں1 وہی اپنے رب کے نزدیک صِدّیق2 اور شہید3 ہیں،اُن کے لیے اُن کا اجر اور اُن کا نُور ہے۔4 اور جن لوگوں نے کُفر کیا ہے اور ہماری آیات کوجُھٹلایا ہے وہ دوزخی ہیں
Footnotes (the author's commentary)
-
یہاں ایمان لانے والوں سے مراد وہ صادق الامان لوگ ہیں جن کا طرز عمل جھوٹے مدعیان ایمان اور ضعف الایمان لوگوں سے بالکل مختلف تھا۔ جو اس وقت ایک دوسرے سے بڑھ کر مالی قربانیاں دے رہے تھے اور اللہ کے دین کی خاطر جانیں لڑا رہے تھے ۔
-
یہ صدق کا مبالغہ ہے ۔ صادق سچا، اور صدیق نہایت سچا۔ مگر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ صدق محض سچے اور مطابق حقیقت قول کو نہیں کہتے بلکہ اس کا اطلاق صرف اس قول پر ہوتا ہے جو بجائے خود بھی سچا ہو اور جس کا قائل ہی سچے دل سے اس حقیقت کو مانتا ہو جسے وہ زبان سے کہہ رہا ہے ۔ مثلاً ایک شخص اگر کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں ، تو یہ بات بجائے خود عین حقیقت کے مطابق ہے ، کیونکہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں ، لیکن وہ شخص اپنے اس قول میں صادق صرف اسی وقت کہا جائے گا جبکہ اس کا اپنا عقیدہ بھی یہی ہو کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ لہٰذا صدق کے لیے ضروری ہے کہ قول کی مطابقت حقیقت کے ساتھ بھی ہو اور قائل کے بغیر کے ساتھ بھی۔ اسی طرح صدق کے مفہوم میں وفا اور خلوص اور عملی راستبازی بھی شامل ہے ۔ صادق الوعد (وعدے کا سچا) اس شخص کو کہیں گے جو عملاً اپنا وعدہ پورا کرتا ہو اور کبھی اس کی خلاف ورزی نہ کرتا ہو۔ صدیق (سچا دوست) اسی کو کہا جائے گا جس نے آزمائش کے مواقع پر دوستی کا حق ادا کیا ہو اور کبھی آدمی کو اس سے بے وفائی تجربہ نہ ہوا ہو۔ جنگ میں صادق فی القتال (سچا سپاہی) صرف وہی شخص کہلائے گا جو جان توڑ کر لڑا ہو اور جس نے اپنے عمل سے اپنی بہادری ثابت کر دی ہو۔ پس صدق کی حقیقت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ قائل کا عمل اس کے قول سے مطابقت رکھتا ہو۔ قول کے خلاف عمل کرنے والا صادق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی بنا پر تو آپ اس شخص کو جھوٹا واعظ کہتے ہیں جو کہے کچھ اور کرے کچھ۔ اب غور کرنا چاہیے کہ یہ تعریف جب صدق اور صادق کی ہے تو مبالغہ کے صیغہ میں کسی کو صدیق کہنے کا مطلب کیا ہو گا۔ اس کے معنی لازماً ایسے راستباز آدمی کے ہیں جس میں کوئی کھوٹ نہ ہو، جو کبھی حق اور راستی سے نہ ہٹا ہو، جس سے یہ توقع ہی نہ کی جا سکتی ہو کہ وہ کبھی اپنے ضمیر کے خلاف کوئی بات کہے گا۔ جس نے کسی بات کو مانا ہو تو پورے خلوص کے ساتھ مانا ہو، اس کی وفاداری کا حق ادا کیا ہو اور اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہو کہ وہ فی لواقع ویسا ہی ماننے والا ہے جیسا ایک ماننے والے کو ہونا چاہیے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، النساء، حاشیہ 99)۔
-
اس آیت کی تفسیر میں اکابر مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔ اب عباسؓ، مسروق، ضحاک مقاتل بن حیان وغیرہ کہتے ہیں کہ اُلیٰٓئِکَ ھُمُ الصِّدِّ یْقُوْنَ پر ایک جملہ ختم ہو گیا۔ اس کے بعد وَ الشُّہَدَآءُ عِنْدِرَبِّھِمْ لَھُمْ اَجْرُھُمْ وَنُوْدُھُمْ ایک الگ مستقل جملہ ہے ۔ اس تفسیر کے لحاظ سے آیت کا ترجمہ یہ ہو گا کہ ’’ جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں وہی صدیق ہیں ۔ اور شہداء کے لیے ان کے رب کے ہاں ان کا اجر اور ان کا نور ہے ‘‘ بخلاف اس کے مجاہد اور متعدد دوسرے مفسرین اس پوری عبارت کو ایک ہی جملہ مانتے ہیں اور ان کی تفسیر کے لحاظ سے ترجمہ وہ ہو گا جو اوپر ہم نے متن میں کیا ہے ۔ دونوں تفسیروں میں اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ پہلے گروہ نے شہید کو مقتول فی سبیل اللہ کے معنی میں لیا ہے ،اور یہ دیکھ کر کہ ہر مومن اس معنی میں شہید نہیں ہوتا انہوں نے وَالشُّھَدَآءُ عِنْدَ رَبِّھِمْ کو ایک الگ جملہ قرار دے دیا ہے ۔ مگر دوسرا گروہ شہید کو مقتول فی سبیل اللہ کے معنی میں نہیں بلکہ حق کی گواہی دینے والے کے معنی میں لیتا ہے اور اس لحاظ سے ہر مومن شہید ہے ۔ ہمارے نزدیک یہی دوسری تفسیر قابل ترجیح ہے اور قرآن و حدیث سے اس کی تائید ہوتی ہے ۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے : وَکَذٰ لِکَ جَعَلْنٰکُمْاُ مَّۃً وَّ سَطاً لِّتَکُوْ نُوْا شُھَدَ آءَ عَلَیالنَّا سِ وَیَکُوْ نَ الرَّسُوْ لُ عَلَیْکُمْ شَھِیْداً۔ (البقرہ۔143) اور اسی طرح ہم نے تم کو ایک متوسط امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو۔ ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَفِیْ ھٰذَا لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُشَھِیْداً عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْا شَھَدَآءَ عَلَ النَّاسِ (لحج۔87 ) اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا تھا اور اس قرآن میں بھی (تمہارا یہی نام ہے ) تاکہ رسول تم گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ۔ حدیثمیں حضرت بَراء بن عازِب کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو انہوں نے یہ فرماتے سنا مؤمنوا امَّتی شھدآء، ’’ میری امت کے مومن شہید ہیں ،‘‘ پھر حضورؐ نے سورہ حدید کی یہی آیت تلاوت فرمائی (ابن جریر )۔ ابن مردویہ نے اسی معنی میں حضرت ابوالدرداء سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : من فریدینہ من ارضٍ مخافۃ الفتنۃ علیٰ نفسہٖ و دینہٖ کتب عنداللہ صدیقا فاذامات قبضہ اللہ شھیداً ثم تلا ھٰذاہ الایٰۃ۔ ’’ جو شخص اپنی جان اور اپنے دین کو فتنے سے جچانے کے لیے کسی سرزمین سے نکل جائے وہ اللہ کے ہاں صدیق لکھا جاتا ہے اور جب وہ مرتا ہے تو اللہ شہید کی حیثیت سے اس کی روح قبض فرماتا ہے ،’’ پر یہ بات ارشاد فرمانے کے بعد حضورؐ نے یہی آیت پڑھی (شھادت کے اس مفہوم کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ 144۔ النساء حاشیہ 99۔ جلد چہارم، الاحزاب، حاشیہ 82)۔
-
یعنی ان میں سے ہر ایک جس مرتبے کے اجر اور جس درجے کے نور کا مستحق ہو گا وہ اس کو ملے گا۔ وہ اپنا اپنا اجر اور اپنا اپنا نور پائیں گے ۔ ان کے لیے ان کا حصہ آج ہی سے محفوظ ہے ۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اور جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر وہی ہیں صدیق اور شہداء اپنے رب کے پاس ان کے لیے ہوگا ان کا اجر اور ان کا نور۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہی دوزخ والے ہیں۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 540
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 19{ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖٓ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ وَالشُّھَدَآئُ عِنْدَ رَبِّھِمْ } ”اور جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر وہی ہیں صدیق اور شہداء اپنے رب کے پاس۔“ یعنی وہ لوگ جو صدقات کے ذریعے اور اللہ کو قرض حسنہ دے کر اپنے دلوں سے مال کی محبت اور اس کی نجاست کو دھو ڈالتے ہیں ‘ وہ جب ایمانِ حقیقی سے سرشار ہوتے ہیں تو اب ان کے لیے مقام صدیقیت اور مرتبہ ٔ شہادت تک پہنچنے کا راستہ کھلا ہوا ہے۔ صدقہ و خیرات اور انفاق فی سبیل اللہ سے اگر دل کی گاڑی کی بریک کھل گئی اور یہ گاڑی ایمانِ حقیقی کے راستے پر رواں دواں ہوگئی تو پھر اہل ایمان میں سے ہر کوئی اپنی ہمت اور کوشش کے مطابق اس راستے کی منازل طے کرنے کے قابل ہوجائے گا۔ سیاقِ مضمون کے اعتبار سے اس آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اگر تم نے انفاقِ مال کے ذریعے مال کی محبت کو دل سے نکال کر اللہ کی محبت سے اپنے دل کو آباد کرلیا تو ایمانِ حقیقی تمہارے دلوں میں راسخ ہوتا چلا جائے گا۔ اس کے بعد تم اپنی اپنی کوششوں اور اپنی اپنی طبائع کے مطابق ترقی کرتے چلے جائو گے۔ ترقی کے اس راستے میں تم میں سے بعض لوگ شہادت کے مقام پر بھی فائز ہوسکتے ہیں اور بعض صدیقیت کا مرتبہ بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ وہی اعلیٰ مراتب ہیں جن کا ذکر سورة النساء کی اس آیت میں ہوا ہے :{ وَمَنْ یُّطِـعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَآئِ وَالصّٰلِحِیْنَ وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا۔ } ”اور جو کوئی اطاعت کرے گا اللہ کی اور رسول ﷺ کی تو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہیں معیت حاصل ہوگی ان کی جن پر اللہ کا انعام ہوا یعنی انبیاء کرام ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین ‘ اور کیا ہی اچھے ہیں یہ لوگ رفاقت کے لیے !“ چنانچہ تم ہمت کرو ‘ اپنے اپنے دل کی گاڑی کی بریک کھولو ‘ ایمان کا ایکسلریٹر accelerator دبائو اور اللہ کے راستے پر نکل پڑو۔ اس ایکسلریٹر کو تم جتنا بڑھاتے چلے جائو گے اسی نسبت سے تمہاری منزل قریب سے قریب تر ہوتی چلی جائے گی۔ انسانی مزاج اور طبائع کے اعتبار سے مقام صدیقیت اور مقام شہادت کی تفصیل جاننے کے لیے ملاحظہ ہو سورة مریم کی آیت 41 کی تشریح۔ { لَھُمْ اَجْرُھُمْ وَنُوْرُھُمْ } ”ان کے لیے ہوگا ان کا اجر اور ان کا نور۔“ انہیں اللہ کے ہاں سے اجر بھی ملے گا اور نور بھی۔ نور تو میدانِ حشر میں پل صراط سے گزرنے کے لیے ملے گا ‘ جبکہ اجر جنت میں داخلے اور اس میں درجات کی بلندی کے لیے ملے گا۔ { وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۔ } ”اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہی دوزخ والے ہیں۔“