Surah 57 · word by word

Surah 57, ayah 14

  1. یُنَادُوْنَهُمْوہ پکاریں گے ان کو
  2. اَلَمْکیا نہ
  3. نَكُنْتھے ہم
  4. مَّعَكُمْ ؕتمہارے ساتھ
  5. قَالُوْاوہ کہیں گے
  6. بَلٰیکیوں نہیں
  7. وَلٰكِنَّكُمْلیکن تم نے
  8. فَتَنْتُمْفتنے میں ڈالا تم نے
  9. اَنْفُسَكُمْاپنے نفسوں کو
  10. وَتَرَبَّصْتُمْاور موقعہ پرستی کی تم نے
  11. وَارْتَبْتُمْاور شک میں پڑے رہے تم
  12. وَغَرَّتْكُمُاور دھوکے میں ڈالا تم کو
  13. الْاَمَانِیُّخواہشات نے
  14. حَتّٰییہاں تک کہ
  15. جَآءَآگیا
  16. اَمْرُفیصلہ
  17. اللّٰهِاللہ کا
  18. وَغَرَّكُمْاور دھوکے میں ڈالا تم کو
  19. بِاللّٰهِاللہ کے بارے میں
  20. الْغَرُوْرُبڑے دھوکے باز نے

Translation and commentary

Bayan-ul-Quran

وہ (منافق) انہیں پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ وہ کہیں گے : ہاں کیوں نہیں ! (تم تھے تو ہمارے ساتھ ہی)۔ لیکن تم نے اپنے آپ کو (اپنے ہاتھوں) فتنے میں ڈالا اور تم گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہوگئے اور تم لوگ شکوک و شبہات میں پڑگئے اور تمہیں دھوکے میں ڈال دیا تمہاری خواہشات نے یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا اور تمہیں خوب دھوکہ دیا اللہ کے معاملے میں اس بڑے دھوکے باز نے۔

Commentary

آیت 14{ یُــنَادُوْنَھُمْ اَلَمْ نَـکُنْ مَّـعَکُمْ } ”وہ منافق انہیں پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟“ ہم تمہارے ساتھ مسجد نبوی ﷺ میں نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ عیدوں کی نمازوں میں بھی ہم تمہارے ساتھ ہوتے تھے۔ ہم نے تمہارے ساتھ فلاں فلاں مہمات میں بھی حصہ لیا۔ ہر جگہ ‘ ہر مقام پر ہم تمہارے ساتھ ہی تو تھے۔ پھر آج تمہارے اور ہمارے مابین اتنا فرق و تفاوت کیوں ہے ؟ { قَالُوْا بَلٰی } ”وہ کہیں گے : ہاں کیوں نہیں ! تم تھے تو ہمارے ساتھ ہی۔“ { وَلٰـکِنَّکُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَکُمْ } ”لیکن تم نے اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں فتنے میں ڈالا“ فتنہ کیا ہے ؟ قرآن مجید میں فتنے کی تین نسبتیں بیان کی گئی ہیں۔ کہیں تو اللہ تعالیٰ اس کی نسبت اپنی طرف کرتا ہے کہ ہم نے ان کو فتنے میں ڈالا ہے کہ ہم آزما کر ظاہر کردیں کہ کون کھرا ہے ‘ کون کھوٹا ہے۔ دوسری نسبت ان کفار کی طرف کی گئی جو مسلمانوں کو ستا رہے تھے اور انہیں فتنے میں ڈال رہے تھے۔ تیسری نسبت یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالتا ہے۔ یعنی جو لوگ اہل و عیال اور متاع دنیوی کی محبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور ان کی محبت کو اللہ کی محبت پر ترجیح دیتے ہیں وہ اپنے آپ کو فتنے میں مبتلا کرلیتے ہیں۔ اس فتنے کا ذکر سورة التغابن میں بایں الفاظ فرمایا گیا : { اِنَّمَآ اَمْوَالُـکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ} آیت 15 ”بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے حق میں فتنہ ہیں“۔ اللہ تعالیٰ ‘ اس کے رسول ﷺ اور جہاد فی سبیل اللہ کے مقابلے میں اپنے مال و متاع اور اہل و عیال کو عزیز ترجاننا سب سے بڑا فتنہ ہے۔ یہاں پر سورة التوبہ کی یہ آیت بھی ذہن میں تازہ کرلیں :{ قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۔ } ”اے نبی ﷺ ! ان سے کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ ‘ تمہارے بیٹے ‘ تمہارے بھائی ‘ تمہاری بیویاں اور بیویوں کے لیے شوہر ‘ تمہارے رشتہ دار اور وہ مال جو تم نے بہت محنت سے کمائے ہیں ‘ اور وہ تجارت جس کے مندے کا تمہیں خطرہ رہتا ہے ‘ اور وہ مکانات جو تمہیں بہت پسند ہیں ‘ اگر یہ سب چیزیں تمہیں محبوب تر ہیں اللہ ‘ اس کے رسول اور اس کے راستے میں جہاد سے ‘ تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ سنا دے۔ اور اللہ ایسے فاسقوں کو راہ یاب نہیں کرتا۔“ اس آیت نے گویا ایک ترازو نصب کر کے اس کے ایک پلڑے میں آٹھ اور دوسرے میں تین محبتیں رکھ دی ہیں۔ اب ہر کوئی اپنے اپنے پلڑوں کی کیفیت کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتا ہے کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔ تو اے گروہ منافقین ! تم خود بتائو تم نے اپنی زندگیوں میں ان میں سے کونسے پلڑے کو جھکا کر رکھا تھا ؟ آٹھ محبتوں والے پلڑے کو یا اللہ و رسول ﷺ اور جہاد کی محبت والے پلڑے کو ؟ ظاہر ہے دنیا میں تم لوگ دنیاداری کے تقاضوں کو ‘ اپنے مال و منال اور اہل و عیال کو اللہ کی رضا اور اس کے رسول ﷺ کی محبت پر ترجیح دیتے رہے ہو۔ یہ تمہارا اپنا فیصلہ تھا۔ یہ فیصلہ کرکے تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا اور اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟ { وَتَرَبَّصْتُمْ } ”اور تم گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہوگئے“ یہ وہی لفظ ہے جو سورة التوبہ کی مذکورہ بالا آیت کے آخر میں فَتَرَبَّصُوْا آیا ہے۔ تَرَبُّص کے معنی انتظار کے بھی ہیں کہ آدمی کسی جگہ پر ٹھٹک کر کھڑا ہوجائے۔ ایمان و عمل کے معاملے میں یہ ”انتظار“ ہی دراصل فتنہ ہے۔ یہ ایمان کی ڈانواں ڈول کیفیت کا نام ہے جس کی وجہ سے آدمی فیصلہ نہیں کرسکتا کہ آگے بڑھوں یا نہ بڑھوں ! آگے بڑھتا ہوں تو جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں اور رکتا ہوں تو باز پرس کا ڈر ہے۔ ایسی صورت حال میں وہ سوچنے لگتا ہے کہ کچھ دیر انتظار کرتا ہوں ‘ اگر خطرہ ٹل گیا تو آگے بڑھ جائوں گا ‘ ورنہ پیچھے مڑ جائوں گا۔ اور باز پرس ہوگی تو جھوٹ بول کر جان بچا لوں گا۔ { وَارْتَبْتُمْ } ”اور تم لوگ شکوک و شبہات میں پڑگئے“ پھر تمہاری منافقت کا مرض بڑھ کر اگلے مرحلے میں داخل ہوگیا۔ یعنی پہلے اللہ کے مقابلے میں مال و اولاد کی محبت نے فتنے میں ڈالا ‘ اس کا نتیجہ ”تربُّص“ گومگو کی کیفیت کی صورت میں سامنے آیا۔ پھر اس کے بعد ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب بچے کھچے ایمان میں شکوک و شبہات کے کانٹے چبھنے شروع ہوگئے کہ کیا پتا قیامت آئے گی بھی کہ نہیں ! معلوم نہیں یہ مر کر زندہ ہونے کی باتیں سچی اور واقعی ہیں یا محض افسانے ہیں ! یہ دنیا تو ایک حقیقت ہے ‘ لیکن آخرت کا کیا اعتبار ! یہاں کا عیش اور یہاں کے مزے تو نقد ہیں۔ اس آرام و آسائش کو اگر میں آخرت کے موہوم وعدے پر قربان کر دوں تو پتا نہیں اس کا اجر ملے گا بھی یا نہیں ! اس کے بعد اس مرض کی آخری نشانی بتائی گئی : { وَغَرَّتْکُمُ الْاَمَانِیُّ } ”اور تمہیں دھوکے میں ڈال دیا تمہاری خواہشات نے“ ان خواہشات کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اللہ بڑا غفور رحیم ہے۔ وہ بڑے بڑے گناہگاروں کو بخش دیتا ہے۔ ہم جو بھی ہیں ‘ جیسے بھی ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کے محبوب ﷺ کی امت ہیں۔ بالکل ایسا ہی زعم یہودیوں کو بھی تھا کہ ہم اللہ کے محبوب و برگزیدہ بندے ہیں : We are the chosen people of the Lord۔ چناچہ تم لوگ اپنی انہی خوش فہمیوں میں مگن رہے۔ اس مرحلے میں اگر کبھی توبہ کرنے اور روش تبدیل کرنے کا خیال تمہیں آیا بھی تو خوشنما آرزوئوں wishful thinkings کے تصور نے تمہارے ضمیر کو تھپک تھپک کر پھر سے سلا دیا۔ { حَتّٰی جَآئَ اَمْرُ اللّٰہِ وَغَرَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ۔ } ”یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا اور تمہیں خوب دھوکہ دیا اللہ کے معاملے میں اس بڑے دھوکے باز نے۔“ یعنی شیطان لعین نے تم لوگوں کو اللہ کے نام پر دھوکہ دیا۔ اس حوالے سے سورة لقمان میں ہم یہ تنبیہہ پڑھ چکے ہیں : { فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاوقفۃ وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ۔ } ”تو دیکھو ! تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے دنیا کی زندگی اور دیکھنا ! تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے اللہ کے حوالے سے وہ بڑا دھوکے باز۔“ زیر مطالعہ اس آیت میں بہت جامع انداز میں منافقت کے مدارج اور مراحل کے بارے میں بتادیا گیا ہے۔ مرض کا نقطہ آغاز مال و اولاد کی حد سے بڑھی ہوئی محبت سے ہوتا ہے۔ ان چیزوں میں انہماک کی وجہ سے انسان کے دل میں اللہ ‘ اس کے رسول ﷺ اور جہاد کی محبت بتدریج کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس صورت حال کے نتیجے میں تَرَبَّصکی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے ایمان کے اندر شکوک و شبہات کے رخنے پڑجاتے ہیں اور یہ وہ مرحلہ ہے جب نفاق اپنی اصلی شکل میں نمودار ہو کر دل میں مستقل ڈیرے جما لیتا ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 539

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution