- ءَاَنْتُمْکیا تم
- تَخْلُقُوْنَهٗۤتم پیدا کرتے ہو اس کو
- اَمْیا
- نَحْنُہم ہیں
- الْخٰلِقُوْنَجو پیدا کرنے والے ہیں
Surah 56 · word by word
Surah 56, ayah 59
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
اس سے بچّہ تم بناتے ہو یا اس کے بنانے والے ہم ہیں؟1
Footnotes (the author's commentary)
-
اس مختصر سے فقرے میں ایک بڑا اہم سوال انسان کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ دنیا کی تمام دوسری چیزوں کو چھوڑ کر انسان اگر سرف اسی ایک بات پر غور کرے کہ وہ خود کسی طرح پیدا ہوا ہے تو اسے نہ قرآن کی تعلیم توحید میں کوئی شک رہ سکتا ہے۔ نہ اس کی تعلیم آخرت میں انسان آخر اسی طرح تو پیدا ہوتا ہے کہ مرد اپنا نطفہ عورت کے رحم تک پہنچا دیتا ہے مگر کیا اس نطفہ میں بچہ پیدا کرنے کی، اور لازماً انسان ہی کا بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت آپ سے آپ پیدا ہو گئی ہے؟ یا انسان نے کود پیدا کی ہے؟ یا خدا کے سوا کسی اور نے پیدا کر دی ہے؟ اور کیا یہ مرد کے، یا عورت کے، یا دنیا کی کسی طاقت کے اختیار میں ہے کہ اس نطفے سے حمل کا استقرار کرا دے؟ پھر استقرار حمل سے وضع حمل تک ماں کے پیٹ میں بچے کی درجہ بدرجہ تخلیق و پرورش، اور ہر بچے کی الگ صورت گری، اور ہر بچے کے اندر مختلف ذہنی و جسمانی قوتوں کو ایک خاص تناسب کے ساتھ رکھنا جس سے وہ ایک خاص شخصیت کا انسان بن کر اٹھے، کیا یہ سب کچھ ایک خدا کے سوا کسی اور کا کام ہے؟ کیا اس میں کسی اور کا ذرہ برابر بھی کوئی دخل ہے؟ کیا یہ کام ماں باپ خود کرتے ہیں؟ یا کوئی ڈاکٹر کرتا ہے؟ یا وہ انبیاء اور اولیاء کرتے ہیں جو خود اسی طرح پیدا ہوئے ہیں؟ یا سورج اور چاند اور تارے کرتے ہیں جو خود ایک قانون کے غلام ہیں؟ یا وہ فطرت (Nature) کرتی ہے جو بجائے خود کوئی علم، حکمت۔ ارادہ اور اختیار نہیں رکھتی؟ پھر کیا یہ فیصلہ کرنا بھی خدا کے سوا کسی کے اختیار میں ہے کہ بچہ لڑکی ہو یا لڑکا؟ خوبصورت ہو یا بد صورت؟ طاقتور ہو یا کمزور؟ اندھا بہرہ لنگڑا لولا ہو یا صحیح الاعضاء؟ ذہین ہو یا کند ذہن؟ پھر کیا خدا کے سوا کوئی اور یہ طے کر تا ہے کہ قوموں کی تاریخ میں کس وقت کس قوم کے اندر کن اچھی یا بری صلاحیتوں کے آدمی پیدا کرے جو اسے عروج پر لے جائیں یا زوال کی طرف دھکیل دیں؟ اگر کوئی شخص ضد اور ہٹ دھرمی میں مبتلا نہ ہو تو وہ خود محسوس کر ے گا کہ شرک یا دہریت کی بنیاد پر ن سوالات کا کوئی معقول جواب نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا معقول جواب ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان پورا کا پورا خدا کا ساختہ و پرداختہ ہے۔ اور جب حقیقت یہ ہے تو خدا کے ساختہ و پرداختہ اس انسان کو کیا حق پہنچتا ہے کہ اپنے خالق کے مقابلے میں آزادی و خود مختاری کا دعویٰ کرے؟ یا اس کے سوا کسی دوسرے کی بندگی بجا لائے؟ توحید کی طرح یہ سوال آخرت کے معاملہ میں بھی فیصلہ کن ہے۔ انسان کی تخلیق ایک ایسے کیڑے سے ہوتی ہے جو طاقتور خورد بین کے بغیر نظر تک نہیں آ سکتا۔ یہ کیڑا عورت کے جسم کی تاریکیوں میں کسی وقت اس نسوانی انڈے سے جا ملتا ہے جو اسی کی طرح ایک حقیر سا خورد بینی وجود ہوتا ہے۔ پھر ان دونوں کے ملنے سے ایک چھوٹا سا زندہ خلیہ (Cell) بن جاتا ہے جو حیات انسانی کا نقطہ آغاز ہے، اور یہ خلیہ بھی اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ خورد بین کے بغیر اس کو نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس ذرا سے خلیے کو ترقی دے کر اللہ تعالیٰ 9 مہینے چند روز کے اندر رحم مادر میں ایک جیتا جاگتا انسان بنا دیتا ہے، اور جب اس کی تخلیق مکمل ہو جاتی ہے تو ماں کا جسم خود ہی اسے دھکیل کر دنیا میں اُودھم مچانے کے لیے باہر پھینک دیتا ہے۔تمام انسان اسی طرح دنیا میں آئے ہیں اور شب و روز اپنے ہی جیسے انسانوں کی پیدائش کا یہ منظر دیکھ رہے ہیں۔ اس کے بعد صرف ایک عقل کا اندھا ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ جو خدا اس طرح انسانوں کو آج پیدا کر رہا ہے وہ کل کسی وقت اپنے ہی پیدا کیے ہوئے ان انسانوں کو دوبارہ کسی اور طرح پیدا نہ کر سکے گا۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
کیا اس کی تخلیق تم کرتے ہو یا ہم تخلیق کرنے والے ہیں ؟
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 536
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 59{ ئَ اَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَہٓٗ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ۔ } ”کیا اس کی تخلیق تم کرتے ہو یا ہم تخلیق کرنے والے ہیں ؟“ تم تو پانی کی وہ بوند ٹپکا کر فارغ ہوجاتے ہو۔ اس کے بعد رحم مادر میں ایک حیرت انگیز تخلیقی عمل کا آغاز ہوجاتا ہے۔ وہ نطفہ علقہ میں تبدیل ہوتا ہے ‘ علقہ سے مغضہ بنتا ہے۔ پھر ہڈیاں بنتی ہیں ‘ جوڑ بند درست ہوتے ہیں ‘ آنکھوں ‘ کانوں اور دوسرے اعضاء کا نقشہ تیار ہوتا ہے اور یہ سارا عمل تین پردوں { فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰـثٍط } الزمر : 6 کے اندر پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے۔ کیا اس سارے عمل میں تمہارا بھی کوئی حصہ ہے ؟ ماں کے پیٹ میں مختلف پیچیدہ تخلیقی مراحل سے گزرتے ہوئے بچے کے کسی عضو کے بنانے میں کیا کوئی تمہارا کردار بھی ہے ؟ یا اس کی تذکیر و تانیث میں تمہارا کچھ اختیار ہے ؟ ظاہر ہے اس پورے تخلیقی عمل میں تمہارا حصہ یا کردار بالکل نہیں ہے ‘ اور تم تسلیم کرتے ہو کہ نہیں ہے ‘ تو پھر اس حقیقت کو قبول کیوں نہیں کرلیتے ہو کہ یہ سب کچھ اللہ کی مرضی و منشاء اور صناعی و خلاقی کا مظہر ہے۔ جب ہم ان آیات کی تلاوت کریں تو ہر سوال کے جواب میں عجز و انکساری سے عرض کرنا چاہیے : بَلْ اَنْتَ یَارَبِّ ! کہ اے میرے پروردگار ! یہ سب تیری کاریگری ‘ تیری صناعی اور تیری خلاقی کا مظہر ہے ‘ اس میں سے ہمارے بس میں کچھ بھی نہیں۔ تفسیر عثمانی کے مطابق بعض روایات کی بنا پر علماء نے یہ مستحب سمجھا ہے۔