- وَمَااور نہیں
- خَلَقْتُپیدا کیا میں نے
- الْجِنَّجنوں کو
- وَالْاِنْسَاور انسانوں کو
- اِلَّامگر
- لِیَعْبُدُوْنِاس لیے تاکہ وہ میری عبادت میں
Surah 51 · word by word
Surah 51, ayah 56
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
میں نے جِنّ اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں1
Footnotes (the author's commentary)
-
یعنی میں نے ان کو دوسروں کی بندگی کے لیے نہیں بلکہ اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ میری بندگی تو ان کو اس لیے کرنی چاہیے کہ میں ان کا خالق ہوں۔ دوسرے کسی نے جب ان کو پیدا نہیں کیا ہے تو اس کو کیا حق پہنچتا ہے کہ یہ اس کی بندگی کریں، اور ان کے لیے یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ ان کا خالق تو ہوں میں اور یہ بندگی کرتے پھریں دوسروں کی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف جنوں اور انسانوں ہی کا خالق تو نہیں ہے۔ بلکہ سارے جہان اور اس کی ہر چیز کا خالق ہے، پھر یہاں صرف جنوں اور انسانوں ہی کے متعلق کیوں فرمایا گیا کہ میں نے ان کو اپنے سوا کسی کی بندگی کے لیے پیدا نہیں کیا ہے؟ حالانکہ مخلوقات کا ذرہ ذرہ اللہ ہی کی بندگی کے لیے ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ زمین پر صرف جن اور انسان ایسی مخلوق ہیں جن کو یہ آزادی بخشی گئی ہے کہ اپنے دائرہ اختیار میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنا چاہیں تو کریں، درد وہ بندگی سے منہ بھی کوڑ سکتے ہیں، اور اللہ کے سوا دوسروں کی بندگی بھی کر سکتے ہیں۔ دوسری جتنی مخلوقات بھی اس دنیا میں ہیں وہ اس نوعیت کی کوئی آزادی نہیں رکھتیں۔ ان کے لیے سرے سے کوئی دائرہ اختیار ہے ہی نہیں کہ وہ اس میں اللہ کی بندگی نہ کریں یا کسی اور کی بندگی کر سکیں۔ اس لیے یہاں صرف جنوں اور انسانوں کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے اختیار کے حدود میں اپنے خالق کی اطاعت و عبودیت سے منہ موڑ کر، اور خالق کے سوا دوسروں کی بندگی کر کے خود اپنی فطرت سے لڑ رہے ہیں، ان کو یہ جاننا چاہیے کہ وہ خالق کے سوا کسی کی بندگی کے لیے پیدا نہیں کیے گئے ہیں اور ان کے لیے سیدھی راہ یہ ہے کہ جو آزادی انہیں بخشی گئی ہے اسے غلط استعمال نہ کریں بلکہ اس آزادی کے حدود میں بھی خود پنی مرضی سے اسی طرح خدا کی بندگی کریں جس طرح ان کے جسم کا رونگٹا رونگٹا ان کی زندگی کے غیر اختیاری حدود میں اس کی بندگی کر رہا ہے۔ عبادت کا لفظ اس آیت میں محض نماز روزے اور اسی نوعیت کی دوسری عبادات کے معنی میں استعمال نہیں کیا گیا ہے کہ کوئی شخص اس کا مطلب یہ لے لے کہ جن اور انسان صرف نماز پڑھنے اور روزے رکھنے اور تسبیح و تہلیل کرنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ یہ مفہوم بھی اگر چہ اس میں شامل ہے، مگر یہ اس کا پورا مفہوم نہیں ہے۔ اس کا پورا مفہوم یہ ہے کہ جن اور انسان اللہ سوا کسیاور کی پرستش،اطاعت، فرمانبرداری اور نیاز مندی کے لیے پیدا نہیں کیے گئے ہیں۔ ان کا کام کسی اور کے سامنے جھکنا، کسی اور کے احکام بجا لانا، کسی اور سے تقویٰ کرنا، کسی اور کے بنائے ہوئے دین کی پیروی کرنا، کسی اور کو اپنی قسمتوں کا بنانے اور بگاڑنے والا سمجھنا، اور کسی دوسری ہوتی کے آگے دعا کے لیے ہاتھ پھیلانا نہیں ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورہ سبا، حاشیہ 63۔ الزمر، حاشیہ 2۔ الجاثیہ، حاشیہ 30۔ ایک اور بات جو ضمنی طور پر اس آیت سے صاف ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جن انسانوں سے الگ ایک مستقل مخلوق ہے۔ اس سے ان لوگوں کے خیال کی غلطی بالکل واضح ہو جاتی ہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ انسانوں ہی میں سے کچھ لوگوں کو قرآن میں جن کہا گیا ہے۔ اسی حقیقت پر قرآن مجید کی حسب ذیل آیات بھی ناقابل انکار شہادت بہم پہنچاتی ہیں (الانعام،100،128۔ الاعراف 38، 179، ہود ، 119، الحجر ، 27 تا 33۔ بنی اسرائیل،،88۔ الکہف، 50۔ السجدہ، 13۔سبا، 41۔ صٓ، 75 ،767۔ حٰم السجدہ، 25۔ الاحقاف، 18۔ الرحمٰن، 15،39،56۔(اس مسئلے پر مفصل بحث کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد،سوم، الانبیاء، حاشیہ 21۔ النمل، حاشیہ 23، 45۔ جلد چہارم، تفسیر سورہ سبا، حاشیہ 24)۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
۔ اور میں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر صرف اس لیے کہ وہ میری بندگی کریں۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 523
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 56{ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ۔ } ”اور میں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر صرف اس لیے کہ وہ میری بندگی کریں۔“ شیخ سعدی رح نے اس مفہوم کی ترجمانی اس طرح کی ہے : ؎زندگی آمد برائے بندگی زندگی بےبندگی شرمندگی !یہ آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں تخلیق انسانی کی غایت بیان کی گئی ہے۔ کائنات کی تخلیق کے حوالے سے عام طور پر ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس تخلیق کا سبب کیا ہے ؟ یہ ایک مشکل اور پیچیدہ سوال ہے جس کے جواب میں ہر زمانے کے فلاسفر اور حکماء نے اپنی اپنی آراء دی ہیں۔ یہ ان تفاصیل میں جانے کا موقع نہیں۔ ایک عام شخص کے لیے تخلیق کائنات کے سبب کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا ضروری نہیں اور اس لاعلمی کی وجہ سے اسے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھی نہیں۔ البتہ اپنی تخلیق کی غرض وغایت کے بارے میں جاننا ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔ اگر انسان کو اپنی غایت تخلیق ہی کا علم نہیں ہوگا تو گویا اس کی ساری زندگی رائیگاں جائے گی۔ چناچہ اس آیت میں بنی نوع انسان کو ان کی غایت تخلیق واضح طور پر بتادی گئی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ”بندگی“ کے لیے پیدا کیا ہے۔ بندگی یا عبادت کے بارے میں قبل ازیں بھی میں نے کئی مرتبہ وضاحت کی ہے کہ اس کے تین حصے ہیں : اوّلاً ہمہ تن اطاعت ‘ ثانیاً اطاعت کی روح یعنی اللہ تعالیٰ کی غایت درجے کی محبت۔ عبادت اصلاً ان دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے اَلْعِبَادَۃُ تَجْمَعُ اَصْلَیْنِ : غَایَۃَ الْحُبِّ مَعَ غَایَۃِ الذُّلِّ وَالْخُضُوْعِ ۔ جبکہ تیسری چیز مراسم ِعبودیت ہے ‘ جس کی حیثیت عبادت کے ظاہر یا جسم کی ہے۔ مثلاً اللہ کے سامنے عاجزی کی حالت قنوت میں کھڑے ہونا قیام ‘ رکوع ‘ سجدہ ‘ حمدیہ کلمات ادا کرنا ‘ نماز وغیرہ مراسم عبودیت ہیں اور ان کی اپنی اہمیت ہے۔ اگر ہم عبادت کی اس تعریف اللہ تعالیٰ کی ہمہ تن اطاعت کی روشنی میں آج اپنی حالت کا جائزہ لیں تو یہ تلخ حقیقت واضح ہوگی کہ ہم میں سے جو لوگ اپنے زعم میں شب و روز پابندی کے ساتھ اللہ کی عبادت پر کمر بستہ ہیں وہ بھی زیادہ سے زیادہ دس یا پندرہ فیصد تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر رہے ہیں۔ اس کا واضح تر مطلب یہ ہے کہ ہماری زندگیوں کا غالب حصہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اطاعت سے نکلا ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس پر کافرانہ نظام کا غلبہ ہے اور اس نظام کے تحت رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ہمہ تن اطاعت ممکن ہی نہیں۔ ان حالات میں ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت یا عبادت کے تقاضوں سے کیسے عہدہ برآ ہوسکتے ہیں ؟ اس سوال کا جواب جاننے کے خواہش مند حضرات اس موضوع پر میری کتب اور تقاریر سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ آیت زیر مطالعہ کے حوالے سے یہاں پر مختصراً یہ سمجھ لیں کہ مادی وعلمی لحاظ سے انسان جس قدر چاہے ترقی کرلے اگر وہ اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت یا بندگی کے قالب میں ڈھالنے سے قاصر رہا تو انسانی سطح پر اس کی ساری زندگی بیکار اور رائیگاں ہے۔ علامہ اقبالؔ نے اپنے ان اشعار میں انسان کی اسی ناکامی کی طرف اشارہ کیا ہے : ؎ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا زندگی کی شب ِتاریک سحر کر نہ سکا !