- قَالَفرمایا (اس نے)
- فَاِنَّهَاپس بیشک وہ
- مُحَرَّمَةٌحرام کی گئی
- عَلَیْهِمْان پر
- اَرْبَعِیْنَچالیس
- سَنَةً ۚسال
- یَتِیْهُوْنَوہ سرگرداں رہیں گے
- فِیمیں
- الْاَرْضِ ؕزمین
- فَلَاپس نہ
- تَاْسَتم افسوس کرو
- عَلَیاوپر
- الْقَوْمِقوم کے
- الْفٰسِقِیْنَجو فاسق (قوم کے) ہیں
Surah 5 · word by word
Surah 5, ayah 26
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
اللہ نے جواب دیا ”اچھا تو وہ مُلک چالیس (۴۰) سال تک ان پر حرام ہے، یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے،1 ان نافرمانوں کی حالت پر ہرگز ترس نہ کھاوٴ“۔2
Footnotes (the author's commentary)
-
“اِس قصے کی تفصیلات بائیبل کی کتاب گنتی ، استثناء اور یشوع میں ملیں گی۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے دشتِ فاران سے بنی اسرائیل کے 12 سرداروں کو فلسطین کا دَورہ کرنے کے لیے بھیجا تاکہ وہاں کے حالات معلوم کر کے آئیں۔ یہ لوگ چالیس دن دَورہ کرکے وہاں سے واپس آئے اور انہوں نے قوم کے مجمعِ عام میں بیان کیا کہ واقعی وہاں دُودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں،”لیکن جو لوگ وہاں بسے ہوئے ہیں وہ زور آور ہیں۔۔۔۔ ہم اِس لائق نہیں ہیں کہ ان لوگوں پر حملہ کریں۔۔۔۔ وہاں جتنے آدمی ہم نے دیکھے وہ سب بڑے قدآور ہیں اور ہم نے وہاں بنی عناق کو بھی دیکھا جو جبّار ہیں اور جبّاروں کی نسل سے ہیں ، اور ہم تو اپنی ہی نگاہ میں ایسے تھے جیسے ٹِڈ ے ہوتے ہیں اور ایسے ہی ان کی نگاہ میں تھے“۔ یہ بیان سُن کر سارا مجمع چیخ اُٹھا کہ” اے کاش ہم مصر ہی میں مر جاتے! یا کاش اس بیابان ہی میں مرتے! خداوند، کیوں ہم کواس مُلک میں لے جا کر تلوار سے قتل کرانا چاہتا ہے؟ پھر تو ہماری بیویاں اور بال بچے لُوٹ کا مال ٹھیریں گے۔ کیا ہمارے لیے بہتر نہ ہوگا کہ ہم مصر واپس چلے جائیں“۔ پھر وہ آپس میں کہنے لگے کہ آ ؤ ہم کسی کو کاپنا سردار بنا لیں اور مصر کو لَوٹ چلیں۔ اِس پر اُن بارہ سرداروں میں سے ، جو فلسطین کے دَورے پر بھیجے گئے تھے ، دوسردار ، یُوشَع اور کالِب اُٹھے اور انہوں نے اِس بُزدلی پر قوم کو ملامت کی۔ کالب نے کہا”چلو ہم ایک دم جا کر اس ملک پر قبضہ کر لیں ، کیونکہ ہم اس قابل ہیں کہ اس پر تصرف کریں“۔ پھر دونوں نے یک زبان ہو کر کہا” اگر خدا ہم سے راضی رہے تو وہ ہم کو اس ملک میں پہنچائے گا۔۔۔ فقط اتنا ہو کہ تم خداوند سے بغاوت نہ کرو اور نہ اِس ملک کے لوگوں سے ڈرو۔۔۔۔ اور ہمارے ساتھ خداوند ہے سو ان کا خوف نہ کرو“۔ مگر قوم نے اس کا جواب یہ دیا کہ” انہیں سنگسار کر دو“۔ آخر کار اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکا اور اس نے فیصلہ فرما یا کہ اچھا اب یوشَع اور کالب کے سوااس قوم کے بالغ مردوں میں سے کوئی بھی اُس سر زمین میں داخل نہ ہونے پائے گا۔ یہ قوم چالیس برس تک بے خانماں پھرتی رہے گی، یہاں تک کہ جب ان میں سے 2۰ برس سے لے کر اُوپر کی عمر تک کے سب مرد مر جائیں گے اور نئی نسل جوان ہو کر اُٹھے گی تب انہیں فلسطین فتح کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ چنانچہ اس فیصلہ ٔ خداوندی کے مطابق بنی اسرائیل کو دشت ِ فاران سے شرق اُردن تک پہنچتے پہنچتے پُورے 38 برس لگ گئے ۔ اِس دَوران میں وہ سب لوگ مر کھپ گئے جو جوانی کی عمر سے مصر سے نکلے تھے۔ شرق اُردن فتح کرنے کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کا بھی انتقال ہو گیا ۔ اس کے بعد حضرت یُوشع بن نون کے عہدِ خلافت میں بنی اسرائیل اس قابل ہوئے کہ فلسطین فتح کر سکیں۔
-
یہاں اس واقعہ کا حوالہ دینے کی غرض سلسلۂ بیان پر غور کرنے سے صاف سمجھ میں آجاتی ہے۔ قصہ کے پیرایہ میں دراصل بنی اسرائیل کو یہ جتانا مقصُود ہے کہ موسیٰ کے زمانہ میں نافرمانی ، انحراف اور پست ہمتی سے کام لے کر جو سزا تم نے پائی تھی ، اب اس سے بہت زیادہ سزا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں باغیانہ روش اختیار کر کے پاؤ گے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
فرمایا اب یہ (ارض مقدس) حرام رہے گی ان پر چالیس سال تک یہ بھٹکتے پھریں گے زمین میں تو (اے موسیٰ (ؑ) آپ افسوس نہ کریں اس فاسق قوم پر
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 112
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 26 قَالَ فَاِنَّہَا مُحَرَّمَۃٌ عَلَیْہِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ج ‘۔یہ ہماری طرف سے ان کی بزدلی کی سزا ہے۔ اگر یہ بزدلی نہ دکھاتے تو ارض فلسطین ابھی ان کو عطا کردی جاتی ‘ مگر اب یہ چالیس سال تک ان پر حرام رہے گی۔یَتِیْہُوْنَ فِی الْاَرْضِ ط ۔ اس صحرائے سینا میں یہ چالیس سال تک مارے مارے پھرتے رہیں گے۔ فَلاَ تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۔ ۔اب آپ ان نافرمانوں کا غم نہ کھایئے۔ اب جو کچھ ان پر بیتے گی اس پر آپ علیہ السلام کو ترس نہیں کھانا چاہیے۔ آپ بہرحال ان کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں ‘ جب تک زندگی ہے آپ کو ان کے ساتھ رہنا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق بنی اسرائیل چالیس برس تک صحرائے سینا میں بھٹکتے پھرے۔ اس دوران میں وہ سب لوگ مر کھپ گئے جو جوانی کی عمر میں مصر سے نکلے تھے اور صحرا میں ایک نئی نسل پروان چڑھی جو خوئے غلامی سے مبراّ تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارون علیہ السلام دونوں کا انتقال ہوگیا اور اس کے بعد حضرت یوشع بن نون کے عہد خلافت میں بنی اسرائیل اس قابل ہوئے کہ فلسطین فتح کرسکیں۔اب ذرا اس پس منظر میں سورة النساء میں نازل ہونے والے حکم کو بھی یاد کریں۔ یہاں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قول نقل ہوا ہے : لَآ اَمْلِکُ الاَّ نَفْسِیْ وَاَخِیْ لیکن وہاں حضور ﷺ سے فرمایا گیا تھا : فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِج لاَ تُکَلَّفُ الاَّ نَفْسَکَ وَحَرِّضِ الْمُوْمِنِیْنَ النساء : 84۔ اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ اللہ کی راہ میں قتال کیجیے ‘ آپ ﷺ اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں ہیں ‘ البتہ اہل ایمان کو بھی ترغیب دیں۔ آپ ﷺ پر کسی اور کی ذمہ داری نہیں ہے سوائے اپنی جان کے ‘ البتہ آپ ﷺ اہل ایمان کو جس قدر ترغیب و تشویق دلا سکتے ہیں دلائیں ‘ ان ‘ کے جذبات ایمانی کو جس جس انداز سے اپیل کرنا ممکن ہے کریں ‘ اور بس اس سے زیادہ آپ ﷺ پر کوئی ذمہ داری نہیں۔ اب پانچویں رکوع میں قتل ناحق ‘ ملک میں فساد پھیلانے اور چوری ڈاکے جیسے جرائم کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر اور پھر ان کی سزاؤں کا ذکر ہوگا۔