Surah 49 · word by word

Surah 49, ayah 14

  1. قَالَتِکہا
  2. الْاَعْرَابُبدوؤں نے
  3. اٰمَنَّا ؕایمان لائے ہم
  4. قُلْکہہ دیجیے
  5. لَّمْنہیں
  6. تُؤْمِنُوْاتم ایمان لائے
  7. وَلٰكِنْبلکہ۔ لیکن
  8. قُوْلُوْۤاکہو
  9. اَسْلَمْنَااسلام لائے ہم۔ فرمانبردار ہوئے
  10. وَلَمَّاحالانکہ نہیں
  11. یَدْخُلِداخل ہوا
  12. الْاِیْمَانُایمان
  13. فِیْمیں
  14. قُلُوْبِكُمْ ؕتمہارے دلوں (میں)
  15. وَاِنْاور اگر
  16. تُطِیْعُواتم اطاعت کرو گے
  17. اللّٰهَاللہ کی
  18. وَرَسُوْلَهٗاور اس کے رسول کی
  19. لَانہ
  20. یَلِتْكُمْکبھی کرے گا وہ تمہارے ساتھ
  21. مِّنْسے
  22. اَعْمَالِكُمْتمہارے اعمال میں (سے)
  23. شَیْـًٔا ؕکچھ بھی
  24. اِنَّبیشک
  25. اللّٰهَاللہ تعالیٰ
  26. غَفُوْرٌغفور
  27. رَّحِیْمٌرحیم ہے

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

1 یہ بدوی کہتے ہیں کہ ”ہم ایمان لائے“۔2 ان سے کہو، تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ ”ہم مطیع ہوگئے“3۔ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے۔ اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری اختیار کر لو تو وہ تمہارے اعمال کے اجر میں کوئی کمی نہ کرے گا،یقیناً اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے

Footnotes (the author's commentary)

  1. یعنی یہ بات اللہ ہی جانتا ہے کہ کون فی الواقع ایک اعلیٰ درجہ کا انسان ہے اور کون اوصاف کے لحاظ سے ادنیٰ درجے کا ہے۔ لوگوں نے بطور خود اعلیٰ اور ادنیٰ کے جو معیار بنا رکھے ہیں یہ اللہ ہاں چلنے والے نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جس کو دنیا میں بہت بلند مرتبے کا آدمی سمجھا گیا ہو وہ اللہ کے آخری فیصلے میں کم ترین خلائق قرار پائے، اور ہو سکتا ہے کہ جو یہاں بہت حقیر سمجھا گیا ہو، وہ وہاں بڑا اونچا مرتبہ پائے۔ اصل اہمیت دنیا کی عزت و ذلت کی نہیں بلکہ اس ذلت و عزت کی ہے جو خدا کے ہاں کسی کو نصیب ہو۔ اس لیے انسان کو ساری فکر اس امر کی ہونی چاہیے کہ وہ اپنے اندر وہ حقیقی اوصاف پیدا کرے جو اسے اللہ کی نگاہ میں عزت کے لائق بنا سکتے ہوں۔

  2. اس سے مراد تمام بدوی نہیں ہیں بلکہ یہاں ذکر چند خاص بدوی گروہوں کا ہو راہ ہے جو اسلام میں بڑھتی ہوئی طاقت دیکھ کر محض اس خیال سے مسلمان ہو گئے تھے کہ وہ مسلمانوں کی ضرب سے محفوظ بھی رہیں گے اور اسلامی فتوحات کے فوائد سے متمتع بھی ہوں گے۔ یہ لوگ حقیقت میں سچے دل سے ایمان نہیں لائے تھے، محض زبانی اقرار ایمان کر کے انہوں نے مصلحۃً اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار کرا لیا تھا۔ اور ان کی اس باطنی حالت کا راز اس وقت فاش ہو جاتا تھا جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آ کر طرح طرح کے مطالبہ کرتے تھے، اور اپنا حق اس طرح جتاتے تھے کہ گویا انہوں نے اسلام قبول کر کے آپ پر بڑا احسان کیا ہے۔ روایات میں متعدد قبائلی گروہوں کے اس رویے کا ذکر آیا ہے۔ مثلاً مُزینہ، جہینہ، اسلم، اشجع، غِفار وغیرہ۔ خاص طور پر بنی اَسد بن خزیمہ کے متعلق ابن عباس اور سعید بن جُبیر کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ خشک سالی کے زمانہ میں وہ مدینہ آئے اور مالی مدد کا مطالبہ کرتے ہوئے بار بار انہوں نے رسول اللہ صلی علیہ و سلم سے کہا کہ ’’ ہم بغیر لڑے بھڑے مسلمان ہوئے ہیں، ہم نے آپ سے اس طرح جنگ نہیں کی  جس طرح فلاں اور فلاں قبیلوں نے جنگ کی ہے ‘‘ اس سے ان کا صاف مطلب یہ تھا کہ اللہ کے رسول سے جنگ نہ کرنا اور اسلام قبول کر لینا ان کا ایک احسان ہے جس کا معاوضہ انہیں رسول اور اہل ایمان سے ملنا چاہیے۔ اطراف مدینہ کے بدوی گروہوں کا یہی وہ طرز عمل ہے جس پر ان آیات میں تبصرہ کیا گیا ہے۔ اس تبصرے کے ساتھ سورۃ توبہ آیات 9۰ تا 11۰ ، اور سورۃ فتح آیات 11 تا 17 کو ملا کر پڑھا جائے تو بات زیادہ اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔

  3. اصل میں قُوْلُوْآ اَسْلَمْنَا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کو دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ’’ کہو ہم مسلمان ہو گئے ہیں‘‘ ان الفاظ سے بعض لوگوں نے یہ نتیجہ نکال لیا ہے کہ قرآن مجید کی زبان میں ’’مومن ‘‘اور ’’مسلم ‘‘دو متقابل اصطلاحیں ہیں، مومن وہ ہے جو سچے دل سے ایمان لایا ہو اور مسلم وہ ہے جس نے ایمان کے بغیر محض ظاہر میں اسلام قبول کر لیا ہو۔ لیکن درحقیقت یہ خیال بالکل غلط ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اس جگہ ایمان کا لفظ قلبی تصدیق کے لیے اور اسلام کا لفظ محض ظاہری اطاعت کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مگر یہ سمجھ لینا صحیح نہیں ہے کہ یہ قرآن مجید کی دو مستقل اور باہم متقابل اصطلاحیں ہیں۔ قرآن کی جن آیات میں اسلام اور مسلم کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان تتبعُّ کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن کی اصطلاح میں ’’ اسلام‘‘ اس دین حق کا نام ہے جو اللہ نے نوع انسانی کے لیے نازل کیا ہے، اس کے مفہوم میں ایمان اور اطاعت امر دونوں شامل ہیں، اور ’’مسلم‘‘ وہ ہے جو سچے دل سے مانے اور عملاً اطاعت کرے۔ مثال کے طور پر حسب ذیل آیات ملاحظہ ہوں:

    اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللہِ الْاَسْلَامُ (آل عمران 19 )

    "یقیناً اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔"

    وَمَن یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْناً فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ۔ (آل عمران۔85)

    "اور جو اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے اس کا وہ دین ہر گز قبول نہ کیا جائے گا۔ "

    وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْناً (المائدہ۔3)

    "اور میں نے تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کیا ہے۔"

    فَمَنْ یُّرِدِ اللہُ اَنْ یَّھْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ۔ (الانعام۔ 125)

    "اللہ جس کو ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ "

    ظاہر ہے کہ ان آیات میں ’’ اسلام‘‘ سے مراد اطاعت بلا ایمان نہیں ہے۔ پھر دیکھیے جگہ جگہ اس مضمون کی آیات آتی ہیں:

    قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ اَوَّلِ مَنْ اَسْلَمَ۔ (الانعام۔ 14)

    "اے نبی کہو مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے اسلام لانے والا میں ہوں۔ "

    فَاِنْ اَسْلَمُو افَقَدِ اھْتَدَوْا (آل عمران۔20)

    "پھر اگر وہ اسلام لے آئیں تو انہوں نے ہدایت پالی۔"

    یَحْکُمُ بِھَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا (المائدہ۔ 44)

    "تمام انبیاء جو اسلام لائے تھے تو رات کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔"

    کیا یہاں اور اس طرح کے بیسیوں دوسرے مقامات پر اسلام قبول کرنے یا اسلام لانے کا مطلب ایمان کے بغیر اطاعت اختیار کر لینا ہے؟ اسی طرح ’’ مسلم‘‘ کا لفظ بار بار جس معنی میں استعمال ہوا ہے اس کے لیے نمونے کے طور پر حسب ذیل آیات ملاحظہ ہوں۔

    یٰٓاَیّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُو اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقَا تِہٖ وِلَا تَمُوْ تُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمّوْنَ۔ (آل عمرآن۔102)

    "اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں تم مسلم ہو۔ "

    ھُوَسَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ ھٰذا (الحج۔ 78 )

    "اس نے تمہارا نام پہلے بھی مسلم رکھا تھا اور اس کتاب میں بھی۔ "

    مَاکَانَ اِبْرَاھِیْمْ یَھُودِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰکِنْ کَانَ حَنِیْفاً مُّسْلِماً۔(آل عمران۔ 67)

    "ابراہیمؑ نہ یہودی تھا نصرانی، بلکہ وہ یک سُو مسلم تھا۔ "

    رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ۔ (البقرہ۔ 128)

    (تعمیر کعبہ کے وقت حضرت ابراہیم و اسماعیل کی دعا) "اے ہمارے رب، اور ہم دونوں کو اپنا مسلم بنا اور ہماری نسل سے ایک ایسی امت پیدا کر جو تیری مُسلم ہو۔"

    یٰبَنِیَّ اِنَّ اللہَ اصْطَفیٰ لَکُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ (البقرہ۔132)

    (حضرت یعقوبؑ کی وصیت اپنی اولاد کو) "اے میرے بچو، اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند کیا ہے پس تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔"

    ان آیات کو پڑھ کر آخر کون یہ خیال کر سکتا ہے  کہ ان میں مسلم سے مراد وہ شخص ہے جو دل سے نہ مانے، بس ظاہری طور پر اسلام قبول کر لے؟ اس لیے یہ دعویٰ کرنا قطعی غلط ہے کہ قرآن کی اصطلاح میں اسلام سے مراد اطاعت بلا ایمان ہے، اور مسلم قرآن کی زبان میں محض بہ ظاہر اسلام قبول کر لینے والے کو کہتے ہیں۔ اسی طرح یہ دعویٰ کرنا بھی غلط ہے کہ ایمان اور مومن کے الفاظ قرآن مجید میں لازماً سچے دل سے ماننے ہی کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔ بلا شبہ اکثر مقامات پر یہ الفاظ اسی مفہوم کے لیے آئے ہیں، لیکن بکثرت مقامات ایسے بھی ہیں جہاں یہ الفاظ ظاہری اقرار ایمان کے لیے بھی استعمال کیے گئے ہیں، اور یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا۔ کہہ کر ان سب لوگوں کو خطاب کیا گیا ہے جو زبانی اقرار کر کے مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہوئے ہوں، قطع نظر اس سے کہ وہ سچے مومن ہوں، یا ضعیف الایمان، یا محض منافق۔ اس کی بہت سی مثالوں میں سے صرف چند کے لیے ملاحظہ ہو آل عمران، آیت 156۔ النساء،126۔ المائدہ، 54۔ الانفال، 20۔27۔التوبہ، 38 الحدید، 28۔ الصّف، 2۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

یہ بدو کہہ رہے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔ (اے نبی ﷺ ان سے) کہہ دیجیے : تم ہرگز ایمان نہیں لائے ہو بلکہ تم یوں کہو کہ ہم مسلمان (اطاعت گزار) ہوگئے ہیں اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ لیکن اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو گے تو وہ تمہارے اعمال میں سے کوئی کمی نہیں کرے گا۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا بہت مہربان ہے۔

Commentary

آیت 14 { قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا } ”یہ بدو کہہ رہے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔“ { قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا } ”اے نبی ﷺ ان سے کہہ دیجیے : تم ہرگز ایمان نہیں لائے ہو ‘ بلکہ تم یوں کہو کہ ہم مسلمان اطاعت گزار ہوگئے ہیں“ ”لَمْ تُـؤْمِنُوْا“ میں نفی جحد بِلَمْ کا نہایت موکد اسلوب ہے ‘ یعنی یہاں مضارع سے پہلے لَمْ تاکیدی نفی کے لیے آیا ہے۔ چناچہ ”لَمْ تُؤْمِنُوْا“ میں جو خاص تاکید پائی جاتی ہے وہ ”مَـا آمَنْتُمْ“ جیسے الفاظ میں نہیں۔ { وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ } ”اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔“ اس آیت میں جو نکتہ بیان ہوا ہے وہ اسلامی معاشرے کی رکنیت اور اسلامی ریاست کی شہریت کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ایمان دراصل ایک نظریے کا نام ہے جو دل کے اندر چھپا ہوتا ہے۔ دنیا میں کسی بھی طریقے یا ذریعے سے کسی شخص کے ایمان کی تصدیق یا تردید نہیں ہوسکتی۔ اس لیے اسلامی معاشرے کے افراد یا اسلامی ریاست کے شہریوں کی قانونی حیثیت کا تعین ”اسلام“ کی بنیاد پر ہوگا نہ کہ ”ایمان“ کی بنیاد پر۔ البتہ آخرت میں اللہ کے ہاں ہر شخص کے معاملات کا فیصلہ ایمان کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ چناچہ ہمارے ہاں مردم شماری کے فارم کے اندر مذہب کے خانے میں کسی کے لیے ”مسلم“ کا لفظ لکھ دینے سے متعلقہ شخص کو قانونی طور پر تو مسلمان تسلیم کرلیا جائے گا لیکن دنیا میں قانونی طور پر مسلمان بن جانے سے اللہ کے ہاں چھوٹ نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ تو ہر شخص کے دل میں ایمان کی کیفیت کو دیکھے اور پرکھے گا۔ جیسا کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے : اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَنْظُرُ اِلٰی صُوَرِکُمْ وَاَمْوَالِکُمْ وَلٰکِنْ یَـنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَاَعْمَالِکُمْ 1 ”اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کو نہیں دیکھتا ‘ بلکہ وہ تو تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے“۔ چناچہ دنیوی قانون کے تقاضوں اور نجاتِ اُخروی کے حوالے سے ایمان اور اسلام کے فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ { وَاِنْ تُطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ لَا یَلِتْکُمْ مِّنْ اَعْمَالِکُمْ شَیْئًا } ”لیکن اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو گے تو وہ تمہارے اعمال میں سے کوئی کمی نہیں کرے گا۔“ { اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ} ”یقینا اللہ بہت بخشنے والا ‘ بہت مہربان ہے۔“ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق اعمال کا دارومدار ایمان پر ہے ‘ یعنی جب تک کسی کے دل میں ایمان نہیں اللہ کے ہاں اس کا کوئی عمل قابل قبول نہیں ‘ لیکن اللہ تعالیٰ غفورٌ رحیم ہے ‘ اس نے اپنی شان غفاری و رحیمی کے طفیل تم لوگوں کو خصوصی رعایت عطا کی ہے ‘ چناچہ اگرچہ تم نے ایمان کا ابھی صرف زبانی اقرار ہی کیا ہے اور یہ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں راسخ نہیں ہوا ‘ پھر بھی اس اقرار کے بعد اگر تم لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو شرف قبولیت بخشتا رہے گا۔ اس حوالے سے یہ اہم قانونی اور اصولی نکتہ ضرور مدنظر رہنا چاہیے کہ یہاں جس اطاعت کا ذکر ہے اس سے مراد کلی اطاعت ہے۔ کیونکہ { اُدْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص } البقرۃ : 208 کے واضح حکم کے بعداسلام میں جزوی داخلہ اور اللہ تعالیٰ کی جزوی اطاعت قابل قبول ہی نہیں۔ آیت زیر مطالعہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں ایمان کو اسلام سے علیحدہ کردیا گیا ہے اور یہ قرآن مجید کا واحد مقام ہے جہاں مسلمانوں کے ایک گروہ کو واضح طور پر بتادیا گیا ہے کہ تا حال ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اس سے بعض لوگوں کو یہ مغالطہ بھی ہوا کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں ہے ‘ حالانکہ اس بارے میں سب کا اتفاق ہے کہ منافقین کا تو کوئی عمل بھی اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ‘ جبکہ یہاں متعلقہ لوگوں کو یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ اگر تم لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو گے تو تمہارے اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ چناچہ اس حکم کا درست مفہوم سمجھنے کے لیے ان حالات کے بارے میں جاننا ضروری ہے جن حالات میں یہ آیت نازل ہوئی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو جزیرۃ العرب میں غلبہ عطا فرما دیا تو کفار و مشرکین کے تمام قبائل پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ اب ان میں مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رہی۔ دوسری طرف سورة التوبہ کی ابتدائی آیات میں ان کے لیے یہ الٹی میٹم بھی نازل ہوچکا تھا : { فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْ وَخُذُوْہُمْ وَاحْصُرُوْہُمْ وَاقْعُدُوْا لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍج } آیت 5 ”اور جب یہ محترم مہینے گزر جائیں تو قتل کرو ان مشرکین کو جہاں پائو ‘ اور پکڑو ان کو ‘ اور گھیرائو کرو ان کا ‘ اور ان کے لیے ہر جگہ گھات لگا کر بیٹھو“۔ 9 ہجری کے حج کے موقع پر یہ الٹی میٹم ہر خاص و عام تک پہنچا بھی دیا گیا تھا۔ اس کے بعد متعلقہ لوگوں کے پاس صرف چار ماہ کا وقت تھا۔ ان حالات میں ان قبائل کے پاس اطاعت قبول کرنے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ بچا ہی نہیں تھا۔ چناچہ انہوں نے یہی راستہ اپنایا اور حضور ﷺ کی اطاعت قبول کرنے کے لیے آپ ﷺ کی خدمت میں اپنے اپنے وفد بھیجنے شروع کردیے۔ اس طرح اس سال مدینہ میں وفود کا تانتا بندھ گیا۔ گویا ہر قبیلہ اسلامی حکومت کی اطاعت قبول کرنے اور اسلام میں داخل ہونے کے لیے دوسروں پر سبقت لے جانا چاہتا تھا۔ اس صورت حال کا نقشہ سورة النصر میں یوں دکھایا گیا ہے : { اِذَاجَآئَ نَصْرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ۔ وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا۔ اطاعت قبول کرنے والے ان لوگوں میں تین طرح کے افراد تھے۔ کچھ تو ظاہر ہے خلوص نیت سے ایمان لانے والے تھے اور کچھ منافق اور دھوکہ باز جو ہوا کا رخ دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرنے پر مجبور تھے۔ لیکن ان دواقسام کے درمیان تیسری قسم کے کچھ لوگ بھی تھے ‘ جن کے دلوں میں نہ تو دھوکے کی نیت تھی اور نہ ہی ایمان لانے کا سچا جذبہ تھا۔ یعنی وہ مثبت اور منفی دو انتہائوں کے درمیان ”زیرو پوائنٹ“ پر کھڑے تھے۔ آیت زیر مطالعہ میں دراصل ان ہی لوگوں کا ذکر ہے۔ ان لوگوں کو نہ صرف اطمینان دلایا گیا کہ اگر تم لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو گے تو تمہارے اعمال میں کچھ کمی نہیں کی جائے گی ‘ بلکہ آگے آیت 17 میں انہیں خوشخبری بھی سنا دی گئی کہ اگر تم خلوص دل سے اطاعت کے اس راستے پر چلتے رہو گے تو تمہارے دلوں میں سچا اور حقیقی ایمان بھی پیدا ہوجائے گا۔ دراصل ایمانِ حقیقی اور عمل صالح باہم لازم و ملزوم ہیں۔ ایک طرف دل میں ایمانِ حقیقی کی موجودگی اگر اعمالِ صالحہ کے صدور کا باعث بنتی ہے تو دوسری طرف اعمالِ صالحہ کی مداومت بھی ایمان کی تقویت کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے۔ لیکن واضح رہے کہ اس حوالے سے ٹھوس نتائج کے لیے دل میں مضبوط ارادے اور نیت کا موجود ہونا نا گزیر ہے۔ یعنی دل میں پختہ نیت ہو کہ مجھے ایک سچا اور پکا مومن بننا ہے ‘ مومن بن کر جینا ہے اور مومن کی حیثیت سے اس دنیا سے کوچ کرنا ہے۔ لیکن اس ضمن میں اس تلخ حقیقت کو بھی تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ آج کل کے ماحول میں اول تو ایسی نیت یا آرزو کا دل میں پیدا ہونا ہی مشکل ہے ‘ اور اگر کسی دل میں یہ آرزو پیدا ہو ہی جائے تو اس کا زندہ رہنا محال ہے۔ کیونکہ آج کا معاشرہ اور خارج کا موجودہ ماحول ایسی مثبت سوچ کو غذا فراہم نہیں کرتا اور ظاہر ہے جس ماحول میں آکسیجن نہیں ہوگی وہاں کوئی متنفس ّکیسے زندہ رہ سکے گا۔ اقبالؔ نے اس صورت حال کو اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے : ؎آرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں ہو کہیں پیدا تو مرجاتی ہے یا رہتی ہے خام ! بلکہ ہمارا موجودہ معاشرہ تو اس حوالے سے منفی کردار کے لیے غیر معمولی طور پر حساس اور فعال ہے۔ ایسی کوئی آرزو کسی دل میں ابھی پوری طرح آنکھیں بھی نہیں کھولنے پاتی کہ ماحول کی تمام منفی قوتین اپنے اپنے ہتھیار سجا کر اس جانِ ناتواں کے محاصرے کے لیے پہنچ جاتی ہیں۔ اس میں سب سے موثر کردار ”اپنوں“ کی ایسی نصیحتوں کا ہوتا ہے کہ دیکھو اپنے گھر بار کی بھی کچھ فکر کرو ! کیوں تم اپنا بنا بنایا کیرئیر تباہ کرنے پر ُ تل گئے ہو ؟ کیا تمہیں اپنے مستقبل اور اپنے بیوی بچوں کا بھی خیال نہیں ؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس دبائو کا فطری اور منطقی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ وہ ”نوزائیدہ آرزو“ لمحہ بہ لمحہ کمزور ہونے لگتی ہے اور بالآخر سسک سسک کر دم توڑ جاتی ہے ‘ اِلا یہ کہ کسی کے ارادے میں غیر معمولی خلوص و استقامت ہو اور اللہ کی خصوصی توفیق و نصرت بھی اس کے شامل حال ہو۔ بہر حال آیت زیر مطالعہ کے حوالے سے یہ بحث تو اسلام اور ایمان کے فرق سے متعلق تھی۔ لیکن اگر کوئی یہ جاننا چاہے کہ حقیقی مومن کسے کہتے ہیں تو وہ ”مومن“ کی اس تعریف definition کو اپنے پیش نظر رکھے جو اگلی آیت میں بیان کی گئی ہے۔ اس مضمون کی وضاحت قبل ازیں سورة الانفال کی آیات 2 ‘ 3 اور 74 کے ضمن میں بھی کی جا چکی ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 517

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution