- وَمَااور نہیں
- نُرِیْهِمْہم دکھاتے ان کو
- مِّنْکوئی
- اٰیَةٍنشانی
- اِلَّامگر
- هِیَوہ
- اَكْبَرُزیادہ بڑی ہوتی تھی
- مِنْسے
- اُخْتِهَا ؗاپنی بہن
- وَاَخَذْنٰهُمْاور پکڑ لیا ہم نے ان کو
- بِالْعَذَابِعذاب میں۔ ساتھ عذاب کے
- لَعَلَّهُمْتاکہ وہ
- یَرْجِعُوْنَلوٹ آئیں
Surah 43 · word by word
Surah 43, ayah 48
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
ہم ایک پر ایک ایسی نشانی اُن کو دکھاتے چلے گئے جو پہلی سے بڑھ چڑھ کر تھی، اور ہم نے اُن کو عذاب میں دھر لیا تاکہ وہ اپنی روش سے باز آئیں۔1
Footnotes (the author's commentary)
-
ان نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو بعد میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے ان کو دکھائیں ، اور وہ یہ تھیں: (1)جادوگروں سے اللہ کے نبی کا بر سر عام مقابلہ ہوا اور وہ شکست کھا کر ایمان لے آئے تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، ص 67 تا 70۔ جلد سوم ، ص 100 تا 107 ۔ 489 تا 494۔ (2) حضرت موسیٰ کے پیشگی اعلان کے مطابق مصر کی سر زمین میں شدید قحط برپا ہو گیا اور وہ انکی دعا پر ہی دور ہوا۔ (3) ان کے پیشگی اعلان کے بعد سارے ملک میں ہولناک بارشوں اور ژالہ باری اور گرج اور کڑک کے طوفان آ ئے جنہوں نے بستیوں اور کھیتوں کو تباہ کر ڈالا ، اور یہ بلا بھی ان کی دعا سے ہی دفع ہو ئ ۔ (4) پورے ملک پر ان کے اعلان کے مطابق ٹڈی دَلوں کا خوفناک حملہ ہوا اور یہ آفت بھی اس وقت تک نہ ٹلی جب تک انہوں نے اسے ٹالنے کے لیے اللہ سے دعا نہ کی۔ (5) ملک بھر میں ان کے اعلان کے مطابق جُوئیں اور سُر سریاں پھیل گئیں جن سے ایک طرف آدمی اور جانور سخت مبتلا ئے عذاب ہوئے اور دوسرے طرف غلوں کی گودام تباہ ہو گئے ۔ یہ عذاب بھی اس وقت ٹلا جب حضرت موسیٰ سے درخواست کر کے دعا کرائی گئی ۔ (6) ملک کے گوشے گوشے میں ان کی قبل از وقت تنبیہ کے مطابق مینڈکوں کا سیلاب امنڈ آیا جس نے پوری آبادی کا ناطقہ تنگ کر دیا ۔ اللہ کی یہ فوج بھی حضرت موسیٰ کی دعا کے بغیر واپس نہ گئی۔ (7) ٹھیک ان کے اعلان کے مطابق خون کا عذاب رونما ہوا ، جس سے تمام نہروں، کنوؤں ، تالابوں اور حوضوں کا پانی خون میں تبدیل ہو گیا ، مچھلیاں مرگئیں، ہر جگہ پانی کے ذخیروں میں عفونت پیدا ہو گئی، اور پورے ایک ہفتے تک مصر کے لوگ صاف پانی کو ترس گئے ۔ یہ آفت بھی اس وقت ٹلی جب اس سے نجات پا نے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کرائی گئی ۔ تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ،ص 72۔73۔ جلد سوم، ص 560۔561۔ جلد چہارم ، المومن ، حاشیہ 37۔ بائیبل کی کتاب خروج، باب 7۔8۔9۔ 10 اور 12 میں بھی ان عذابوں کی مفصل رو داد درج ہے ، مگر وہ گپ اور حقیقت کا مجموعہ ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جب خون کا عذاب آیا تو جادوگروں نے بھی ویسا ہی لا کر دکھایا ۔ مگر جب جوؤں کا عذاب آیا تو جادوگر جواب میں جوئیں پیدا نہ کر سکے اور انہوں نے کہا کہ یہ خدا کا کام ہے ۔ پھر اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب مینڈکوں کا سیلاب اٹھا تو جادوگر بھی جواب میں مینڈک چڑھا لائے ، لیکن اس کے باوجود فرعون نے حضرت موسیٰ ہی سے یہ درخواست کی کہ اللہ سے دعا کر کے اس عذاب کو دفع کراییئے ۔ سوال یہ ہے کہ جب ادو گر مینڈک چڑھا لانے پر قادر تھے تو فرعون نے ان ہی کے ذریعہ سے یہ عذاب کیوں نہ دور کرا لیا ؟ اور آخر یہ معلوم کیسے ہوا کہ مینڈکوں کی اس فوج میں اللہ کے مینڈک کون سے ہیں اور جادو گروں کے مینڈک کون سے ؟ یہی سوال خون کے بارے میں بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ کی تنبیہ کے مطابق ہر طرف پانی کے ذخیرے خون میں تبدیل ہو چکے تھے تو جادوگروں نے کس پانی کو خون بنایا اور کیسے معلوم ہوا کہ فلاں جگہ کا پانی جادوگروں کے کرتب سے خون بنا ہے ؟ ایسی ہی باتوں سے صاف معلوم ہو جا تا ہے کہ بائیبل خالص کلام الٰہی پر مشتمل نہیں ہے بلکہ اس کو جن لوگوں نے تصنیف کیا ہے انہوں نے اس کے اندر اپنی طرف سے بھی بہت کچھ ملا دیا ہے ۔ اور غضب یہ ہے کہ یہ مصنفین کچھ تھے بھی واجبی سی عقل کے لوگ جنہیں بات گھڑنے کا سلیقہ بھی نصیب نہ تھا ۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اور نہیں دکھاتے تھے ہم انہیں کوئی نشانی مگر وہ اپنی بہن (اپنے جیسی پہلی نشانی) سے زیادہ بڑی ہوتی تھی اور ہم انہیں پکڑتے رہے اس عذاب کے ذریعے شاید کہ وہ باز آجائیں
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 492
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 48 { وَمَا نُرِیْہِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ اِلَّا ہِیَ اَکْبَرُ مِنْ اُخْتِہَا } ”اور نہیں دکھاتے تھے ہم انہیں کوئی نشانی مگر وہ اپنی بہن اپنے جیسی پہلی نشانی سے زیادہ بڑی ہوتی تھی“ یعنی ہم ان کو ایک سے ایک بڑھ کر نشانیاں دکھاتے رہے۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دی گئی مزید سات نشانیوں کی طرف اشارہ ہے۔ ان میں ایک بہت بڑی نشانی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جادوگروں سے مقابلہ تھا ‘ جس میں شکست کھا کر وہ ایمان لے آئے۔ مزید برآں مصر میں شدید قحط ‘ ہولناک طوفانِ باد و باراں ‘ ٹڈی دل کا خوفناک حملہ ‘ چچڑیوں اور کھٹملوں کی بہتات ‘ مینڈکوں کا امڈا ہو اسیلاب ‘ کنوئوں اور چشموں کے پانی کا خون میں تبدیل ہوجانا ‘ ایسی نشانیاں تھیں جن کا ظہور یکے بعد دیگرے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پیشگی اعلان کے بعد ہوتا اور آنے والی آفت اس وقت تک نہ ٹلتی جب تک حضرت موسیٰ علیہ السلام اسے ٹالنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا نہ کرتے۔ ان نشانیوں کا ذکر سورة الاعراف کے سولہویں رکوع میں ہوا ہے۔ { وَاَخَذْنٰہُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ } ”اور ہم انہیں پکڑتے رہے اس عذاب کے ذریعے ‘ شاید کہ وہ باز آجائیں۔“ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک خاص اصول اور قانون ہے کہ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے بڑے عذاب سے پہلے ان پر چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجے جاتے ہیں۔ اس اصول کا ذکر سورة السجدۃ میں اس طرح ہوا ہے : { وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ۔ } ”اور ہم لازماً چکھائیں گے انہیں مزہ چھوٹے عذاب کا بڑے عذاب سے پہلے ‘ شاید کہ یہ لوگ پلٹ آئیں“۔ نوٹ کیجیے ان دونوں آیات کے اختتامی الفاظ ایک سے ہیں۔