- وَقَیَّضْنَااور مقرر کیے ہم نے
- لَهُمْان کے لیے
- قُرَنَآءَساتھی
- فَزَیَّنُوْاتو انہوں نے خوش نما بنا دیئے
- لَهُمْان کے لیے
- مَّاجو کچھ
- بَیْنَسامنے
- اَیْدِیْهِمْان کے سامنے تھے
- وَمَااور جو کچھ
- خَلْفَهُمْان کے پیچھے تھے
- وَحَقَّاور حق ہوگئی
- عَلَیْهِمُان پر
- الْقَوْلُبات
- فِیْۤمیں
- اُمَمٍگروہوں (میں)
- قَدْتحقیق
- خَلَتْگزر چکے
- مِنْسے
- قَبْلِهِمْان سے پہلے
- مِّنَسے
- الْجِنِّجنوں میں (سے)
- وَالْاِنْسِ ۚاور انسانوں میں سے
- اِنَّهُمْبیشک وہ
- كَانُوْاتھے وہ
- خٰسِرِیْنَخسارہ پانے والے
Surah 41 · word by word
Surah 41, ayah 25
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
ہم نے ان پر ایسے ساتھی مسلّط کر دیے تھے جو انہیں آگے اور پیچھے ہر چیز خوشنما کر دکھاتے تھے،1 آخر کا ر اُن پر بھی وہی فیصلہٴ عذاب چسپاں ہو کر رہا جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جِنّوں اور انسانوں کے گروہوں پر چسپاں ہو چکا تھا، یقیناًوہ خسارے میں رہ جانے والے تھے
Footnotes (the author's commentary)
-
یہ اللہ تعالیٰ کی مستقل اور دائمی سنت ہے کہ وہ بُری نیت اور بُری خواہشات رکھنے والے انسانوں کو کبھی اچھے ساتھی نہیں دلواتا، بلکہ انہیں ان کے اپنی رجحانات کے مطابق بُرے ساتھی ہی دلواتا ہے۔ پھر جتنے جتنے وہ بدی کی پستیوں میں گہرے اترتے جاتے ہیں اتنے ہی بدتر سے بدتر آدمی اور شیاطین ان کے ہم نشین اور مشیر اور رفیق کار بنتے چلے جاتے ہیں ۔بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ فلان صاحب بذات خود تو بہت اچھے ہیں ، مگر انہیں ساتھی بُرے مِل گئے ہیں ، حقیقت کے بالکل خلاف ہے۔ قانون فطرت یہ ہے کہ ہر شخص کو ویسے ہی دوست ملتے ہیں جیسا وہ خود ہوتا ہے۔ ایک بیک آدمی کے ساتھ اگر بُرے لوگ لگ بھی جائیں تو وہ اس کے ساتھ زیادہ دیر تک لگے نہیں رہ سکتے۔ اور اسی طرح ایک بد نیت اور بد کردار آدمی کے ساتھ نیک اور شریف انسانوں کی رفاقت اتفاقاً واقع ہو بھی جائے تو وہ زیادہ دیر تک نہیں نبھ سکتی۔ بد آدمی فطرۃً بدو ہی کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور بد ہی اس کی طرف کھنچتے ہیں ، جس طرح غلاظت مکھیوں کو کھینچتی ہے اور مکھیاں غلاظت کی طرف کھنچتی ہیں ۔اور یہ جو ارشاد فرمایا کہ وہ آگے اور پیچھے ہر چیز ان کو خوشنما بنا کر دکھاتے تھے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کو یقین دلاتے تھے کہ آپ کا ماضی بھی بڑا شاندار تھا اور مستقبل بھی نہایت درخشاں ہے وہ ایسی عینک ان کی آنکھوں پر چڑھاتے تھے کہ ہر طرف ان کو ہرا ہی ہرا نظر آتا تھا۔ وہ ان سے کہتے تھے کہ آپ پر تنقید کرنے والے احمق ہیں ، آپ کوئی نرالا کام تھوڑی کر رہے ہیں ، دنیا میں ترقی کرنے والے وہی کچھ کرتے رہے ہیں جو آپ کر رہے ہیں اور آگے اول تو کوئی آخرت ہے ہی نہیں جس میں آپ کو اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی پڑے، لیکن اگر وہ پیش آ ہی گئی، جیسا کہ چند نادان دعویٰ کرتے ہیں ، تو جو خدا آپ کو یہاں نعمتوں سے نواز رہا ہے وہ وہاں بھی آپ پر انعام و اکرام کی بارش کرے گا، دوزخ آپ کے لیے نہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے بنی ہے جنہیں یہاں خدا نے اپنی نعمتوں سے محروم کر رکھا ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اور ہم نے ان کے لیے ایسے ساتھی مقرر کردیے جنہوں نے ان کو مزین ّکر کے دکھلائی ہر وہ چیز جو ان کے سامنے تھی اور جوان کے پیچھے تھی یقینا وہ خسارہ پانے والے لوگ تھے
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 479
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 25 { وَقَیَّضْنَا لَہُمْ قُرَنَآئَ فَزَیَّنُوْا لَہُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ } ”اور ہم نے ان کے لیے ایسے ساتھی مقرر کردیے جنہوں نے ان کو مزین ّکر کے دکھلائی ہر وہ چیز جو ان کے سامنے تھی اور جوان کے پیچھے تھی“ جیسے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ فرشتے مقرر کر رکھے ہیں ایسے ہی ہر انسان کے ساتھ شیاطین ِجن بھی لگا دیے گئے ہیں۔ انسانوں کے ساتھ فرشتوں کی موجودگی کا ذکر قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ سورة الانعام کی آیت 61 میں { وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً } کے الفاظ میں یہ اشارہ موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعے سے انسانوں کی حفاظت کا انتظام فرماتا ہے۔ اسی طرح ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے کراماً کاتبین اس کے اعمال کا ریکارڈ رکھنے کے لیے بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ ان فرشتوں کا ذکر سورة الانفطار میں اس طرح آیا ہے : { وَاِنَّ عَلَیْکُمْ لَحٰفِظِیْنَ۔ کِرَامًا کَاتِبِیْنَ یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ } اسی طرح انسانوں کے ساتھ شیاطین ِجن بھی ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رض روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ”تم میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کے ساتھ ایک ساتھی جنات شیاطین میں سے اور ایک ساتھی ملائکہ میں سے مقرر نہ کردیا گیا ہو“۔ اس پر صحابہ کرام رض نے دریافت فرمایا : اے اللہ کے رسول ! آپ کے ساتھ بھی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وَاِیَّایَ ، لٰـکِنْ اَعَانَنِیَ اللّٰہُ عَلَیْہِ فَاَسْلَمَ 1 ”ہاں ! میرے ساتھ بھی ایک شیطان ہے مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر نصرت عطا فرمائی ہے اور میں نے اسے مسلمان کرلیا ہے“۔ یعنی میں نے اسے اپنا تابع بنا لیا ہے اور اب وہ مجھے کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔ بہر حال اس آیت میں غلط کار انسانوں کے ان شیطان ساتھیوں کا ذکر ہے جو دنیا میں ان کے غلط عقائد اور برے اعمال کو خوش نما بنا کر انہیں دکھاتے رہتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ گناہوں کی لذت اور دنیا کی رنگینیوں میں ہی گم ہو کر رہ جاتے ہیں۔ { وَحَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِج } ”اور ان پر سچ ثابت ہوئی اللہ کے عذاب کی بات ‘ اور وہ شامل ہوگئے ان امتوں میں جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں جنوں اور انسانوں کی۔“ ان پر بھی بالآخر وہی بات پوری ہو کر رہی جو جنوں اور انسانوں کے ان گروہوں پر پوری ہوئی تھی جو ان سے پہلے تھے۔ یعنی وہ اللہ کے عذاب کے مستحق قرار پائے۔ { اِنَّہُمْ کَانُوْا خٰسِرِیْنَ } ”یقینا وہ خسارہ پانے والے لوگ تھے۔“