Surah 40 · word by word

Surah 40, ayah 26

  1. وَقَالَاور کہا
  2. فِرْعَوْنُفرعون نے
  3. ذَرُوْنِیْۤچھوڑو مجھ کو
  4. اَقْتُلْمیں قتل کروں
  5. مُوْسٰیموسیٰ کو
  6. وَلْیَدْعُاور چاہیے کہ وہ پکارے
  7. رَبَّهٗ ۚاپنے رب کو
  8. اِنِّیْۤبیشک میں
  9. اَخَافُمیں ڈرتا ہوں
  10. اَنْکہ
  11. یُّبَدِّلَوہ بدل دے گا
  12. دِیْنَكُمْتمہارے دین کو۔ طریقے کو
  13. اَوْیا
  14. اَنْیہ کہ
  15. یُّظْهِرَوہ برپا کردے گا
  16. فِیمیں
  17. الْاَرْضِزمین (میں)
  18. الْفَسَادَفساد کو

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

1 ایک روز فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا”چھوڑو مجھے، میں اِس موسیٰؑ کو قتل کیے دیتا ہوں،2 اور پکار دیکھے یہ اپنے ربّ کو۔ مجھے اندیشہ ہے  کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا، یا ملک میں فساد برپا کرے گا۔“3

Footnotes (the author's commentary)

  1.  یہاں سے جس واقعہ کا بیان شروع ہو رہا ہے وہ تاریخ بنی اسرائیل کا ایک نہایت اہم واقعہ ہے جسے خود بنی اسرائیل بالکل فراموش کر گئے ہیں۔ بائیبل اور تَلْمود، دونوں اس کے ذکر سے خالی ہیں، اور دوسری اسرائیلی روایات میں بھی اس کا کوئی نام و نشان نہیں پایا جاتا۔ اس قصے کو جو شخص بھی پڑھے گا، بشرطیکہ وہ اسلام اور قرآن کے خلاف تعصب میں اندھا ہو چکا ہو، وہ یہ محسوس کیے بغیر نہ رہ سکے گا کہ دعوتِ حق کے بقطۂ نظر سے یہ قصہ بہت بڑی قدر و قیمت رکھتا ہے، اور بجاۓ خود یہ بات بعید از عقل و قیاس بھی نہیں ہے کہ حضرت موسیٰ کی شخصیت، ان کی تبلیغ، اور ان کے ہاتھوں ظہور پذیر ہونے والے حیرت انگیز معجزات سے متاثر ہوکر خود فرعون کے اعیان سلطنت میں سے کوئی شخص دل ہی دل میں ایمان لے آیا ہو اور فرعون کو ان کے قتل پر آمادہ دیکھ کر وہ ضبط نہ کر سکا ہو۔ لیکن مغربی مستشرقین، علم و تحقیق کے لمبے چوڑے دعوؤں کے باوجود، تعصب میں اندھے ہو کر جس طرح قرآن صداقتوں پر خاک ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے ہو  سکتا ہے کہ انسائیکلوپیڈیا  آف اسلام میں مضمون ’’موسیٰ‘‘ کا مصنف اس قصے کے متعلق لکھتا ہے :

    ’’قرآن کی یہ کہانی  کہ فرعون کے دربار میں ایک مومن موسیٰ کو بچانے کی کوشش کرتا ہے، پوری طرح واضح نہیں ہے (سورہ40 آیت 28)۔ کیا ہمیں اس کا تقابل اس قصّے سے کرنا چاہیے جو ہگّا دا میں بیان ہوا ہے اور جس کا مضمون یہ ہے کہ یتھر و نے فرعون کے دربار میں عفو سے کام لینے کا مشورہ دیا تھا ‘‘؟

    گویا ان مدعیان تحقیق کے ہاں یہ بات تو طے شدہ ہے کہ قرآن کی ہر بات میں ضرور کیڑے ہی  ڈالنے ہیں۔ اب اگر اس کے کسی بیان پر حرف زنی کی کوئی بنیاد نہیں ملتی تو کم از کم یہی شوشہ چھوڑ دیا جاۓ کہ یہ قصہ پوری طرح واضح نہیں ہے، اور چلتے چلتے یہ شک بھی پڑھنے والوں کے دل میں ڈال دیا جاۓ کہ ہَگّا دا  میں یتھروکا جو  قصہ حضرت موسیٰ کی پیدائش سے پہلے کا بیان ہوا ہے وہ کہیں سے محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) نے سن لیا ہو گا، اور اسے لا کر یہاں اس شکل میں بیان کر دیا ہو گا۔ یہ ہے ’’ علمی تحقیق‘‘ کا وہ انداز جو ان لوگوں نے اسلام اور قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے معاملے میں اختیار کر رکھا ہے۔

  2.  اس فقرے میں فرعون یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ گویا کچھ لوگوں نے اسے روک رکھا ہے جن کی وجہ سے وہ حضرت موسیٰ کو قتل نہیں کر رہا ہے، ورنہ اگر وہ مانع نہ ہوتے تو وہ کبھی کا انہیں ہلاک کر چکا ہوتا۔ حالانکہ دراصل باہر کی کوئی طاقت اسے روکنے والی نہ تھی، اس کے اپنے دل کا خوف ہی اس کو اللہ کے رسول پر ہاتھ ڈالنے سے روکے ہوۓ تھا۔

  3. یعنی، مجھے اس سے انقلاب کا خطرہ ہے، اور اگر یہ انقلاب برپا نہ بھی کرتے تو کم از کم یہ خطرہ تو ہے ہی کہ اس کی کاروائیوں سے ملک میں فساد رونما ہو گا،  لہٰذا بغیر اس کے کہ یہ کوئی مستلزم سزائے موت کرے، محض تحفظ امن عام (Maintenance  of Public order) کی خاطر اسے قتل کر دینا چاہیے۔ رہی یہ بات کہ اس شخص کی ذات سے فی الواقع  امن عام کو خطرہ ہے یا نہیں، تو اس کے لیے صرف ہز میجسٹی کا اطمینان کافی ہے۔ سرکارِ عالی اگر مطمئن ہیں کہ یہ خطرناک آدمی ہے  تو مان لیا جانا چاہیے کہ واقعی خطرناک اور گردن زدنی ہے۔

    اس مقام پر ’’ دین بدل ڈالنے ‘‘ کا مطلب بھی اچھی طرح سمجھ لیجیے جس کے اندیشے سے فرعون حضرت موسیٰ کو قتل کر دینا چاہتا تھا۔ یہاں دین سے مراد نظام حکومت ہے اور فرعون کے قول کا مطلب یہ ہے کہ  انی اخاف ان یغیر سلطانکم (روح المعانی، ج 24 ص 56)۔ بالفاظ دیگر، فرعون اور اس کے خاندان کے اقتدارِ اعلیٰ کی بنیاد پر مذہب و سیاست اور تمدّن و معیشت کا جو نظام مصر میں چل رہا تھا وہ ملک کا دین تھا، اور فرعون کو حضرت موسیٰ کی دعوت سے اسی دین کے بدل جانے کا خطرہ تھا۔ لیکن ہر زمانے کے مکار حکمرانوں کی طرح اس نے بھی یہ نہیں کہا کہ مجھے اپنے ہاتھ سے اقتدار نکل جانے کا خوف ہے اس لیے میں موسیٰ کو قتل کرنا چاہتا ہوں، بلکہ صورت معاملہ کو اس نے اس طرح پیش کیا کہ لوگو، خطرہ مجھے نہیں، تمہیں لاحق  ہے، کیونکہ موسیٰ کی تحریک اگر کامیاب ہو گئی تو تمہارا دین بدل جاۓ گا۔ مجھے اپنی فکر نہیں ہے۔ میان تو تمہاری فکر میں گھلا جا رہا ہوں کہ میرے سایہ اقتدار سے محروم ہو کر تمہارا کیا بنے گا۔ لہٰذا جس ظالم کے ہاتھوں یہ سایہ تمہارے سر سے اٹھ جانے کا اندیشہ ہے اسے قتل کر دینا چاہیے کیونکہ وہ ملک  اور قوم کا دشمن ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

اور فرعون نے کہا : مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ ؑ ٰ کو قتل کر دوں اور وہ (بچائو کے لیے) پکارلے اپنے رب کو۔ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یا زمین میں فساد برپا کر دے گا

Commentary

آیت 26 { وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْٓ اَقْتُلْ مُوْسٰی وَلْیَدْعُ رَبَّہٗ } ”اور فرعون نے کہا : مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ علیہ السلام ٰ کو قتل کر دوں اور وہ بچائو کے لیے پکارلے اپنے رب کو۔“ فرعون کے اس فقرے کے اندر بہت سی اَن کہی تفصیلات کی جھلک بھی نظر آرہی ہے۔ اَوّلاً اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک فرعون بھانپ چکا تھا کہ پانی سر سے گزرنے کو ہے اور یہ کہ اس مرحلے پر اگر موسیٰ علیہ السلام ٰ کو قتل کر کے راستے سے نہ ہٹایا گیا تو یہ طوفان اس کے اقتدار سمیت مصر کی ”عظیم الشان تہذیب“ اور ”مثالی روایات“ کو بھی بہا لے جائے گا۔ ثانیاً اس فقرے سے اس کی بےچارگی بھی عیاں ہو رہی ہے۔ وہ مطلق العنان بادشاہ تھا مگر اس کے باوجود اس نے اپنے وزراء اور امراء سے اس قرارداد کی منظوری کی درخواست کی۔ اس کی ضرورت اسے کیوں محسوس ہوئی ؟ در اصل وہ دیکھ رہا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ کی دعوت سے ہر طبقے کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ اس لیے اسے اندیشہ تھا کہ اگر اس تجویز پر تمام درباریوں کو اعتماد میں نہ لیا گیا تو رد عمل کے طور پر کہیں سے کوئی بغاوت بھی جنم لے سکتی ہے۔ { اِنِّیْٓ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَکُمْ اَوْ اَنْ یُّظْہِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ } ”مجھے اندیشہ ہے کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یا زمین میں فساد برپا کر دے گا۔“ ”دین“ سے مراد یہاں نظام حکومت ہے ‘ اور فرعون کو اب سب سے بڑا اندیشہ یہی تھا کہ مصر کا اقتدارِ اعلیٰ ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ فرعون کی مذکورہ قرارداد کی اطلاع حضرت موسیٰ علیہ السلام تک پہنچی تو آپ علیہ السلام نے خود کو اللہ کی پناہ میں دینے کے عزم کا اظہار کیا :

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 470

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution