Surah 4 · word by word

Surah 4, ayah 95

  1. لَانہیں
  2. یَسْتَوِیبرابر ہوسکتے
  3. الْقٰعِدُوْنَبیٹھنے والے
  4. مِنَمیں سے
  5. الْمُؤْمِنِیْنَمومنوں
  6. غَیْرُسوائے
  7. اُولِیNo meaning in the source
  8. الضَّرَرِمعذوروں کے
  9. وَالْمُجٰهِدُوْنَاور جہاد کرنے والے
  10. فِیْمیں
  11. سَبِیْلِراستے
  12. اللّٰهِاللہ کے
  13. بِاَمْوَالِهِمْساتھ اپنے مالوں کے
  14. وَاَنْفُسِهِمْ ؕاور اپنے نفسوں کے
  15. فَضَّلَفضیلت دی
  16. اللّٰهُاللہ نے
  17. الْمُجٰهِدِیْنَجہاد کرنے والوں کو
  18. بِاَمْوَالِهِمْساتھ اپنے مالوں کے
  19. وَاَنْفُسِهِمْاور اپنے نفسوں کے
  20. عَلَیپر
  21. الْقٰعِدِیْنَبیٹھنے والوں
  22. دَرَجَةً ؕدرجہ میں
  23. وَكُلًّااور ہر ایک سے
  24. وَّعَدَوعدہ کررکھا ہے
  25. اللّٰهُاللہ نے
  26. الْحُسْنٰی ؕبھلائی کا
  27. وَفَضَّلَاور فضیلت دی
  28. اللّٰهُاللہ نے
  29. الْمُجٰهِدِیْنَمجاہدوں کو
  30. عَلَیاوپر
  31. الْقٰعِدِیْنَبیٹھنے والوں کے
  32. اَجْرًااجر
  33. عَظِیْمًاعظیم کی

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو کسی معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان ومال سے جہاد کرتے ہیں، دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے۔ اللہ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان و مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے۔ اگرچہ ہر ایک کے لیے اللہ نے بھلائی ہی کا وعدہ فرمایا ہے، مگر اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سےبہت زیادہ ہے،1

Footnotes (the author's commentary)

  1. یہاں اُن بیٹھنے والوں کا ذکر نہیں ہے جن کو جہاد پر جانے کا حکم دیا جائے اور وہ بہانے کر کے بیٹھ رہیں، یا نفیرِ عام ہو اور جہاد فرضِ عین ہو جائے پھر بھی وہ جنگ پر جانے سے جی چرائیں۔ بلکہ یہاں ذکر اُن بیٹھنے والوں کا ہے جو جہاد کے فرضِ کفایہ ہونے کی صورت میں میدانِ جنگ کی طرف جانے کے بجائے دوسرے کاموں میں لگے رہیں ۔ پہلی دو صورتوں میں جہاد کے لیے نہ نکلنے والا صرف منافق ہی ہو سکتا ہے اور اس کے لیے اللہ کی طرف سے کسی بھلائی کا وعدہ نہیں ہے اِلّا یہ کہ وہ کسی حقیقی معذوری کا شکار ہو۔ بخلاف اس کے یہ آخری صورت ایسی ہے جس میں اسلام جماعت کی پوری فوجی طاقت مطلوب نہیں ہوتی بلکہ محض اس کا ایک حصہ مطلوب ہوتا ہے ۔ اس صورت میں اگر امام کی طرف سے اپیل کی جائے کہ کون سرباز ہیں جو فلاں مہم کے لیے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں، تو جو لوگ اس دعوت پر لبیک کہنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں وہ افضل ہیں بہ نسبت اُن کے جو دوسرے کاموں میں لگے رہیں ، خواہ وہ دوسرے کام بھی بجائے خود مفید ہی ہوں۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

برابر نہیں ہیں اہل ایمان میں سے بیٹھ رہنے والے بغیر عذر کے اور وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں جہاد (قتال) کے لیے نکلتے ہیں اپنی جانوں اور مالوں کے ساتھ اللہ نے فضیلت دی ہے ان مجاہدین کو جو اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کرنے والے ہیں بیٹھے رہنے والوں پر ایک بہت بڑے درجے کی (اگرچہ) سب کے لیے اللہ کی طرف سے اچھا وعدہ ہے لیکن فضیلت دی ہے اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو بیٹھے رہنے والوں پر ایک اجر عظیم کی (صورت میں)

Commentary (one passage for ayahs 4:95, 4:96)

آیت 95 لَایَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ ط فَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰہِدِیْنَ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَۃً ط دَرَجَۃً کی تنکیر تفخیم کے لیے ہے ‘ یعنی بہت بڑا درجہ۔ یہاں قتال فی سبیل اللہ کے لیے نکلنے کی بات ہو رہی ہے کہ جو کسی معقول عذر کے بغیر قتال کے لیے نہیں نکلتاوہ اس کے برابر ہرگز نہیں ہوسکتا جو قتال کر رہا ہے۔ اگر کوئی اندھا ہے ‘ دیکھنے سے معذور ہے یا کوئی لنگڑا ہے ‘ چل نہیں سکتا ‘ ایسے معذور قسم کے لوگ اگر قتال کے لیے نہ نکلیں تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن ایسے لوگ جن کو کوئی ایسا عذر نہیں ہے ‘ پھر بھی وہ بیٹھے رہیں ‘ یہاں انہی لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ درجے میں مجاہدین کے برابر ہرگز نہیں ہوسکتے۔ اور یہ بھی نوٹ کرلیجئے کہ یہ ایسے قتال کی بات ہو رہی ہے جس کی حیثیت اختیاری optional ہو ‘ لازمی قرار نہ دیا گیا ہو۔ جب اسلامی ریاست کی طرف سے قتال کے لیے نفیر عام ہوجائے تو معذورین کے سوا سب کے لیے نکلنا لازم ہوجاتا ہے۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ قتال کے لیے پہلی دفعہ نفیر عام غزوۂ تبوک سن 9 ہجری میں ہوئی تھی۔ اس سے پہلے قتال کے بارے میں صرف ترغیب persuasion تھی کہ نکلو اللہ کی راہ میں ‘ حکم نہیں تھا۔ لہٰذا کوئی جواب طلبی بھی نہیں تھی۔ کوئی چلا گیا ‘ کوئی نہیں گیا ‘ کوئی گرفت نہیں تھی۔ لیکن غزوہ ‘ تبوک کے لیے نفیر عام ہوئی تھی ‘ باقاعدہ ایک حکم تھا ‘ لہٰذا جو لوگ نہیں نکلے ان سے وضاحت طلب کی گئی ‘ ان کا مؤاخذہ کیا گیا اور ان کو سزائیں بھی دی گئیں۔ تو یہاں چونکہ اختیاری قتال کی بات ہو رہی ہے اس لیے یہ نہیں کہا جا رہا کہ ان کو پکڑو اور سزا دو ‘ بلکہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ قتال کرنے والے مجاہدین اللہ کی نظر میں بہت افضل ہیں۔ اس سے پہلے ایسے قتال کے لیے اسی سورة آیت 84 میں وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ کا حکم ہے ‘ یعنی مومنین کو قتال پر اکسائیے ‘ ترغیب دیجئے ‘ آمادہ کیجئے۔ لیکن یہاں واضح انداز میں بتایا جا رہا ہے کہ قتال کرنے والے اور نہ کرنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔ وَکُلاًّ وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی ط۔چونکہ ابھی قتال فرض نہیں تھا ‘ نفیر عام نہیں تھی ‘ سب کا نکلنا لازم نہیں کیا گیا تھا ‘ اس لیے فرمایا گیا کہ تمام مؤمنین کو ان کے اعمال کے مطابق اچھا اجر دیا جائے گا۔ قتال کے لیے نہ نکلنے والوں نے اگر اتنی ہمت نہیں کی اور وہ کمتر مقام پر قانع ہوگئے ہیں تو ٹھیک ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سلسلے میں ان پر کوئی گرفت نہیں ہوگی۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 93

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. 1 word in this ayah has no meaning in the source and is left empty. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution