- رُسُلًایہ رسول تھے
- مُّبَشِّرِیْنَخوشخبری دینے والے
- وَمُنْذِرِیْنَاور ڈرانے والے
- لِئَلَّاتاکہ نہ
- یَكُوْنَہو
- لِلنَّاسِلوگوں کے لیے
- عَلَیپر
- اللّٰهِاللہ
- حُجَّةٌکوئی حجت
- بَعْدَبعد
- الرُّسُلِ ؕرسولوں کے
- وَكَانَاور ہے
- اللّٰهُاللہ
- عَزِیْزًازبردست
- حَكِیْمًاحکمت والا
Surah 4 · word by word
Surah 4, ayah 165
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے1 تاکہ ان کو مبعوث کر دینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجّت نہ رہے2 اور اللہ بہر حال غالب رہنے والا اور حکیم و دانا ہے
Footnotes (the author's commentary)
-
یعنی ان سب کا ایک ہی کام تھا اور وہ یہ کہ جو لوگ خدا کی بھیجی ہوئی تعلیم پر ایمان لائیں اور اپنے رویّہ کو اس کے مطابق درست کر لیں انہیں فلاح و سعادت کی خوشخبری سُنا دیں، اور جو فکر و عمل کی غلط راہوں پر چلتے رہیں ان کو اِس غلط روی کے بُرے انجام سے آگاہ کر دیں۔
-
یعنی ان تمام پیغمبروں کے بھیجنے کی ایک ہی غرض تھی اور وہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نوعِ انسانی پر اتمامِ حجّت کرنا چاہتا تھا ، تاکہ آخری عدالت کے موقع پر کوئی گمراہ مجرم اُس کے سامنے یہ عذر پیش نہ کر سکے کہ ہم ناواقف تھے اور آپ نے ہمیں حقیقتِ حال سے آگاہ کرنے کا کوئی انتظام نہیں کیا تھا۔ اسی غرض کے لیے خدا نے دنیا کے مختلف گوشوں میں پیغمبر بھیجے اور کتابیں نازل کیں۔ ان پیغمبروں نے کثیر التعداد انسانوں تک حقیقت کا علم پہنچا دیا اور اپنے پیچھے کتابیں چھوڑ گئے جن میں سے کوئی نہ کوئی کتاب انسانوں کی رہنمائی کے لیے ہر زمانہ میں موجود رہی ہے۔ اب اگر کوئی شخص گمراہ ہوتا ہے تو اس کا الزام خدا پر اور اس کے پیغمبروں پر عائد نہیں ہوتا بلکہ یا تو خود اس شخص پر عائد ہوتا ہے کہ اس تک پیغام پہنچا اور اس نے قبول نہیں کیا، یا ان لوگوں پر عائد ہوتا ہے جن کو راہِ راست معلو م تھی اور انہوں نے خدا کے بندوں کو گمراہی میں مُبتلا دیکھا تو انہیں آگاہ نہ کیا۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
یہ رسول ؑ (بھیجے گئے) بشارت دینے والے اور خبردار کرنے والے بنا کرتا کہ نہ رہ جائے لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجتّ (دلیل) رسولوں کے آنے کے بعد اور اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 104
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary (one passage for ayahs 4:165, 4:166)
آیت 165 رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِءَلاَّ یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِ ط یہاں پر ایک طرف للِنَّاسِ کا ’ ل ‘ نوٹ کیجئے اور دوسری طرف عَلَی اللّٰہِ کا عَلٰی۔ یہ دونوں حروف متضاد معانی پیدا کر رہے ہیں۔ لِلنَّاسِ کے معنی ہیں لوگوں کے حق میں حجت ‘ جبکہ عَلَی اللّٰہِ کے معنی ہیں اللہ کے خلاف حجت۔وَکَان اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا۔ اب آپ آخرت کے احتساب کے فلسفے کو سمجھئے۔ قیامت کے دن ہر کسی کا امتحان ہوگا اور امتحان سے پھر نتائج نکلیں گے ‘ کوئی پاس ہوگا اور کوئی فیل۔ لیکن امتحان سے پہلے کچھ پڑھایا جانا بھی ضروری ہے ‘ کسی کو جانچنے سے پہلے اسے کچھ دیا بھی جاتا ہے۔ چناچہ ہمیں دیکھنا ہے کہ قیامت کے امتحان کے لیے ہمیں کیا پڑھایا گیا ہے ؟ اس آخری جانچ پڑتال سے پہلے ہمیں کیا کچھ دیا گیا ہے ؟ قرآن مجید کے بنیادی فلسفہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے انسان کو سمع ‘ بصر اور عقل تین بڑی چیزیں دی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر روح بھی و دیعت کی ہے اور نفس انسانی میں خیر اور شرکا علم بھی رکھا ہے۔ ان باتوں کی بنا پر انسان وحئ الٰہی کی راہنمائی کے بغیر بھی اللہ کے حضور جواب دہ accountable ہے کہ جب تمہاری فطرت میں نیکی اور بدی کی تمیز رکھ دی گئی تھی تو تم بدی کی طرف کیوں گئے ؟ تو گویا اگر کوئی نبی یا رسول نہ بھی آتا ‘ کوئی کتاب نازل نہ بھی ہوتی ‘ تب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے محاسبہ ناحق نہیں تھا۔ اس لیے کہ وہ بنیادی چیزیں جو امتحان اور احتساب کے لیے ضروری تھیں وہ اللہ تعالیٰ انسان کو دے چکا تھا۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ رہی ہے کہ وہ پھر بھی انسانوں پر اتمام حجت کرتا ہے۔ اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ حجت کیا ہے ؟ بنیادی حجت تو عقل ہے جو اللہ نے ہمیں دے رکھی ہے : اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓءِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْءُوْلاً بنی اسرائیل۔ انسانی نفس کے اندر نیکی اور بدی کی تمیز بھی ‘ ودیعت کردی گئی ہے : وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰٹہَا فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰٹہَا۔ الشمس پھر انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کی طرف سے روح پھونکی گئی ہے۔ ان تمام صلاحیتوں اور اہلیتوں کی بنا پر جوابدہی ‘ accountability کا جواز برحق ہے۔ کوئی نبی آتا یا نہ آتا ‘ اللہ کی یہ حجت تمام انسانوں پر بہر حال قائم ہے۔ اس کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ نے اتمام حجت کرنے کے لیے اپنے نبی اور رسول بھیجے۔ یہ اضافی شے ہے کہ اللہ نے تم ہی میں سے کچھ لوگوں کو چنا ‘ جو بڑے ہی اعلیٰ کردار کے لوگ تھے۔ تم جانتے تھے کہ یہ ہمارے ہاں کے بہترین لوگ ہیں ‘ ان کے دامن کردار پر کوئی داغ دھبہ نہیں ہے ‘ ان کی سیرت و اخلاق کھلی کتاب کی مانند تمہارے سامنے تھے۔ ان کے پاس اللہ نے اپنی وحی بھیجی اور واضح طور پر بتادیا کہ انسان کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ اس طرح اس نے تمہارے لیے اس امتحان کو آسان کردیا ‘ تاکہ اب کسی کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہ جائے ‘ کوئی یہ دلیل پیش نہ کرسکے کہ مجھے تو علم ہی نہیں تھا۔ پروردگار ! میں تو بےدین ماحول میں پیدا ہوگیا تھا ‘ وہاں سب کے سب اسی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ پروردگار ! میں تو اپنی دو وقت کی روٹی کے دھندے میں ہی ایسا مصروف رہا کہ مجھے کبھی ہوش ہی نہیں آیا کہ دین و ایمان اور اللہ و آخرت کے بارے میں سوچتا۔ لیکن جب رسول علیہ السلام آجاتے ہیں اور رسولوں کے آنے کے بعد حق کھل کر سامنے آجاتا ہے ‘ حق و باطل کے درمیان امتیاز بالکل واضح طور پر قائم ہوجاتا ہے تو پھر کوئی عذر باقی نہیں رہتا۔ لوگوں کے پاس اللہ کے سامنے محاسبہ کے مقابلے میں پیش کرنے کے لیے کوئی حجت باقی نہیں رہتی۔ تو یہ ہے اتمام حجت کا فلسفہ اور طریقہ اللہ کی طرف سے۔ رسول علیہ السلام اس کے علاوہ اور کیا کرسکتے ہیں ؟ کسی کو زبردستی تو ہدایت پر نہیں لاسکتے۔ ہاں جن کے اندر احساس جاگ جائے گا وہ رسول علیہ السلام کی تعلیمات کی طرف متوجہ ہوں گے ‘ ان سے فائدہ اٹھائیں گے ‘ سیدھے راستے پر چلیں گے۔ ان کے لیے اللہ کے رسول مبشرہوں گے ‘ اللہ کے فضل اور جنت کی نعمتوں کی بشارت دینے والے : فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌلا وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ الواقعہ ۔ 1 ور جو لوگ اس کے بعد بھی غلط راستوں پر چلتے رہیں گے ‘ تعصبّ میں ‘ ِ ضد اور ہٹ دھرمی میں ‘ مفادات کے لالچ میں ‘ اپنی چودھراہٹیں قائم رکھنے کے لالچ میں ‘ ان کے لیے رسول علیہ السلام نذیر ہوں گے۔ ان کو خبر دار کریں گے کہ اب تمہارے لیے بد ترین انجام کے طور پر جہنم تیار ہے۔ تو رسولوں علیہ السلام کی بعثت کا بنیادی مقصد یہی ہے ‘ یعنی تبشیر اور انذار۔اس ساری وضاحت کے بعد اب دوبارہ آیت کے الفاظ کو سامنے رکھیے : رُُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ رسول بھیجے گئے بشارت دینے والے اور خبردار کرنے والے بنا کر یہ تبشیر اور انذار کس لیے ؟ لِءَلاَّ یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِ ط تاکہ باقی نہ رہ جائے لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت ‘ کوئی عذر ‘ کوئی بہانہ ‘ رسولوں کے آنے کے بعد۔ وَکَان اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا۔ اور اللہ زبردست ہے ‘ حکیم ہے۔ وہ عزیز ہے ‘ غالب ہے ‘ زبردست ہے ‘ بغیر رسولوں کے بھی محاسبہ کرسکتا ہے ‘ اس کا اختیار مطلق ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ حکیم بھی ہے ‘ اس نے محاسبۂ اخروی کے لیے یہ مبنی بر حکمت نظام بنایا ہے۔ اس ضمن میں ایک بات اور نوٹ کرلیجئے کہ رسالت کا ایک تکمیلی مقصد بھی ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ پر کامل ہوا ‘ اور وہ ہے روئے ارضی پر اللہ کے دین کو غالب کرنا۔ آپ ﷺ نے دعوت کا آغاز اسی تبشیر اور انذار ہی سے فرمایا ‘ جیسا کہ سورة الاحزاب میں ارشاد ہے : یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا بحیثیت رسول ﷺ یہ آپ ﷺ کی رسالت کے بنیادی مقصد کا اظہار ہے ‘ لیکن اس سے بلند تر درجے میں آپ ﷺ کی رسالت کی تکمیلی حیثیت کا اظہار سورة التوبہ آیت 33 ‘ سورة الفتح آیت 28 اور سورة الصف آیت 9 میں ایک جیسے الفاظ میں ہوا ہے : ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وہی ہے اللہ جس نے بھیجا اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو الہدیٰ قرآن حکیم اور دین حق دے کر تاکہ وہ اسے غالب کر دے پورے دین پر۔ تمام انبیاء و رسل علیہ السلام میں یہ آپ ﷺ کی امتیازی شان ہے۔ میری کتاب نبی اکرم ﷺ کا مقصد بعثت میں اس موضوع پر تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔