- مَاکیا
- یَفْعَلُکرے گا
- اللّٰهُاللہ
- بِعَذَابِكُمْساتھ تمہارے عذاب کے۔ تمہیں عذاب دے کر
- اِنْاگر
- شَكَرْتُمْشکر ادا کیا تم نے
- وَاٰمَنْتُمْ ؕاور ایمان لائے تم
- وَكَانَاور ہے
- اللّٰهُاللہ
- شَاكِرًاقدر دان
- عَلِیْمًاعلم والا۔ جاننے والا
Surah 4 · word by word
Surah 4, ayah 147
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں خواہ مخواہ سزا دے اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو1 اور ایمان کی روش پر چلو۔ اللہ بڑا قدر دان ہے2 اور سب کے حال سے واقف ہے
Footnotes (the author's commentary)
-
شکر کے اصل معنی اعترافِ نعمت یا احسان مندی کے ہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم اللہ کے ساتھ احسان فراموشی اور نمک حرامی کا رویّہ اختیار نہ کرو، بلکہ صحیح طور پر اس کے احسان مند بن کر رہو، تو کوئی وجہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ خواہ مخواہ تمہیں سزا دے۔ ایک محسن کے مقابلہ میں صحیح احسان مندانہ رویّہ یہی ہو سکتا ہے کہ آدمی دل سے اس کے احسان کا اعتراف کرے، زبان سے اس کا اقرار کرے اور عمل سے احسان مندی کا ثبوت دے۔ انہی تین چیزوں کے مجموعہ کا نام شکر ہے۔ اور اس شکر کا اقتضاء یہ ہے کہ اوّلاً آدمی احسان کو اُسی کی طرف منسُوب کرے جس نے دراصل احسان کیا ہے ، کسی دُوسرے کے احسان کے شکریہ اور نعمت کے اعتراف میں اس کا حصہ دار نہ بنائے۔ ثانیاً آدمی کا دل اپنے محسن کے لیے محبت اور وفاداری کے جذبہ سے لبریز ہو اور اُس کے مخالفوں سے محبت و اخلاص اور وفاداری کا ذرہ برابر تعلق بھی نہ رکھے۔ ثالثًا وہ اپنے محسن کا مطیع و فرمانبردار ہو او ر اس کی دی ہوئی نعمتوں کی اس کے منشاء کے خلاف استعمال نہ کرے۔
-
اصل میں لفظ” شاکر“ استعمال ہوا ہے جس کا ترجمہ ہم نے ”قدر دان“ کیا ہے۔ شکر جب اللہ کی طرف سے بندے کی جانب ہو تو اس کے معنی”اعترافِ خدمت“ یا قدر دانی کے ہوں گے، اور جب بندے کی طرف سے اللہ کی جانب ہو تو اس کو اعترافِ نعمت یا احسان مندی کے معنی میں لیا جائے گا۔ اللہ کی طرف سے بندوں کا شکریہ ادا کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ناقدر شناس نہیں ہے ، جتنی اور جیسی خدمات بھی بندے اس کی راہ میں بجا لائیں ، اللہ کے ہاں ان کی قدر کی جاتی ہے، کسی کی خدمات صِلہ و انعام سے محرُوم نہیں رہتیں ، بلکہ وہ نہایت فیاضی کے ساتھ ہر شخص کو اس کی خدمت سے زیادہ صلہ دیتا ہے۔ بندوں کا حال تو یہ ہے کہ جو کچھ آدمی نے کیا اس کی قدر کم کرتے ہیں اور جو کچھ نہ کیا اس پر گرفت کرنے میں بڑی سختی دکھاتے ہیں ۔ لیکن اللہ کا حال یہ ہے کہ جو کچھ آدمی نے نہیں کیا ہے اس پر محاسبہ کرنے میں وہ بہت نرمی اور چشم پوشی سے کام لیتا ہے، اور جو کچھ کیا ہے اس کی قدر اس کے مرتبے سے بڑھ کر کرتا ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
(اے منافقو ذراسوچو !) اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا ؟ اگر تم شکر اور ایمان کی روش اختیار کرو اور اللہ بہت ہی قدر دانی فرمانے والا اور ہر شے کا علم رکھنے والا ہے
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 101
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 147 مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ اللہ تعالیٰ معاذ اللہ کوئی ایذا پسند sadist ہستی نہیں ہے کہ اسے لوگوں کو دکھ پہنچا کر خوشی ہوتی ہو۔ اس طرح کے رویے تو perverted قسم کے انسانوں کے ہوتے ہیں ‘ جن کی شخصیتیں مسخ ہوچکی ہوتی ہیں ‘ جو دوسروں کو تکلیف میں دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں ‘ دوسروں کو تکلیف اور کو فت پہنچا کر انہیں راحت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اللہ تو ایسا نہیں ہے۔ اس لیے فرمایا کہ اللہ تمہیں عذاب دے کر تم سے کیا لے گا ؟اِنْ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ط وَکَان اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیْمًا جو بندہ اس کے لیے کام کرے ‘ محنت کرے ‘ اللہ تعالیٰ اس کی قدر فرماتا ہے۔ اور جو کوئی جو کچھ بھی کرتا ہے سب اس کے علم میں ہوتا ہے۔ انسان کا کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو اللہ کے ہاں unaccounted رہ جائے ‘ اور اسے اس کا اجر نہ مل سکے۔اب اس سورة کے آخری حصے میں فلسفۂ دین کے بہت اہم بنیادی نکات کی کچھ تفصیل آئے گی۔ اس ضمن میں پہلی بات تو تمدنی اور معاشرتی معاملات ہی سے متعلق ہے۔ معاشرے کے اندر کسی بری بات کا چرچا کرنا بالفعل کوئی اچھی بات نہیں ہے ‘ لیکن اس میں ایک استثناء رکھا گیا ہے ‘ اور وہ ہے مظلوم کا معاملہ۔ اگر مظلوم کی زبان سے ظلم کے ردِّ عمل کے طور پر کچھ نازیبا کلمات ‘ جلے کٹے الفاظ بھی نکل جائیں تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف کردے گا۔