- وَلَنْاور ہرگز نہیں
- تَسْتَطِیْعُوْۤاتم استطاعت رکھ سکتے
- اَنْیہ کہ
- تَعْدِلُوْاتم عدل کرو
- بَیْنَدرمیان
- النِّسَآءِعورتوں کے
- وَلَوْاور اگر
- حَرَصْتُمْتم حرص کرو
- فَلَاتو نہ
- تَمِیْلُوْاتم مائل ہوجاؤ
- كُلَّپوری طرح
- الْمَیْلِمائل ہوجانا
- فَتَذَرُوْهَاکہ تم چھوڑ دو اس کو
- كَالْمُعَلَّقَةِ ؕمعلق کی طرح ۔ مانند لٹکتی ہوئی
- وَاِنْاور اگر
- تُصْلِحُوْاتم اصلاح کرو
- وَتَتَّقُوْااور تم تقوی کرو
- فَاِنَّتو بیشک
- اللّٰهَاللہ تعالی
- كَانَہے
- غَفُوْرًابخشنے والا
- رَّحِیْمًامہربان
Surah 4 · word by word
Surah 4, ayah 129
Translation and commentary
Bayan-ul-Quran
اور تمہارے لیے ممکن ہی نہیں کہ تم عورتوں کے درمیان پورا پورا انصاف کرسکو چاہے تم اس کے لیے کتنے ہی حریص ہو تو ایسا نہ ہو کہ تم ایک ہی کی طرف پورے کے پورے جھک جاؤ کہ دوسری بیوی کو معلّق کر کے چھوڑ دو اور اگر تم اصلاح کرلو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو اللہ تعالیٰ بھی غفور اور رحیم ہے
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 99
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 129 وَلَنْ تَسْتَطِیْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ سورۃ کے آغاز آیت 3 میں فرمایا گیا تھا : فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً یعنی اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم اپنی بیویوں میں اگر ایک سے زائد ہیں عدل نہیں کرسکو گے تو پھر ایک پر ہی اکتفا کرو ‘ دوسری شادی مت کرو۔ اگر تمہیں کلی طور پر اطمینان ہے ‘ اپنے اوپر اعتماد ہے کہ تم عدل کرسکتے ہو تب دوسری شادی کرو ‘ ورنہ نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ چیزیں تو گنتی اور ناپ تول کی ہوتی ہیں ‘ ان میں تو عدل کرنا ممکن ہے ‘ لیکن جو قلبی میلان ہے یہ تو انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے اپنی تمام ازواج کے لیے ہرچیز گِن گِن کر طے کی ہوئی تھی۔ شب بسری کے لیے سب کی باریاں مقرر تھیں۔ دن میں بھی آپ ﷺ ہر گھر میں چکر لگاتے تھے۔ عصر اور مغرب کے درمیان تھوڑی تھوڑی دیر ہر زوجہ محترمہ کے پاس ٹھہرتے تھے۔ اگر کہیں زیادہ دیر ہوجاتی تو گویا کھلبلی مچ جاتی تھی کہ آج وہاں زیادہ دیرکیوں ٹھہر گئے ؟ یہ چیزیں انسانی معاشرے میں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کا آپس کا معاملہ بہت اچھا تھا ‘ لیکن سوکناپے کے اثرات کچھ نہ کچھ تو ہوتے ہیں ‘ یہ عورت کی فطرت ہے ‘ جو اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ تو اس لیے فرمایا کہ مکمل انصاف کرنا تمہارے بس میں نہیں۔ اس سے مراد دراصل قلبی میلان ہے۔ ایک حدیث میں بھی اس کی وضاحت ملتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ میں نے ظاہری چیزوں میں پورا پورا عدل کیا ہے ‘ باقی جہاں تک میرے دل کے میلان کا تعلق ہے تو مجھے امید ہے کہ اس بارے میں تو مجھ سے مواخذہ نہیں کرے گا۔ اسی لیے یہاں فرمایا گیا کہ تم چاہو بھی تو عدل نہیں کرسکتے۔فَلاَ تَمِیْلُوْا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْہَا کَالْمُعَلَّقَۃِ ط۔دوسری بیوی اس طرح معلّق ہو کر نہ رہ جائے کہ اب وہ نہ شوہر والی ہے اور نہ آزاد ہے۔ اس سے خاوند کا گویا کوئی تعلق ہی نہیں رہا۔وَاِنْ تُصْلِحُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا اب اگلی آیت میں طلاق کے معاملے میں ایک اہم نکتہ بیان ہو رہا ہے۔ طلاق یقیناً ایک نہایت سنجیدہ مسئلہ ہے ‘ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی الطَّلَاقُ 1 حلال چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ‘ ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اس کو بسا اوقات کفر تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ لڑائیاں ہو رہی ہیں ‘ مقدمات چل رہے ہیں ‘ مزاجوں میں موافقت نہیں ہے ‘ ایک دوسرے کو کوس رہے ہیں ‘ دن رات کا جھگڑا ہے ‘ لیکن طلاق نہیں دینی۔ یہ طرز عمل نہایت احمقانہ ہے اور شریعت کی منشاء کے بالکل خلاف بھی۔ اس آیت میں آپ دیکھیں گے کہ ایک طرح سے طلاق کی ترغیب دی گئی ہے۔