- وَیَسْتَفْتُوْنَكَاور وہ فتوی مانگتے ہیں آپ سے
- فِیمیں
- النِّسَآءِ ؕعورتوں کے معاملے
- قُلِکہہ دیجیے کہ
- اللّٰهُاللہ
- یُفْتِیْكُمْفتوی دیتا ہے تم کو
- فِیْهِنَّ ۙان عورتوں کے معاملے (میں)
- وَمَااور جو
- یُتْلٰیپڑ ھا جاتا ہے
- عَلَیْكُمْتم پر
- فِیمیں سے
- الْكِتٰبِکتاب
- فِیْکے بارے میں
- یَتٰمَییتیم
- النِّسَآءِلڑکیوں
- الّٰتِیْوہ جو
- لَانہیں
- تُؤْتُوْنَهُنَّتم دیتے ان کو
- مَاجو
- كُتِبَلکھا گیا۔ مقرر کیا گیا
- لَهُنَّان کے لیے
- وَتَرْغَبُوْنَاور تم رغبت رکھتے ہو
- اَنْکہ
- تَنْكِحُوْهُنَّتم نکاح کرلو ان سے
- وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَاور کمزور سمجھ جانے والے
- مِنَمیں سے
- الْوِلْدَانِ ۙبچوں اور جو بھی
- وَاَنْاور یہ کہ
- تَقُوْمُوْاتم قائم رہو
- لِلْیَتٰمٰییتیموں کے لیے
- بِالْقِسْطِ ؕانصاف پر
- وَمَااور جو بھی
- تَفْعَلُوْاتم کرو گے
- مِنْمیں سے
- خَیْرٍنیکی
- فَاِنَّتو بیشک
- اللّٰهَاللہ
- كَانَہے
- بِهٖاس کو
- عَلِیْمًاجاننے والا
Surah 4 · word by word
Surah 4, ayah 127
Translation and commentary
Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ یہ لوگ آپ ﷺ سے عورتوں کے معاملہ میں فتویٰ پوچھتے ہیں کہہ دیجیے کہ اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے (وضاحت کرتا ہے) ان کے بارے میں اور جو تمہیں (پہلے سے) سنایا جا رہا ہے کتاب میں یتیم لڑکیوں کے بارے میں مگر ایسی بےسہارا یتیم لڑکیوں سے نکاح نہ کرو کیونکہ : جن کو تم دیتے نہیں ہو جو اللہ نے ان کے لیے لکھ دیا ہے اور چاہتے ہو کہ ان سے نکاح بھی کرو اور (اسی طرح) وہ بچے جو کمزور ہیں (جن پر ظلم ہوتا ہے) اور یہ (ہم نے تمہیں اتنے تفصیلی احکام دیے ہیں) کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف پر کاربند رہو۔ اور جو بھلائی بھی تم کرو گے اللہ اس سے واقف ہے
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 98
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
اب جو آیات آرہی ہیں ان میں خطاب مسلمانوں ہی سے ہے لیکن ان کی حیثیت استدراک کی ہے اور ان کا تعلق اس سورة کی ابتدائی آیات کے ساتھ ہے۔ سورة النساء کے آغاز میں خواتین کے مسائل کے بارے میں کچھ احکام نازل ہوئے تھے ‘ جن میں یتیم بچیوں سے نکاح کے بارے میں بھی معاملات زیر بحث آئے تھے اور کچھ طلاق وغیرہ کے مسائل تھے۔ اس میں کچھ نکات لوگوں کے لیے وضاحت طلب تھے ‘ لہٰذا ایسے نکات کے بارے میں مسلمانوں کی طرف سے کچھ سوالات کیے گئے اور حضور ﷺ سے کچھ وضاحتیں طلب کی گئیں۔ جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحتیں نازل کی ہیں اور اس سوال کا حوالہ دے کر بات شروع کی گئی ہے جس کا جواب دیا جانا مقصود ہے۔آیت 127 وَیَسْتَفْتُوْنَکَ فِی النِّسَآءِ ط قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِیْہِنَّلا وَمَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ فِی الْْکِتٰبِ فِیْ یَتٰمَی النِّسَآءِ یہ اسی سورة کی آیت 3 کی طرف اشارہ ہے۔ آیت زیر نظر کے ساتھ مل کر اس آیت کی تشریح بھی بالکل واضح ہوگئی اور ثابت ہوگیا کہ وہاں جو فرمایا گیا تھا وَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تُقْسِطُوْا فِی الْْیَتٰمٰی تو اس سے اصل مراد یَتٰمَی النِّسَآءِتھا۔ یعنی اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں سے شادی کرو گے تو ان کے ساتھ انصاف نہیں کرسکو گے اس لیے کہ ان کی طرف سے کوئی نہیں جو ان کے حقوق کا پاسدار ہو اور تم سے باز پرس کرسکے تو پھر ان سے شادی مت کرو ‘ بلکہ دوسری عورتوں سے شادی کرلو۔ اگر ایک سے زائد نکاح کرنا چاہتے ہو تو اپنی پسند کی دوسری عورتوں سے ‘ دو دو ‘ تین تین یا چار چار سے کرلو فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ج الّٰتِیْ لاَ تُؤْتُوْنَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْہُنَّ یتیم سمجھ کر مہر ادا کیے بغیر ان سے نکاح کرنے کے خواہش مند رہتے ہو۔وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ لا وَاَنْ تَقُوْمُوْا لِلْیَتٰمٰی بالْقِسْطِ ط وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِہٖ عَلِیْمًا وہ تمہاری نیتوں کو جانتا ہے۔ اس نے شریعت کے احکام نازل کردیے ہیں ‘ بنیادی ہدایات تمہیں دے دی گئی ہیں۔ اب اضافی چیز تو بس یہی ہے کہ تمہاری نیّت صاف ہونی چاہیے۔ کیونکہ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ط البقرۃ : 220 اللہ جانتا ہے کہ کون حقیقت میں شرارتی ہے اور کس کی نیت صحیح ہے۔