- وَاَشْرَقَتِاور چمک اٹھے گی
- الْاَرْضُزمین
- بِنُوْرِنور سے
- رَبِّهَااپنے رب کے
- وَوُضِعَاور رکھ دی جائے گی
- الْكِتٰبُکتاب
- وَجِایْٓءَاور لائے جائیں گے
- بِالنَّبِیّٖنَانبیاء
- وَالشُّهَدَآءِاور گواہ
- وَقُضِیَاور فیصلہ کردیا جائے گا
- بَیْنَهُمْان کے درمیان
- بِالْحَقِّحق کے ساتھ
- وَهُمْاور وہ
- لَانہ
- یُظْلَمُوْنَظلم کیے جائیں گے
Surah 39 · word by word
Surah 39, ayah 69
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
زمین اپنے ربّ کے نُور سے چمک اُٹھے گی ، کتابِ اعمال لا کر رکھ دی جائے گی ، انبیاء اور تمام گواہ1 حاضر کر دیے جائیں گے ، لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اُن پر کوئی ظلم نہ ہوگا
Footnotes (the author's commentary)
-
گواہوں سے مراد وہ گواہ بھی ہیں جو اس بات کی شہادت دیں گے کہ لوگوں تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا گیا تھا، اور وہ گواہ بھی جو لوگوں کے اعمال کی شہادت پیش کریں گے۔ ضروری نہیں ہے کہ یہ گواہ صرف انسان ہی ہوں۔ فرشتے اور جِن اور حیوانات، اور انسانوں کے اپنے اعضاء اور در و دیوار اور شجر و حجر، سب ان گواہوں میں شامل ہوں گے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اور زمین جگمگا اٹھے گی اپنے رب کے نور سے اور اعمال نامہ لا کر رکھ دیا جائے گا اور لائے جائیں گے انبیاء اور شہید اور ان کے مابین فیصلہ کردیا جائے گا حق کے ساتھ اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 466
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 69 { وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّہَا } ”اور زمین جگمگا اٹھے گی اپنے رب کے نور سے“ اس وقت کی کیفیت کو سورة الفرقان میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : { وَیَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآئُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰٓئِکَۃُ تَنْزِیْلًا } ”اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا بادلوں کی مانند اور فرشتے نازل کیے جائیں گے لگاتار“۔ پھر اللہ تعالیٰ زمین پر نزول فرمائیں گے اور فرشتے صفیں باندھے نیچے اتریں گے : { وَّجَآئَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا } الفجر۔ { وَوُضِعَ الْکِتٰبُ } ”اور اعمال نامہ لا کر رکھ دیا جائے گا“ لوگوں کے اعمال نامے کا سر محشر لا کر رکھے جانے کی صورت حال کا نقشہ سورة الکہف کی آیت 49 میں یوں کھینچا گیا ہے : { وَوُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّلَا کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰٹہَا } ”اور رکھ دیا جائے گا اعمال نامہ ‘ چناچہ تم دیکھو گے مجرموں کو کہ وہ لرزاں و ترساں ہوں گے اس سے جو کچھ اس میں ہوگا اور کہیں گے : ہائے ہماری شامت ! یہ کیسا اعمال نامہ ہے کہ اس نے نہ تو کسی چھوٹی چیز کو چھوڑا ہے اور نہ کسی بڑی کو ‘ مگر اس کو محفوظ کر کے رکھا ہے“۔ اس کے بعد کی کیفیت کا نقشہ آگے دکھایا جا رہا ہے : { وَجِایْٓئَ بِالنَّبِیّٖنَ وَالشُّہَدَآئِ } ”اور لائے جائیں گے انبیاء اور شہید“ یہاں ”شہید“ سے مراد اوّلاً تو رسول ہیں کہ وہ اپنی اپنی امتوں پر سب سے پہلے گواہی دیں گے۔ سورة الحج کی آخری آیت میں حضور ﷺ کی اپنی امت پر گواہی کے بارے میں فرمایا گیا : { لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَہِیْدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ } ”تاکہ پیغمبر تم پر گواہ ہوں اور تم لوگوں پر گواہ ہو“۔ لیکن یہاں انبیاء کے ذکر کے بعد شہید کا لفظ خصوصی طور پر اس لیے لایا گیا ہے کہ وہاں ان لوگوں کو بھی گواہ کے طور پر بلایا جائے گا جو انبیاء و رسل علیہ السلام کی طرف سے تبلیغ کرتے رہے ہوں گے۔ جیسے عشرہ مبشرہ میں سے چھ چوٹی کے صحابہ وہ ہیں جو حضرت ابوبکرصدیق رض کی تبلیغ کے نتیجے میں ایمان لائے۔ اسی طرح حضور ﷺ نے بہت سے علاقوں اور قبیلوں کی خواہش پر اپنے بعض صحابہ رض کو قرآن اور دین کی تعلیم کے لیے بھیجا۔ ایسے مبلغ اور معلم ّصحابہ رض زیادہ تر اصحابِ ُ صفہّ رض میں سے تھے۔ ان صحابہ رض نے حضور ﷺ کی طرف سے جن لوگوں کو دعوت دی تھی ‘ قیامت کے دن ان پر وہ گواہی دیں گے کہ اے اللہ ! تیرے نبی ﷺ نے تیرے دین کا جو پیغام ہم تک پہنچایا تھا ہم نے وہ ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔ پھر حضور ﷺ کے بعد دین کی دعوت و تبلیغ کی یہ ذمہ داری آپ ﷺ کی امت کی طرف منتقل ہوگئی اور اس لحاظ سے آج ہم سب اس ذمہ داری کے مکلف ہیں۔ چناچہ ہمیں وہاں بطور گواہ بلایا جائے گا کہ محمد ﷺ کی طرف سے اللہ کا جو دین تم تک وراثتاً پہنچا تھا کیا تم لوگوں نے اسے آگے نوع انسانی تک پہنچا دیا تھا ؟ اگر خدانخواستہ ہم یہ گواہی دینے میں ناکام رہے تو ان تمام لوگوں کی گمراہی اور ضلالت کا وبال بھی ہماری گردن پر آئے گا جو ہمارے حلقہ اثر اور دائرئہ اختیار میں تھے اور ہم انہیں دعوت نہیں دے سکے تھے۔ لیکن اگر ہم نے اپنی استطاعت کے مطابق یہ حق ادا کردیا ہوگا تو ہم اس گواہی سے سرخرو ہوں گے اور وہ لوگ اپنے اعمال کے لیے اللہ کے ہاں خود جوابدہ ہوں گے۔ بہر حال اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی عدالت کا منظر دکھایا گیا ہے جو سر محشر سجائی جائے گی۔ تمام بنی نوع انسان کا اعمال نامہ بھی لا کر اس عدالت کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ پھر انبیاء و رسل علیہ السلام اور دوسرے گواہوں کو بھی لا یا جائے گا۔ { وَقُضِیَ بَیْنَہُمْ بِالْحَقِّ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ } ”اور ان کے مابین فیصلہ کردیا جائے گا حق کے ساتھ اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔“