Surah 39 · word by word

Surah 39, ayah 22

  1. اَفَمَنْکیا بھلا وہ جس کا
  2. شَرَحَکھول دیا
  3. اللّٰهُاللہ نے
  4. صَدْرَهٗسینہ اس کا
  5. لِلْاِسْلَامِاسلام کے لئے
  6. فَهُوَپس وہ ہو
  7. عَلٰیاوپر
  8. نُوْرٍایک نور کے
  9. مِّنْسے
  10. رَّبِّهٖ ؕاپنے رب
  11. فَوَیْلٌتو بربادی ہے/ ہلاکت ہے
  12. لِّلْقٰسِیَةِواسطے ان کے جو سنگ دل ہوگئے ہیں
  13. قُلُوْبُهُمْدل ان کے
  14. مِّنْسے
  15. ذِكْرِذکر
  16. اللّٰهِ ؕاللہ کے
  17. اُولٰٓىِٕكَیہی لوگ ہیں
  18. فِیْمیں
  19. ضَلٰلٍگمراہی
  20. مُّبِیْنٍکھلی

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

اب کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا1  اور وہ اپنے ربّ کی طرف سے ایک روشنی پر چل رہا ہے2 (اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس نے اِن باتوں سے کوئی سبق نہ لیا ؟)۔ تباہی ہے اُن لوگوں کے لے جن کے دل اللہ کی نصیحت سے اور زیادہ سخت ہو گئے۔3 وہ کھُلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں

Footnotes (the author's commentary)

  1.  یعنی جسے اللہ نے یہ توفیق بخشی کہ ان حقائق سے سبق لے اور اسلام کے حق ہونے پر مطمئن ہو جائے۔ کسی بات پر آدمی کا شرح صدر ہو جا نا یا سینہ کھل جانا در اصل اس کیفیت کا نام ہے کہ آدمی دل میں اس کے بات کے متعلق کوئی خلجان یا تذبذب یا شک و شبہ باقی نہ رہے ، اور اسے کسی خطرے کا احساس   اور کسی نقصان کا اندیشہ بھی اس بات کو قبول اور اختیار کرنے میں مانع نہ ہو، بلکہ پورے اطمینان کے ساتھ وہ یہ فیصلہ کر لے کہ یہ چیز حق ہے  لہٰذا خواہ کچھ ہو جائے مجھے اسی پر چلنا ہے۔ اس طرح کا فیصلہ کر کے جب آدمی اسلام کی راہ کو اختیار کر لیتا ہے تو خدا اور رسولؐ کی طرف سے جو حکم بھی اسے ملتا ہے وہ اسے بکراہت نہیں بلکہ برضا و رغبت مانتا ہے۔ کتاب و سنت میں جو عقائد و افکار اور جو اصول و قواعد بھی اس کے سامنے آتے ہیں وہ انہیں اس طرح قبول کرتا ہے کہ گویا یہی اس کے دل کی آواز ہے۔ کسی نا جائز فائدے کو چھوڑنے پر اسے کوئی پچھتاوا لاحق نہیں ہوتا بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ میرے لیے وہ سرے سے کوئی فائدہ تھا ہی نہیں ، الٹا ایک نقصان تھا جس سے بفضل خدا میں بچ گیا۔ اسی طرح کوئی نقصان بھی اگر راستی پر قائم رہنے کی صورت میں اسے پہنچے تو وہ اس پر افسوس نہیں کرتا بلکہ ٹھنڈے دل سے اسے برداشت کرتا ہے اور اللہ کی راہ سے منہ موڑنے کی بہ نسبت وہ  نقصان  اسے ہلکا نظر آتا ہے۔ یہی حال اس کا خطرات پیش آنے پر بھی ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میرے لیے کوئی دوسرا راستہ سرے سے ہے ہی نہیں کہ اس خطرہ سے بچنے کے لیے ادھر نکل جاؤں۔ اللہ کا سیدھا راستہ ایک ہی ہے جس پر مجھے بہر حال چلنا ہے۔ خطرہ آتا ہے تو آتا رہے۔

  2.  یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی صورت میں ایک نور  علم اسے مل گیا ہے جس کے اُجالے میں وہ ہر ہر قدم پر صاف دیکھتا جاتا ہے کہ زندگی کی بے شمار پگ ڈنڈیوں کے درمیان حق کا سیدھا راستہ کونسا ہے۔

  3.  شرح صدر کے مقابلے میں انسانی قلب کی دو ہی کیفیتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک ضیقِ صدر (سینہ تنگ ہو جانے اور دل بھچ جانے ) کی کیفیت جس میں حق کے لیے نفوذ یا سرایت کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ اس دوسری کیفیت کے متعلق فرماتا ہے کہ جو شخص اس حد تک پہنچ جائے اس کے لیے پھر کامل تباہی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر کوئی شخص، خواہ دل کی تنگی ہی کے ساتھ سہی، ایک مرتبہ قبول حق کے لیے کسی طرح تیار ہو جائے تو  اس کے لیے بچ نکلنے کا کچھ نہ کچھ امکان ہوتا ہے۔یہ دوسرا مضمون آیت کے فحویٰ سے خود بخود نکلتا ہے ، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی صراحت نہیں فرمائی ہے ، کیونکہ آیت کا اصل مقصود ان لوگوں کو متنبہ کرنا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مخالفت میں ضد اور ہٹ دھرمی پر تلے ہوئے  تھے کہ آپؐ کی کوئی بات مان کر نہیں دینی ہے۔ اس پر انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ تم تو اپنی اس ہیکڑی کو بڑی قابل چیز سمجھ رہے ہو، مگر فی الحقیقت ایک انسان کی اس سے بڑھ کر کوئی نالائقی  اور بد نصیبی نہیں ہو سکتی کہ اللہ کا ذکر اور اس کی طرف سے آئی ہوئی نصیحت سُن کر وہ نرم پڑنے کے بجائے اور زیادہ سخت ہو جائے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

بھلا وہ شخص کہ جس کے سینے کو اللہ نے کھول دیا ہے اسلام کے لیے اور وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے تو ہلاکت اور بربادی ہے ان لوگوں کے لیے جن کے دل سخت ہوگئے ہیں اللہ کے ذکر سے۔ ! یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔

Commentary

آیت 22 { اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ فَہُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّہٖ } ”بھلا وہ شخص کہ جس کے سینے کو اللہ نے کھول دیا ہے اسلام کے لیے اور وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے !“ یہاں پھر وہی ”حذف“ کا اسلوب ہے۔ چناچہ اس جملے کے بعد یہاں پر کَمَنْ ھُوَ فِی الظُّلُمٰت کا جملہ محذوف مانا جائے گا۔ یعنی ایک وہ شخص ہے جسے اندرونی بصیرت حاصل ہے اور اس کا دل ایمان کے نور سے جگمگا رہا ہے ‘ کیا وہ اس شخص کی طرح ہوجائے گا جو اندھیروں میں بھٹک رہا ہے ؟ { فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَۃِ قُلُوْبُہُمْ مِّنْ ذِکْرِ اللّٰہِ } ”تو ہلاکت اور بربادی ہے ان لوگوں کے لیے جن کے دل سخت ہوگئے ہیں اللہ کے ذکر سے۔“ ان کے دل نرمی اور گداز سے محروم ہوچکے ہیں ‘ چناچہ اب نہ تو ان کے دلوں میں اللہ کے ذکر کا ذوق ہے اور نہ ہی اس کی طرف رجوع کرنے کا شوق۔ { اُولٰٓئِکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ”یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔“

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 461

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution