- كِتٰبٌایک کتاب ہے
- اَنْزَلْنٰهُنازل کیا ہم نے اس کو
- اِلَیْكَآپ کی طرف
- مُبٰرَكٌبہت برکتوں والی ہے
- لِّیَدَّبَّرُوْۤاتاکہ وہ غورو فکر کریں
- اٰیٰتِهٖاس کی آیات ہیں
- وَلِیَتَذَكَّرَاور تاکہ نصیحت پکڑیں
- اُولُواوالے
- الْاَلْبَابِعقل والے
Surah 38 · word by word
Surah 38, ayah 29
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
یہ ایک بڑی برکت والی کتاب1 ہے جو (اے محمدؐ)ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل و فکر رکھنے والے اس سے سبق لیں
Footnotes (the author's commentary)
-
برکت کے لغوی معنی ہیں ’’ افزائش خیر و سعادت‘‘۔ قرآن مجید کو برکت والی کتاب کہنے کے معنی یہ ہیں کہ یہ انسان کے لیے نہایت مفید کتاب ہے ۔ اس کی زندگی کو درست کرنے کے لیے بہترین ہدایات دیتی ہے ، اس کی پیروی میں آدمی کا نفع ہی نفع ہے ، نقصان کا کوئی خطرہ نہیں ہے ۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
(اے نبی ﷺ !) یہ کتاب جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے بہت بابرکت ہے تاکہ وہ اس کی آیات پر تدبر کریں اور ہوش مند لوگ اس سے سبق حاصل کریں
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 455
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 29 { کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ} ”اے نبی ﷺ ! یہ کتاب جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے بہت بابرکت ہے“ عربی میں اَلْـبَرَکَۃ کسی چیز میں سے اس کے خیر کو نکالنے والے عامل کو کہتے ہیں۔ اسے سمجھنے کے لیے ایک ایسے شخص کی مثال لیں جس کے اندربالقوۃ ُ potentially کوئی مثبت صلاحیت یا اہلیت موجود ہے مگر چونکہ اس کی وہ صلاحیت غیر فعال dormant ہے اس لیے نہ تو اسے اس کا شعور ہے اور نہ ہی وہ اس سے کوئی فائدہ اٹھا رہا ہے۔ چناچہ اگر کوئی واقعہ یا کسی دوسرے شخص کا کوئی عمل یا کسی کی کوئی نصیحت اسے اس صلاحیت کا احساس دلا دے اور وہ اسے بروئے کار لانا شروع کر دے تو وہ واقعہ یا عمل گویا اس کے لیے برکت کا باعث بن گیا۔ اسی مفہوم میں بارش کے پانی کو قرآن میں مآئً مُبٰرَکاً قٓ: 9 کہا گیا ہے۔ اس پانی کی برکت کا مشاہدہ ہم اپنی آنکھوں سے کرتے ہیں۔ زمین میں روئیدگی کی صلاحیت تو بالقوہ potentially موجود ہے مگر خشک اور بےآب وگیاہ زمین میں مختلف قسم کے بیشمار بیج ُ خفتہ dormant حالت میں بیکار پڑے رہتے ہیں۔ جب بارش کا پانی اس زمین کو سیراب کرتا ہے تو اس کے اندر جذب کا عمل osmosis شروع ہوتا ہے۔ اس عمل کی وجہ سے اس کے اندر موجود بیجوں کی قوت نمو کو انگیخت ملتی ہے ‘ زمین کی خفتہ قوت یا صلاحیت بھی فعال ہوجاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس میں طرح طرح کے نباتات اگنے لگتے ہیں۔ تو اس طرح گویا خشک زمین کے لیے بارش کا پانی مبارک یا باعث برکت ثابت ہوا۔ لفظ بَرَکۃ سے متعلق اس وضاحت کی روشنی میں آیت زیر مطالعہ کا مفہوم یوں ہوگا کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو انسانی روح کی نشوونما کے لیے غذا فراہم کرتی ہے اور روح کے اندر موجود خیر اور نیکی کی غیرفعال dormant صلاحیت کو انگیخت دے کر اسے عمل صالح کے صدور کے قابل بناتی ہے۔ علامہ اقبالؔ نے انسان کو اس کی روح کی اہمیت کا احساس ان الفاظ میں دلایا ہے : ؎ہے ذوق تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں غافل تو نرا صاحب ِادراک نہیں ہے ! { لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰـتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ } ”تاکہ وہ اس کی آیات پر تدبر کریں اور ہوش مند لوگ اس سے سبق حاصل کریں۔“