Surah 37 · word by word

Surah 37, ayah 84

  1. اِذْجب وہ
  2. جَآءَآئے
  3. رَبَّهٗاپنے رب کے پاس
  4. بِقَلْبٍدل کے ساتھ
  5. سَلِیْمٍسلامت

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

جب وہ اپنے رب کے حضور قلب سلیم لے کر آیا1

Footnotes (the author's commentary)

  1.  رب کے حضور آنے سے مراد اس کی طرف رجوع کرنا اور سب سے منہ موڑ کر اسی کا رُخ کرنا ہے ۔ اور ’’ قلب سلیم‘‘ کے معنی ’’صحیح سلامت  د ل‘‘ کے ہیں ۔ یعنی ایسا دل جو تمام اعتقادی اور اخلاقی خرابیوں سے پاک ہو، جس میں کفر و شرک اور شکوک و شبہات کا شائبہ تک نہ ہو ، جس میں نافرمانی اور سرکشی کا کوئی جذبہ نہ پایا جاتا ہو، جس میں کوئی ایچ پیچ اور الجھاؤ نہ ہو، جو ہر قسم کے برے میلانات اور ناپاک خواہشات سے بالکل صاف ہو، جس کے اندر کسی کے لیے بغض و حسد یا بد خواہی نہ پائی جاتی ہو، جس کی نیت میں کوئی کھوٹ نہ ہو۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

جب وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا قلب ِسلیم کے ساتھ

Commentary

آیت 84{ اِذْ جَآئَ رَبَّہٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ } ”جب وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا قلب ِسلیم کے ساتھ۔“ توحید کی معرفت کے حوالے سے انسان کی فطر تِ سلیمہ اور عقل سلیم کا ذکر قرآن حکیم کے اس مطالعے کے دوران اس سے پہلے بھی متعدد بار ہوچکا ہے۔ فطرت کا تعلق چونکہ روح سے ہے اور روح کا مسکن قلب انسانی ہے اس لیے یوں سمجھ لیں کہ فطرتِ سلیمہ اور قلب سلیم انسان کی ایک ہی کیفیت کا نام ہے۔ یعنی انسانی دل کی وہ کیفیت جس میں اس کی روح اور فطرت اپنی اصلی حالت میں ہو ‘ اس کے اصل خدوخال صحیح سلامت ہوں ‘ اس پر غفلت اور مادیت کے پردے نہ پڑچکے ہوں اور وہ مسخ perverted نہ ہوچکی ہو۔ انسانی فطرت کی اس کیفیت کے لیے صوفیاء ”سیر الی اللہ“ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ ایک انسان ایسے قلب سلیم کے ساتھ جب اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو عقل سلیم کی روشنی میں اسے توحید کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے۔ پھر وہ اس سے آگے بڑھ کر ”معاد“ یعنی آخرت کے فلسفے کی تہہ تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ اس حوالے سے میں قبل ازیں متعدد بار سورة الفاتحہ کا حوالہ بھی دے چکا ہوں کہ سورة الفاتحہ ایک ایسے ہی انسان کی فطرت کی پکار ہے جو اللہ اور توحید کی معرفت بھی حاصل کرچکا ہے ‘ آخرت کی اہمیت و ضرورت کا بھی قائل ہوچکا ہے اور اس نتیجے پر بھی پہنچ چکا ہے کہ ”اللہ کی بندگی“ ہی اصل طریقہ زندگی ہے ‘ مگر اسے یہ نہیں معلوم کہ اللہ کی بندگی کیسے کی جائے۔ حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے بہت سے ایسے ”موحدین“ مکہ میں موجود تھے۔ مثلاً حضرت عمر کے بہنوئی حضرت سعید رض کے والد زید ایک ایسے ہی موحد تھے جو کعبے کے پردوں سے لپٹ کر دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں صرف تیری بندگی کرنا چاہتا ہوں ‘ مگر میں نہیں جانتا کہ تیری بندگی کیسے کروں۔ سورة الفاتحہ کے نظم پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ انسانی فطرتِ سلیمہ ہی کی پکار ہے جس کو قرآن نے { اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ } کے الفاظ عطا کیے ہیں۔ یعنی فطرتِ سلیمہ کا حامل ایک انسان اپنی عقل سلیم کی مدد سے { اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } تک پہنچ گیا۔ یعنی اس نے اللہ کو پہچان لیا ہے اور اس کے لیے شکر و ثنا کے جذبات کی کو نپلیں بھی اس کے دل میں پھوٹ پڑی ہیں۔ اس نے اپنے اللہ اور اپنے رب کو ایک { الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ } ذات کے طور پر بھی پہچان لیا ہے ‘ اسے { مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ } کا عرفان بھی حاصل ہوگیا ہے۔ گویا اس کی فطرتِ سلیمہ نے نہ صرف اسے آخرت کے احتساب کی ضرورت اور منطق بھی سمجھا دی ہے ‘ بلکہ یہ لطیف نکتہ بھی اس کے دل میں بٹھا دیا ہے کہ وہی اللہ جو ربّ العالمین ہے ‘ جس کی رحمت اور مہربانی سے اس کائنات کی ایک ایک چیز قائم ہے ‘ وہی اللہ احتساب اور بدلے کے دن کا مالک بھی ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر گویا اس کی زبان بےاختیار { اِیَّاکَ نَعْبُدُ َواِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ } کا اقرار کرتی ہے ‘ مگر اس سے آگے اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ اس لیے کہ اس کی فطرتِ سلیمہ اس راستے پر اسے صرف اسی مقام تک راہنمائی فراہم کرسکتی تھی اور اس کی عقل سلیم کی پرواز بس یہیں تک تھی۔ اس سے آگے نور وحی کی راہنمائی درکار ہے۔ چناچہ اس کے منہ میں یہ دعائیہ الفاظ ڈال دیے گئے : { اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ } کہ اے اللہ ! اے ربّ العالمین ! اب تو خودہماری دستگیری فرما ! ہمیں اپنی بندگی کی ہدایت بھی دے اور اس رستے پر چلنے کے لیے مدد اور توفیق بھی مرحمت فرما ‘ تاکہ ہم تیری بندگی کا حق ادا کرسکیں۔ اس دعا کے جواب میں پھر قرآن کی صورت میں اسے یہ راہنمائی مہیاکر دی گئی۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 449

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution