- وَاِنَّاور بیشک
- اِلْیَاسَالیاس
- لَمِنَالبتہ میں سے
- الْمُرْسَلِیْنَرسولوں (میں سے) تھے
Surah 37 · word by word
Surah 37, ayah 123
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
اور الیاسؑ بھی یقیناً مُرسَلین میں سے تھا۔1
Footnotes (the author's commentary)
-
حضرت الیاس علیہ السلام انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے ۔ ان کا ذکر قرآن مجید میں صرف دو ہی مقامات پر آیا ہے ۔ ایک یہ مقام اور دوسرا سورہ انعام آیت 85۔ موجودہ زمانہ کے محققین ان کا زمانہ 875 اور 850 قبل مسیح کے درمیان متعین کرتے ہیں ۔ وہ جِلْ عاد کے رہنے والے تھے (قدیم زمانہ میں جِلْ عاد اس علاقے کو کہتے تھے جو آج کل موجودہ ریاست اردن کے شمالی اضلاع پر مشتمل ہے اور دریائے یرموک کے جنوب میں واقع ہے ۔) بائیبل میں ان کا ذکر ایلیاہ تشبِی (Elijah the Tishbite) کے ناک سے کیا گیا ہے ۔ ان کے مختصر حالات حسب ذیل ہیں : حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے بیٹے رجُبْعام (Rehoboam)کی نا اہلی کے باعث بنی اسرائیل کی سلطنت کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے ۔ ایک حصہ جو بیت المقدس اور جنونی فلسطین پر مشتمل تھا، آل داؤد کے قبضے میں رہا ، اور دوسرا حصہ جو شمالی فلسطین پر مشتمل تھا اس میں ایک مستقل ریاست اسرائیل کے نام سے قائم ہو گئی اور بعد میں سامریہ اس کا صدر مقام قرار پایا ۔ اگرچہ حالات دونوں ہی ریاستوں کے دگرگوں تھے ، لیکن اسرائیل کی ریاست شروع ہی سے سخت بگاڑ کی راہ پر چل پڑی تھی جس کی بدولت اس میں شرک و بت پرستی ، ظلم و ستم اور فسق و فجور کا زور بڑھتا چلا گیا، یہاں تک کہ جب اسرائیل کے بادشاہ اخی اب (Ahab) نے صیدا (موجودہ لبنان ) کے بادشاہ کی لڑکی ایزبل (Iazebel)سے شادی کر لی تو یہ فساد اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ اس مشرک شہزادی کے اثر میں آ کر اخی اب خود بھی مشرک ہو گیا ، اس نے سامریہ میں بعل کا مندر اور مذبح تعمیر کیا، خدائے واحد کی پرستش کے بجائے بعل کی پرستش رائج کرنے کی بھر پور کوشش کی اور اسرائیل کے شہروں میں علانیہ بعل کے نام پر قربانیاں کی جانے لگیں ۔ یہی زمانہ تھا جب حضرت الیاس علیہ السلام یکایک منظر عام پر نمودار ہوئے اور انہوں نے جل عاد سے آ کر اخی اب کو نوٹس دیا کہ تیرے گناہوں کی پاداش میں اب اسرائیل کے ملک پر بارش کا ایک قطرہ بھی نہ برسے گا، حتیٰ کہ اوس تک نہ پڑے گی۔ خدا کے نبی کا یہ قول حرف بحرف صحیح ثابت ہوا ور ساڑھے تین سال تک بارش بالکل بند رہی ۔ آخر کار اخی اب کے ہوش کچھ ٹھکانے آئے اور اس نے حضرت الیاس کو تلاش کرا کے بلوایا۔ انہوں نے بارش کے لیے دعا کرنے سے پہلے یہ ضروری سمجھا کہ اسرائیل کے باشندوں کو اللہ ربّ العالمین اور بعل کا فرق اچھی طرح بتا دیں ۔ اس غرض کے لیے انہوں نے حکم دیا کہ ایک مجمع عام میں بعل کے پوجا ری بھی آ کر اپنے معبود کے نام پر قربانی کریں اور میں بھی اللہ رب العلمین کے نام پر قربانی کروں گا۔ دونوں میں سے جس کی قربانی بھی انسان کے ہاتھوں سے آگ لگائے بغیر غیبی آگ سے بھسم ہو جائے اس کے معبود کی سچائی ثابت ہو جائے گی ۔ اخی اب نے یہ بات قبول کر لی۔ چنانچہ کوہ کرمل (Carmel)_ پر بعل کے ساڑھے آٹھ سو پجاری جمع ہوئے اور اسرائیلیوں کے مجمع عام میں ان کا اور حضرت الیاس علیہ السلام کا مقابلہ ہوا ۔ اس مقابلے میں بعل پرستوں نے شکست کھائی اور حضرت الیاس نے سب کے سامنے یہ ثابت کر دیا کہ بعل ایک جھوٹا خدا ہے ، اصل خدا وہی ایک اکیلا خدا ہے جس کے نبی کی حیثیت سے وہ مامور ہو کر آئے ہیں ۔ اس کے بعد حضرت الیاس نے اسی مجمع عام میں بعل کے پجاریوں کو قتل کر ا دیا اور پھر بارش کے لیے دعا کی جو فوراً قبول ہوئی یہاں تک کہ پورا ملک اسرائیل سیراب ہو گیا۔ لیکن معجزات کو دیکھ کر بھی زن مرید اخی اب اپنی بت پرست بیوی کے شکنجے سے نہ نکلا۔ اس کی بیوی ایزبل حضرت الیاس کی دشمن ہو گئی اور اس نے قسم کھا لی کہ جس طرح بعل کے پجاری قتل کیے گئے ہیں اسی طرح الیاس علیہ السلام بھی قتل کیے جائیں گے ۔ ان حالات میں حضرت الیاس کو ملک چھوڑنا پڑا اور چند سال تک وہ کوہ سینا کے دامن میں پناہ گزیں رہے ۔ اس موقع پر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے جو فریاد کی تھی اسے بائیبل ان الفاظ میں نقل کرتی ہے : ’’ بنی اسرائیل نے تیرے عہد کو ترک کیا اور تیرے مذبحوں کو ڈھا دیا اور تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کیا اور ایک میں ہی اکیلا بچا ہوں سو وہ میری جان لینے کے درپے ہیں ‘‘۔(1۔سلاطین 10:19) اسی زمانے میں بیت المقدس کی یہودی ریاست کے فرمانروا یہورام (Jehoram)نے اسرائیل کے بادشاہ اخی اب کی بیٹی سے شادی کر لی اور اس مشرک شہزادی کے اثر سے وہی تمام خرابیاں جو اسرائیل میں پھیلی ہوئی تھیں ، یہودیہ کی ریاست میں بھی پھیلنے لگیں ۔ حضرت الیاس نے یہاں بھی فریضۂ نبوت ادا کیا اور یہورام کو ایک خط لکھا جس کے یہ الفاظ بائیبل میں نقل ہوئے ہیں : ’’خداوند تیرے باپ داؤد کا خدا یوں فرماتا ہے : اس لیے کہ تو نہ اپنے باپ یہو سفط کی راہوں پر اور نہ یہوواہ کے بادشاہ آسا کی راہوں پر چلا بلکہ اسرائیل کے بادشاہوں کی راہ پر چلا ہے اور یہوواہ اور یروشلم کے باشندوں کو زنا کار بنایا جیسا اخی اب کے خاندان نے کیا تھا اور اپنے باپ کے گھرانے میں سے اپنے بھائیوں کو جو تجھ سے اچھے تھے قتل بھی کیا ، سو دیکھ خداوند تیرے لوگوں کو اور تیری بیویوں کو اور تیرے سارے مال کو بڑی آفتوں سے مارے گا اور تو انتڑیوں کے مرض سے سخت بیمار ہو جائے گا یہاں تک کہ تیری انتڑیاں اس مرض کے سبب سے روز بروز نکلتی چلی جائیں گی(2۔تواریخ 21:12۔15) اس خط میں حضرت الیاس نے جو کچھ فرمایا تھا وہ پورا ہوا۔ پہلے یہورام کی ریاست بیرونی حملہ آوروں کی تاخت سے تباہ ہوئی اور اس کی بیویوں تک کو دشمن پکڑ لے گئے ، پھر وہ خود انتڑیوں کے مرض سے ہلاک ہوا۔ چند سال کے بعد حضرت الیاس پھر اسرائیل تشریف لے گئے اور انہوں نے اخی اب کو ، اور اس کے بعد اس کے بیٹے اَخزیاہ کو راہ راست پر لانے کی مسلسل کوشش کی، مگر جو بدی سامریہ کے شہی خاندان میں گھر کر چکی تھی وہ کسی طرح نہ نکلی ۔ آخر کار حضرت کی بد دعا سے اخی اب کا گھرانا ختم ہو گیا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نی اپنے نبی کو دنیا سے اٹھا لیا۔ ان واقعات کی تفصیل کے لیے بائیبل کے حسب ذیل ابواب ملاحظہ ہوں : 1۔ سالطین ، باب 17۔18۔19۔21۔2۔ سلاطین باب 1۔2۔3۔ تواریخ باب 21۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اور یقینا الیاس ؑ بھی رسولوں میں سے تھا۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 450
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 123{ وَاِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ } ”اور یقینا الیاس علیہ السلام بھی رسولوں میں سے تھا۔“ حضرت الیاس علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے مشہور شہر ”بَعْلَبَک“ میں مبعوث ہوئے تھے۔ اس شہر میں سانڈھ کی شکل کا ایک بہت بڑا بت بنایا گیا تھا جس کا نام آگے آیت 125 میں ”بعل“ بتایا گیا ہے۔ اسی ُ بت کے نام پر اس شہر کا نام ”بعلبک“ بعل کا بک رکھا گیا تھا یعنی بعل کا شہر۔ پرانی عبرانی زبان میں شہر کو بک یا بکہ کہا جاتا تھا۔ چنانچہ مکہ کا پرانا نام بھی بَکّہ تھا ‘ جس کا حوالہ سورة آل عمران کی آیت 96 میں آیا ہے۔ بہر حال اس قوم کے لوگوں نے اس شہر کو اپنے معبود کے نام سے منسوب کر رکھا تھا۔