- ثُمَّپھر
- اَوْرَثْنَاوارث بنایا ہم نے
- الْكِتٰبَکتاب کا
- الَّذِیْنَان لوگوں کو
- اصْطَفَیْنَاچن لیا ہم نے
- مِنْسے
- عِبَادِنَا ۚاپنے بندوں میں (سے)
- فَمِنْهُمْتو ان میں سے
- ظَالِمٌبعض ظالم ہیں
- لِّنَفْسِهٖ ۚاپنی جان کے لیے
- وَمِنْهُمْاور ان میں سے
- مُّقْتَصِدٌ ۚدرمیانہ رو ہیں۔ بیچ کے راستے پر ہیں
- وَمِنْهُمْاور ان میں سے
- سَابِقٌسبقت لے جانے والے ہیں۔ آگے بڑھنے والے ہیں
- بِالْخَیْرٰتِنیکیوں میں
- بِاِذْنِاذن سے
- اللّٰهِ ؕاللہ کے
- ذٰلِكَیہ
- هُوَوہ
- الْفَضْلُفضل ہے
- الْكَبِیْرُبڑا
Surah 35 · word by word
Surah 35, ayah 32
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
پھر ہم نے اس کتاب کا وارث بنا دیا اُن لوگوں کو جنہیں ہم نے (اِس وراثت کے لیے)اپنے بندوں میں سے چُن لیا۔1 اب کوئی تو ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے، اور کوئی بیچ کی راس ہے، اور کوئی اللہ کے اِذن سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے۔2
Footnotes (the author's commentary)
-
مراد ہیں مسلمان جو پوری نوعِ انسانی میں سے چھانٹ کر نکالے گئی ہیں تاکہ وہ کتاب اللہ کے وارث ہوں اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد اسے لے کر اٹھیں۔ اگر چہ کتاب پیش تو کی گئی ہے سارے انسانوں کے سامنے۔ مگر جنہوں نے آگے پڑھ کر اس ے قبول کر لیا وہی اس شرف کے لیے منتخب کر لیے گئے کہ قرآن جیسی کتاب عظیم کے وارث اور محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم جیسے رسول عظیم کی تعلیم و ہدایت کے امین بنیں۔
-
یعنی یہ مسلمان سب دے سب ایک ہی طرح کے نہیں ہیں، بلکہ یہ تین طبقوں میں تقسیم ہو گئے ہیں: 1)۔ اپنے نفس پر ظلم کرنے والے۔یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کو سچے دل سے اللہ کی کتاب اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو ایمانداری کے ساتھ اللہ کا رسول تو مانتے ہیں، مگر عملاً کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی پیروی کا حق ادا نہیں کرتے۔ مومن ہیں مگر گناہ گار ہیں۔ مجرم ہیں مگر باغی نہیں ہیں۔ ضعیف الایمان ہیں مگر منافق اور دل و دماغ سے کافر نہیں ہیں۔ اسی لیے ان کو ظالمُ لِنفسہ ہونے کے باوجود وارثین کتاب میں داخل اور خدا کے چُنے ہوئے بندوں میں شامل کیا گیا ہے، ورنہ ظاہر ہے کہ باغیوں اور منافقوں اور قلب و ذہن کے کافروں پر ان اوصاف کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ تینوں درجات میں سے اس درجہ کے اہل ایمان کا ذکر سب سے پہلے اس لیے کیا گیا ہے کہ تعداد کے لحاظ سے امت میں کثرت انہی کی ہے۔ 2)۔ بیچ کی راس۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس وراثت کا حق کم و بیش ادا تو کرتے ہیں مگر پوری طرح نہیں کرتے۔ فرماں بردار بھی ہیں اور خطا کار بھی۔ اپنے نفس کو بالکل بے لگام تو انہوں نے نہیں چھوڑ دیا ہے بلکہ اسے خدا کا مطیع بنانے کی اپنی حد تک کوشش کرتے ہیں، لیکن کبھی یہ اس کی باگیں ڈھیلی بھی چھوڑ دیتے ہیں اور گناہوں میں مبتال ہو جاتے ہیں۔ اس طرح انکی زندگی اچھے اور برے، دونوں طرح کے اعمال کا مجموعہ بن جاتی ہے۔ یہ تعداد میں پہلے گروہ سے کم اور تیسرے گروہ سے زیادہ ہیں اس لیے ان کو دوسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ 3)۔ نیکیوں میں سبقت کرنے والے۔ یہ وارثین کتاب میں صفِ اول کے لوگ ہیں۔ یہی دراصل اس وراثت کا حق ادا کرنے والے ہیں۔ یہ اتباع کتاب و سنت میں بھی پیش پیش ہیں، خدا کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچانے میں بھی پیش پیش، دین حق کی خاطر قربانیاں کرنے میں بھی پیش پیش، اور بھلائی کے ہر کام میں پیش پیش۔ یہ دانستہ معصیت کرنے والے نہیں ہیں، اور نا دانستہ کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس پر متنبہ ہوتے ہی ان کی پیشانیاں شرم سے عرق آلود ہو جاتی ہیں۔ ان کی تعداد امت میں پہلے دونوں گروہوں سے کم ہے اس لیے ان کا آخر میں ذکر کیا گیا ہے اگر چہ وراثت کا حق ادا کرنے کے معاملہ میں ان کو اولیت کا شرف حاصل ہے۔ ’’یہی بہت بڑا فضل ہے ‘‘۔ اس فقرے کا تعلق اگر قریب ترین فقرے سے مانا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نیکیوں میں سبقت کرنا ہی بڑا فضل ہے اور جو لوگ ایسے ہیں وہ امت مسلمہ میں سب سے افضل ہیں۔ اور اس فقرے کا تعلق پہلے فقرے سے مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ کتاب اللہ کا وارث ہونا اور اس وراثت کے لیے چن لیا جانا بڑا فضل ہے، اور خدا کے تمام بندوں میں وہ بندے سب سے افضل ہیں جو قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لاکر اس انتخاب میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
پھر ہم نے کتاب کا وارث بنایا ان لوگوں کو جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے ُ چن لیا تو ان میں سے کچھ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور ان میں کچھ درمیانی راہ پر چلنے والے ہیں اور ان میں سے کچھ نیکیوں میں سبقت لے جانے والے ہیں اللہ کی توفیق سے یہی بہت بڑی فضیلت ہے
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 438
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 32{ ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَاج } ”پھر ہم نے کتاب کا وارث بنایا ان لوگوں کو جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے ُ چن لیا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس امت کو کتاب کی وراثت کے لیے چن لیا ہے۔ یہ مضمون اس سے پہلے سورة الحج کی آخری آیت میں واضح تر انداز میں آچکا ہے : { وَجَاہِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِہَادِہٖط ہُوَ اجْتَبٰٹکُمْ } ”اور جہاد کرو اللہ کے لیے جیسے کہ اس کے لیے جہاد کا حق ہے ‘ اس نے تمہیں چن لیا ہے“۔ سورة الحج میں اس مفہوم کے لیے لفظ ”اِجْتَبٰی“ استعمال ہوا ہے جبکہ آیت زیر مطالعہ میں لفظ ”اِصْطَفٰی“ آیا ہے۔ سورة الحج کے مطالعے کے دوران بھی ذکر ہوا تھا کہ اجتباء اور اصطفاء دونوں قریب المفہوم الفاظ ہیں ‘ لیکن لغوی مفہوم کے اعتبار سے ان دونوں میں ایک لطیف سا فرق بھی ہے۔ اس فرق کو سمجھنے کے لیے آپ انگریزی کے دو الفاظ to select اور to choose کو ذہن میں رکھیے۔ choose میں پسند choice کارفرما ہوتی ہے اور اس کا تعلق ”ذوق“ سے ہے کہ کوئی اپنے ذوق کے مطابق کیا پسند choose کرتا ہے ‘ جبکہ انتخاب selection ہمیشہ کسی مقصد کے لیے ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس فرق کو اس طرح واضح کیا جاسکتا ہے : A and B choice out of something selection for something ان دونوں الفاظ کے مذکورہ معانی کو اگر امت مسلمہ پر منطبق کریں تو یہ اہم حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اس امت کے اجتباء selection میں ایک عظیم مقصد کارفرما ہے جبکہ اصطفاء choice کے حوالے سے اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی پسندیدگی کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ دونوں الفاظ نبی اکرم ﷺ کے لیے بھی آئے ہیں محمد مصطفیٰ اور احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مذکورہ دونوں آیات زیرمطالعہ آیت اور سورة الحج کی آخری آیت کے حوالے سے حضور ﷺ کی امت کے لیے بھی استعمال ہوئے ہیں۔ بہر حال اس امت کو پسندیدہ chosen قرار دے کر اجتباء selection کے اعزاز سے نواز تو دیا گیا لیکن بعد میں کیا ہوا ؟ { فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ ج } ”تو ان میں سے کچھ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں۔“ یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کو اللہ کی کتاب اور محمد ﷺ کو اللہ کا رسول تو مانتے ہیں ‘ مگر عملاً کتاب اللہ اور سنت ِرسول ﷺ کی پیروی میں کوتاہی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ سورة الشورٰی میں اسی مضمون کو یوں بیان فرمایا گیا ہے : { وَاِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْکِتٰبَ مِنْم بَعْدِہِمْ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مُرِیْبٍ } یعنی انبیاء علیہ السلام کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے جاتے ہیں وہ اس کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ { وَمِنْہُمْ مُّقْتَصِدٌج } ”اور ان میں کچھ درمیانی راہ پر چلنے والے ہیں۔“ یعنی ایسے لوگ جو نیکی بھی کرتے ہیں اور ان سے برائی بھی سرزد ہوجاتی ہے۔ سورة التوبہ میں ایسے اہل ِایمان کا ذکر بایں الفاظ ہوا ہے : { خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَیِّئًا } آیت 102 ”انہوں نے اچھے اور برے اعمال کو گڈمڈ کردیا ہے۔“ { وَمِنْہُمْ سَابِقٌم بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰہِ } ”اور ان میں سے کچھ نیکیوں میں سبقت لے جانے والے ہیں ‘ اللہ کی توفیق سے۔“ ان میں سے کچھ ایسے خوش قسمت بھی ہوتے ہیں جو اللہ کی عطا کردہ توفیق سے دین کی خدمت کرنے ‘ حق کی دعوت کو پھیلانے ‘ اللہ کی کتاب کا حق ادا کرنے اور ہر اچھے عمل میں دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ { ذٰلِکَ ہُوَ الْفَضْلُ الْکَبِیْرُ } ”یہی بہت بڑی فضیلت ہے۔“