- یٰۤاَیُّهَااے وہ
- الَّذِیْنَلوگو جو
- اٰمَنُواایمان لائے ہو
- اذْكُرُوْایاد کرو
- نِعْمَةَنعمت کو
- اللّٰهِاللہ کی
- عَلَیْكُمْجو تم پر ہے
- اِذْجب
- جَآءَتْكُمْآئے تمہارے پاس
- جُنُوْدٌلشکر
- فَاَرْسَلْنَاتو بھیجی ہم نے
- عَلَیْهِمْان پر
- رِیْحًاایک آندھی۔ ہوا
- وَّجُنُوْدًااور کچھ لشکر
- لَّمْنہیں
- تَرَوْهَا ؕتم نے دیکھا ان کو
- وَكَانَاور ہے
- اللّٰهُاللہ تعا لیٰ
- بِمَاساتھ اس کے
- تَعْمَلُوْنَجو تم عمل کرتے ہو
- بَصِیْرًادیکھنے والا
Surah 33 · word by word
Surah 33, ayah 9
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
1 اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، یاد کرو اللہ کے احسا ن کو جو (ابھی ابھی) اُس نے تم کیا ہے۔ جب لشکر تم پر چڑھ آئے تو ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیج دی اور ایسی فوجیں روانہ کیں جو تم کو نظر نہ آتی تھیں۔2 اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا جو تم لوگ اُس وقت کررہے تھے
Footnotes (the author's commentary)
-
یہاں سے رکوع 3 تک کی آیات اُس وقت نازل ہوئی تھیں جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم غزوۂ بنی قریظہ سے فارغ ہو چکے تھے۔ ان دونوں رکوعوں میں غزوۂ احزاب اور غزوۂ بنی قریظہ کے واقعات پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ ان کو پڑھتے وقت اِن دونوں غزوات کی وہ تفصیلات نگاہ میں رہنی چاہییں جو ہم دیباچے میں بیان کر آئے ہیں۔
-
یہ آندھی اُسی وقت آگئی تھی جبکہ دشمنوں کے لشکر مدینے پر چڑھ کر آئے تھے بلکہ اُس وقت آئی تھی جب محاصرے کو تقر یباً ایک مہینہ گزر چکا تھا۔ نظر نہ آنے والی ’’ فوجوں ‘‘ سے مُراد وہ مخفی طاقتیں ہیں جو انسانی معاملات میں اللہ تعالیٰ کے اشارے پر کام کرتے رہتی ہیں اور انسانوں کو ان کی خبر تک نہیں ہوتی۔ انسان واقعات و حوادث کو صرف ان کے ظاہری اسباب پر محمول کرتا ہے۔ لیکن اندر ہی اندر غیر محسوس طور پر جو قوتیں کام کرتی ہیں وہ اس کے حساب میں نہیں آتیں ، حالانکہ اکثر حالات میں انہی مخفی طاقتوں کی کار فرمائی فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔ یہ طاقتیں چونکہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کی ماتحتی میں کام کرتی ہیں اس لیے ’’ فوجوں ‘‘ سے مُراد فرشتے بھی لیے جا سکتے ہیں ، اگر چہ یہاں فرشتوں کی فوجیں بھیجنے کی صراحت نہیں ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اے اہل ِایمان ! یاد کرو اللہ کے اس انعام کو جو تم لوگوں پر ہو جب تم پر حملہ آور ہوئے بہت سے لشکرتو ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیجی اور ایسے لشکر بھی جو تم نے نہیں دیکھے۔ اور جو کچھ تم لوگ کر رہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 419
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
اب دوسرے اور تیسرے رکوع میں غزوئہ احزاب کا ذکر ہے۔ یہ غزوہ 5 ہجری میں ہوا اور اس کی منصوبہ بندی میں کلیدی کردار مدینہ سے نکالے گئے یہودی قبیلہ بنو نضیر کے سرداروں نے ادا کیا۔ بنو نضیر کو عہد شکنی کی سزا کے طور پر 4 ہجری میں مدینہ سے نکال دیا گیا تھا۔ مدینہ سے نکلنے کے بعد وہ لوگ خیبر میں جا کر آباد ہوگئے تھے۔ وہ نہ صرف مسلمانوں سے انتقام لینا چاہتے تھے بلکہ ان کا خیال تھا کہ اگر مسلمانوں کا قلع قمع ہوجائے تو انہیں دوبارہ مدینہ میں آباد ہونے کا موقع مل جائے گا۔ چناچہ انہوں نے بڑی تگ ودو سے عرب کی تمام مسلم مخالف قوتوں کو متحد کر کے مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کیا۔ اس کے لیے انہوں نے ابو عامر راہب جس کا تذکرہ اس سے پہلے سورة التوبہ کے مطالعے کے دوران مسجد ضرار کے حوالے سے آیت 107 کی تشریح کے ضمن میں ہوچکا ہے کی مدد سے قریش ِمکہ ‘ نجد کے بنو غطفان اور عرب کے دیگر چھوٹے بڑے قبائل سے رابطہ کیا۔ اپنی اس مہم کے نتیجے میں وہ لگ بھگ بارہ ہزار جنگجوئوں پر مشتمل ایک بہت بڑا لشکر تیار کرنے اور اس کو مدینہ پر چڑھا لانے میں کامیاب ہوگئے۔ عربوں کے مخصوص قبائلی نظام کی تاریخ کو مد نظر رکھا جائے تو اس زمانے میں اتنے بڑے پیمانے پر لشکر کشی ایک انہونی سی بات تھی۔ دوسری طرف مدینہ میں مسلمانوں کی تعداد مشکل سے تین ہزار تھی اور اس میں بھی منافقین کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ اس کے علاوہ ایک بہت طاقتور یہودی قبیلے بنو قریظہ کی مدینہ میں موجودگی بھی ایک بہت بڑے خطرے کی علامت تھی۔ مدینہ میں ان لوگوں نے مضبوط گڑھیاں بنا رکھی تھیں۔ اس سے پہلے مدینہ کے دو یہودی قبائل بنو قینقاع اور بنو نضیر میثاقِ مدینہ کی خلاف ورزی کرکے مسلمانوں سے غداری کرچکے تھے۔ اس پس منظر میں اس طاقتور یہودی قبیلے کی طرف سے بھی نہ صرف غداری کا اندیشہ تھا ‘ بلکہ حملہ آور قبائل کے ساتھ ان کے خفیہ گٹھ جوڑ کے بارے میں ٹھوس اطلاعات بھی آچکی تھیں۔ ان حالات میں مٹھی بھر مسلمانوں کے لیے اتنے بڑے لشکر سے مقابلہ کرنا بظاہر ممکن نہیں تھا۔ اس صورت حال میں حضور ﷺ نے جب صحابہ رض سے مشورہ کیا تو حضرت سلمان فارسی رض کی طرف سے خندق کھودنے کی تجویز سامنے آئی۔ حضرت سلمان رض کا تعلق ایران سے تھا۔ آپ رض نے ایران میں رائج اس مخصوص طرز دفاع کے بارے میں اپنی ذاتی معلومات کی روشنی میں یہ مشورہ دیا جو حضور ﷺ نے پسند فرمایا۔ محل وقوع کے اعتبار سے مدینہ کی آبادی تین اطراف سے قدرتی طور پر محفوظ تھی۔ مشرق اور مغرب میں حرات لاوے کی چٹانوں پر مشتمل علاقہ تھا۔ اس علاقے میں اونٹوں اور گھوڑوں کی نقل و حرکت نہ ہوسکنے کی وجہ سے ان دونوں اطراف سے کسی بڑے حملے کا خطرہ نہیں تھا۔ عقب میں جنوب کی طرف بنو قریظہ کی گڑھیاں تھیں اور چونکہ ان کے ساتھ حضور ﷺ کا باقاعدہ معاہدہ تھا اور ابھی تک ان کی طرف سے کسی بد عہدی کا اظہار نہیں ہوا تھا اس لیے بظاہر یہ سمت بھی محفوظ تھی۔ اس طرح مدینہ کی صرف شمال مغربی سمت میں ہی ایسا علاقہ تھا جہاں سے اجتماعی فوج کشی کا خطرہ باقی رہ جاتا تھا۔ اس لیے اس علاقہ میں حضور ﷺ نے خندق کھودنے کا فیصلہ فرمایا۔ خندق کا مقصد اس سمت سے کسی بڑے حملے ‘ خصوصاً گھڑ سوار دستوں کی یلغار کو ناممکن بنانا تھا۔ اگر یکبارگی کسی بڑے حملے کا امکان نہ رہتا تو انفرادی طور پر خندق پار کرنے والے جنگجوئوں کے ساتھ آسانی سے نپٹا جاسکتا تھا۔ حضور ﷺ کے حکم سے خندق کی کھدائی کا کام شروع ہوگیا اور چھ دن کے اندر اندر یہ خندق تیار ہوگئی۔ لیکن خندق تو محض ایک مسئلے کا حل تھا ‘ جبکہ حالات تھے کہ انسانی تصور سے بھی بڑھ کر گھمبیر تھے۔ جزیرہ نمائے عرب کی تاریخ کے سب سے بڑے لشکر سے مقابلہ ‘ منافقین کی مدینہ کے اندر آستین کے سانپوں کی حیثیت سے موجودگی ‘ شدید سردی کا موسم ‘ قحط کا زمانہ ‘ رسد کی شدید کمی اور یہودی قبیلہ بنو قریظہ کی طرف سے بد عہدی کا خدشہ ! غرض خطرات و مسائل کا ایک سمندر تھا جس کی خوفناک لہریں پے درپے مسلمانوں پر اپنے تھپیڑوں کی یلغار کیے بڑھتی ہی چلی جا رہی تھیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے صبر اور امتحان کے لیے ایک بہت ہی سخت اور خوفناک صورت پیدا کردی تھی۔ اسی دوران حضرت ُ نعیم بن مسعود رض جن کا تعلق بنوغطفان کی شاخ اشجع قبیلے سے تھا ‘ حضور ﷺ سے ملنے مدینہ آئے اور عرض کیا کہ میں اسلام قبول کرچکا ہوں مگر اس بارے میں ابھی تک کسی کو علم نہیں۔ اگر آپ ﷺ مجھے اجازت دیں تو میں بڑی آسانی سے حملہ آور قبائل اور بنو قریظہ کے مابین بد اعتمادی پیدا کرسکتا ہوں۔ واضح رہے کہ بنوقریظہ اور حملہ آور قبائل کے مابین سلسلہ جنبانی کا آغاز ہوچکا تھا۔ بنونضیر کا یہودی سردار حُیّ بن اخطب بنوقریظہ کے پاس پہنچا تھا اور انہیں مسلمانوں کے ساتھ بدعہدی پر آمادہ کرچکا تھا۔ اس طرح بنوقریظہ عہدشکنی کے مرتکب ہوچکے تھے۔ چناچہ حضور ﷺ کی اجازت سے حضرت نعیم بن مسعود رض بنوقریظہ کے پاس گئے اور انہیں سمجھایا کہ دیکھو محمد ﷺ کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے۔ اگر تم ان سے عہد شکنی کر کے حملہ آور قبائل کا ساتھ دو گے تو عین ممکن ہے کہ تم اپنی توقعات کے مطابق مسلمانوں کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائو۔ لیکن یہ بھی تو سوچو کہ اگر یہ منصوبہ ناکام ہوا تو تمہارا کیا بنے گا ؟ آخر اس کا امکان تو موجود ہے نا ‘ خواہ کتنا ہی خفیف کیوں نہ ہو ! ایسی صورت میں باہر سے آئے ہوئے سب لوگ تو محاصرہ اٹھا کر چلتے بنیں گے اور تمہیں مسلمانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ جائیں گے۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ حملہ آور قبائل کا ساتھ دینے سے پہلے تم لوگ اپنی حفاظت کی ضمانت کے طور پر ان سے کچھ افراد بطور یرغمال مانگ لو۔ اس کے بعد حضرت نعیم رض حملہ آور قبائل کے سرداروں کے پاس گئے اور انہیں خبردار کیا کہ بنو قریظہ تم لوگوں سے مخلص نہیں ‘ وہ تم سے کچھ آدمی بطور یرغمال مانگنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تاکہ تمہارے آدمی مسلمانوں کے حوالے کر کے انہیں اپنی وفاداری کا یقین دلا سکیں۔ چناچہ تم لوگ ان سے خبردار رہنا اور کسی قیمت پر بھی اپنے آدمی ان کے سپرد نہ کرنا ! حملہ آور قبائل اور بنو قریظہ کے درمیان مسلمانوں پر مشترکہ حملے کے بارے میں معاہدہ طے پانے ہی والا تھا ‘ لیکن معاہدے کو حتمی شکل دینے سے پہلے جب بنو قریظہ نے حملہ آور قبائل سے کچھ افراد بطور ضمانت مانگے تو انہوں نے ان کا یہ مطالبہ رد کردیا۔ اس طرح فریقین کے اندر بد اعتمادی کی فضا پیدا ہوگئی اور مسلمانوں کے خلاف ایک انتہائی خطرناک منصوبہ ناکام ہوگیا۔ بنو قریظہ کی طرف سے عدم تعاون کے بعد حملہ آور لشکر کی کامیابی کی رہی سہی امید بھی دم توڑ گئی۔ دوسری طرف انہیں موسم کی شدت اور رسد کی قلت کی وجہ سے بھی پریشانی کا سامنا تھا۔ ان حالات میں ایک رات قدرت الٰہی سے شدید آندھی آئی جس سے ان کے کیمپ کی ہرچیز درہم برہم ہوگئی۔ خیمے اکھڑ گئے ‘ کھانے کی دیگیں الٹ گئیں اور جانور دہشت زدہ ہوگئے۔ اس غیبی وار کی شدت کے سامنے ان کی ہمتیں بالکل ہی جواب دے گئیں۔ چناچہ اسی افراتفری کے عالم َمیں تمام قبائل نے واپسی کی راہ لی۔ یہ محاصرہ تقریباً پچیس دن تک جاری رہا۔ مسلمانوں کے لیے تو یہ ایک بہت سخت امتحان تھا ہی ‘ جس سے وہ سرخرو ہو کر نکلے ‘ لیکن دوسری طرف اس آزمائش سے منافقین کے نفاق کا پردہ بھی چاک ہوگیا اور ایک ایک منافق کا ُ خبث ِباطن اس کی زبان پر آگیا۔ یہی دراصل اس آزمائش کا مقصد بھی تھا : { لِیَمِیْزَ اللّٰہُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ } الانفال : 37 ”تاکہ اللہ ناپاک کو پاک سے چھانٹ کر الگ کر دے“۔ -۔ - سورة العنکبوت کے پہلے رکوع میں یہی اصول اور قانون اللہ تعالیٰ نے سخت تاکیدی الفاظ میں دو دفعہ بیان فرمایا ہے۔ پہلے فرمایا : { فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ۔ ”چناچہ اللہ ظاہر کر کے رہے گا ان کو جو اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں۔“ پھر اس کے بعد دوبارہ فرمایا : { وَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ۔ ”اور یقینا اللہ ظاہر کر کے رہے گا سچے اہل ایمان کو ‘ اور ظاہر کر کے رہے گا منافقین کو بھی !“ اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جس طرح 5 نبوی ﷺ میں مکہ کے اندر غلاموں ‘ نوجوانوں اور بےسہارا مسلمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کی تفصیل سورة العنکبوت کے پہلے رکوع کے مطالعے کے دوران گزر چکی ہے بالکل اسی طرح 5 ہجری میں مدینہ کے اندر بھی مسلمانوں کو غزوئہ خندق کی صورت میں سخت ترین آزمائش سے دو چار ہونا پڑا۔ بلکہ اس ضمن میں میری رائے واللہ اعلم تو یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ پر ذاتی طور پر سب سے مشکل وقت آپ ﷺ کے سفر ِطائف کے دوران آیا تھا ‘ جبکہ مسلمانوں کو اجتماعی سطح پر شدید ترین تکلیف دہ صورت حال کا سامنا غزوئہ خندق کے موقع پر کرنا پڑا۔آیت 9 { یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ } ”اے اہل ِایمان ! یاد کرو اللہ کے اس انعام کو جو تم لوگوں پر ہوا“ { اِذْ جَآئَ تْکُمْ جُنُوْدٌ} ”جب تم پر حملہ آور ہوئے بہت سے لشکر“ یہ لشکر مدینہ پر چاروں طرف سے چڑھ آئے تھے۔ بنو غطفان اور بنو خزاعہ کے لشکروں نے مشرق کی طرف سے چڑھائی کی ‘ جنوب مغرب کی طرف سے قریش ِمکہ حملہ آور ہوئے ‘ جبکہ شمال کی جانب سے انہیں بنو نضیر اور خیبر کے دوسرے یہودی قبائل کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔ { فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ رِیْحًا وَّجُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْہَا } ”تو ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیجی اور ایسے لشکر بھی جو تم نے نہیں دیکھے۔“ یعنی آندھی کی کیفیت تو تم لوگوں نے بھی دیکھی تھی ‘ لیکن اس کے علاوہ ہم نے ان پر فرشتوں کے لشکر بھی بھیجے تھے جو تم کو نظر نہیں آئے۔ { وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا } ”اور جو کچھ تم لوگ کر رہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔“ اس ایک جملے میں محاصرے کے دوران ہر فرد کے رویے کا احاطہ کردیا گیا ہے۔ اس دوران کس کا ایمان غیر متزلزل رہا ‘ کس کی نیت میں نفاق تھا اور کون اپنے نفاق کو زبان پر لے آیا ‘ اللہ کو سب معلوم ہے۔ یہ محاصرہ تقریباً پچیس دن تک رہا۔ اس دوران اکا دکا مقامات پر معرکہ آرائی بھی ہوئی۔ اس حوالے سے حضرت علی رض اور عرب کے مشہور پہلوان عبد ِوُدّ کے درمیان ہونے والا مقابلہ تاریخ میں بہت مشہور ہے۔ عبد ِوُدّ پورے عرب کا مانا ہوا شہسوار تھا۔ اس کی عمر نوے ّسال تھی مگر وہ اس عمر میں بھی ہزار جنگجوئوں کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ کوئی اکیلا شخص اس کے مقابلے میں آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ وہ گھوڑے کو بھگاتے ہوئے ایک ہی زقند میں خندق پار کرنے میں کامیاب ہوگیا اور تن ِتنہا اس طرف آکر دعوت مبارزت دی کہ تم میں سے کوئی ہے جو میرا مقابلہ کرے ؟ ادھر سے حضرت علی رض اس کے مقابلے کے لیے تیار ہوئے۔ حضرت علی رض کے سامنے آنے پر اس نے کہا کہ میں اپنے مقابل آنے والے ہر شخص کو تین باتیں کہنے کا موقع دیتا ہوں اور ان میں سے ایک بات ضرور قبول کرتا ہوں۔ اس لیے تم اپنی تین خواہشات کا اظہار کرو۔ اس پر حضرت علی رض نے کہا کہ میری پہلی خواہش تو یہ ہے کہ تم ایمان لے آئو۔ اس نے کہا کہ یہ تو نہیں ہوسکتا۔ حضرت علی رض نے اپنی دوسری خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تم جنگ سے واپس چلے جائو ! اس نے کہا کہ یہ بھی ممکن نہیں۔ ان دونوں باتوں سے انکار پر آپ رض نے فرمایا کہ پھر آئو اور مجھ سے مقابلہ کرو ! اس پر اس نے ایک بھر پور قہقہہ لگاتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا کہ آج تک پورے عرب میں اس کے سامنے کسی کو ایسا کہنے کی جرات نہیں ہوئی۔ بہر حال دو بدو مقابلے میں حضرت علی رض نے اسے واصل ِجہنم کردیا۔ اس طرح کے اکا ّدُکا انفرادی مقابلوں کے علاوہ دونوں لشکروں کے درمیان کسی بڑے اجتماعی معرکے کی نوبت نہیں آئی۔ محاصرے کے غیر متوقع طور پر طول کھینچنے سے کفار کے لشکر میں روز بروزبد دلی پھیلتی جا رہی تھی۔ اس دوران حضرت ُ نعیم بن مسعود اشجعی رض کی حکمت عملی سے بھی بنو قریظہ اور حملہ آور قبائل کے درمیان بد اعتمادی پیدا ہوگئی۔ طویل محاصرے کے بعد اچانک خوفناک آندھی نے بھی اپنا رنگ دکھایا۔ اس پر مستزاد فرشتوں کے لشکروں کی دہشت تھی جس کی کیفیت کا اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس سب کچھ کا نتیجہ یہ نکلا کہ عرب کی تاریخ کے سب سے بڑے لشکر کو اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر ناکام و نامراد لوٹنا پڑا۔ -۔ - آئندہ آیات میں محاصرے کے دوران کی صورت حال پر مزید تبصرہ کیا جا رہا ہے :