Surah 33 · word by word

Surah 33, ayah 7

  1. وَاِذْاور جب
  2. اَخَذْنَالیا ہم نے
  3. مِنَسے
  4. النَّبِیّٖنَنبیوں
  5. مِیْثَاقَهُمْپختہ عہد ان کا
  6. وَمِنْكَاور آپ سے
  7. وَمِنْاور سے
  8. نُّوْحٍنوح
  9. وَّاِبْرٰهِیْمَاور ابراہیم سے
  10. وَمُوْسٰیاور موسیٰ سے
  11. وَعِیْسَیاور عیسیٰ
  12. ابْنِابن
  13. مَرْیَمَ ۪مریم سے
  14. وَاَخَذْنَااور لیا ہم نے
  15. مِنْهُمْان سے
  16. مِّیْثَاقًاعہد
  17. غَلِیْظًاپختہ۔ پکا

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

اور (اے نؐبی)یاد رکھو  اُس عہد وپیمان کو جو ہم نے سب پیغمبروں سے لیا ہے، تم سے بھی اور اور نوحؑ اور ابراھیمؑ اور موسیٰؑ اور عیسیٰؑ ابن مریم سے بھی۔ سب سے ہم پختہ عہد لے چکے ہیں۔1

Footnotes (the author's commentary)

  1. اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ بات یاد دلاتا ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کی طرح آپ سے بھی اللہ تعالیٰ ایک پختہ عہد لے چکا ہے جس کی آپ کو سختی کے ساتھ پابندی کرنی چاہیے۔ اس عہد سے کونسا عہد مُراد ہے ؟ اوپر سے جو سلسلۂ کلام چلا آر ہا ہے اُس پر غور کرنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اس سے مُراد یہ عہد ہے کہ پیغمبر اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی خود اطاعت کرے گا اور دوسروں سے کرائے گا ، اللہ کی باتوں کو بے کم و کاست پہنچائے گا اور انہیں عملاً نافذ کرنے کی سعی و جہد میں کوئی دریغ نہ کرے گا۔ قرآن مجید میں اس عہد کا ذکر متعدّد متعدد مقامات پر کیا گیا ہے۔ مثلاً:      شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحاً وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآاِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی اَنْ اَقِیْمُو االدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْافِیْہِ۔ط(الشُورٰی۔ آیت 13) اللہ تعالیٰ نے مقرر کر دیا تمہارے لیے وہ دین جس کی ہدایت کی تھی اس نے نوحؑ کو ، اور جس کی وحی کی گئی (اے محمدؐ) تمہاری طرف، اور جس کی ہدایت کی گئی ابراہیمؑ اور موسیٰؑ اور عیسیٰؑ کو۔ اس تاکید کے ساتھ کہ تم لوگ قائم کرو اس دین کو اور اس میں تفرقہ نہ کرو۔      وَاِذْ اَخَذَاللہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُ االْکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہٗلِلن  وَلَاتَکْتُمُوْ نَہٗ۔ق(آل عمران۔ 187) اور یاد کرو اس بات کو کہ اللہ نے عہد لیا تھا اُن لوگوں سے جن کو کتاب دی گئی تھی کہ تم لوگ اس کی تعلیم کو بیان کرو گے اور اسے چھُپاؤ گے نہیں۔ وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَا قَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللہَ۔ قف(البقرہ۔ 83) اور یاد کرو کہ ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا کہ تم اللہ کے سِوا کسی کی بندگی نہ کرو گے۔ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْھِمْ مِّیْثَاقْ الْکِتٰبِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خُذُوْ امَٓااٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍوَّاذْکُرُوْامَافِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ۔oع (الاعراف۔ آیات 1۶9۔171) کیا اُن سے کتاب کا عہد نہیں لیا گیا تھا؟۔۔۔ مضبوطی کے سا تھ تھامو اُس چیز کو جو ہم نے تمہیں دی ہے اور یاد رکھو اس ہدایت کو جو اس میں ہے۔ توقع ہے کہ تم اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو گے۔ وَاذْکُرُوْانِِعْمَۃَاللہِ عَلَیْکُمْ وَمِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِہٖ لااِذْقُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۔ًَ۔۔۔۔۔(المائدہ۔7) اور اے مسلمانو! یاد رکھو اللہ کے اس احسان کو جو اس نے تم پر کیا ہے اور اُس عہد کو جو اُس نے تم سے لیا ہے جبکہ تم نے کہا ’’ ہم نے سُنا اور اطاعت کی۔‘‘       اس عہد کو اس سیاق و سباق میں اللہ تعالیٰ جس وجہ سے یاد دلا رہا ہے وہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم شماتتِ اعداء کے اندیشے سے منہ بولے رشتوں کے معاملہ میں جاہلیت کی رسم کو توڑ تے ہوئے جھجک رہے تھے۔ آپ کو بار بار یہ شرم لاحق ہو رہی تھی کہ معاملہ ایک خاتون سے شادی کرنے کا ہے۔ میں خواہ کتنی ہی نیک نیتی کے ساتھ محض اصلاح معاشرہ کی خاطر یہ کام کروں ، مگر دشمن یہی کہیں گے کہ یہ کام دراصل نفس پرستی کی خاطر کیا گیا ہے اور مصلح کا لبادہ اس شخص نے محض فریب دینے کے لیے اوڑھ رکھا ہے۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ حضورؐ سے فرما رہا ہے کہ تم ہمارے مقرر کیے ہوئے پیغمبر ہو ، تمام پیغمبروں کی طرح تم سے بھی ہمارا یہ پختہ معاہدہ ہے کہ جو کچھ بھی حکم ہم دیں گے اس کو خود بجا لاؤ گے اور دوسروں کو اس کی پیروی کا حکم دو گے ، لہٰذا تم کسی کے طعن و تشنیع کی پروانہ کرو، کسی سے شرم اور خوف نہ کرو، اور خدمت ہم تم سے لینا چاہتے ہیں اسے بِلا تأمّل انجام دو۔       ایک گروہ اس میثاق سے وہ میثاق مُراد لیتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے کے تمام انبیاء اور ان کی اُمّتوں سے اس بات کے لیے لیا گیا تھا کہ وہ بعد کے آنے والے نبی پر ایمان لائیں گے اور اس کا ساتھ دیں گے۔ اس تاویل کی بنیاد پر اس گروہ کا دعویٰ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد بھی نبوت کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور حضورؐ سے بھی یہ میثاق لیا گیا ہے کہ آپؐ کے بعد جو نبی آئے آپؐ کی اُمّت اس پر ایمان لائے گی۔ لیکن آیت کا سیاق و سباق صاف بتا رہا ہے کہ یہ تاویل بالکل غلط ہے۔ جس سلسلۂ کلام میں یہ آیت آئی ہے اُس میں یہ کہنے کا سرے سے کوئی موقع ہے نہیں ہے کہ آپؐ کے بعد بھی انبیاء آئیں گے اور آپ کی اُمت کو ان پر ایمان لانا چاہیے۔ یہ مفہوم اس کالیا جائے تو یہ آیت یہاں بالکل بے محل ہو جاتی ہے۔ علاوہ بریں آیت کے الفاظ میں کوئی صراحت ایسی نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ یہاں میثاق سے کونسا میثاق مُراد ہے۔ لامحالہ اس کی نوعیت معلوم کرنے کے لیے ہم کو قرآن مجید کے دوسرے مقامات کی طرف رجوع کرنا ہو گا جہاں انبیاء سے لیے ہوئے مواثیق کا ذکر کیا گیا ہے۔ اب اگر سارے قرآن میں صرف ایک ہی میثاق کا ذکر ہوتا اور وہ بعد کے آنے والے انبیاء پر ایمان لانے کے بارے میں ہوتا تو یہ خیال کرنا درست ہوتا کہ یہاں بھی میثاق سے مُراد ہی میثاق ہے۔ لیکن قرآن پاک کو جس شخص نے بھی آنکھیں کھول کر پڑھا ہے وہ جانتا ہے کہ اس کتاب میں بہت سے میثاقوں کا ذکر ہے جو انبیاء علیہم السلام اور ان کی اُمتوں سے لیے گئے ہیں۔ لہٰذا اُن مختلف مواثیق میں سے وہ میثاق یہاں مُراد لینا صحیح ہو گا جو اس سیاق و سباق سے مناسبت رکھتا ہو ، نہ کہ وہ میثاق جس کے ذکر کا یہاں کوئی موقع نہ ہو۔ اسی طرح کی غلط تاویلوں سے یہ بات کھل جاتی ہے کہ بعض لوگ قرآن سے ہدایت لینے نہیں بیٹھتے بلکہ اُسے ہدایت دینے بیٹھ جاتے ہیں۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

اور (یاد کرو) جب ہم نے ابنیاء سے ان کا عہد لیا تھا اور آپ ﷺ سے بھی اور نوح ؑ ابراہیم موسیٰ ؑ ٰ اور عیسیٰ ؑ ٰ ابن مریم سے بھی۔ اور ان سب سے ہم نے بڑا گاڑھا قول وقرار لیا تھا۔

Commentary

آیت 7 { وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَہُمْ } ”اور یاد کرو جب ہم نے ابنیاء سے ان کا عہد لیا تھا“ ”میثاق النبیین“ کا ذکر اس سے پہلے سورة آل عمران کی آیت 81 اور 82 میں بھی آچکا ہے۔ { وَمِنْکَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ } ”اور آپ ﷺ سے بھی ‘ اور نوح علیہ السلام ‘ ابراہیم ‘ موسیٰ علیہ السلام ٰ اور عیسیٰ علیہ السلام ٰ ابن مریم سے بھی۔“ { وَاَخَذْنَا مِنْہُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا } ”اور ان سب سے ہم نے بڑا گاڑھا قول وقرار لیا تھا۔“ یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق ِتوجہ ہے کہ اگر کوئی شخص ارواح کے علیحدہ وجود کا منکر ہو اور یہ بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہو کہ بنی نوع انسان کی تمام ارواح پہلے پیدا کردی گئی تھیں تو اس کے لیے اس آیت میں مذکور میثاق کی توجیہہ کرنا کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ بہر حال قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ارواح سے دو عہد لیے گئے۔ ان میں سے ایک عہد کا ذکر سورة الاعراف کی آیت 172 میں ہے ‘ جسے ”عہد ِالست“ کہا جاتا ہے اور یہ عہد بلا تخصیص تمام انسانی ارواح سے لیا گیا تھا۔ دوسرے عہد کا ذکر آیت زیر مطالعہ اور سورة آل عمران کی آیت 81 میں ہے جو صرف انبیاء کی ارواح سے اضافی طور پر لیا گیا تھا۔ اس عہد میں روح محمد علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام بھی موجود تھی اور دوسرے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی ارواح بھی۔ جو لوگ ارواح کے علیحدہ وجود کو تسلیم نہیں کرتے ان کا کہنا ہے کہ عہد کا یہ ذکر استعا راتی انداز میں ہوا ہے۔ لیکن اگر ان کا یہ موقف تسلیم کرلیا جائے تو پھر قرآن کے تمام احکام ہی استعارہ بن کر رہ جائیں گے اور حقیقت ان استعاروں میں گم ہوجائے گی۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 419

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution