- یٰۤاَیُّهَااے
- الَّذِیْنَلوگو
- اٰمَنُوْاجو ایمان لائے ہو
- لَانہ
- تَدْخُلُوْاتم داخل ہو
- بُیُوْتَگھروں میں
- النَّبِیِّنبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
- اِلَّاۤمگر
- اَنْیہ کہ
- یُّؤْذَنَاجازت دی جائے
- لَكُمْتمہارے لیے
- اِلٰیطرف
- طَعَامٍکھانے کی (طرف)
- غَیْرَنہ
- نٰظِرِیْنَانتظار کرنے والے ہو۔ نہ دیکھنے والے ہو
- اِنٰىهُ ۙاس کے پکنے کا۔ پکنا اس کا
- وَلٰكِنْاور لیکن
- اِذَاجب
- دُعِیْتُمْبلائے جاؤ تم
- فَادْخُلُوْاتو داخل ہوجاؤ
- فَاِذَاپھر جب
- طَعِمْتُمْکھانا کھالو
- فَانْتَشِرُوْاتو منتشر ہوجاؤ
- وَلَااور نہ
- مُسْتَاْنِسِیْنَآرام پائے۔ مشغول ہونے والے
- لِحَدِیْثٍ ؕباتوں کے لیے
- اِنَّبیشک
- ذٰلِكُمْیہ بات
- كَانَہے
- یُؤْذِیایذا دیتی۔ تکلیف دیتی
- النَّبِیَّنبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
- فَیَسْتَحْیٖتو وہ شرماتے جاتے ہیں
- مِنْكُمْ ؗتم سے
- وَاللّٰهُاور اللہ تعالیٰ
- لَانہیں
- یَسْتَحْیٖشرماتا
- مِنَسے
- الْحَقِّ ؕحق (سے)
- وَاِذَااور جب
- سَاَلْتُمُوْهُنَّسوال کرو تم ان سے
- مَتَاعًاکسی چیز کا
- فَسْـَٔلُوْهُنَّتو سوال کرو ان سے۔ مانگو ان سے
- مِنْسے
- وَّرَآءِپیچھے (سے)
- حِجَابٍ ؕپردے کے
- ذٰلِكُمْیہ بات
- اَطْهَرُزیادہ پاکیزہ ہے
- لِقُلُوْبِكُمْتمہارے دلوں کے لیے
- وَقُلُوْبِهِنَّ ؕاور ان کے دلوں کے لیے
- وَمَااور نہیں
- كَانَہے
- لَكُمْ(مناسب) تمہارے لیے
- اَنْکہ
- تُؤْذُوْاتم ایذا دو
- رَسُوْلَرسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو
- اللّٰهِاللہ کے
- وَلَاۤاور نہ
- اَنْیہ کہ
- تَنْكِحُوْۤاتم نکاح کرو
- اَزْوَاجَهٗآپ کی بیویوں سے
- مِنْکے
- بَعْدِهٖۤاس کے بعد
- اَبَدًا ؕکبھی بھی
- اِنَّبیشک
- ذٰلِكُمْیہ بات
- كَانَہے
- عِنْدَنزدیک
- اللّٰهِاللہ کے
- عَظِیْمًابہت بڑی
Surah 33 · word by word
Surah 33, ayah 53
Translation and commentary
Bayan-ul-Quran
اے اہل ِ ایمان ! مت داخل ہوجایا کرو نبی ﷺ کے گھروں میں مگر یہ کہ تمہیں کسی کھانے پر آنے کی اجازت دی جائے نہ انتظار کرتے ہوئے کھانے کی تیاری کا ہاں جب تمہیں بلایا جائے تب داخل ہوا کرو پھر جب کھانا کھا چکو تو منتشر ہوجایا کرو اور باتوں میں لگے ہوئے بیٹھے نہ رہا کرو۔ تمہاری یہ باتیں نبی ﷺ کے لیے تکلیف کا باعث تھیں مگر وہ (نبی ﷺ آپ لوگوں سے جھجک محسوس کرتے ہیں اور اللہ حق (بیان کرنے) سے نہیں جھجکتا اور جب تمہیں نبی ﷺ کی بیویوں سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کی اوٹ سے مانگا کرو۔ یہ طرز عمل زیادہ پاکیزہ ہے تمہارے دلوں کے لیے بھی اور ان ؓ کے دلوں کے لیے بھی۔ اور تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول ﷺ کو ایذا پہنچائو اور نہ یہ (جائز ہے) کہ تم نکاح کرو آپ ﷺ کی بیویوں سے آپ ﷺ کے بعد کبھی بھی۔ یقینا اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 425
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 53 { یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّآ اَنْ یُّؤْذَنَ لَـکُمْ اِلٰی طَعَامٍ } ”اے اہل ِ ایمان ! مت داخل ہوجایا کرو نبی ﷺ کے گھروں میں مگر یہ کہ تمہیں کسی کھانے پر آنے کی اجازت دی جائے“ { غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰـہُ } ”نہ انتظار کرتے ہوئے کھانے کی تیاری کا“ اس حوالے سے سورة النور کا یہ حکم بھی یاد کرلیں : { یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوْا وَتُسَلِّمُوْا عَلٰٓی اَہْلِہَا ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ } ”اے ایمان والو ! اپنے گھروں کے علاوہ دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو ‘ حتیٰ کہ مانوس ہو لو بول چال کرلو اور گھر والوں کو سلام کرلو ‘ یہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو“۔ یعنی اس وقت تک کسی کے گھر میں داخل مت ہوا کرو جب تک گھر والوں سے بات چیت کر کے انہیں اپنی پہچان نہ کرا لو۔ اس کے بعد سورة النور کی اگلی آیت آیت 28 میں { حَتّٰی یُؤْذَنَ لَکُمْج } یہاں تک کہ تمہیں اجازت دے دی جائے کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ واضح رہے کہ سورة النور کا نزول سورة الاحزاب کے ایک سال بعد یعنی 6 ہجری میں ہوا۔ گویا سب سے پہلے یہ حکم آیت زیر مطالعہ میں رسول اللہ ﷺ کے گھر کے لیے دیا گیا لیکن بعد میں سورة النور کی مذکورہ آیت میں اسے ایک عمومی حکم کا درجہ دے دیا گیا۔ { وَلٰکِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا } ”ہاں جب تمہیں بلایا جائے تب داخل ہوا کرو“ { فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَلَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ } ”پھر جب کھانا کھا چکو تو منتشر ہوجایا کرو اور باتوں میں لگے ہوئے بیٹھے نہ رہا کرو۔“ یعنی اگر کھانے کے لیے بلایا جائے تو وقت سے پہلے ہی آکر نہ بیٹھ جایا کرو جب کہ ابھی کھانا تیار بھی نہ ہوا ہو۔ پھر جب کھانا کھالو تو فوراً وہاں سے اٹھ جایا کرو اور وہاں ڈیرہ جما کر نہ بیٹھے رہا کرو کہ اب باہم گفتگو کریں گے اور حضور ﷺ کی باتیں بھی سنیں گے۔ { اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ } ”تمہاری یہ باتیں نبی ﷺ کے لیے تکلیف کا باعث تھیں“ ظاہر ہے اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں آکر بیٹھ جائے اور اٹھنے کا نام نہ لے تو گھر والوں کو تکلیف تو ہوگی۔ مگر اس حوالے سے حضور ﷺ کی تکلیف کا ایک خصوصی پہلو یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ کے جن گھروں کا یہاں ذکر ہو رہا ہے وہ دراصل چھوٹے چھوٹے حجرے تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ اگر کوئی شخص آپ ﷺ سے ملنے کے لیے آجاتا اور آپ ﷺ اسے حجرئہ مبارک کے اندر بلا لیتے تو جب تک وہ چلا نہ جاتاحضرت عائشہ رض چادر اوڑھے چہرہ دیوار کی طرف کیے بیٹھی رہتیں۔ بہر حال ان حجروں کے اندر اتنی جگہ نہیں تھی کہ وہاں غیر محرم مرد محفل جما کر بیٹھتے۔ { فَیَسْتَحْیٖ مِنْکُمْ وَاللّٰہُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ } ”مگر وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ لوگوں سے جھجک محسوس کرتے ہیں ‘ اور اللہ حق بیان کرنے سے نہیں جھجکتا۔“ گھروں کے اندر لوگوں کے تا دیر بیٹھنے سے حضور ﷺ کو تکلیف تو ہوتی تھی مگر آپ ﷺ مروّت اور شرافت میں انہیں جانے کا نہیں فرماتے تھے۔ { وَاِذَا سَاَلْتُمُوْہُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْہُنَّ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ } ”اور جب تمہیں نبی ﷺ کی بیویوں سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کی اوٹ سے مانگا کرو۔“ قرآن حکیم میں اس مقام پر لفظ ”حجاب“ پہلی بار آیا ہے اور یہ حجاب سے متعلق احکام کے سلسلے کا پہلا حکم ہے ‘ جس کا منشا یہ ہے کہ آئندہ حضور ﷺ کے گھروں کے دروازوں پر پردے لٹکا دیے جائیں اور اگر کسی غیر محرم مرد کو امہات المومنین رض میں سے کسی سے کوئی کام ہو وہ رُو در رُو نہیں بلکہ پردے کے پیچھے کھڑے ہو کر بات کرے۔ -۔ اس آیت کو ”آیت حجاب“ کہا جاتا ہے۔ -۔ اس حکم کے بعد ازواجِ مطہرات رض کے گھروں کے دروازوں پر پردے لٹکا دیے گئے ‘ اور چونکہ نبی اکرم ﷺ کی ذات گرامی مسلمانوں کے لیے اُسوئہ حسنہ تھی اور آپ ﷺ کا گھر تمام مسلمانوں کے لیے نمونے کا گھر تھا ‘ چناچہ تمام مسلمانوں کے گھروں کے دروازوں پر بھی پردے لٹک گئے۔ { ذٰلِکُمْ اَطْہَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَقُلُوْبِہِنَّ } ”یہ طرز عمل زیادہ پاکیزہ ہے تمہارے دلوں کے لیے بھی اور ان رض کے دلوں کے لیے بھی۔“ مرد اور عورت کے درمیان ایک دوسرے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو کشش رکھی ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے بہتر طریقہ یہی ہے کہ غیر محرم مردوں کا غیر محرم عورتوں کے ساتھ آمنا سامنا نہ ہو۔ { وَمَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ } ”اور تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول ﷺ کو ایذا پہنچائو“ یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی سمجھ لیں کہ اگرچہ معاشرتی اصلاحات کے بارے میں یہ احکام عمومی نوعیت کے ہیں لیکن ان اصلاحات کا آغاز خصوصی طور پر اللہ کے رسول ﷺ کے گھر سے کیا جا رہا ہے۔ اس کا ایک سبب تو وہی ہے جس کا حوالہ انگریزی ضرب المثل charity begins at home میں دیا گیا ہے کہ اچھے کام کی ابتدا اپنے گھر سے ہونی چاہیے۔ جبکہ دوسری طرف ان اقدامات کو حضور ﷺ کی ذات سے منسوب کر کے منافقین کی شرارتوں کے راستے بند کرنا بھی مقصود تھا جو حضور ﷺ کی ذات اور آپ ﷺ کے گھر والوں کے حوالے سے ہر وقت تاک میں رہتے تھے کہ انہیں کوئی بات ہاتھ آئے اور وہ اس کا بتنگڑ بنائیں۔ { وَلَآ اَنْ تَنْکِحُوْٓا اَزْوَاجَہٗ مِنْم بَعْدِہٖٓ اَبَدًا } ”اور نہ یہ جائز ہے کہ تم نکاح کرو آپ ﷺ کی بیویوں سے آپ ﷺ کے بعد کبھی بھی۔“ ازواجِ مطہرات رض کے خصوصی تقدس کا ذکر قبل ازیں آیت 6 میں { وَاَزْوَاجُہٗٓ اُمَّہٰتُہُمْط } اور نبی ﷺ کی بیویاں اہل ایمان کی مائیں ہیں کے الفاظ میں بھی آچکا ہے ‘ مگر یہاں پر صراحت کے ساتھ اس تقدس کو باقاعدہ قانونی حیثیت دے دی گئی۔ دراصل حضور ﷺ کو آیت 50 میں طلاق کا اختیار استعمال کرنے سے منع کرنے میں بھی یہی حکمت تھی کہ خدانخواستہ اگر آپ ﷺ اپنی کسی زوجہ محترمہ کو طلاق دیتے تو وہ کسی اور سے نکاح نہیں کرسکتی تھیں۔ اور طلاق کی گنجائش نہ ہونے ہی کی وجہ سے آپ ﷺ کو ازواج کی تعداد کے معاملے میں خصوصی رعایت دی گئی۔ { اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اللّٰہِ عَظِیْمًا } ”یقینا اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے۔“ چناچہ اگر کسی خبیث کی نیت میں کہیں کوئی فتور جنم لے رہا تھا تو اس پر واضح ہوجائے کہ یہ دروازہ اب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا ہے۔