- وَاِنْاور اگر
- جَاهَدٰكَوہ دونوں کوشش کریں تمہارے ساتھ
- عَلٰۤیاس پر
- اَنْکہ
- تُشْرِكَتم شریک کرو
- بِیْمیرے ساتھ
- مَاجو
- لَیْسَنہیں
- لَكَتیرے لیے
- بِهٖاس کا
- عِلْمٌ ۙکوئی علم
- فَلَاتو نہ
- تُطِعْهُمَاتم اطاعت کرو ان دونوں کی
- وَصَاحِبْهُمَااور زندگی بسر کرو ان کے ساتھ۔ ساتھ رہو ان دونوں کے
- فِیمیں
- الدُّنْیَادنیا
- مَعْرُوْفًا ؗبھلے طریقے سے
- وَّاتَّبِعْاور پیروی کرو
- سَبِیْلَاس راستے کی
- مَنْجو
- اَنَابَرجوع کرے
- اِلَیَّ ۚمیری طرف
- ثُمَّپھر
- اِلَیَّمیری طرف
- مَرْجِعُكُمْلوٹنا ہے تمہارا
- فَاُنَبِّئُكُمْپھر میں بتاؤں گا تم کو
- بِمَاساتھ اس کے
- كُنْتُمْجو تھے تم،
- تَعْمَلُوْنَتم عمل کرتے
Surah 31 · word by word
Surah 31, ayah 15
Translation and commentary
Bayan-ul-Quran
اور اگر وہ تم پر دباؤڈالیں کہ تم میرے ساتھ شریک کرو اس چیز کو جس کا تمہارے پاس کوئی علم نہیں تو ان کا کہنا مت مانو اور دنیا میں ان کے ساتھ رہو بہتر انداز میں اور پیروی کرو اس شخص کی جو میری طرف رخ کرچکا ہے پھر میری ہی طرف تمہارا لوٹنا ہے پھر میں تمہیں جتلا دوں گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 412
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 15 وَاِنْ جَاہَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌلا فَلَا تُطِعْہُمَا ”یہاں والدین کے اپنی اولاد کو شرک پر مجبور کرنے کے حوالے سے ”جہاد“ کا لفظ استعمال ہوا ہے ‘ جس کے معنی انتہائی کوشش کے ہیں۔ چناچہ اس لفظ میں والدین کی طرف سے اپنا موقف منوانے کے لیے لڑنے جھگڑنے اور ہر طرح سے دباؤ ڈالنے کا مفہوم موجود ہے۔ البتہ یہاں بہت واضح انداز میں بتادیا گیا ہے کہ والدین کے تمام تر تقدس اور احترام کے باوجود انہیں اپنی حدود سے تجاوز کرنے اور اللہ کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت کسی صورت میں نہیں دی جائے گی۔ چناچہ اگر والدین اپنی اولاد کو اللہ کے ساتھ شرک کرنے پر مجبور کرنے لگیں تو اولاد ان کے اس حکم کی تعمیل کسی قیمت پر نہیں کرے گی۔ اس حوالے سے یہ اہم نکتہ بھی ذہن نشین کرلیجیے کہ یہ حکم صرف بت پرستی کی ممانعت تک محدود نہیں بلکہ لَا تُشْرِکْ باللّٰہِ کے الفاظ میں ہر قسم کے شرک کی مطلق ممانعت ہے ‘ بلکہ یوں سمجھنا چاہیے کہ اگر والدین اللہ تعالیٰ کے کسی بھی حکم کو توڑنے کا کہہ رہے ہوں تو گویا وہ شرک ہی کا حکم دے رہے ہیں۔ اس لیے کہ اللہ کے مقابلے میں کسی دوسرے کو مطاع ماننا گویا اسے معبود بنا لینے کے مترادف ہے۔ جیسے اگر کوئی شخص اپنے نفس کے اکسانے پر حرام میں منہ مارتا ہے یعنی اللہ کے حکم کو چھوڑ کر اپنے نفس کی بات مانتا ہے تو گویا اس نے حرام دولت کو اور اپنے نفس کو معبود کا درجہ دے دیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن حکیم کا حکم بہت واضح ہے : اَرَءَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہٗ ہَوٰٹہُط اَفَاَنْتَ تَکُوْنُ عَلَیْہِ وَکِیْلًا الفرقان ”کیا تم نے دیکھا اس شخص کو جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے ! تو اے نبی ﷺ ! کیا آپ ایسے شخص کی ذمہ داری لے سکتے ہیں ؟“ شرک جیسے حساس مسئلے کو بہت زیادہ احتیاط اور اہتمام کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ شرک کا محدود مفہوم سامنے رکھ کر اس کے بہت سے دوسرے پہلوؤں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ الحمد للہ ! اس موضوع پر میں نے تفصیل سے اظہار خیال کیا ہے۔ ”حقیقت و اقسام شرک“ کے موضوع پر میری چھ گھنٹے کی تقاریر کی ریکارڈنگ موجود ہے۔ اس موضوع کو سمجھنے کے لیے ان تقاریر سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ ان تقاریر کو اسی موضوع کے تحت کتابی صورت میں شائع بھی کیا جا چکا ہے۔ وَصَاحِبْہُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًاز ”ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے احکام کے اندر کس قدر خوبصورت توازن پایا جاتا ہے۔ ایک طرف والدین کے حقوق ادا کرنے کی سخت تاکید کی گئی ہے ‘ جبکہ دوسری طرف ان کے حقوق کی حد بھی مقرر کردی گئی ہے۔ پھر ایسا بھی نہیں کہ اگر والدین کافر یا مشرک ہیں تو ان کے تمام حقوق ہی ساقط ہوجائیں ‘ بلکہ ایسی صورت میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے۔ یعنی اگر والدین مشرک ہیں تو بھی ان کی خدمت کرو ‘ ان کی ضروریات کا خیال رکھو اور ان کے مؤدّب بن کر رہو۔ البتہ اگر وہ شرک پر مجبور کریں یا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کا حکم دیں تو ان کا یہ مطالبہ نہ مانا جائے اور اس حوالے سے بھی انکار کرتے ہوئے ان کے ساتھ بد تمیزی نہ کی جائے۔ وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ج ”قرآن مجید میں جہاں بھی والدین کے حقوق کی بات ہوئی ہے وہاں ان کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے جبکہ ان کی اطاعت کرنے کا حکم کہیں بھی نہیں دیا گیا۔ بہر حال اگر والدین کی اطاعت ہوگی بھی تو اللہ کی اطاعت کے دائرے کے اندر رہ کر ہی ہوگی۔ البتہ جہاں تک اتباع اور پیروی کا تعلق ہے تو وہ صرف اسی شخص کی جائز ہے جو ہر طرف سے منہ موڑ کر کلیّ طور پر اللہ کی اطاعت میں آچکا ہو۔ جب تک نبوت کا تسلسل قائم تھا تو یہ بات انبیاء کرام علیہ السلام پر صادق آتی تھی۔ اب ختم نبوت کے بعد امت میں سے جو شخص بھی اللہ کی اطاعت اور حضور ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے لوگوں کو دین کی طرف بلائے اس آیت کی رو سے اس کا اتباع کرنا اور اس کا ساتھ دینا ضروری ہے۔ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ”آخر کار تم سب نے میرے پاس ہی آنا ہے ‘ والدین کو بھی میرے حضور حاضر ہونا ہے اور ان کی اولاد کو بھی۔ ان میں سے جس نے جو کیا ہوگا ‘ وہ سب کچھ اسے دکھا دیا جائے گا۔اب اگلی آیت میں حضرت لقمان کی دوسری نصیحت کا ذکر ہے۔ ان کی پہلی نصیحت آیت 13 میں بیان ہوئی ہے۔ اس کے بعد دو آیات میں والدین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تفصیلات بیان ہوئی ہیں۔