- فَاٰتِتو دو
- ذَاقرابت دار کو
- الْقُرْبٰىقرابت دار کو
- حَقَّهٗحق اس کا
- وَالْمِسْكِیْنَاور مسکین کو
- وَابْنَاور مسافر کو
- السَّبِیْلِ ؕمسافر کو
- ذٰلِكَیہ
- خَیْرٌبات بہتر ہے
- لِّلَّذِیْنَان لوگوں کے لیے
- یُرِیْدُوْنَجو چاہتے ہیں
- وَجْهَخوشنودی
- اللّٰهِ ؗاللہ کی
- وَاُولٰٓىِٕكَاور یہی لوگ ہیں
- هُمُوہ
- الْمُفْلِحُوْنَجو فلاح پانے والے ہیں
Surah 30 · word by word
Surah 30, ayah 38
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
پس (اے مومن)رشتہ دار کو اس کا حق دے اور مسکین و مسافر کو (اس کا حق)1۔ یہ طریقہ بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہوں، اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔2
Footnotes (the author's commentary)
-
یہ نہیں فرمایا کہ رشتہ دار ، مسکین اور مسافر کو خیرات دے۔ ارشاد یہ ہوا ہے کہ یہ اُس کا حق ہے جو تجھے دینا چاہیے، اور حق ہی سمجھ کر تو اسے دے۔ اس کو دیتے ہوئے یہ خیال تیرے دل میں نہ آنے پانے کے یہ کوئی احسان ہے جو تو اس پر کر رہا ہے، اور تو کوئی بڑی ہستی ہے دان کرنے والی، اور وہ کوئی حقیر مخلوق ہے تیرا دیا کھانے والی۔ بلکہ یہ بات اچھی طرح تیرے ذہن نشین رہے کہ مال کے مالک حقیقی نے اگر تجھے زیادہ دیا ہے اور دوسرے بندوں کو کم عطا فرمایا ہے تو یہ زائد مال اُن دوسروں کا حق ہے جو تیری آزمائش کے لیے تیرے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے تاکہ تیرا مالک دیکھے کہ تو ان کا حق پہچانتا اور پہنچاتا ہے ہے یا نہیں۔ اس ارشاد الہٰی اور اس کی اصلی روح پر جو شخص بھی غور کرے گا وہ یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ قرآن مجید انسان کے لیے اخلاقی و روحانی ارتقاء کا جو راستہ تجویز کرتا ہے اس کے لیے ایک آزاد معاشرہ اور آزاد معیشت (Free Economy ) کی موجودگی ناگزیر ہے۔ یہ ارتقاء کسی ایسے اجتماعی ماحول میں ممکن نہیں ہے جہاں لوگوں کے حقوقِ ملکیت ساقط کر دیے جائیں، ریاست تمام ذرائع کی مالک ہو جائے اور افراد کے درمیان تقسیم رزق کا پورا کاروبار حکومت کی مشینری سنبھال لے، حتیٰ کہ نہ کوئی فرد اپنے اوپر کسی کا کوئی حق پہچان کر دے سکے، اور نہ کوئی دوسرا فرد کسی سے کچھ لے کر اس کے لیے اپنے دل میں کوئی جذبۂ خیر سگالی پرورش کر سکے۔ اس طرح کا خالص کمیونسٹ نظامِ تمدّن و معیشت، جسے آج کل ہمارے ملک میں ”قرآنی نظامِ ربوبیت“ کے پر فریب نام سے زبردستی قرآن کے سر منڈھا جا رہا ہے، قرآن کی اپنی اسکیم کے بالکل خلاف ہے، کیونکہ اس میں انفرادی اخلاق کے نشوونما اور انفرادی سیرتوں کی تشکیل و ترقی کا دروازہ قطعًا بند ہو جاتا ہے۔ قرآن کی اسکیم تو اُسی جگہ چل سکتی ہے جہاں افراد کچھ وسائل ِ دولت کے مالک ہوں، اُن پر آزادانہ تصرّف کے اختیارات رکھتے ہوں، اور پھر اپنی رضا و رغبت سے خدا اور اس کے بندوں کے حقوق اخلاص کے ساتھ ادا کریں۔ اِسی قسم کے معاشرے میں یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ فرداً فرداً لوگوں میں ایک طرف ہمدردی،رحم و شفقت، ایثار و قربانی اور حق شناسی و ادائے حقوق کے اعلیٰ اوصاف پیدا ہوں، اور دوسری طرف جن لوگوں کے ساتھ بھلائی کی جائے ان کے دلوں میں بھلائی کرنے والوں کے لیے خیر خواہی، احسان مندی، اور جزاء الاحسان بالاحسان کے پاکیزہ جذبات نشو و نما پائیں، یہاں تک کہ وہ مثالی حالت پیدا ہو جائے جس میں بدی کا رُکنا اور نیکی کا فروغ پانا کسی قوتِ جابرہ کی مداخلت پر موقوف نہ ہو، بلکہ لوگوں کی اپنی پاکیزگی ٔ نفس اور ان کے اپنے نیک ارادے اس ذمہ داری کو سنبھال لیں۔
-
یہ مطلب نہیں ہے کہ فلاح صرف مسکین اور مسافر اور رشتہ دار کا حق ادا کردینے سے حاصل ہو جاتی ہے، اس کے علاوہ اور کوئی چیز حصُول فلاح کے لیے درکار نہیں ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسانوں میں سے جو لوگ اِن حقوق کو نہیں پہچانتے اور نہیں ادا کرتے وہ فلاح پانے والے نہیں ہیں، بلکہ فلاح پانے والے وہ ہیں جو خالص اللہ کی خوشنودی کے لیے یہ حقوق پہچانتے اور ادا کرتے ہیں۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
تو قرابت داروں مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دو یہی بہتر روش ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 408
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary (one passage for ayahs 30:36, 30:37, 30:38)
وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّءَۃٌم بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ اِذَا ہُمْ یَقْنَطُوْنَ ”موافق حالات میں تو یہ لوگ اپنی کامیابیوں پر پھولے نہیں سماتے ‘ لیکن اگر ان کے اپنے ہی کرتوتوں کے سبب کبھی ان پر برا وقت آجاتا ہے تو مایوسی سے گویا ان کی کمر ہی ٹوٹ جاتی ہے۔