Surah 30 · word by word

Surah 30, ayah 31

  1. مُنِیْبِیْنَرجوع کرتے ہوئے
  2. اِلَیْهِطرف اس کے
  3. وَاتَّقُوْهُاور ڈرو اس سے
  4. وَاَقِیْمُوااور قائم کرو
  5. الصَّلٰوةَنماز
  6. وَلَااور نہ
  7. تَكُوْنُوْاتم ہوجاؤ
  8. مِنَمیں سے
  9. الْمُشْرِكِیْنَمشرکوں

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

(قائم ہو جاؤ اس بات پر) اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے،1 اور ڈرو اس سے2 اور نماز قائم کرو،3 اور نہ ہو جاؤ ان مشرکین میں سے

Footnotes (the author's commentary)

  1. اللہ کی طرف رجوع سے مراد یہ ہے کہ جس نے بھی آزادی و خود مختاری کا رویّہ اختیار  کر کے اپنے مالکِ حقیقی سے انحراف کیا ہو، یا جس نے بھی بندگی ٔ ِ غیر کا طریقہ اختیار کر کے اپنے اصلی و حقیقی ربّ سے بے وفائی کی ہو، وہ اپنی اس رو ش سے باز  آجائے اور اُسی ایک خدا کی بندگی کی طرف پلٹ آئے جس کا بندہ حقیقت میں وہ پیدا ہو ا ہے۔

  2. یعنی تمہاری دل میں اس بات کا خوف ہونا چاہیے کہ اگر اللہ کے پیدائشی بندے ہونے کے باوجود تم نے اس کے مقابلے میں خود مختاری کا رویہ اختیار کیا، یا اس کے بجائ ے کسی اور کی بندگی کی تو اِس غداری و نمک حرامی کی سخت سزا تمہیں بھگتنی ہو گی۔ اس لیے تمہیں ایسی ہر روش سے بچنا چاہیے جو تم کو خدا کے غضب کا مستحق بناتی ہو۔

  3.  اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع  اور اس کے غضب کا خوف، دونوں قلب کے افعال ہیں۔ اس قلبی کیفیت کو اپنے ظہور اور اپنے استحکام کے لیے لازمًا کسی ایسے جسمانی فعل کی ضرورت ہے جس سے خارج میں بھی ہر شخص کو معلوم ہو جائے کہ  فلاں شخص واقعی اللہ وحدہٗ لاشریک کی بندگی کی طرف پلٹ آیا ہے، اور آدمی کے اپنے نفس میں بھی اِس رجوع و تقویٰ کی کیفیت کو ایک عملی مُمارَست کے ذریعہ سے پے در پے نشو و نما نصیب ہوتا چلا جائے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ اُس ذہنی تبدیلی کا حکم دینے کے بعد فوراً ہی اِس جسمانی عمل، یعنی اقامتِ صلوٰۃ کا حکم دیتا ہے۔ آدمی کے ذہن میں جب تک کوئی خیال محض خیال کی حد تک رہتا ہے، اس میں استحکام اور پائیداری نہیں ہوتی۔ اُس خیال کے ماند پڑ جانے کا بھی  خطرہ رہتا ہے اور بدل جانے کا بھی امکان  ہوتا ہے۔ لیکن جب وہ اُس کے مطابق کام کرنے لگتا ہے تو وہ خیال اس کے اندر جڑ پکڑ لیتا ہے، اور جوں جوں وہ اس پر عمل کر تا جاتا  ہے، اس کا استحکام بڑھتا چلا جاتا ہے، یہاں تک  کہ اس عقیدہ و فکر کا بدل جانا یا ماند پڑ جانا مشکل سے مشکل تر ہو تا  جاتا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو رجوع الی اللہ اور خوفِ خدا کو مستحکم کر نے کے لیے ہر روز پانچ  وقت پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے سے بڑھ کر کوئی عمل کارگر نہیں ہے۔ کیونکہ دوسرا  جو عمل بھی ہو، اُس کی نوبت دیر دیر میں آتی ہے یا متفرق صورتوں میں مختلف  مواقع پر آتی ہے۔ لیکن نماز ایک ایسا عمل ہے جو ہر چند گھنٹوں کے بعد ایک ہی متعین صورت میں آدمی کو دائمًا کرنا ہوتا ہے، اور  اس میں ایمان و اسلام کا وہ پورا سبق ، جو قرآن نے اسے پڑھایا ہے ، آدمی کو بار بار دُہرانا ہوتا ہے تاکہ و ہ اسے بھولنے نہ پائے۔ مزید براں کفار اور اہل ایمان، دونوں پر یہ ظاہر ہونا ضروری ہے کہ انسانی آبادی میں سے کس کس نے بغاوت کی روش  چھوڑ کر اطاعتِ رب کی روش اختیار کر لی ہے۔ اہلِ ایمان پر اِس کا ظہور اس لیے درکار ہے کہ ان کی ایک جماعت اور سوسائٹی بن سکے اور  وہ خدا کی راہ میں ایک دوسرے سے تعاون کر سکیں اور ایمان و اسلام سے جب بھی ان کے گروہ کے کسی شخص کا تعلق ڈھیلا پڑنا شروع ہو اسی وقت کوئی کھلی علامت فوراً ہی تمام اہل ایمان کو اس کی حالت سے باخبر کر دے۔ کفار پر اِس کا ظہور اس لیے ضروری ہے کہ ان کے اندر کی سوئی ہوئی فطرت اپنے ہم جنس انسانوں کو خداوندِ حقیقی کی طرف بار بار پلٹتے دیکھ کر جاگ سکے، اور جب تک وہ نہ جاگے ان پر خدا کے فرمانبرداروں کی عملی سرگرمی دیکھ دیکھ کر دہشت طاری ہو تی رہے۔ ان دونوں مقاصد کے لیے بھی اقامتِ صلوٰۃ ہی سب سےزیادہ موزوں ذریعہ ہے۔ اس مقام پر یہ بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیے کہ اقامتِ صلوٰۃ کا یہ حکم مکّۂ معظمہ کے اُس دَور میں دیا گیا تھا جبکہ مسلمانوں کی ایک مٹھی بھر جماعت کفارِ قریش کے ظلم و ستم کی چکی میں پس رہی تھی اور اس کے بعد بھی 9 برس تک پستی رہی۔ اُس وقت دُور دُور بھی کہیں اسلامی حکومت کا نام و نشان نہیں تھا۔ اگر نماز اسلامی حکومت کے بغیر  بے معنی ہوتی ، جیسا کہ بعض نادان سمجھتے ہیں، یا اقامتِ صلوٰۃ سے مراد نماز قائم کرنا سرے سے ہوتا ہی نہیں بلکہ  ”نظامِ ربوبیت“چلانا ہوتا، جیسا کہ منکرینِ سنت کا دعویٰ ہے ، تو اس حالت میں قرآن مجید کا یہ حکم دینا آخر کیا معنی رکھتا ہے؟ اور یہ حکم آنے کے بعد 9 سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان اِس حکم کی تعمیل آخر کس طرح کرتے رہے؟

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

رجوع کرتے ہوئے اسی کی طرف اور اسی سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے مت ہونا

Commentary

آیت 31 مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ وَاتَّقُوْہُ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ”یہاں مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ کے الفاظ میں گویا پچھلی آیت کے مضمون فَاَقِمْ وَجْہَکَ للدِّیْنِ حَنِیْفًا ط کا ہی تسلسل ہے۔ پچھلی آیت میں صیغہ واحد میں حضور ﷺ سے خطاب تھا اور اب جمع کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے اس حکم میں امت کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ قرآن کے اس اسلوب کا قبل ازیں کئی بار ذکر ہوچکا ہے کہ مکی سورتوں میں اکثر مقامات پر حضور ﷺ سے صیغہ واحد کے پردے میں اصل خطاب امت سے ہی ہوتا ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 407

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution