Surah 3 · word by word

Surah 3, ayah 50

  1. وَمُصَدِّقًااور تصدیق کرنے والا ہوں
  2. لِّمَاواسطے اس کے جو
  3. بَیْنَمیرے سامنے ہے
  4. یَدَیَّNo meaning in the source
  5. مِنَسے
  6. التَّوْرٰىةِتورات (میں سے)
  7. وَلِاُحِلَّاور تاکہ میں حلال کردوں
  8. لَكُمْتمہارے لیے
  9. بَعْضَبعض
  10. الَّذِیْوہ چیز
  11. حُرِّمَجو حرام کی گئی
  12. عَلَیْكُمْتم پر
  13. وَجِئْتُكُمْاورمیں لایا ہوں تمہارے پاس
  14. بِاٰیَةٍایک نشانی
  15. مِّنْطرف سے
  16. رَّبِّكُمْ ۫تمہارے رب کی
  17. فَاتَّقُواپس ڈرو
  18. اللّٰهَاللہ سے
  19. وَاَطِیْعُوْنِاور اطاعت کرو میری

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

اور میں اُس تعلیم و ہدایت کی تصدیق کرنے والا بن کر آیا ہوں جو تو رات میں سے اِس وقت میرے زمانہ میں موجود ہے۔1 اور اس لیے آیا ہوں کہ تمہارے لیے بعض اُن چیزوں کو حلال کر دوں جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں۔2 دیکھو ، میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں ، لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

Footnotes (the author's commentary)

  1. یعنی یہ میرے فرستادہ ٴ خدا ہونے کا ایک اور ثبوت ہے۔ اگر میں اُس کی طرف سے بھیجا  ہو ا نہ ہوتا بلکہ جھوٹا مدّعی ہوتا تو خود ایک مستقل مذہب کی بنا ڈالتا اور اپنے اِن کمالات کے زور پر تمہیں سابق دین سے ہٹا کر اپنے ایجاد کردہ دین کی طرف لانے کی کوشش کرتا۔ لیکن میں تو اُسی اصل دین کو مانتا ہوں اور اسی تعلیم کو صحیح قرار دے رہاہوں جو خدا کی طرف سے اس کے پیغمبر مجھ سے پہلے لائے تھے۔ یہ بات کہ مسیح علیہ السّلام وہی دین لے کر آئے تھے جو موسیٰ علیہ السّلام اور دُوسرے انبیا ء نے پیش کیا تھا، رائج الوقت اناجیل میں بھی واضح طور پر ہمیں ملتی ہے۔ مثلاً متی کی روایت کے مطابق پہاڑی کے وعظ میں مسیح علیہ السّلام صاف فرماتے ہیں: ”یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسُوخ کرنے آیا ہوں۔ منسُوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں“۔(5 : ١7) ایک یہُودی عالم نے حضرت مسیح   ؑ سے پوچھا کہ احکامِ دین میں اوّلین حکم کونسا ہے؟ جواب میں آپ ؑ نے فرمایا: ”خداوند اپنے خدا سے اپنےسارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ۔ بڑا اور پہلا حکم یہی ہے۔ اور دُوسرا اس کے مانند یہ ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔ انہی دو حکموں پر تمام توریت اور انبیا کے صحیفوں کا مدار ہے“۔ پھر حضرت مسیح  ؑ اپنے شاگردوں سے فرماتے ہیں: ”فقیہ اور فریسی موسیٰ   کی گدّی پر بیٹھے ہیں ۔ جو کچھ وہ تمہیں بتائیں وہ سب کرو اور مانو مگر ان کے سے کام نہ کرو کیونکہ وہ کہتے ہیں اور کرتے نہیں۔“(متی 23:2۔3) 

  2. یعنی تمہارے جُہلا کے توہّمات ، تمہارے فقیہوں کی قانونی موشگافیوں ، تمہارے رہبانیت پسند لوگوں کے تشدّدات ، اور غیر مسلم قوموں کے غلبہ و تسلّط کی بدولت تمہارے ہاں اصل شریعتِ الہٰی پر جن قیُود کا اضافہ ہوگیا ہے، میں ان کو منسُوخ کروں گیا اور تمہارے لیے وہی چیزیں حلال اور وہی حرام قرار دوں گا جنہیں اللہ نے حلال یا حرام کیا ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

اور میں تصدیق کرتے ہوئے آیا ہوں اس کی جو میرے سامنے موجود ہے تورات میں سے اور (اس لیے آیا ہوں) تاکہ میں حلال ٹھہرا دوں تم پر ان میں سے بعض چیزیں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں اور میں تمہارے پاس لے کر آیا ہوں نشانی تمہارے رب کی طرف سے پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو

Commentary

آیت 50 وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰٹۃِ وَ لِاُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ ۔یہ اصل میں سبت کے حکم کے بارے میں اشارہ ہے۔ جیسے ہمارے ہاں بھی بعض مذہبی مزاج کے لوگوں میں بڑی سختی پیدا ہوجاتی ہے اور وہ دین کے احکام میں غلو کرتے چلے جاتے ہیں ‘ اسی طرح سبت کے حکم میں یہودیوں نے اس حد تک غلو کرلیا تھا کہ اس روز کسی مریض کے لیے دعا کرنا کہ اللہ اسے شفا دے دے ‘ یہ بھی جائز نہیں سمجھتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ بھی دنیا کا کام ہے۔ چناچہ وہ اس معاملے میں ایک انتہا تک پہنچ گئے تھے۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے آکر اس کی وضاحت کی کہ اس طرح کی چیزیں سبت کے تقاضوں میں شامل نہیں ہیں۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 56

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. 1 word in this ayah has no meaning in the source and is left empty. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution