- اُتْلُپڑھ سنایے
- مَاۤجو
- اُوْحِیَوحی کیا گیا
- اِلَیْكَآپ کی طرف
- مِنَسے
- الْكِتٰبِکتاب
- وَاَقِمِاور قائم کیجیے
- الصَّلٰوةَ ؕنماز
- اِنَّکیونکہ
- الصَّلٰوةَنماز
- تَنْهٰیروکتی ہے
- عَنِسے
- الْفَحْشَآءِبےحیائی
- وَالْمُنْكَرِ ؕاور برائی سے
- وَلَذِكْرُاور البتہ ذکر ہے
- اللّٰهِاللہ کا
- اَكْبَرُ ؕزیادہ بڑی چیز
- وَاللّٰهُاور اللہ
- یَعْلَمُجانتا ہے
- مَاجو
- تَصْنَعُوْنَتم کرتے ہو
Surah 29 · word by word
Surah 29, ayah 45
Translation and commentary
Bayan-ul-Quran
تلاوت کرتے رہا کریں اس کی جو وحی کی گئی ہے آپ کی طرف کتاب میں سے اور نماز قائم کریں یقیناً نماز روکتی ہے بےحیائی سے اور برے کاموں سے اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 402
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
اب یہاں سے اس سورت کا آخری حصہ شروع ہو رہا ہے جو تین رکوعات پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ آغاز میں بتایا گیا ہے ‘ سورت کے اس حصے میں دو مضامین مشرکین مکہ اور اہل ایمان سے خطاب اس انداز میں متوازی چل رہے ہیں جیسے ایک رسی کی دو لڑیاں آپس میں گندھی ہوئی ہوں۔ قرآن کے اس اسلوب کے بارے میں پہلے بھی کئی بار ذکر ہوچکا ہے کہ مدنی سورتوں میں اہل ایمان سے خطاب کے لیے عام طور پر یٰاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوْا کا صیغہ آیا ہے ‘ جبکہ مکی سورتوں میں اہل ایمان کو براہ راست مخاطب کرنے کے بجائے عموماً رسول اللہ ﷺ کی وساطت سے مخاطب کیا گیا ہے۔ البتہ اس سورت کی آیت 56 میں یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ میں مسلمانوں سے براہ راست خطاب بھی ہے۔ بہر حال آئندہ آیات میں اہل ایمان سے خطاب کے دوران ان لوگوں کو بہت اہم ہدایات دی گئی ہیں جو غلبۂ دین کی جدوجہد میں مصروف ہوں اور اس راستے میں مصائب و مشکلات کا سامنا کر رہے ہوں۔ ان ہدایات کی تعداد دس کے قریب ہے جن میں سے پہلی اور سو ہدایات کے برابر ایک ہدایت یہ ہے :آیت 45 اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ ”سورۃ الکہف کی آیت 27 میں بھی یہی ہدایت دی گئی ہے : وَاتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ ط ”اور اے نبی ﷺ ! آپ تلاوت کیجیے جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے آپ کے رب کی کتاب میں سے“۔ تقرب الی اللہ کا سب سے بڑا ذریعہ قرآن حکیم ہے۔ چناچہ سورة آل عمران کی آیت 103 میں اہل ایمان کو قرآن سے چمٹ جانے کا حکم بایں الفاظ دیا گیا ہے : وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلاَ تَفَرَّقُوْاص ”اور مضبوطی سے تھام لو اللہ کی رسی کو سب مل کر اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو !“ حضرت ابوسعید خدری رض کی روایت کردہ یہ حدیث اس مضمون کو مزید واضح کرتی ہے : کِتَاب اللّٰہِ ھُوَ حَبْلُ اللّٰہِ الْمَمْدُوْدُ مِنَ السَّمَاءِ اِلَی الْاَرْضِ 1”کتاب اللہ ہی اللہ کی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک تنی ہوئی ہے۔“حضور ﷺ کے اس فرمان کے مطابق قرآن ہی ”حبل اللہ“ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے سورة آل عمران کی مذکورہ آیت میں مضبوطی سے پکڑنے کا حکم دیا ہے۔ چناچہ قرآن کی تلاوت کرنے اور اس کی تعلیم و تفہیم میں مشغول رہنے سے بندۂ مؤمن کا اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے اور اللہ پر اس کے یقین اور توکل کی کیفیت میں پختگی آتی ہے۔ اسی سے ایک بندۂ مؤمن کو صبر و استقامت کی وہ دولت نصیب ہوتی ہے جو باطل کے مقابلے میں اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہے : وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ الاَّ باللّٰہِ النحل : 127 ”اور اے نبی ﷺ ! آپ صبر کیجیے اور آپ کا صبر تو اللہ ہی کے سہارے پر ہے“۔ چناچہ راہ حق کے مسافروں کو یہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلی ہدایت یہی دی گئی ہے کہ قرآن کی تلاوت کو اپنے شبانہ روز کے معمول میں شامل رکھو ! اس سے تمہارا تعلق مع اللہ مضبوط ہوگا اور پھر اسی تعلق کے سہارے حق و باطل کی کشا کش میں تمہیں استقامت نصیب ہوگی۔وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ ط ”اللہ تعالیٰ کے ہاں نماز کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور پر پہلی وحی میں ہی اس کی تاکید کردی گئی تھی : وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ طٰہٰ ”اور نماز قائم کرو میرے ذکر کے لیے۔“وَلَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَرُ ط ”یہ گویا اوپر دی گئی پہلی ہدایت کے بارے میں مزید وضاحت ہے۔ تلاوت قرآن اور نماز دونوں اللہ کے ذکر ہی کے ذرائع ہیں ‘ بلکہ قرآن کو تو خود اللہ تعالیٰ نے سورة الحجر میں ”الذکر“ کا نام دیا ہے : اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ ”یقیناً ہم نے ہی یہ ذکر نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں“۔ جب کہ سورة طٰہٰ کی مذکورہ بالا آیت آیت 14 میں قیام نماز کا مقصد بھی یہی بتایا گیا ہے کہ نماز اللہ کے ذکر کے لیے قائم کرو۔ اس کے علاوہ ادعیہ ماثورہ بھی اللہ کے ذکر کا ذریعہ ہیں۔ حضور ﷺ نے ہمیں ہر عمل اور ہر موقع کی دعا سکھائی ہے۔ مثلاً گھر سے نکلنے کی دعا ‘ گھر میں داخل ہونے کی دعا ‘ بیت الخلاء میں جانے کی دعا ‘ باہر آنے کی دعا ‘ شیشہ دیکھنے کی دعا ‘ کپڑے بدلنے کی دعا۔ یعنی ان دعاؤں کو زندگی کا معمول بنا لینے سے ہر لحظہ ‘ ہر قدم اور ہر موقع پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ آپ کے ذہن اور دل کا رشتہ قائم رہتا ہے۔ فرض نمازوں کے بعد تسبیح فاطمہ 33 بار سبحان اللہ ‘ 33 بار الحمدللہ اور 34 بار اللہ اکبر اور دوسرے اذکار کا بھی احادیث میں ذکر ملتا ہے۔ گویا یہ سب اللہ کے ذکر کی مختلف شکلیں ہیں ‘ لیکن سب سے بڑا اور سب سے اعلیٰ ذکر قرآن مجید کی تلاوت ہے۔وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ ”اے مسلمانو ! یہ یقین اپنے دلوں میں پختہ کرلو کہ اللہ تمہاری ہر حرکت ‘ ہر عمل بلکہ تمہارے خیالات اور تمہاری نیتوں تک سے باخبر ہے۔۔ اس کے بعد دوسری ہدایت :