Surah 29 · word by word

Surah 29, ayah 14

  1. وَلَقَدْاور البتہ تحقیق
  2. اَرْسَلْنَابھیجا ہم نے
  3. نُوْحًانوح کو
  4. اِلٰیطرف
  5. قَوْمِهٖاس کی قوم کی (طرف)
  6. فَلَبِثَتو وہ ٹھہرا
  7. فِیْهِمْان میں
  8. اَلْفَہزار
  9. سَنَةٍسال
  10. اِلَّامگر
  11. خَمْسِیْنَپچاس
  12. عَامًا ؕسال
  13. فَاَخَذَهُمُتو پکڑ لیا ان کو
  14. الطُّوْفَانُطوفان نے
  15. وَهُمْاور وہ
  16. ظٰلِمُوْنَظالم تھے

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

ہم نے نُوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا1 اور وہ پچاس کم ایک ہزار برس اُن کے درمیان رہا۔2 آخر کار اُن لوگوں کو طوفان نے آگھیرا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے۔3

Footnotes (the author's commentary)

  1. تقابل کے لیے ملاحظہ ہو آلِ عمران، آیات 34-33۔ النساء، 1۶3۔ الانعام، 84۔ الاعراف، 59 تا ۶4۔ یونس 73-71۔ ہود، 48-25۔ الانبیاء، 77-7۶۔ المومنون، 3۰-23۔ الفرقان، 37۔ الشعراء، 1۰5 تا 123۔ الصافات، 82-75۔ القمر 15-9۔ الحاقہ، 12-11۔ نوح ،مکمل۔             یہ قصّے یہاں جس مناسبت سے بیان کیے جارہے ہیں اس کو سمجھنے کے لیے سورہ کی ابتدائی آیات کو نگا ہ میں رکھنا چاہیے ۔ وہاں ایک طرف اہلِ ایمان سے فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اُن سب اہلِ ایمان کو آزمائش میں ڈالا ہے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ دوسری طرف ظالم کافروں سے فرمایا گیا ہے کہ تم اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ تم ہم سے بازی لے جاؤ گے اور ہماری گرفت سے بچ نکلو گے ۔ انہی  دو باتوں کو ذہن نشین کرنے کےلیے یہ تاریخی واقعات بیان کیے جا رہے ہیں۔

  2. اس کا مطلب یہ  نہیں ہے کہ حضرت نوحؑ کی عمر ساڑھے نو سو سال تھی۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبوت کے منصب پر سرفراز ہونے کے بعد سے طوفان تک پورے ساڑھے نو سو برس حضرت نوحؑ اس ظالم و گمراہ قوم کی اصلاح کے لیے سعی فرماتے رہے ، اور اتنی طویل مدت تک ان کی زیادتیاں برداشت کرنے پر بھی انہوں نے ہمت نہ ہاری ۔ یہی چیز یہاں بیان کرنی مقصود ہے۔ اہل ِ ایمان کو بتایا جا رہا ہے کہ تم کو تو ابھی پانچ سات برس ہی ظلم و ستم سہتے  اور ایک گمراہ قوم کی ہٹ دھرمیاں برداشت کرتے  گزرے ہیں ۔ ذرا ہمارے اس بندے کے صبر و ثبات اور عزم و استقلال کو دیکھو جس نے مسلسل ساڑھے نو صدیوں تک ان شدائد کا مقابلہ کیا۔ حضرت نوحؑ کی عمر کے بارے میں قرآن مجید اور بائیبل کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ بائیبل کا بیان ہے کہ ان کی عمر ساڑھے نو سو سال تھی ۔ وہ چھ  سو برس کے تھے جب طوفان آیا۔ اور اس کے بعد ساڑھے تین سو برس اور زندہ رہے ( پیدائش ،  باب 7۔  آیت ۶۔  باب 9۔ آیت 28- 29)۔ لیکن قرآن  کے بیان کی روسے  ان کی عمر کم از کم ایک ہزار سال ہونی چاہیے کیونکہ ساڑھے نو سو سال تو صرف وہ مدت ہے جو نبوت پر مامور ہونے  کے بعد سے طوفان برپا ہونے تک انہوں نے دعوت و تبلیغ میں صرف کی۔ ظاہر ہے کہ نبوت انہیں پختہ عمر کو پہنچنے کے بعد ہی ملی ہو گی۔ اور طوفان کے بعد بھی وہ کچھ مدت زندہ رہے ہوں گے۔  یہ طویل عمر بعض لوگوں کے لیے ناقابلِ یقین ہے۔ لیکن خدا کی اِس خدائی میں عجائب کی کمی نہیں ہے ۔ جس طرف بھی آدمی نگاہ ڈالے ، اُس کی قدرت کے کرشمے غیر معمولی واقعات کی شکل میں نظر آجاتے ہیں۔ کچھ واقعات و حالات کا معمولاً ایک خاص صورت میں رونما ہوتے رہنا اس بات کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے کہ اس معمول سے ہٹ کر کسی دوسری غیر معمولی صورت میں کوئی واقعہ رونما نہیں ہو سکتا ۔ اس طرح کے مفروضات کو توڑنے کے لیے کائنات کے ہر گوشے میں اور مخلوقات کی ہر صنف میں خلافِ معمول حالات و واقعات کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ خصوصیت کے ساتھ جو شخص خدا کے قادرِ مطلق ہونے کا واضح تصوّر اپنے ذہن میں رکھتا ہو وہ تو کبھی اس غلط فہمی میں نہیں پڑ سکتا کہ کسی انسان کو ایک ہزار برس یا اس سے کم و بیش عمر عطا کر دینا  اُس کے خدا کے لیے بھی ممکن نہیں ہے جو موت  و حیات کا خالق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ  آدمی اگر خود چاہے تو ایک لمحہ کے لیے بھی زندہ نہیں رہ سکتا ۔ لیکن اگر خدا  چاہے تو جب تک وہ چاہے اسے زندہ رکھ سکتا ہے۔

  3. یعنی طوفان ان پر اس حالت میں آیا کہ وہ  اپنے ظلم پر قائم  تھے۔ دوسرے الفاظ میں ، اگر وہ طوفان آنے سے پہلے اپنے ظلم سے باز آجاتے تو اللہ تعالیٰ ان پر یہ عذاب نہ بھیجتا۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

اور ہم نے بھیجا تھا نوح ؑ کو اس کی قوم کی طرف تو وہ رہا ان کے مابین پچاس برس کم ایک ہزار برس تو ان کو آپکڑا طوفان نے اور وہ ظالم تھے

Commentary (one passage for ayahs 29:14, 29:15, 29:16)

یہاں سے سورت کے دوسرے حصے کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ حصہ تین رکوعوں پر مشتمل ہے اور اس میں بنیادی طور پر انباء الرسل کا مضمون ہے ‘ لیکن وقفے وقفے سے بین السطور میں مکہ کے ماحول میں جاری کش مکش کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں۔ اس کے بعد آخری تین رکوعوں پر مشتمل اس سورت کے آخری حصے میں مشرکین اور اہل ایمان سے خطاب ہے۔ یہ دو نوں موضوعات سورت کے آخری حصے میں یوں متوازی چلتے نظر آتے ہیں جیسے ایک رسی کی دو ڈوریاں آپس میں گندھی ہوئی ہوں۔ ان میں سے کبھی ایک ڈوری نمایاں ہوتی نظر آتی ہے تو کبھی دوسری۔ سورت کے اس حصے میں اہل ایمان سے خطاب کے دوران انہیں دس اہم ہدایات بھی دی گئی ہیں جو غلبۂ دین کی جدوجہد کرنے اور اس راستے میں مصائب و مشکلات برداشت کرنے والے مجاہدین کے لیے رہتی دنیا تک گویا مشعل راہ کا درجہ رکھتی ہیں۔آیت 14 وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖ فَلَبِثَ فِیْہِمْ اَلْفَ سَنَۃٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا ط ”یعنی حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کے درمیان ساڑھے نو سو سال تک رہے۔ یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر قرآن مجید میں متعدد بار آچکا ہے لیکن یہ بات اور کہیں نہیں کہی گئی کہ انہوں نے ساڑھے نو سو سال کا طویل عرصہ اپنی قوم کے ساتھ گزارا۔ اگر ہم مکہ کے ان حالات کا نقشہ ذہن میں رکھیں جن حالات میں یہ سورت نازل ہوئی تھی اور پہلے رکوع کا مضمون بھی مد نظرّ رکھیں تو حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت اور جدوجہد کے ساڑھے نو سو سال کے ذکر کی وجہ صاف نظر آجاتی ہے اور بین السطور میں یہاں جو پیغام دیا جا رہا ہے وہ اقبال کے الفاظ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے : ؂یہ موج پریشاں خاطر کو پیغام لب ساحل نے دیا ہے دور وصال بحر ابھی ‘ تو دریا میں گھبرا بھی گئی !کہ اے مسلمانو ! تم لوگ چند برس میں ہی گھبرا گئے ہو۔ ذرا ہمارے بندے نوح علیہ السلام کی صدیوں پر محیط جاں گسل جدوجہد کا تصور کرو اور پھر ان کے صبر و استقامت کا اندازہ کرو ! چناچہ تم لوگوں کو اس راستے میں مزید امتحانات کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے : ؂ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں ! اقبالسورۃ الانعام میں اسی حوالے سے محمد رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے یوں فرمایا گیا ہے : وَلَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ فَصَبَرُوْا عَلٰی مَا کُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰیٓ اَتٰٹہُمْ نَصْرُنَاج ولاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِج وَلَقدْ جَآءَ کَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ ”اور آپ ﷺ سے پہلے بھی رسولوں علیہ السلام کو جھٹلایا گیا ‘ تو انہوں نے اس تکذیب پر صبر کیا ‘ اور انہیں ایذائیں پہنچائی گئیں یہاں تک کہ ان تک ہماری مدد پہنچ گئی۔ اور دیکھئے اے نبی ﷺ ! اللہ کے ان کلمات کو بدلنے والا کوئی نہیں ‘ اور آپ ﷺ کے پاس رسولوں علیہ السلام کی خبریں تو آ ہی چکی ہیں۔“

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 398

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution