- وَمَااور نہ
- كُنْتَتھے تم
- تَرْجُوْۤاامید رکھتے
- اَنْکہ
- یُّلْقٰۤیڈالی جائے گی
- اِلَیْكَتیری طرف
- الْكِتٰبُکتاب
- اِلَّامگر
- رَحْمَةًرحمت ہے
- مِّنْسے
- رَّبِّكَتیرے رب کی طرف (سے)
- فَلَاپس نہ
- تَكُوْنَنَّہرگز تم ہونا
- ظَهِیْرًامدد گار
- لِّلْكٰفِرِیْنَکافروں کے
Surah 28 · word by word
Surah 28, ayah 86
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
“ تم اس بات کے ہرگز اُمیدوار نہ تھے کہ تم پر کتاب نازل کی جائے گی، یہ تو محض تمہارے ربّ کی مہربانی سے (تم پر نازل ہوئی ہے)،1 پس تم کافروں کے مددگار نہ بنو۔2
Footnotes (the author's commentary)
-
یہ بات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ثبوت میں پیش کی جا رہی ہے ۔ جس طرح موسیٰ علیہ السلام بالکل بے خبر تھے کہ انہیں نبی بنا یا جانے والا ہے اور ایک عظیم الشان مشن پر وہ مامور کیے جانے والے ہیں ،اُن کے حاشیہ، خیال میں بھی اِس کا ارادہ یا خواہش تو درکنار اس کی توقع تک کبھی نہ گزری تھی، بس یکایک راہ چلتے انہیں کھینچ بلایا گیا اور نبی بنا کر وہ حیرت انگیز کام ان سے لیا گیا جو ان کی سابق زندگی سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا تھا، ٹھیک ایسا ہی معاملہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی پیش آیا۔ مکہ کے لوگ خود جانتے تھے کہ غارِ حرا سے جس روز آپ نبوت کا پیغام لے کر اترے اُس سے ایک دن پہلے تک آپ کی زندگی کیا تھی، آپ کے مشاغل کیا تھے، آپ کی بات چیت کیا تھی۔ آپ کی گفتگو کے موضوعات کیا تھے، آپ کی دلچسپیاں اور سر گرمیاں کس نوعیت کی تھیں۔ یہ پوری زندگی صداقت، دیانت، امانت اور پاکبازی سے لبریز ضرور تھی۔ اس میں انتہائی شرافت، امن پسندی، پاسِ عہد، ادائے حقوق اور خدمتِ خلق کا رنگ بھی غیر معمولی شان کے ساتھ نمایا ں تھا۔ مگر اس میں کوئی چیز ایسی موجود نہ تھی جس کی بنا پر کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ خیال گزر سکتا ہو کہ یہ نیک بند ہ کل نبوت کا دعویٰ لے کر اُٹھنے والا ہے۔ آپ سے قریب ترین ربط ضبط رکھنے والوں میں ، آپ کے رشتہ داروں اور ہمسایوں اور دوستوں میں کوئی شخص یہ نہ کہہ سکتا تھا کہ آپ پہلے سے نبی بننے کی تیاری کر رہے تھے۔ کسی نے اُن مضامین اور مسائل اور موضوعات کے متعلق کبھی ایک لفظ تک آپ کی زبان سے نہ سنا تھا جو غارِ حرا ء کی اُس انقلابی ساعت کے بعد یکایک آپ کی زبان پر جاری ہونے شروع ہو گئے۔ کسی نے آپ کو وہ مخصوص زبان اور وہ الفاظ اور اصطلاحات استعمال کرنے نہ سنا تھا جو اچانک قرآن کی صورت میں لوگ آپ سے سننے لگے۔ کبھی آپ وعظ کہنے کھڑےنہ ہوئے تھے۔ کبھی کوئی دعوت اور تحریک لے کر نہ اُٹھے تھے۔ بلکہ کبھِ آپ کی کسی سر گرمی سے یہ گمان تک نہ ہو سکتا تھا کہ آپ اجتماعی مسائل کے حل ، یا مذہبی اصلاح یا اخلاقی اصلاح کے لیے کوئی کام شروع کرنے کی فکر میں ہیں۔ اس انقلابی ساعت سے ایک دن پہلے تک آپ کی زندگی ایک ایسے تاجر کی زندگی نظر آتی تھی جو سیدھے سادھے جائز طریقوں سے اپنی روزی کماتا ہے، اپنے بال بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی رہتا ہے ، مہمانوں کی تواضع، غریبوں کی مدد اور تشتہ داروں سے حسن سلوک کرتا ہے ، اور کبھی کبھی عبادت کرنے کے لیےخلوت میں جا بیٹھتا ہے ۔ ایسے شخص کا یکایک ایک عالمگیر زلزلہ ڈال دینے والی خطابت کے ساتھ اُٹھنا، ایک انقلاب انگیز دعوت شروع کر دینا، ایک نرالا لٹریچر پیدا کر دینا، ایک مستقل فلسفہ حیات اور نظامِ فکر و اخلاق و تمدن لے کر سامنے آجانا، اتنا بڑا تغیر ہے جو انسانی نفسیات کے لحاظ سے کسی بناوٹ اور تیاری اور ارادی کوشش کے نتیجے میں قطعاً رونما نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ ایسی ہر کوشش اور تیاری بہر حال تدریجی ارتقاء کے مراحل سے گزرتی ہے اور یہ مراحل اُن لوگوں سے کبھی مخفی نہیں رہ سکتے جن کے درمیان آدمی شب و روز زندگی گزارتا ہو۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ان مراحل سے گزری ہوتی تو مکہ میں سینکڑوں زبانیں یہ کہنے والی ہوتیں کہ ہم نہ کہتے تھے، یہ شخص ایک دن کوئی بڑا دعویٰ لے کر اُٹھنے والا ہے ۔ لیکن تاریخ شاہد ہے کہ کفار مکہ نے آپ پر ہر طرح کے اعتراضات کیے ، مگر یہ اعتراض کرنے والا اُن میں سے کوئی ایک شخص بھی نہ تھا۔ پھر یہ بات کہ آپ خود بھی نبوت کے خواہش مند ، یا اس کے لیے متوقع اور منتظر نہ تھے، بلکہ پوری بے خبری کی حالت میں اچانک آپ کو اس معاملہ سے سابقہ پیش آگیا، اس کا ثبوت اُس واقعہ سے ملتا ہے جو احادیث میں آغاز وحی کی کیفیت کے متعلق منقول ہوا ہے۔ جبریلؑ سے پہلی ملاقات اور سورہ علق کی ابتدائی آیات کے نزول کے بعد آپ غارحرا سے کانپتے اور لرزتے ہوئے گھر پہنچتے ہیں۔ گھر والوں سے کہتے ہیں کہ ”مجھے اُڑھاؤ، مجھے اڑھاؤ“۔ کچھ دیر کے بعد جب ذرا خوف زدگی کی کیفیت دور ہوتی ہے تو اپنی رفیق زندگی کو سارا ماجرا سنا کر کہتے ہیں کہ ”مجھ اپنی جان کا ڈر ہے “۔ وہ فوراً جواب دیتی ہیں”ہرگز نہیں۔ آپ کو اللہ کبھی رنج میں نہ ڈالے گا۔ آپ تو قرابت داروں کے حق ادا کرتے ہیں۔ بے کس کو سہارا دیتے ہیں ۔ بے زر کی دستگیری کرتے ہیں۔ مہمانوں کی تواضح کرتے ہیں۔ ہر کار خیر میں مدد کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں“۔ پھر وہ آپ کو لے کر وَرَقہ بن نَوفَل کے پاس جاتی ہیں جو ان کے چچا زاد بھائی اور اہلِ کتاب میں سے ایک ذی علم اور راستباز آدمی تھے۔ وہ آپ سے سارا واقعہ سننے کے بعد بلا تامل کہتے کہ ” یہ جو آپ کے پاس آیا تھا وہی ناموس(کاری خاص پر مامور فرشتہ) ہے جو موسیٰؑ کے پاس آتا تھا۔ کاش میں جوان ہوتا اور اُس وقت تک زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی“ آپ پوچھتے ہیں ”کیا یہ لوگ مجھے نکا ل دیں گے“؟ وہ جواب دیتے ہیں”ہاں، کوئی شخص ایسا نہیں گزرا کہ وہ چیز لے کر آیا ہو جوآپ لائے ہیں اور لوگ اس کے دشمن نہ وہ گئے ہوں“۔ یہ پورا واقعہ اُس حالت کی تصویر پیش کر دیتا ہے جو بالکل فطری طور پر یکایک خلافِ توقع ایک انتہائی غیر معمولی تجربہ پیش آجانے سے کسی سیدھے سادھے انسان پر طاری ہو سکتی ہے ۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہلے سے نبی بننے کی فکر میں ہوتے ، اپنے متعلق یہ سوچ رہے ہوتے کہ مجھ جیسے آدمی کو نبی ہونا چاہیے، اور اس انتظآر میں مراقبے کر کر کے اپنی ذہن پر زور ڈال رہے ہوتے کہ کب کوئی فرشتہ آتا ہے اور میرے پاس پیغام لاتا ہے ، تو غارِ حرا ء والا معاملہ پیش آتے ہی آپ خوشی سے اچھل پڑتے اور بڑے دم دعوے کے ساتھ پہاڑ سے اتر کر سیدھے اپنی قوم کے سامنے پہنچتے ، اور اپنی نبوت کا اعلان کردیتے ۔ لیکن اس کے بر عکس یہاں حالت یہ ہے کہ جو کچھ دیکھا تھا اس پر ششدر رہ جاتے ہیں، کانپتے اور لرزتے ہوئے گھر پہنچتے ہیں، لحاف اوڑھ کر لیٹ جاتے ہیں، ذرا دل ٹھیرتا ہے تو بیوی کو چپکے سے بتاتے ہیں کہ آج غار کی تنہائی میں مجھ پر یہ حادثہ گزرا ہے ، معلوم نہیں کیا ہونے والا ہے ، مجھے اپنی جان کی خیر نظر نہیں آتی۔ یہ کیفیت نبوت کے کسی امید وار کی کیفیت سے کس قدر مختلف ہے ۔ پھر بیوی سے بڑھ کر شوہر کی زندگی ، اس حالات اور اس کے خیالات کو کون جان سکتا ہے ؟ اگر ان کے تجربے میں پہلے سے یہ بات آئی ہوئی ہوتی کہ میاں نبوت کے امید وار ہیں ا ور ہر وقت فرشتے کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں، تو ان کا جواب ہر گز وہ نہ ہوتا جو حضرت خدیجہؓ نے دیا۔ وہ کہتیں کہ میاں گھبراتے کیوں ہو۔ جس چیز کی مدتوں سے تمنا تھی وہ مل گئی ، چلو، اب پیر کی دکان چمکاؤ، میں بھی نذرانے سنبھالنے کی تیاری کرتی ہوں۔ لیکن وہ پندرہ برس کی رفاقت میں آپ کی زندگی کا جو رنگ دیکھ چکی تھیں اس کی بنا پر انہیں یہ بات سمجھنے میں ایک لمحہ کی دیر بھی نہ لگی کہ ایسے نیک اور بے لوث انسان کے پاس شیطان نہیں آسکتا ، نہ اللہ اس کو کسی بُری آزمائش میں ڈال سکتا ہے ، اس نے جو کچھ دیکھا ہے وہ سراسر حقیقت ہے۔ اور یہی معاملہ وَرَ قہ میں نَوفَل کا بھی ہے ۔ وہ کوئی باہر کے آدمی نہ تھے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی برادری کے آدمی اور قریب کے رشتے سے برادرِ نسبتی تھے۔ پھر ایک ذی علم عیسائی ہونے کی حیثیت سے نبوت اور کتاب اور وحی کی بناوٹ اور تصنع سے مُمیَّز کر سکتے تھے۔ عمر میں کئی سال بڑَ ہونے کی وجہ سے آپ کی پوری زندگی بچپن سے اُس وقت تک ان کے سامنے تھی۔ انہوں نے بھی آپ کی زبان سے حراء کی سرگز شت سنتے ہی فوراً کہہ دیا کہ یہ آنے والا یقیناً وہی فرشتہ ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر وحی لاتا تھا۔ کیونکہ یہاں بھی وہی صورت پیش آئی تھی جو حضرت موسیٰ علیہ السلا م کے ساتھ پیش آئی تھی کہ انتہائی پاکیزہ سیرت کا سیدھا سادھا انسان بالکل خالی الذہن سے ، نبوت کی فکر میں رہنا تو درکنار، اس کے حصول کا تصور تک اس کے حاشیہ خیال میں کبھی نہیں آیا ہے ۔ اور اچانک وہ پورے ہوش ہو حواس کی حالت میں علانیہ اس تجربے سے دوچار ہوتا ہے۔ اسی چیز نے اُن کو دو اور چار کی طرح بلاادنیٰ تامل اس نتیجہ تک پہنچا دیا کہ یہاں کوئی فریب نفس یا شیطانی کرشمہ نہیں ہے ، بلکہ اِس سچے انسان نے اپنے کسی ارادے اور خواہش کے بغیر جو کچھ دیکھا ہے وہ دراصل حقیقت ہی کا مشاہدہ ہے ۔ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ایک ایسا بینِ ثبوت ہے کہ ایک حقیقت پسند انسان مشکل ہی سے اس کا انکار کر سکتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں متعدد مقامات پر اسے دلیلِ نبوت کی حیثیت سےپیش کیا گیا ہے۔ مثلاً سورہ یونس میں فرمایا: قُلْ لَّو شَآءَ اللہُ مَا تَلَوْتُہٗعَلَیْکُمْ وَّ لَآ اَدْرٰکُمْ بِہٖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖٓ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَo (آیت 1۶) اے نبیؐ ان سے کہو کہ اگر اللہ نے یہ نہ چاہا ہوتا تو میں کبھی یہ قرآن تمہیں نہ سناتا بلکہ اس کی خبر تک وہ تم کو نہ دیتا۔ آخر میں اس سے پہلے ایک عمر تمہارے درمیان گزار چکا ہوں ، کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے؟ اور سورۂ شوریٰ میں فرمایا: مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتٰبُ وَلَا الْاِیْمَانُ وَلٰکِنْ جَعَلْنٰہُ نُوْرًا نَّھْدِیْ بِہٖ مَنْ نَّشَآ ءُ مِنْ عِبَادِنَا۔ (آیت 5۶) اے نبیؐ، تم تو جانتے تک نہ تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے، مگر ہم نے اس وحی کو ایک نُور بنا دیا جس سے ہم رہنمائی کرتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، یونس، حاشیہ 21۔ جلد سوم، عنکبوت حواشی 88 تا 92، جلد چہارم، الشوریٰ، حاشیہ 84۔
-
یعنی جب اللہ نے یہ نعمت تمہیں بے مانگے عطا فرمائی ہے تو اس کا حق اب تم پر یہ ےہ کہ تمہاری ساری قوتیں اور محنتیں اس کی علمبرداری پر، اس کی تبلیغ پر اور اسے فروغ دینے پر صرف ہوں اس میں کوتاہی کرنے کے معنی یہ ہوں گے کہ تم نے حق کے بجائے منکرینِ حق کی مدد کی۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی کسی کوتاہی کا اندیشہ تھا ۔ بلکہ دراصل اس طرح اللہ تعالیٰ کفار کو سناتے ہوئے اپنے نبی کو یہ ہدایت فرما رہا ہے کہ تم اِن کے شور و غوغا اور ان کی مخالفت کے باوجود اپنا کام کرو اور اس کی کوئی پروا نہ کرو کہ دشمنانِ حق اس دعوت سے اپنے قومی مفاد پر ضرب لگنے کے کیا اندیشے ظا ہر کرتے ہیں۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ !) آپ کو تو کوئی توقع نہیں تھی کہ آپ پر کتاب القا کی جائے گی یہ تو محض آپ ﷺ کے رب کی رحمت سے ہے پس آپ ﷺ کافروں کے پشت پناہ نہ بنیں
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 396
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 86 وَمَا کُنْتَ تَرْجُوْٓا اَنْ یُّلْقٰٓی اِلَیْکَ الْکِتٰبُ ”اس سے ملتا جلتا مضمون سورة النمل میں بھی آیا ہے : وَاِنَّکَ لَتُلَقَّی الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ عَلِیْمٍ ”اے نبی ﷺ ! قرآن تو یقیناً ایک حکیم اور علیم ہستی کی طرف سے آپ پر القا کیا گیا ہے“۔ ظاہر ہے کہ بعثت سے پہلے نہ تو آپ ﷺ اس بات کے امیدوار تھے کہ آپ ﷺ پر قرآن نازل کیا جائے اور نہ ہی آپ ﷺ اس کے لیے کوشاں تھے۔ اس سے پہلے آپ ﷺ کی زندگی ایک صادق و امین ‘ شریف النفس انسان اور ایک ایماندار تاجر کی زندگی تھی۔ اور جو تاجر آپ ﷺ کی اس تاجرانہ زندگی کا اتباع کرتا ہے اس کے لیے آپ ﷺ نے بایں الفاظ بشارت فرمائی ہے : اَلتَّاجِرُ الصَّدُوْقُ الْاَمِیْنُ مَعَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَاءِ 1 یعنی وہ تاجر جو بالکل سچا ہو ‘ اپنے معاملات میں جھوٹ کی آمیزش نہ ہونے دے اور امانت دار ہو ‘ وہ قیامت کے روز انبیاء ‘ صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ اِلَّا رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ ”یہ تو سراسر اللہ کی رحمت ‘ اس کی عطا اور مہربانی ہے کہ اس نے آپ ﷺ کو نبوت کے لیے چنا ہے اور آپ ﷺ کو یہ کتاب عطا فرمائی ہے۔فَلَا تَکُوْنَنَّ ظَہِیْرًا لِّلْکٰفِرِیْنَ ”اس جملے کا درست مفہوم سمجھنے کے لیے سورة النساء کے سولہویں 16 رکوع کا مضمون پیش نظر رہنا چاہیے۔ اس رکوع میں حضور ﷺ کے سامنے پیش ہونے والے ایک مقدمے پر تبصرہ ہوا ہے۔ یہ ایک منافق کا مقدمہ تھا جس نے چوری کی تھی ‘ لیکن اس کے قبیلے کے لوگوں نے قبائلی عصبیت کی بنا پر اس کی بےجا حمایت کر کے چوری کا الزام ایک یہودی کے سر تھوپنے کی کوشش کی تھی۔ چناچہ سورة النساء کی آیت 109 میں متعلقہ قبیلے کے لوگوں کو تنبیہہ کی گئی کہ آج دنیا میں تو تم لوگوں نے اس کی خوب وکالت کرلی ‘ لیکن کل قیامت کے دن ایسے مجرموں کو اللہ کی پکڑ سے کون چھڑائے گا ؟ گویا مسلمانوں کو واضح طور پر بتادیا گیا کہ حق و انصاف کے سامنے خاندانی رشتوں اور قبائلی عصبیت کی کوئی اہمیت نہیں۔ آیت زیر مطالعہ کے اس آخری جملے کا مفہوم سمجھنے کے لیے مکہّ کے اس ماحول کو بھی ذہن میں لائیے جہاں آپ ﷺ کی دعوت کے سبب معاشرہ واضح طور پر دو حصوں میں بٹتا جا رہا تھا۔ رحمی و خونی رشتے منقطع ہو رہے تھے اور دوستیاں دشمنیوں میں تبدیل ہو رہی تھیں۔ آپ ﷺ کے حقیقی چچا ابولہب نے آپ ﷺ کے ساتھ دشمنی کی انتہا کردی تھی۔ اس پس منظر میں آیت زیر مطالعہ کے اس آخری جملے کا مطلب یہ ہوگا کہ اے نبی ﷺ آپ ان کافروں کے ساتھ اپنے رشتوں اور تعلقات کو بالکل کوئی اہمیت نہ دیں۔ عصبیت کا کوئی خفیف سا شائبہ بھی آپ ﷺ اپنے دل کے قریب نہ پھٹکنے دیں اور ان مشرکین کے ساتھ بالکل کوئی موافقت اور ہمدردی نہ رکھیں۔ اس سے پہلے اسی سورت القصص کی آیت 17 میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے بھی بالکل ایسے ہی الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ قبطی کے قتل ہوجانے کے بعد جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی تھی تو اس وقت آپ علیہ السلام نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے عہد کیا تھا : فَلَنْ اَکُوْنَ ظَہِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ کہ میں آئندہ کبھی بھی مجرموں کا پشت پناہ نہیں بنوں گا۔ چناچہ آیت زیر نظر میں یہی حکم حضور ﷺ کو دیا جا رہا ہے کہ آپ کسی بھی حیثیت ‘ کسی بھی انداز اور کسی بھی درجے میں ان کافروں کے مددگار نہ بنیں۔