- اِنَّبیشک
- قَارُوْنَقارون
- كَانَتھا
- مِنْسے
- قَوْمِقوم (میں سے)
- مُوْسٰیموسیٰ کی
- فَبَغٰیتو اس نے ظلم کیا
- عَلَیْهِمْ ۪ان پر
- وَاٰتَیْنٰهُاور عطا کیا ہم نے اس کو
- مِنَسے
- الْكُنُوْزِخزانوں میں (سے)
- مَاۤاس قدر
- اِنَّبیشک
- مَفَاتِحَهٗاس کی کنجیاں
- لَتَنُوْٓاُالبتہ اٹھاتی تھی
- بِالْعُصْبَةِبڑی جماعت
- اُولِیوالی
- الْقُوَّةِ ۗقوت (والی)
- اِذْجب
- قَالَکہا تھا
- لَهٗاس کو
- قَوْمُهٗاس کی قوم نے
- لَانہ
- تَفْرَحْتم اتراؤ
- اِنَّبیشک
- اللّٰهَاللہ تعالیٰ
- لَانہیں
- یُحِبُّپسند کرتا
- الْفَرِحِیْنَاترانے والوں کو
Surah 28 · word by word
Surah 28, ayah 76
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
یہ ایک واقعہ ہے1 کہ قارون موسیٰؑ کی قوم کا ایک شخص تھا، پھر وہ اپنی قوم کے خلاف سرکش ہوگیا۔2 اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اُٹھا سکتی تھی۔3 ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا ”پھُول نہ جا، اللہ پھُولنے والوں کو پسند نہیں کرتا
Footnotes (the author's commentary)
-
یہ واقعہ بھی کفار مکہ کے اُسی عذر کے جواب میں بیان کیا جا رہا ہے جس پر یہ آیت57 سے مسلسل تقریر ہو رہی ہے ۔ اس سلسلہ میں یہ بات ملحوظ خاطررہے کہ جن لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے قومی مفاد پر ضرب لگنے کا خطرہ ظاہر کیاتھا وہ در اصل مکہ کے بڑے بڑے سیٹھ، ساہو کار اور سرمایہ دار تھے جنہیں بین الاقوامی تجارت اور سود خواری نے قارونِ وقت بنا رکھا تھا۔ یہ لوگ اپنی جگہ یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اصل حق بس یہ ہےکہ زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹو۔ اس مقصد پر جس چیز سے بھی آنچ آنے کا اندیشہ ہو وہ سراسر باطل ہے جسے کسی حال میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف عوام الناس دولت کے ان میناروں کو آرزوں بھری نگاہوں سے دیکھتے تھے اور ان کی غایت تمنا بس یہ تھی کہ جس بلندی پر یہ لوگ پہنچے ہوئے ہیں، کاش ہمیں بھی اس تک پہنچنا نصیب ہو جائے۔ اس زر پرستی کے ماحول میں یہ دلیل بڑی وزنی سمجھی جا رہی تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس توحید و آخرت کی، اور جس ضابطہ اخلاق کی دعوت دے رہے ہیں اسے مان لیا جائے تو قریش کی عظمت کا یہ فلک بوس قصر زمین پر آ رہے گا اور تجارتی کاروبار تو درکنار جینے تک کے لالے پڑ جائیں گے۔
-
قارون، جس کا نام بائیبل اور تلمود میں قورح (Korah ) بیان کیا گیا ہے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا چچا زاد بھائی تھا۔ بائیبل کی کتاب خروج (باب۶۔ آیت 21-18) میں جو نسب نامہ درج ہے اس کی رو سے حضرت موسیٰؑ اور قارون کے والد باہم سگے بھائی تھے۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ یہ شخص بنی اسرائیل میں سے ہونے کے باوجود فرعون کے ساتھ جا ملا تھا اور اس کا مقرب بن کر اس حد کو پہنچ گیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کے مقابلے میں فرعون کے بعد مخالفت کے جو دو سب سے بڑے سرغنے تھے ان میں سے ایک یہی قارون تھا: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسیٰ بِاٰ یٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ، اِلیٰ فِرْعَوْنَ وَھَامَانَ وَقَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ کَذَّابٌ o (المومن۔ آیت 24-23) ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں اور کھلی دلیل کے ساتھ فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف بھیجا ، مگر انہوں نے کہا کہ یہ ایک جادو گر ہے سخت جھوٹا۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ قارون اپنی قوم سے باغی ہو کر اُس دشمن طاقت کا پٹھو بن گیا تھا جو بنی اسرائیل کو جڑ بنیاد سے ختم کر د ینے پر تُلی ہوئی تھی۔ اور اس قومی غداری کی بدولت اس نے فرعونی سلطنت میں یہ مرتبہ حاصل کر لیا تھا کہ حضرت موسیٰؑ فرعون کے علاوہ مصر کی جن دو بڑی ہستیوں کی طرف بھیجے گئے تھے وہ دو ہی تھیں، ایک فرعون کا وزیر ہامان، اور دوسرا یہ اسرائیلی سیٹھ۔ باقی سب اعیان سلطنت اور درباری ان سے کم تر درجے میں تھے جن کا خاص طور پر نام لینے کی ضرورت نہ تھی۔ قارون کی یہی پوزیشن سورۂ عنکبوت کی آیت نمبر 39 میں بھی بیان کی گئی ہے۔
-
بائیبل (گنتی، باب1۶) میں اس کا جو قصہ بیان کیا گیا ہے اس میں اس شخص کی دولت کا کوئی ذکر نہیں ہے، مگر یہودی روایات یہ بتاتی ہیں کہ یہ شخص غیر معمولی دولت کا مالک تھا حتیٰ کہ اس کےخزانوں کی کنجیاں اُٹھانے کے لیے تین سو خچر درکار ہوتے تھے(جیوش انسائیکلو پیڈیا، ج7،ص55۶) یہ بیان اگر چہ انتہائی مبالغہ آمیز ہے، لیکن اس سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اسرائیلی روایات کی رو سے بھی قارون اپنے وقت کا بہت بڑا دولت مند آدمی تھا۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
یقیناً قارون موسیٰ ؑ کی قوم ہی سے تھا لیکن اس نے ان کے خلاف سر کشی کی اور اس کو ہم نے اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی چابیاں ایک طاقتور جماعت مشکل سے اٹھا سکتی تھی جب اس سے کہا اس کی قوم کے لوگوں نے کہ اتراؤ مت یقیناً اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 394
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 76 اِنَّ قَارُوْنَ کَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰی ”تورات میں اس شخص کا نام Qaurah لکھا گیا ہے۔ ممکن ہے تلفظ کے اختلاف کی وجہ سے یہ فرق پیدا ہوا ہو۔ بہر حال اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ یہاں قارون نامی شخص کے حوالے سے جس کردار اور رویے ّ کا ذکر کیا گیا ہے وہ محض ایک فرد کا نام نہیں بلکہ یہ کردار ایک پورے طبقے کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایک ایسا طبقہ جو کسی محکوم قوم کے اندر حکمرانوں کے ہاتھوں جنم لیتا ہے اور ان کے سائے میں نشوونما پاتا ہے۔ دراصل کسی بھی ملک میں فاتح اور غاصب حکمرانوں کا طرز حکمرانی ظلم و ناانصافی سے عبارت ہوتا ہے۔ ایسے نظام میں عزت و شرافت کے نئے معیار جنم لیتے ہیں۔ سورة النمل کی آیت 34 میں ملکہ سبا کی زبانی غاصب بادشاہوں کے کردار پر اس طرح تبصرہ کیا گیا ہے : اِنَّ الْمُلُوْکَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَۃً اَفْسَدُوْہَا وَجَعَلُوْٓا اَعِزَّۃَ اَہْلِہَآ اَذِلَّۃً ج ”بلاشبہ جب بادشاہ کسی آبادی میں داخل ہوتے ہیں تو اس میں فساد برپا کردیتے ہیں ‘ اور اس کے معزز لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔“ غاصب حکمران ہمیشہ خوف اور لالچ کے ذریعے عوام کے اندر سے اپنے حمایتی پیدا کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں محکوم قوم کے گھٹیا اور بےغیرت قسم کے لوگ اپنی قوم سے غداری کر کے اپنے آقاؤں سے مراعات حاصل کرتے ہیں۔ اس حوالے سے سورة النمل کی مذکورہ آیت کے ضمن میں برصغیر پاک و ہند کے غیر ملکی حکمرانوں کی مثال دی جا چکی ہے۔ برصغیر میں انگریزوں نے بھی اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے مقامی لوگوں میں سے ایک ایسا ہی طبقہ پیدا کیا تھا۔ ان لوگوں کو جاگیریں دی گئیں ‘ بڑے بڑے ٹھیکے الاٹ کیے گئے ‘ خطابات سے نوازا گیا ‘ اعلیٰ مناصب پر بٹھایا گیا اور یوں ان کی غیرتوں اور وفاداریوں کو خرید کر ان کو خود ان ہی کی قوم کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اسی طرح فرعون کی عملداری میں بنی اسرائیل کے اندر بھی ایک ایسا ضمیر فروش طبقہ پیدا ہوچکا تھا اور قارون اسی طبقے کا ایک ”معزز فرد“ تھا۔ یہ شخص نہ صرف بنی اسرائیل میں سے تھا بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حقیقی چچا زاد تھا۔ فرعون کے دربار میں اس کو خاص امتیازی مقام حاصل تھا۔ اپنی اس حیثیت سے فائدہ اٹھا کر اس نے اس قدر دولت اکٹھی کر رکھی تھی کہ اس اعتبار سے اس کا نام ضرب المثل کا درجہ رکھتا تھا ‘ جیسے آج ہمارے ہاں کے بعض سیاسی کردار بھی دولت سمیٹنے میں علامتی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔فَبَغٰی عَلَیْہِمْص ”اس نے اپنی قوم سے غداری کی اور فرعون کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی ہی قوم کے خلاف ظلم و زیادتی پر مبنی سرگرمیوں میں مصروف رہا۔وَاٰتَیْنٰہُ مِنَ الْکُنُوْزِ مَآ اِنَّ مَفَاتِحَہٗ لَتَنُوْٓ ءُ ا بالْعُصْبَۃِ اُولِی الْقُوَّۃِق ”اس سے اگر آج کل کی چابیوں کا تصور ذہن میں رکھیں تو بات سمجھ میں نہیں آئے گی۔ اس کو یوں سمجھیں کہ پرانے زمانے میں آج کل کی طرز کے تالے تو نہیں ہوتے تھے۔ لہٰذا پھاٹک نما دروازوں کو بند کرنے کے لیے بڑی بڑی لکڑیوں یا دھات کے ”اڑنگوں“ کو مخصوص طریقے سے ان کے اندر پھنسانے کا انتظام کیا جاتا ہوگا اور ان ہی کو ان دروازوں کی چابیاں کہا جاتا ہوگا۔ بہر حال اس جملے کا عمومی مفہوم یہی ہے کہ اس شخص کے پاس بےانتہا دولت تھی۔اِذْ قَالَ لَہٗ قَوْمُہٗ لَا تَفْرَحْ ”ظاہر ہے ہر معاشرے میں کچھ بھلے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔ جیسے ہم سورة الکہف کے پانچویں رکوع میں دو اشخاص کا واقعہ پڑھ آئے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص درویش صفت اور عارف باللہ تھا جبکہ دوسرا مال مست تھا جو اپنی دولت کے گھمنڈ میں اللہ کو بھی بھلا بیٹھا تھا۔ بہر حال کچھ بھلے لوگوں نے قارون کو نصیحت کی کہ تم اپنی دولت پر اترایا نہ کرو۔ یہاں پر ایک بہت اہم نکتہ نوٹ کر لیجیے کہ ان آیات میں دولت مند لوگوں کے لیے پانچ انتہائی مفید نصیحتیں بیان کی گئی ہیں۔ جن لوگوں کے پاس بہت سی دولت جمع ہوگئی ہو انہیں ان نصیحتوں کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ ان میں سے پہلی نصیحت تو یہی ہے کہ اپنی دولت پر اتراؤ نہیں۔اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ ”اس کے بعد دوسری نصیحت نوٹ کریں :