Surah 28 · word by word

Surah 28, ayah 23

  1. وَلَمَّااور جب
  2. وَرَدَوہ پہنچا/ وارد ہوا
  3. مَآءَپانی پر
  4. مَدْیَنَمدین کے
  5. وَجَدَپایا
  6. عَلَیْهِاس پر
  7. اُمَّةًایک گروہ کو
  8. مِّنَسے
  9. النَّاسِلوگوں میں (سے)
  10. یَسْقُوْنَ ؗ۬جو پانی پلا رہے تھے
  11. وَوَجَدَاور پایا
  12. مِنْکے
  13. دُوْنِهِمُان کے علاوہ
  14. امْرَاَتَیْنِدوعورتوں کو
  15. تَذُوْدٰنِ ۚجو روکے ہوئے تھیں/ ہٹا رہی تھیں
  16. قَالَکہا
  17. مَاکیا
  18. خَطْبُكُمَا ؕمعاملہ ہے تم دونوں کا
  19. قَالَتَاوہ دونوں کہنے لگیں
  20. لَانہیں
  21. نَسْقِیْہم پانی پلاتیں
  22. حَتّٰییہاں تک کہ
  23. یُصْدِرَواپس نکال لائیں
  24. الرِّعَآءُ ٚچرواہے
  25. وَاَبُوْنَااور ہمارا باپ
  26. شَیْخٌبوڑھا ہے
  27. كَبِیْرٌبڑی عمر کا ہے

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

اور جب وہ مَدیَن کے کنوئیں پر پہنچا1 تو اُس نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پِلا رہے ہیں اور اُن سے الگ ایک طرف دو عورتیں اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں۔موسیٰؑ نے ان عورتوں سے پوچھا”تمہیں کیا پریشانی ہے؟“ اُنہوں نے کہا”ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پِلا سکتیں جب تک یہ چرواہے اپنے جانور نہ نکال لے جائیں، اور ہمارے والد ایک بہت بُوڑھے آدمی ہیں۔“2

Footnotes (the author's commentary)

  1. یہ مقام جہاں حضرت موسیٰ ؑ پہنچے تھے، عربی روایات کے مطابق خلیج عقبہ کے غربی ساحل پر مَقْنا سے چند میل بجانب شمال واقع تھا ۔ آج کل اسے البِدْع کہتے ہیں اور وہاں ایک چھوٹا سا قصبہ آباد ہے۔میں نے دسمبر1959؁ میں تَبوک سے عَقَبہ جاتے ہوئے اس جگہ کو دیکھا ہے ۔ مقامی باشندوں نے مجھے بتایا کہ ہم باپ داد سے یہی سنتے چلے آئے ہیں کہ مَدْین اِسی جگہ واقع تھا۔ یوسفیوںس سے لے کر برٹن تک قدیم و جدید سیاحوں اور جغرافیہ نویسوں نے بھی بالعموم مدین کی جائے وقوع یہی بتائی ہے ۔ اس کے قریب تھوڑے فاصلے پر وہ جگہ ہے جسے اب مغائر شعیب یا مغارات شیعب کہا جاتا ہے ۔ اس جگہ ثمودی طرز کی کچھ عمارات موجود ہیں۔ اور اس سے تقریباً میل ڈیڑھ میل کے فاصلے پر کچھ قدیم کھنڈر ہیں جن میں دواندھے کنویں ہم نے دیکھے۔ مقامی باشندوں نے ہمیں بتایا کہ یقین کے ساتھ تو ہم نہیں کہہ سکتے، لیکن ہمارے ہاں روایات یہی ہیں کہ ان  دونوں میں سے ایک کنواں وہ تھا جس پر حضرت موسیٰؑ نے بکریوں کو پانی پلایا ہے ۔ یہی بات ابو الفِداء ( متوفی 723؁ ھح) نے تقویم البُلدان میں اور یا قوت نے مُعْجم البُلدان میں ابو زید انصاری (متوفی21۶؁ ھح) کے حوالے سے لکھی ہے کہ اس علاقے کے باشندے اسی مقام پر حضرت موسیٰؑ کے اس کنویں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت صدیوں سے وہاں کے لوگوں میں متوارث چلی آرہی ہے  اور اس بنا پر اعتماد کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید میں جس مقام کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہی ہے ۔ مقابل کے صفحہ پر اس مقام کی کچھ تصاویر ملاحظہ ہوں۔

  2. یعنی ہم عورتیں ہیں، ان چرواہوں سے مزاحمت اور کشمکش کر کے اپنے جانوروں کو پانی پلانا ہمارے بس میں نہیں ہے۔ والد ہمارےاس قدر سن رسیدہ ہیں کہ وہ خود یہ مشقت اُٹھا نہیں سکتے۔ گھر میں کوئی دوسرا مرد بھی نہیں ہے۔ اس لیے ہم عورتیں ہی یہ کام کرنے نکلتی ہیں اور جب تک سب چروا ہے اپنے جانوروں کو پانی پلا کر چلے نہیں جاتے ، ہم کو مجبوراً انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ اس سارے مضمون کو ا ن خواتین نے صرف ایک مختصر سے فقرے میں ادا کر دیا، جس سے ان کی حیا داری کا اندازہ ہوتا ہے کہ ایک غیر مرد سے زیادہ بات بھی نہ کرنا چاہتی تھیں، مگر یہ بھی پسند نہ کرتی تھی کہ یہ اجنبی ہمارے خاندان کے متعلق کوئی غلط رائے قائم کر لے اور اپنے ذہن میں یہ خیال کر ے کہ کیسے لوگ ہیں جن کے مرد گھر بیٹھے رہے اور اپنی عورتوں کو اس کام کے لیے باہر بھیج دیا۔           ان خواتین کے والد کے متعلق ہمارے ہاں کی روایات میں یہ بات مشہور ہو گئی ہے کہ وہ حضرت شعیب علیہ السلام تھے۔ لیکن قرآن مجید میں اشارۃ وکنا یتہً بھی کوئی بات ایسی نہیں کہی گئی ہے جس سے یہ سمجھا جا سکے کہ وہ حضرت شعیبؑ ہی تھے۔ حالانہ شعیب علیہ السلام کی شخصیت قرآن میں ایک معروف شخصیت ہے ۔ اگر ان خواتین کے والد وہی ہوتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ یہاں اس کی تصریح نہ کر دی جاتی۔ بلا شبہ بعض احادیث میں ان کے نام کی تصریح ملتی ہے ، لیکن علامہ ابن جریر اور ابن کثیر دونوں اس پر متفق ہیں کہ ان میں سے کسی کی سند بھی صحیح نہیں ہے۔ اسی لیے ابن عباس  ، حسن بصری، ابو عبیدہ اور سعید جُبَیر جیسے اکا بر مفسرین نے بنی اسرائیل کی روایات پر اعتماد کر کے ان بزرگ کے وہی نام بتائے ہیں جو تلمود وغیرہ میں آئے ہیں ۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسم ِ شعیب کی تصریح ہوتی تو یہ حضرات کوئی دوسرا نام نہ لے سکتے تھے۔           بائیبل میں ایک جگہ ان بزرگ کا نام رعوایل اور دوری جگہ یَتْر و بیان کیا گیا ہے  اور بتایا گیا ہے کہ وہ مَدْین کے کاہن تھے۔ (خروج باب1۶:2۔18۔باب1:3۔باب5:18)۔تلمودی لڑیچر میں رعوایل ، یتھرو اور حوباب تین مختلف نام بتائے گئے ہیں۔ موجودہ زمانے کے علاما ئے یہود  کا خیال یہ ہے کہ یتھرو ہزار کسی لنسی کا ہم معنی لقب تھا اور اصل نام رعوایل یا حوباب تھا۔ اسی طرح لفظ کا ہن(Kohen Midian ) کی تشریح میں بھی علماء یہود کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض اس کو پر وہت(Priest ) کا ہم معنی بتاتے ہیں اور بعض رئیس یا امیر (Prince ) کا۔           تلمود میں ان کے جو حالات بیان کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں کہ حضرت موسیٰؑ کی پیدائش سے پہلے فرعون کے ہاں ان کی آمدروفت تھی اور وہ ان کے علم اور اصابت رائے پر اعتماد رکھتا تھا۔ مگر جب بنی اسرائیل کا استیصال کرنے کے لیے مصر کی شاہی کو نسل میں مشورے  ہونے لگے اور ان کے لڑکوں  کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دینے کا فیصلہ کیا گیا تو انہوں نے فرعون کو اس غلط کام سے روکنے کی  کوشش کی، اسے اس ظلم  کے بُرے نتائج سے ڈرایا اور رائے دی کہ  اگر ان لوگوں کا وجود آپ کے لیے ناقابلِ برداشت ہے تو انہیں ان کے باپ دادا کے ملک کنعان کی طرف نکال دیجیے۔ اس پر فرعون ان سے ناراض ہوگیا اور اس نے انہیں ذلت کے ساتھ اپنے دربار سے نکلوادیا۔ اس وقت سے وہ اپنے ملک مدین ہی میں اقامت گُزیں ہوگئے تھے۔           ان کے مذہب کے متعلق قیاس یہی ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی طرح وہ بھی دینِ ابراہیمی کے پیرو تھے۔ کیونکہ جس طرح حضرت موسیٰ اسحاق بن ابراہیم(علیھما السلام) کی اولاد تھے اسی طرح وہ مدیان بن ابراہیم کی اولاد میں سے تھے۔ یہی تعلق غالباً اس کا موجب ہوا ہوگا کہ انہوں نے فرعون کو بنی اسرائیل پر ظلم کرنے سے روکا اور اس کی ناراضی مول لی۔ مفسر نیسا بوری نے حضرت حسن بصر ی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ انہ کان رجلا مسلما قَبِل الدین مِن شعیب۔(وہ ایک مسلما ن آدمی تھے۔ حضرت شعیبؑ کا دین انہوں نے قبول کر لیا تھا) ۔ تلمود بیان کیا گیا ہے کہ وہ مدیانیوں کی بت پرستی کو علانہ حماقت قرار دیتے تھے، اس وجہ سے اہل ِ مدین ان کے مخالف ہوگئے تھے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

اور جب وہ مدین کے کنویں پر پہنچا اس نے اس پر لوگوں کے ایک گروہ کو (اپنے جانوروں کو) پانی پلاتے ہوئے پایا اور اس نے ان سے الگ دو عورتوں کو دیکھا جو (اپنے جانوروں کو) روکے کھڑی تھیں اس نے کہا : آپ دونوں کا کیا معاملہ ہے انہوں نے کہا کہ ہم (اپنے جانوروں کو) پانی نہیں پلا سکتے جب تک تمام چرواہے (اپنے جانور) نکال نہ لے جائیں اور ہمارے والد بہت زیادہ بوڑھے ہیں

Commentary

آیت 23 وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ ”یہ کٹھن اور طویل سفر طے کرنے میں کتنا عرصہ لگا ہوگا اور اس دوران آپ علیہ السلام کو کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہوگا ‘ اس سب کچھ کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہے اور اب بات وہاں سے شروع ہو رہی ہے جب آپ علیہ السلام مدین کے کنویں پر پہنچ گئے :وَجَدَ عَلَیْہِ اُمَّۃً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَز ”آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ کنویں پر لوگوں کا ہجوم تھا اور وہ کنویں سے پانی نکال نکال کر اپنے جانوروں کو پلا رہے تھے۔وَوَجَدَ مِنْ دُوْنِہِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ ج ”ان عورتوں کی بکریاں پیاس کی وجہ سے پانی کی طرف جانے کے لیے بےتاب تھیں لیکن وہ ہجوم چھٹ جانے کے انتظار میں انہیں روکے کھڑی تھیں۔قَالَ مَا خَطْبُکُمَا ط ”حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے پوچھا کہ آپ اپنی بکریوں کو ایک طرف کیوں روکے کھڑی ہیں اور انہیں پانی کی طرف کیوں نہیں جانے دیتیں ؟قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰی یُصْدِرَ الرِّعَآءُسکۃ ”جب یہ تمام چرواہے اپنے اپنے جانوروں کو پانی پلا کر چلے جاتے ہیں تو اس کے بعد ہی ہم اپنے جانوروں کو پانی پلا سکتے ہیں۔وَاَبُوْنَا شَیْخٌ کَبِیْرٌ ”یعنی اصل میں تو یہ مردوں کے کرنے کا کام ہے مگر ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں ‘ گھر میں کوئی اور مرد ہے نہیں ‘ چناچہ مجبوراً ہم لڑکیوں کو ہی بکریاں چرانا پڑتی ہیں۔ باقی سب چرواہے مرد ہیں ‘ ہم ان کے ساتھ لڑ جھگڑ کر پانی پلانے کی باری نہیں لے سکتے۔ چناچہ ہم ان کے جانے کا انتظار کرتے ہیں اور ان سب کے چلے جانے کے بعد اپنی بکریوں کو پانی پلاتے ہیں۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 388

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution