- اَمَّنْیا کون ہے جس نے
- جَعَلَبنایا
- الْاَرْضَزمین کو
- قَرَارًاجائے قرار
- وَّجَعَلَاور بنایا
- خِلٰلَهَاۤاس کے درمیان
- اَنْهٰرًانہروں کو
- وَّجَعَلَاور بنائے
- لَهَااس کے لئے
- رَوَاسِیَپہاڑ
- وَجَعَلَاور بنایا
- بَیْنَدرمیان
- الْبَحْرَیْنِدو سمندروں کے
- حَاجِزًا ؕایک پردہ
- ءَاِلٰهٌکیا کوئی الٰہ ہے
- مَّعَساتھ
- اللّٰهِ ؕاللہ کے
- بَلْبلکہ
- اَكْثَرُهُمْان میں سے اکثر
- لَانہیں
- یَعْلَمُوْنَعلم رکھتے
Surah 27 · word by word
Surah 27, ayah 61
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا1 اور اس کے اندر دریا رواں کیے اور اس میں (پہاڑوں کی)میخیں گاڑ دیں اور پانی کے دو ذخیروں کے درمیان پردے حائل کر دیے؟2 کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (ان کاموں میں شریک)ہے؟ نہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان ہیں
Footnotes (the author's commentary)
-
زمین کا اپنی بے حدو حساب مختلف انسوع آبادی کے لیے جائے قرار ہونا بھی کوئی سادہ سی بات نہیں ہے ۔ اس کرہ خاکی کو جِن حکیمانہ مناسبتوں کےساتھ قائم کیا گیا ہے ، ان کی تفصیلات پر آدمی غور کرے تو اس کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مناسبتیں ایک حکیم و دانا قادرِ مطلق کی تدبیر قائم نہ ہو سکتی تھیں۔ یہ کُرَہ فضائے بسیط میں معلق ہے ، کسی چیز پر ٹِکا ہوا نہی ہے ۔ مگر اس کے با وجود اس میں کوئی اضطراب اور اہتزاز نہیں ہے ۔ اگر اس میں ذرا سا بھی اہتزاز ہوتا، جس کے خطر ناک نتائج کا ہم کبھی ذلزلہ آجانے سے بآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں، تو یہاں کوئی آبادہ ممکن نہ تھی۔ یہ کرہ با قاعدگی کے ساتھ سورج کے سامنے رہتا اور دوسرا رُخ ہر وقت چھپا رہتا تو یہاں کوئی آبادی ممکن نہ ہوتی کیونکہ ایک رُخ کو سردی اور بے نوری نباتات اور حیوانات کی پیدائش کے قابل نہ رکھتی اور دوسرے رُخ کو گرمی کی شدت بے آب و گیا ہ اور غیر آباد بنا دیتی۔ اس کرہ پر پانچ سو میل کی بلندی تک ہوا کا ایک کثیف ردّا چڑھا دیا گیا ہے جو شہابوں کی خوفناک بم باری سے اسے بچائے ہوئے ہے ۔ ورنہ روزانہ دو کروڑ شہاب، جو 3۰ میل فی سکینڈ کی رفتار سے زمین کی طرف گرتے ہیں، یہاں وہ تباہی مچاتے کہ کوئی انسان ، حیوان یا درخت جیتا نہ رہ سکتا تھا۔ یہی ہوا درجۂ حرارت کو قابو میں رکھتی ہے ، یہی سمندروں سے بادل اٹھاتی اور زمین کے مختلف حصوں تک آپ رسانی کی خدمت انجام دیتی ہے اور یہی انسان اور حیوان اور نباتات کی زندگی کو مطلوبہ گیسیں فراہم کرتی ہے۔ یہ نہ ہوتی تب بھی زمین کسی آبادی کے لیے جائے قرار نہ بن سکتی ۔ اس کُرے کی سطح سے بالکل متصل وہ معدنیات اور مختلف قسم کے کیمیاوی اجزاء بڑے پیمانے پر فراہم کر دیے گئے ہیں جو نباتی، حیوانی اور انسانی زندگی کے لیے مطلوب ہیں۔ جس جگہ بھی یہ سرو سامان مفقود ہوتا ہے وہاں کی زمین کسی زندگی کو سہارنے کے لائق نہیں ہوتی۔ اس کُرے پر سمندروں ، دریاؤں، جھیلوں، چشموں اور زیر زمین سوتوں کی شکل میں پانی کا بڑا عظیم الشان ذخیرہ فراہم کر دیا گیا ہے ، اور پہاڑوں پر بھی اس کے بڑے بڑے ذخائر کو منجمد کرنے اور پھر پگھلا کر بہانے کا انتظام کیا گیا ہے ۔ اس تدبیر کے بغیر یہاں کسی زندگی کا امکان نہ تھا۔ پھر اس پانی ، ہوا اور تمام اُن اشیاء کو جو زمین پر پائی جاتی ہیں ، سمیٹیے رکھنے کے لیے اس کُرے میں نہایت ہی مناسب کشش رکھ دی گئی ہے ۔ یہ کشش اگر کم ہوتی تو ہوا اور پانی ، دونوں کو نہ روک سکتی اور درجۂ حرارت اتنا زیادہ ہوتا کہ زندگی یہاں دشوار ہو جاتی۔ یہ کشش اگر زیادہ ہوتی تو ہوا بہت کثیف ہو جاتی ، اس کا دباؤ بہت بڑھ جاتا، بخارات آبی کا اُٹھنا مشکل ہوتا اور بارشیں نہ ہو سکتیں، سردی زیادہ ہوتی ، زمین کے بہت کم رقبے آبادی کے قابل ہوتے، بلکہ کششِ ثقل بہت زیادہ ہونے کی صورت میں انسان اور حیوانات کی جسامت بہت کم ہوتی اور ان کا وزن اتنا زیادہ ہوتا کہ نقل و حرکت بھی ان کے لیے مشکل ہوتی۔ علاوہ بریں ، اس کرے کو سورج سے ایک خاص فاصلے پر رکھا گیا ہے جو آبادی کے لے مناسب ترین ہے ۔ اگر اس کا فاصلہ زیادہ ہوتا تو سورج سے اس کو حرارت کم ملتی، سردی بہت زیادہ ہوتی، موسم بہت لمبے ہوتے ، اور مشکل ہی سے یہ آبادی کے قابل ہوتا۔ اور اگر فاصلہ کم ہوتا تو اس کے بر عکس گرمی کی زیادتی اور دوسری بہت سی چیزیں مل جل کر اسے انسان جیسی مخلوق کی سکونت کے قابل نہ رہنے دیتیں۔ یہ صرف چند وہ مناسبتیں ہیں جن کی بدولت زمین اپنی موجودہ آبادی کے لیے جائے قرار بنی ہے ۔ کوئی شخص عقل رکھتا ہو اور ان امور کو نگاہ میں رکھ کر سوچے تو وہ ایک لمحہ کے لیے بھی نہ یہ تصور کر سکتا ہے کہ کسی خالق حکیم کی منصوبہ سازی کے بغیر یہ مناسبتیں محض ایک حادثہ کے نتیجے میں خود بخود قائم ہو گئی ہیں، اور نہ یہ گمانہ کر سکتا ہے کہ اس عظیم الشان تخلیقی منصوبے کو بنانے اور روبعمل لانے میں کسی دیوی یا دیوتا، یا جن ، یا نبی و ولی، یا فرشتے کا کوئی دخل ہے۔
-
یعنی میٹھے اور کھاری پانی کے ذخیرے ، جو اسی زمین پر موجود ہیں ، مگر وہاں خلط ملط نہیں ہوتے۔ زیر زمین پانی کی سورتیں بسا اوقات ایک ہی علاقے میں کھاری پانی الگ اور میٹھا پانی الگ لے کر چلتی ہیں۔ کھاری پانی کے سمندر تک میں بعض مقامات پر میٹھے پانی کے چشمے رواں ہوتے ہیں اور ان کی دھار سمندر کے پانی سے اس طرح الگ ہوتی ہے کہ بحری مسافر اس میں سے پینے کے لیے پانی حاصل کر سکتے ہیں۔(تفصیلی بحث کےلیے ملاحظہ ہوں تفہیم القرآن، سورہ الفرقان، حاشیہ ۶8)
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
بھلا کس نے بنایا زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور رواں کردیے اس کے اندر دریا (اور ندیاں) اور بنائے اس کے لیے لنگر (پہاڑ) اور بنایا دو دریاؤں کے درمیان پردہ کیا کوئی اور معبود بھی ہے اللہ کے ساتھ بلکہ ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 382
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ط ”کیا کوئی ایسی دوسری ہستی تمہاری نظر میں ہے جو ان کاموں میں اللہ کے ساتھ شریک ہو ؟بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ”تاویل خاص کے اعتبار سے ان آیات کے مخاطبینِ اوّلین مشرکین مکہّ تھے اور ان کے پاس ان پے در پے سوالات کا ایک ہی جواب تھا ‘ اور وہ یہ کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے ! اس حوالے سے ان کے خیالات ‘ نظریات اور عقائد کے بارے میں جاننا ضروری ہے اور یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ان کے شرک کی صورت اور نوعیت کیا تھی ؟ چناچہ اس سلسلے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ مشرکین مکہ اللہ کو معبود بھی مانتے تھے اور اس کو اس کائنات کا خالق بھی تسلیم کرتے تھے۔ البتہ کچھ شخصیات جن کے ُ بت انہوں نے بنا رکھے تھے کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ وہ اللہ کے لاڈلے ‘ چہیتے اور مقربین ہیں اور وہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں گے : ھٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُ نَا عِنْدَ اللّٰہِ ط یونس : 18۔ بس ان کا شرک اس سے زائد کچھ نہیں تھا۔