Surah 27 · word by word

Surah 27, ayah 60

  1. اَمَّنْیا کون ہے جس نے
  2. خَلَقَپیدا کیا
  3. السَّمٰوٰتِآسمانوں کو
  4. وَالْاَرْضَاور زمین کو
  5. وَاَنْزَلَاور نازل کیا
  6. لَكُمْتمہارے لئے
  7. مِّنَسے
  8. السَّمَآءِآسمان (سے)
  9. مَآءً ۚپانی
  10. فَاَنْۢبَتْنَاپھر اگائے ہم نے
  11. بِهٖاس کے ساتھ
  12. حَدَآىِٕقَباغات
  13. ذَاتَوالے
  14. بَهْجَةٍ ۚرونق (والے)
  15. مَانہ
  16. كَانَتھا
  17. لَكُمْتمہارے لئے
  18. اَنْکہ
  19. تُنْۢبِتُوْاتم اگا سکو
  20. شَجَرَهَا ؕان کے درخت
  21. ءَاِلٰهٌکیا کوئی الٰہ ہے
  22. مَّعَساتھ
  23. اللّٰهِ ؕاللہ کے (ساتھ)
  24. بَلْبلکہ
  25. هُمْوہ
  26. قَوْمٌایک قوم ہے
  27. یَّعْدِلُوْنَجو برابر قرار دے رہی ہے

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

بھَلا وہ کون ہے جس نےآسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے وہ خوشنما باغ اُگائے جن کے درختوں کا اُگانا تمہارے بس میں نہ تھا؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی (اِن کاموں میں شریک)ہے؟1 (نہیں)، بلکہ یہی لوگ راہِ راست سے ہٹ کر چلے جا رہے ہیں

Footnotes (the author's commentary)

  1. مشرکوں میں سے کوئی بھی اس سوال کا یہ جواب نہ دے سکتا تھا کہ یہ کام اللہ کے سوا کسی اور کے ہیں، یا اللہ کے ساتھ کوئی  اور بھی ان میں شریک ہے ۔ قرآن مجید دوسرے مقامات پر کفارِ مکّہ اور مشرکین عرب کے متعلق کہتا ہے ، وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَھُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُ، وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَ، ”اگر تم ان سے پوچھو کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے  تو وہ ضرور کہیں گے اُس زبردست ، علم والے نے ہی ان کو پیدا کیا ہے“ (الزخرف آیت9) وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللہُ،”اور اگر ان سے پوچھو کہ خود انہیں کس نے پیدا کیا ہے  تو وہ ضرور کہیں گے  اللہ نے“(الزخرف۔ آیت87) وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآ ءً فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا لَیَقُوْلُنَّ اللہُ،”اور اگر ان سے پوچھو کہ کس نے آسمان  سے پانی برسایا اور مردہ پڑی ہوئی زمین کو جِلا اٹھایا تو وہ ضرور کہیں گے اللہ نے “(العنکبوت۔آیت۶3)قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالاَرْضَ۔۔۔۔ وَمَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللہ ،” ان سے پوچھو کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟ یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں؟ کون جاندار کو بے جان  میں سے اور بے جان کو جاندار میں سے نکالتا ہے؟  کون اس نظام ِ عالم کی تدبیر کر رہا ہے ؟ وہ ضرور کہیں گے  کہ اللہ “(یونس۔ آیت31)۔ عرب کے مشرکین ہی نہیں ، دنیا بھر کے مشرکین بالعموم یہی مانتے تھے  اور آج بھی مانتے ہیں کہ کائنات کا خالق اور نظامِ کائنات کا مدبّر اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ اس لیے قرآن مجید کے اس سوال کا یہ جواب اُن میں سے کوئی شخص ہٹ دھرمی کی بنا پر رائے بحث بھی نہ دے سکتا تھا کہ ہمارے معبود خدا کے ساتھ اِن کاموں میں شریک ہیں، کیونکہ اگر وہ ایسا  کہتا تو اس کی اپنی ہی قوم کے ہزار ہا آدمی اس کو جھٹلا دیتے اور صاف کہتے کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے۔           اس سوال  اور اس کے بعد کے سوالات میں صرف مشرکین ہی کے شرک کا ابطال نہیں ہے بلکہ دہریوں کی دہریت کا ابطال بھی ہے ۔ مثلاً اسی پہلے سوال میں پوچھا گیا ہے کہ یہ بارش برسانے والا اور اس کے ذریعہ سے ہر طرح کی نباتات اُگانے والا کون ہے ؟ اب غور کیجیے، زمین میں اُس مواد کا ٹھیک سطح پریا سطح سے متصل موجود ہانا جو بے شمار مختلف اقسام کی نباتی زندگی کے لیے درکار ہے ، اور پانی کے اندر ٹھیک وہ اوصاف موجود ہونا جو حیوانی اور نباتی زندگی کی ضروریات کے مطابق ہیں، اور اس پانی کا پے در پے سمندروں سے اُٹھایا جانا اور زمین کے مختلف حصوں میں وقتاً فوقتاً ایک باقاعدگی کے ساتھ برسایا جانا، اور زمین ، ہوا ، پانی اور درجہ حرارت وغیرہ مختلف قوتوں کے درمیان ایسا متناسب تعاون قائم کرنا کہ اس سے نباتی زندگی کو نشوونما نصیب ہوا اور وہ ہر طرح کی حیوانی زندگی  کے لیے اس کی بے شمار ضروریات پوری کرے، کیا یہ سب کچھ ایک حکیم کی منصوبہ بندی اور دانشمندانہ تدبیر اور غالب قدرت و ارادہ کے بغیر خود بخود اتفاقاً ہو سکتا ہے ؟ اور کیا یہ ممکن ہے کہ یہ اتفاقی حادثہ مسلسل ہزار ہا برس بلکہ لاکھوں کروڑوں برس تک اسی باقاعدگی سے رونما ہوتا چلا جائَے؟ صرف ایک ہٹ دھرم آدمی ہی ، جو تعصب میں اندھا ہو چکا ہو، اسے ایک امر اتفاقی کہہ سکتا ہے ۔کسی راستی پسند عاقل انسان کے لے ایسا لغو دعویٰ کرنا اور ماننا ممکن نہیں ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 382

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution